وہ بستی…

رات کے پچھلے پہر … آخری تاریخوں کا چانداداسی بکھیر رہا تھا۔ میں گھر کے سامنے پھیلے ہوئے برگد کے درخت میں کھوگیا۔ اس تنہائی میں مجھے وہ تنہا سی بستی یاد آنے لگی۔ میں اس کے بارے میں جانتا تو نہیں لیکن میرا تجسس مجھے بے کل کیے دیتاہے۔ کالج کی بس روزاس بستی کے قریب سے گزرتی ہے۔ بستی کے ارد گرد کی دنیا بڑی متحرک ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر چیز گردش میں ہے۔ لیکن بستی میں قدرے خاموشی ہوتی ہے۔ شاید اس کی یہی خاموشی ہے جو مجھے اس بستی اور اس کے باسیوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیتی ہے۔اس بستی کے گرد ایک بلند سی چار دیواری ہے جس کے رنگ گئے موسموں کی بارشوں سے دھل چکے ہیں۔ اس دیوار کی اوٹ سے اندر جاتے اور باہر آتے لوگ اکثر نظر آتے ہیں۔ بستی کے باہر کچی زمین پر ایک باریش شخص پرانے اور میلے سے زنگ آلود کیبن میں بیٹھا ہوتا ہے۔ اس کے ارد گردڈھیروں سرخ اور سفید تازہ پھول ہوتے ہیں، وہ ان پھولوں کے نازک جسموں سے سوئی گزار کر انہیں لڑی میں پروتا جاتا ہے۔ وہ پھول بانٹتا ہے، لیکن اس کے ارد گرد اداسی پھیلی ہوتی ہے۔ پھولوں کی یہ ننھی سی دکان میری توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔کالج کی بس تو اس راستے سے لمحوں میں گزرجاتی ہے لیکن یہ سب دیکھتے دیکھتے مجھے اپنا سا لگنے لگا ہے۔ بہت سارے گھنے پیپل اور برگد کے درختوں نے اس بستی کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ جب بستی کے ارد گرد لوگوں کو جمع دیکھتا ہوں تو گمان ہوتا ہے کہ آج بستی میں ضرور کوئی تقریب ہے۔ اس دن پھولوں کی دکان پر بھی بڑی رونق ہوتی ہے۔ اس بستی کے اندر جاکر سیر کرنے کی خواہش دن بہ دن بڑھتی چلی جارہی ہے۔

ایک رات کے پچھلے پہر میں ان درودیوار تک پہنچ ہی گیا۔ میں نے پرانا زنگ آلود دروازہ کھٹکھٹایا مگر اندر سے کوئی جواب نہ ملا۔ دوبارہ کھٹکھٹایا، تھوڑی دیر بعد قدموں کی آواز سنائی دی۔ آہستہ آہستہ کسی کے قدموں کی چاپ قریب سنائی دینے لگی۔دروازے کے پیچھے سے آواز آئی ’’کون ہے؟‘‘ میں فوراً بولا:’’میں ہوں بابا! دروازہ کھولیں۔‘‘

’’کون ہو؟ کیا چاہتے ہو؟‘‘

’’بابا میں آپ سے اور یہاں کے دیگر مکینوں سے ملنے آیا ہوں۔‘‘

’’پلٹ جاؤ واپس، یہاں تم سے ملنے کے لیے کوئی نہیں ہے۔‘‘

’’بابا! دروازہ تو کھولیں۔ مجھے ملنا ہے آپ لوگوں سے۔‘‘ کچھ لمحے خاموشی کے بعد کھٹ سے دروازہ کھل گیا۔

اُف…! یہ ہے میرے خوابوں کی بستی۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک جیسے گھر۔ نہ کھڑکی نہ دروازہ۔ سیدھے ہاتھ پر ایک کونے میں ایک چھوٹی سے کٹیا میں زرد روشنی بکھیرتا ہوا بلب تار کے ساتھ جھول رہا تھا۔ ایک کونے میں جائے نماز تھی۔ بائیں ہاتھ پر کدال اور پھاؤڑے پڑے تھے۔ ’’یہاں کون رہتا ہے؟‘‘ میں نے جانتے بوجھتے سوال کیا۔

’’جس کا بلاوا آجائے۔‘‘

’’آپ کیا کرتے ہیں؟‘‘

’’بیٹا! روز نئے گھروں کی آبادکاری! یہ میرے دونوں ہاتھ ہیں نا بیٹا۔‘‘ (اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سامنے پھیلادیے) ’’ان مکینوں کو آباد کرتے کرتے بوڑھے ہوچکے ہیں۔ ان سیکڑوں گھروں میں ہزاروں داستانیں پوشیدہ ہیں۔ آہ… چھوٹے چھوٹے بچے جن کو ان کے پیارے کیسے اپنے سے جدا کردیتے ہیں۔ نوجوان، بوڑھے، ہر کوئی یہاں آکر بستا ہے۔‘‘

’’کیسا لباس ہوتا ہے ان کا؟‘‘ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔ ’’ایک ہی لباس ہے بیٹا، تقویٰ کا لباس۔‘‘ میں خشک حوض کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا اور زرد پتوں کو چھوکر زندگی کی حقیقت پر غور کرنے لگا۔

’’یہ گھر جس پر سنگِ مرمر کی تختی لگی ہے، یہاں ایک ایسا شخص ہوتا ہے، جس نے لوگوں کی فلاح کے لیے بہت کام کیے۔ بڑی شہرت ملی اس کو، مگر … آج اس کے پاس سوائے نیکیوں کے کچھ نہیں۔ اور یہ درختوں کی اوٹ میں بوسیدہ گھر ہے ناں، یہ ایک ادیب کا ہے۔ اس نے درجنوں کتابیں لکھیں اور انعام حاصل کیے…‘‘

’’یہ گھر کس کا ہے؟‘‘ میں ایک گھر کے پاس تھک کر بیٹھ گیا۔ ’یہ ! ہاں یہ ایک معمار کا گھر ہے۔ بڑی خوبصورت … بڑی اونچی عمارتیں بنائیں اس نے اور خود …‘‘ بابا مسکرا کر بولے ’’اس مٹی کے دوگز کے گھر میں آن بسا۔ یہاں اس طرح کے سیکڑوں گھر ہیں۔ اندر کا حال تو میں بھی اتنا ہی جانتا ہوں جتنا تم۔ اور جو اندر جاتا ہے دوبارہ واپس نہیں آتا… آہ… ایک دن ہم سب کو اپنے ان گھروں میں بسنا ہے… ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔‘‘

اب مجھے اس ماحول سے خوف آنے لگا اور دیوانہ وار بستی کے دروازے کی جانب دوڑنے لگا۔ ’’میرا گھر… میں جارہا ہوں بابا اپنی بستی میں … ہاں مجھے جانے دیں… میں وہ سب سامان اکٹھا کرنے جارہا ہوں جس کی مجھے اس گھر میں ضرورت ہے۔ بستی کے دروازے بند نہ ہوجائیں۔ مجھے جانے دیں اپنی بستی میں… ایک دفعہ… بس ایک دفعہ…

’’حی علی الفلاح… حی علی الفلاح…‘‘ مؤذن کی آواز سے میری آنکھیں کھل گئیں۔ دل زور زور سے ہچکولے لے رہاتھا۔ میں چھو چھو کر بستر دیکھنے لگا۔ وہ گھر… وہ بستی… میںاپنا خواب دوہرانے لگا۔ پھر سورۃ التکاثر کی آیات ذہن میں گونجنے لگیں ’’تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال دیا ہے، یہاں تک کہ (اسی فکر میں) تم لبِ گور تک پہنچ جاتے ہو۔ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا۔ پھر (سن لو کہ) ہرگز نہیں،عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے (تو تمہارا یہ طرزِ عمل نہ ہوتا) تم دوزخ دیکھ کر رہو گے پھر (سن لو) تم بالکل یقین کے ساتھ اسے دیکھ لو گے، پھر ضرور اس روز تم سے ان نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔‘‘

میری نظریں سامنے دیوار پر لگی گھڑی پر جم گئیں۔ آج مجھے ان سوئیوں کی ٹک ٹک ہمیشہ سے زیادہ قیمتی لگ رہی تھی۔

——

شیئر کیجیے
Default image
افشاں نوید

Leave a Reply