موسمِ برسات اور صحت

برسات کا موسم اللہ کی خاص رحمت ہے۔ اگر بارش نہ ہو تو خشک سالی اور قحط ہوجاتا ہے۔ زمین سوکھ جاتی ہے اور اس کی زرخیزی ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن جہاں یہ اللہ کی خاص رحمت ہے وہیں صحت کے بعض پہلو خطرناک بھی ہیں۔ اس لیے اس موسم میں صحت کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

دراصل اس موسم میں گرمی اور رطوبت کی وجہ سے چیزوںکے سڑنے کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔ جو مختلف النوع بیکٹریا کی افزائش کا سبب بنتاہے اور یہ بیکٹریا یا جراثیم مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ انسان کی صحت ایک نازک مسئلہ ہے اس لیے احتیاط لازم ہے۔ ذیل میں برسات کے موسم سے پیدا ہونے والا بیماریوں اور احتیاطی تدابیر کا ذکر کیا جارہا ہے تاکہ ہم صحت کی طرف متوجہ رہیں اور بیماریوں سے قبل از وقت بچاؤ کی طرف دھیان دیں۔

عام احتیاط

٭ پانی کو اچھی طرح ابال کر استعمال کیا جائے۔

٭ پانی میں پھٹکری یا کلورین ڈالیں اور اس کو خوب ہلالیں تو پانی قابل استعمال ہوجاتا ہے۔

٭برسات کے موسم میں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں، دن میں کم از کم ایک بار صابن سے اچھی طرح ضرور نہائیں اور لباس بھی صاف ستھرا استعمال کریں۔

٭ مکان، باورچی خانہ، بیت الخلاء، یہاں تک کہ گلی کوچوں، نالیوں وغیرہ کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ ان جگہوں پر پانی ہرگز جمع نہ ہونے دیں۔

٭ مکان میں جراثیم کش ادویات کا اسپرے کریں یا حرمل، گوگل کی دھونی دیں، ایسا کرنے سے مکھی، مچھر اور دیگرجراثیم سے انسان محفوظ رہتے ہیں۔

کھانے پینے کی اشیاء میں احتیاط

٭ بازاری کھانوں یا دیگراشیاء مثلاً مٹھائی، پھل،دودھ اور کھانے پینے کی ایسی چیزوں کو جن کو ڈھانپا نہ گیا ہو، بالکل استعمال نہ کریں۔

٭ سبز ترکاریوں کو اچھی طرح دھوکر استعمال کریں۔

٭ غذا لطیف اور زود ہضم کھائی جائے، باسی اشیا سے مکمل پرہیز کیا جائے۔

٭ زیادہ کھانا نہ کھایا جائے، اے سی میں اور کھلے آسمان تلے سونا نقصان دہ ہے، اس لیے کہ نم دار ہوا بدن کے درجۂ حرارت کو مناسب نہیں رہنے دیتی اور بخار کی کیفیت پیداہوجاتی ہے۔ نیز جوڑوں میں درد شروع ہوجاتا ہے۔

٭ سرکہ، ادرک، لہسن، لیموں اور پیاز کا کثرت سے استعمال نہایت مفید ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں انسانی جسم میں بیماریوں سے لڑنے کی قوت بڑھاتی ہیں۔

موسمِ برسات کی بیماریاں

نزلہ، زکام، کھانسی، ملیریا، ڈینگو بخار، پیلیا، ہیضہ، پیچش، اسہال، بدہضمی، پھوڑے، پھنسیاں، خارش، قے، متلی، آشوبِ چشم سمیت دیگر جلدی بیماریاں خاص ہیں جو اس موسم میں پیدا ہوتی ہیں۔

یو ں تو ہر بیماری تکلیف دہ ہے اور خاص حالات میں انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور بعض صورتوں میں ذرا سی بھی غفلت جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا باعث بن جاتی ہے مگر اس موسم کی بیماریوں میں ہیضہ، ڈینگو بخار نسبتاً زیادہ خطرناک ہیں۔

—ہیضہ ایک ایسی بیماری ہے جو گندے پانی، باسی اور غیر محفوظ کھانے کے سبب پیدا ہوتی ہے، اس میں متلی، قے کے ساتھ ساتھ دست بھی آتے ہیں، جس سے مریض کے جسم کا پانی نکل جاتا ہے اور وہ انتہائی کمزور ہونے لگتا ہے۔ خطرناک صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب بلڈ پریشر کم ہونے لگے۔ اس لیے جب مرض کی ابتدائی علامات ظاہر ہوں تو

٭ فوراً ماہر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔

٭ مریض کو نمک شکر کا گھول دینا شروع کریں۔

٭ الٹی دست کی فوراً صفائی کریں یا اس پر راکھ/ مٹی ڈال دیں۔

—ڈینگو اور ملیریا یہ دونوں ہی بیماریاں خاص قسم کے مچھر کے ذریعے پیدا ہوتی ہیں، اس لیے ان دونوں سے بچاؤ کی بہترین شکل یہ ہے کہ

٭ مچھروں کی افزائش کو روکنے کے طریقے اپنائے جائیں۔

٭ ایسا لباس پہنیں کہ جسم مکمل طور پر ڈھکا رہے۔

٭ سوتے وقت مچھر دانی کا استعمال کریں۔

ڈینگو اور ملیریا اگرچہ دونوں مچھروں ہی کے کاٹنے سے ہوتے ہیں مگر ڈینگو نسبتاً زیادہ خطرناک ہے۔ اس میں مریض کو بہت تیز بخار آتا ہے، جسم اور ہڈیوں میں شدید درد ہوتا ہے، اور پھر بلڈ پریشر کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اگر فوری طور پر مناسب علاج دستیاب نہ ہو تو یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ جبکہ ملیریا کی علامت سردی لگنے کے بعد تیز بخار ہے جو بعض اوقات ۱۰۳ ڈگری سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد پسینہ آنے کے ساتھ ہی بخار اترنے لگتا ہے۔ لیکن دوسرے یا تیسرے دن پھر اسی طرح ہوتا ہے۔ اس لیے جب اندیشہ ہو کہ ملیریا ہے تو فوراً خون ٹیسٹ کراکر علاج شروع کردیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر مشتاق احمد

Leave a Reply