مال کہاں خرچ کریں؟

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

’’وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے جو مال بھی تم خرچ کرو، وہ ماں باپ، عزیزوں، یتیموں، غریبوں اور مسافروں کے لیے ہے اور تم بھلائی کے جو کام بھی کروگے اللہ اس سے بخوبی واقف ہے۔‘‘ (البقرۃ:۲۱۵)

یہ الفاظ مختلف قسم کے لوگوں کو انفاق کے حقداروں کی لڑی میں پرودیتے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جس سے خرچ کرنے والے کا رشتہ اور تعلق ہے۔ کچھ وہ ہیں جن پر انسان کو رحم آنا چاہیے،چنانچہ ان سے رحم و کرم کا تعلق ہے اور کچھ سے عقیدے کے دائرے میں رہ کر انسانیت کا عظیم تعلق ہے اور یہ سب لوگ … والدین، اعزہ، یتیم، مساکین، مسافر… ایک ہی زمرے میں آکر اجتماعی کفالت کے اس مضبوط نظم سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ جو بنی نوع انسان کو اس عقیدئہ توحید کے دائرے میں داخل ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔

اس آیت اور قرآن کی دوسری آیات میں مداتِ انفاق کی ایک خاص ترتیب ہے، جس کی مزید تشریح و تائید بعض احادیثِ نبویؐ سے ہوتی ہے۔ مثلاً حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا۔ اپنی ذات سے شروع کرو ، پہلے اپنے اوپر خرچ کرو، جب اس سے بچ جائے تو اپنے اہل و عیال پر، پھر رشتہ داروں پر اور پھر غیر رشتہ داروں پر۔ (مسلم)

اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ انسان اپنی ذات سے محبت کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے دوسروں پر خرچ کرنے سے پہلے انسان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کا حکم دیا۔ اس نے اس کے لیے پاکیزہ رزق حلال کیا۔ اور اس بات پر ابھارا کہ عیش پسندی اور فخر وغرور سے بچتے ہوئے اس سے اپنی ذات کو فائدہ پہنچائے۔ حقیقت یہ ہے کہ صدقہ ذاتی ضروریات کی تکمیل کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ’’بہترین صدقہ وہ ہے جو تونگری (امیری) کے ساتھ ہو اور اوپر کا ہاتھ (دینے والا) نیچے کے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔ اور انفاق کی ابتدا ان لوگوں سے کرو جن کی کفالت کے تم ذمہ دار ہو۔ (بخاری)

ایک اور روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص ایک انڈے کے برابر سونا لایا اور کہا: اے اللہ کے رسولؐ! سونے کے اس انڈے کو میں نے ایک کان میں پایا ہے۔ آپؐ اسے لے لیں، یہ میری طرف سے صدقہ ہے اور میرے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ آپؐ نے اس سے منھ پھیر لیا۔ وہ شخص آپؐ کی داہنی طرف آیا اور پھر وہی بات کہی۔ آپؐ نے اس سے منھ پھیرلیا۔ وہ آپؐ کی بائیں طرف آیا۔ پھر وہی بات کہی آپؐ نے پھر منھ پھیر لیا۔ تو وہ آپؐ کے پیچھے آیا۔ تو آپؐ نے اس انڈے کو لے لیا اور اُسے اس پر پھینک دیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اپنی تمام مملوکہ اشیا لے کر آجاتا ہے اور کہتا ہے۔‘‘ یہ صدقہ ہے! پھر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے بیٹھ جاتا ہے۔ بہترین صدقہ وہ ہے جو تونگری کے ساتھ ہو (ابوداؤد)

ہم جانتے ہیں کہ انسان سب سے زیادہ اپنے خاندان کے قریبی افراد۔ اہل و عیال اور والدین سے محبت کرتا ہے۔ اس لیے اسلام نے صدقہ و خیرات کے حق داروں میں سب سے پہلی ترجیح ان لوگوں کو دی ، جن سے وہ محبت رکھتا ہے، تاکہ وہ بہ رضا و رغبت ان پر اپنا مال خرچ کرے اور اپنے فطری میلان کی تکمیل کرسکے۔ اس کے ساتھ وہ اس طرح اپنے قریب ترین اعزہ کی کفالت بھی کرتا ہے۔ اسلام قریبی اعزہ کے بعد عام انسانیت کے ان گروہوں پر خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو یتیم، غریب، مسکین اور تہی دست ہیں۔ جن کے پاس ان کے ضروری مصارف کے لیے کچھ نہیں ہے۔ مگر وہ اپنی عزت کو بچانے کے لیے خاموش رہتے ہیں اور دستِ سوال درازنہیں کرتے۔ پھر مسافر ہیں۔ اگرچہ گھر پر مال و دولت رکھتے تھے مگر اب اس سے دور اور محروم ہیں۔ آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’بھلائی کے جو کام بھی تم کروگے، اللہ ان سے بخوبی واقف ہے۔ اللہ بندوں کے عمل سے واقف ہے، عمل کے محرکات سے واقف ہے، اس کے پیچھے جو نیت ہے، اس سے بھی واقف ہے۔ اس کا عمل ضائع نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے حساب میں ہے جس کے پاس کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی جو لوگوں پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ رتی بھر اجر کم کرکے دیتا ہے، جس کے یہاں ریاکاری کا گزر نہیں۔

——

شیئر کیجیے
Default image
محمد احسن عالم، ارریا

Leave a Reply