قرآن

قرآن مجید اور سائنس

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت یعنی ایک ایسے دور میں جو ہجرت (۶۲۲ء) کے ادھر ادھر اندازاً بیس سال کی مدت پر محیط ہے۔ سائنسی معلومات میں صدیوں سے کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا اور اسلامی تمدن کی سرگرمیوں کا دور اپنی سائنسی ترقی کے ساتھ نزول قرآن کے اختتام کے بعد آیا۔ قرآن و سائنس کے درمیان تعلق بنیادی طور پر ایک حیرت انگیز امر معلوم ہوتا ہے۔ خصوصیت سے اس صورت میں جب یہ تعلق یکسانیت و ہم آہنگی کا ہو اوراختلاف وناموافقت کا نہ ہو۔ ایک مذہبی کتاب اور دنیوی کے مابین مقابلہ وہ بھی سائنس کی بنیاد پر غالباً بہت سے لوگوں کی نگاہ میں کسی معمہ سے کم نہیں پھر بھی یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، جس میں دو رائے نہیں۔ مختلف آیات اس کی واضح ترین دلیل پیش کرتی ہیں۔

کائنات کا آغاز؟ یہ ایک نہایت ہی اہم سوال ہے کہ کائنات کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی۔ اس بارے میں غور کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا:

قل سیروا فی الارض فانظروا کیف بدأ الخلق۔

’’آپ کہہ دیجیے کہ تم زمین میں گھومو پھرو اور دیکھو کہ کیسے مخلوق کی ابتدا ہوئی۔‘‘

اور اس کے جواب میں فرمایا:

اولم یر الذین کفروا ان السموات والارض کانتا رتقا ففتقنہما۔

’’کیا وہ نہیں دیکھتے جنھوں نے کفر کیا کہ آسمان و زمین دونوں ملے ہوئے تھے ہم نے الگ کیا۔‘‘

ایک زمانہ تک دنیا اس حقیقت سے غافل رہی کہ وہ کون سا معاملہ ہے، جسے قرآن نے رتق اور فتق سے تعبیر کیا ہے، پہلی بار اس کی معنویت ۱۹۲۷ء میں سامنے آئی جبکہ جارج لیماتر نے George Lemaitre نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو عام طور پر Big Bangکہا جاتا ہے۔ ابتدا سائنسی حلقے میں اس کی مخالفت کی گئی لیکن ۱۹۶۵ء میں بیک گراؤنڈ ریڈیشنBack Ground Radiation کی دریافت نے اس کی مزید تصدیق کی۔ زمین کے تعلق سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وہو الذی جعل لکم الارض ذلولا فامشوا فی مناکبہا وکلوا من رزقہ والیہ النشور۔

’’اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم بنایا تاکہ تم اس میں چلو پھرو اور اس کے رزق سے کھاؤ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘

اور اس طرح کی دوسری آیتوں میں پانی اور زمین کی مٹی میں اس کی موجودگی کے عملی نتائج کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ پانی کی موجودگی کا نتیجہ مٹی کی زرخیزی ہے۔ سائنسی معلومات کے مطابق کرئہ ارض ایک ایسا سیارہ ہے جس کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ پانی کی دولت سے مالا مال ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمین کو اتھاہ خلا کے اندر ٹھیرا کر ہمارے لیے قابلِ رہائش بنایا اور مختلف قسم کے اہتمام کے ذریعے اس کو زندگی کے بقا اور انسانی تمدن کے ارتقا کے لیے سازگار بنادیا۔

شہد: قرآن مجید کے اندر شہد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے اندر شفا ہے ’’فیہ شفا ء للناس‘‘ اس کی روشنی میں مسلمانوں نے شہد کے طبی پہلو پر بہت زوردیا۔ دوا سازی میں اس کو خصوصی درجہ حاصل ہے لیکن مغربی دنیا انیسویں صدی تک اس سے غافل رہی وہاں اسے صرف ایک رقیق غذا کی حیثیت حاصل تھی۔ بیسویں صدی میں یورپ کے سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ شہد کے اندر دافع عفونت خصوصیات موجود ہیں۔ اور معلوم کیا کہ شہد کے اندر ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو میعادی بخاری کے جراثیم کو صرف ۴۸ گھنٹے میں ہلاک کرسکتی ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی کئی مثالیں ہیں جو قرآن اور سائنسی حقائق کو واضح کرتی ہیں۔

——

شیئر کیجیے
Default image
حافظ اظہر خلیل عمری،رائچور

Leave a Reply