غیرت کی موت

حسبِ معمول وہ آج بھی تیسری منزل پر واقع روم کی کھڑکی کے قریب کرسی پر بیٹھا قدرت کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ گرم گرم چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے وہ ہری بھری پہاڑی پر سفید و شفاف بادلوں کو دیکھتا رہا۔ سامنے ہی چھوٹا سا تالاب تھا، جس میں بستی کے منچلے نوجوان پیراکی سے محظوظ ہورہے تھے۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی ہورہی تھی۔ موسم بے حد خوشگوار تھا، اچانک موسم نے تیور بدلا، آسمان پر کالی کالی گھنگور گھٹائیں چھا گئیں۔ بجلی کی چمک، ساتھ ہی بادلوں کی گرج، ہلکی ہلکی بوندا باندی نے موسلا دھار بارش کی شکل اختیار کرلی۔ چاروں طرف اندھیرا سا چھا گیا، تالاب میں پانی کی سطح بڑھنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے پانی سڑکوں پر پھیلنے لگا۔ تمام گلیاں ندیوں میں تبدیل ہوگئیں۔ قیامت خیز بارش نے تباہی مچانی شروع کردی۔ برسات کی ہر بوندگولیوں کی سی آواز میں زمین پر برس رہی تھی۔ اس نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں پہلے کبھی اتنی برسات نہیں دیکھی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں پورا علاقہ زیرِ آب تھا۔

وہ گزشتہ سال ہی ملازمت سے سبکدوش ہوا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے دو ماہ بعد اس کا بایاں پیر فالج سے متاثر ہوگیا تھا۔ وہ گھر ہی میں بیساکھی کے سہارے چلا کرتا۔ فاضل وقت اخبار بینی اور دینی کتابیں پڑھ کر گزارا کرتا۔ نمازِ عصر کے بعد اکثر اسی کھڑکی کے قریب رکھی کرسی پر براجمان ہوکر دور بہتی ہوئی ندی کا، کبھی ہری بھری پہاڑیوں کا اور کبھی تالاب میں تیرتے ہوئے لڑکوں کا نظارہ کرنا اس کا معمول بن گیا تھا۔ پانی کی سطح پر مرغابیاں مچھلی کا شکار کرتیں اور نالے میں سفید بگلے لمبی ٹانگوں پر کھڑے اپنی چونچ سے کیڑے مکوڑے اور نہ جانے کیا کیا غلاظت ہضم کرجاتے تھے۔ دور ندی میں مچھوارے اپنی کشتیوں میں سوار مچھلی کے شکار کے لیے دور تک نکل پڑتے، یہ سارے نظارے دیکھ کر وہ اپنا دل بہلایا کرتا۔ آج وہ گھر میں تنہا تھا، تھوڑی دیر پہلے ہی اُس نے اپنی بیوی کو اپنے رشتے دار کے یہاں کسی مریض کی عیادت کے لیے جانے کی اجازت دی تھی۔ چائے پی کر بیوی اپنے رشتے دار کے یہاں چلی گئی۔

خوشگوار موسم کا لطف اٹھانے کے لیے بیٹا اپنی بیوی کے ہمراہ سیر سپاٹے کے لیے کہیں نکل پڑا تھا۔ ماحول میں ایسا تغیر آئے گا اس نے سوچا بھی نہ تھا ورنہ وہ گھر کے افراد کو باہر جانے کی اجازت نہ دیتا۔ چاروں طرف اندھیرا سا چھاگیا۔ پہاڑ، ندی، تالاب اور سڑکیں سب غائب تھیں۔ چاروں طرف سیلابی پانی۔ حسین شام اچانک خوفناک اور بھیانک رات میں بدل گئی۔ بجلی منقطع ہوگئی۔ کانوں میں لوگوں کے چیخنے چلانے اور بچاؤ بچاؤ کی آوازیں سنائی پڑرہی تھیں۔

محلے کے لڑکوں نے جان پر کھیل کر بچاؤ کا کام شروع کردیا۔ یہ لوگ مینجمنٹ ڈساسٹر پلان کے تربیت یافتہ تو نہیں تھے پھر بھی انھوںنے اپنی حاضر دماغی سے کئی لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا۔

نچلی منزلوں میں مقیم لوگوں کو اوپری منزلوں پر لایا گیا۔ کچھ لوگ اپنا قیمتی سرمایہ اکٹھا کرنا چاہتے تھے کہ تیز رفتار سے بہتی ہوئی لہروں نے انہیں اپنا سامان بٹورنے کی مہلت نہ دی۔ انھوں نے اپنی جان بچانے میں ہی عافیت سمجھی اور محفوظ مقامات پر پہنچ گئے۔ اسے اپنے بیٹے، بہو اور بیوی کی فکر لاحق ہوگئی۔ رشتے دار کے یہاں فون پر رابطہ قائم کیا۔ گھنٹی بجتی رہی مگر جواب ندارد۔ بیٹے سے موبائل پر رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی مگر اس وقت نیٹ ورک کام نہیں کررہا تھا۔ خطرناک بھیانک رات گزرتی رہی۔ مسلسل موسلا دھار بارش جاری تھی۔ زور دار ہواؤں کے جھکڑوں کے ساتھ برسات کا پانی اندر کمرے میں آرہا تھا۔ وہ بیساکھی کے سہارے اٹھا اور کھڑکی بند کردی۔

آدھی رات بیت چکی تھی مگر نہ بیوی کی کوئی خبر تھی نہ بیٹے بہو کی۔ ساری رات اس نے جاگ کر گزاردی۔ جب اونچی اونچی عمارتوں سے اذان کی آواز سنائی دی تو اسے احساس ہوا کہ قہرِ الٰہی نے آدبوچا ہے۔ وہ بھی بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہوگیا اور گڑگڑانے لگا۔ ’’اے اللہ! اے مالکِ کائنات! میں گنہ گار بندہ ہوں، میں کمزور بندہ تیری ذات سے غافل رہا، میں خطا کار ہوں، میں بدکار و سیاہ کار ہوں، میرے ہی اعمالِ بد کی وجہ سے یہ عذاب اتر رہے ہیں۔ اے اللہ! تو غفور رحیم ہے، رحم فرما۔ کریم ہے ، کرم فرما۔ اے اللہ تو اپنی رحمت کی بارش برسا، اس طوفانی بارش کو روک دے۔ اے اللہ! آسمانی اور زمینی بلاؤں سے ہماری حفاظت فرما۔ اس طوفانی بارش کو روک دے۔ اے اللہ! آسمانی اور زمینی بلاؤں سے ہماری حفاظت فرما۔ یا اللہ تیرے بندے مصیبت و پریشانی میں گھرے ہوئے ہیں، ان کی جان و مال کی حفاظت فرما۔ میرے اہلِ خاندان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! مجھے مخلوق کا محتاج نہ بنا۔‘‘ اس نے اِس دعا کو تین بار دہرایا۔ آنسوؤں کے ریلے اس کے رخسار پر بہتے رہے۔ وہ دنیا سے بے خبر اللہ کی ذات سے لَو لگائے، گڑگڑاتا رہا۔ گڑگڑاتا رہا۔

اگلی رات کے تیسرے حصے میں موبائل کی گھنٹی بجی۔ نیٹ ورک نے کام کرنا شروع کیا۔ بیٹے نے اپنی سلامتی کی اطلاعی دی اور کہا کہ ’’وہ تفریح کے لیے نہیں جاسکے، ہم والدہ سمیت رشتے دار کے یہاں محفوظ ہیں۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ ہمیں آپ کی فکر لگی ہے۔ جیسے ہی پانی اترجائے گا ہم پہنچ جائیں گے۔‘‘ بس اتنی ہی بات ہوئی اور رابطہ منقطع ہوگیا۔ اس نے دل ہی دل میں پروردگارِ عالم کا شکریہ ادا کیا۔

پریشانی کا یہ عالم تھا کہ اسے بھوک کا بھی احساس نہیں ہوا۔ پوری رات کلمے کا ورد کرتے عبادت میں گزاردی۔ کبھی کبھی بجلی چمکنے سے کمرہ روشن ہوجاتا۔ بادلوں کی گڑگڑاہٹ سے دل دہل جاتا، اور بارش تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ محلے کی مسجد سے مؤذن نے فجر کی اذان دی۔ قلب کو اطمینان ہوا کہ اب صبح ہوگی۔ اجالا ہوگا تو باہر کا منظر دکھائی دے گا۔ سورج طلوع ہوا تو آسمان پر بادلوں کی حکمرانی تھی۔ اس نے کھڑکی کھولی، باہر کا نظارہ کیا تو چاروں طرف پانی ہی پانی پھیلا ہوا تھا۔ قدرت نے ایسا طمانچہ مارا تھا کہ نشیبی علاقوں کے مکانات، جھگیاں، دکانیں سبھی اجڑ چکی تھیں۔ اس قدرتی مار نے امیروں کے مکان دیکھے نہ غریبوں کے۔ وقت کی مار سبھی پر یکساں پڑی۔ شب بھر میں زندگی بھر کا سرمایہ لٹ چکا تھا، ندی نالوں میں گھریلو سامان بہے جارہے تھے۔ لوگ اپنے سامان کو حسرت سے دیکھ رہے تھے۔ مویشیوں اور انسانوں کی لاشیں پانی پر تیرتی ہوئی اپنی آخری منزل کی طرف گامزن تھیں۔ نفسا نفسی کا عالم تھا ہر شخص خود اپنے لیے، اپنے گھر کے افراد کے لیے، گھر کے ساز و سامان کے لیے فکر مند تھا۔ اونچی عمارتوں کی چھتوں پر، مسجدوں کے بالائی حصوں پر، بلند ٹیلوں پر خواتین، مرد اور بچے اکٹھا تھے۔ ان پر کیا گزرہی ہوگی وہ ہی بہتر جانتے ہوں گے پھر بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کررہے تھے کہ جان بچی تو لاکھوں پائے۔ ایک ہی رات میں سب کچھ لٹ چکا تھا۔ کل تک جہاں امراء کے عالیشان مکان تھے، درمیانی طبقے کے لوگوں کے مکانات اور غرباء کی جھونپڑیاں تھیں آج اُن کا نام و نشان تک باقی نہ تھا۔ سب تہس نہس ہوچکا تھا۔ اب بندوں کو کچھ سیکھنے کا، سبق حاصل کرنے کا وقت تھا۔ جب گناہ حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں تو قہرِ الٰہی لازمی ہے۔ اللہ کاقہر و عذاب چھوٹے موٹے نشتر چبھو کر بندوں کوراہِ راست پر لاتا ہے۔ زناکاری، رشوت خوری، یتیموں کی حق تلفی، بوڑھے والدین کے حقوق کی پامالی، انتہا پر پہنچی ہوئی عریانیت، یہ ساری باتیں عذابِ الٰہی کو دعوت دیتی ہیں۔

وہ سوچتا رہا، حالات کا جائزہ لیتا رہا، اس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی ایسا سماں نہیں دیکھا تھا۔ لوگوں کی تباہی و بربادی کے حالات اکثر ٹیلی ویژن پر دیکھتا یا اخبارات میں پڑھتا رہا تھا، آج وہ خود طوفانِ نوح میں گھرا ہوا تھا۔ قیامت خیز تباہی و بربادی کا منظر دیکھ کر آنسو جاری ہوگئے وہ لاچار ،بے یار ومددگار تھا، اس کی ذات سے کوئی فیضاب بھی نہیں ہوسکتا تھا۔

پانی کوکم ہوتا دیکھ کر محلے والوں نے بڑے پیمانے پر راحت کاری کا کام شروع کردیا۔ سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور سماجی ورکر ایک جُٹ ہوکر بیٹھے اور اس آسمانی آفت کے چھوڑے ہوئے نقوش مٹانے میں جُٹ گئے۔ پینے کے پانی کی قلت، بجلی ندارد، ٹیلی فون لائن بند، باہری دنیا سے مکمل طورپر رابطہ کٹ چکا تھا۔

دوپہر، سہ پہر، پھر وہی کالی رات۔ اپنے گھر میں وہ تنہا۔ اب اسے بھوک اور پیاس کا احساس ہونے لگا۔ اہلِ خانہ گھر سے باہر۔ اڑوس پڑوس کے لوگ اپنی دنیا میں بکھرے ہوئے تھے۔ ہر ایک اپنا رونا رو رہا تھا، لیکن وہ بے سہارا تھا۔

صبح اس نے کھڑکی سے جھانکا تب سیلابی پانی دھیمے دھیمے اتر رہا تھا۔ قرب و جوار کے شہروں سے، دیہاتوں سے لاریوں اور ٹیمپو میں اناج، دودھ، بسکٹ، پاؤ، تیل یہاں تک کہ کپڑوں کی امداد تقسیم ہورہی تھی۔ متاثرین ضروری اشیا حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے تھے۔ مائیں اپنے ننھے ننھے بچوں کو سینے سے چمٹائے ہوئے دودھ حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پسارے بیٹھی تھیں۔ جس کے ہاتھ ریلیف کا سامان لگ جاتا وہ خود کو خوش قسمت سمجھتا۔ مخیر حضرات ریلیف لاتے رہے اور محلوں کے سبھی سرگرم کارکن بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔ اُس کا بھی دِ ل چاہا کہ کھڑکی سے چیخ پکار کرے اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے اور کہے کہ میں بھی ریلیف کا مستحق ہوں۔ مجھے بھی زندہ رہنے کے لیے کچھ نوالوں کی ضرورت ہے۔ وہ ابھی آواز لگانا ہی چاہتا تھا۔ لیکن اس کی غیرت نے اسے پکارا اور ایسا کرنے سے اسے باز رکھا۔ تا عمر اس نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے تھے جب بھی مانگا اپنے رب سے مانگا اب وہ بندوں کے سامنے کیسے ہاتھ پھیلائے۔ مگر پیٹ کی آگ نارِ جہنم سے کم نہ تھی۔ وہ اپنوں کا بے چینی سے انتظار کرتا رہا، وہ آجاتے تو کچھ سہارا مل جاتا۔ نہ جانے وہ کس حال میں تھے جواب تک گھر نہیں لوٹے۔

تیسرا روز آن پہنچا ریلیف کا بے تحاشہ سامان پہنچتا رہا۔ لوگوں کو راحت ملتی رہی۔ اب وہ بھوک اور پیاس سے نڈھال ہوچکا تھا۔ اس کا سرچکرانے لگا۔ ویسے بھی وہ کئی امراض سے گھرا ہوا تھا۔ اس نے اپنی غیرت کو بالائے طاق رکھا۔ بیساکھی کے سہارے کھڑکی تک پہنچا۔ سڑک پر سامانِ راحت کی تقسیم جاری تھی۔ اس نے زور زور سے چلانا شروع کیا ’’بھائیو… مجھے بھی ریلیف کی ضرورت ہے، مجھے بھی دانہ پانی چاہیے۔ کوئی ہے جو مجھ تک دانہ پانی پہنچادے۔‘‘ راحت کاری میں مصروف ایک سرگرم رکن نے اس کی آواز سنی۔ شاید یہ نوجوان اس ادھیڑ عمر کے شخص کو پہچانتا تھا، اس نے ہاتھوں کے اشارہ سے سمجھا دیا کہ میں ریلیف میں ملا دانہ پانی لے کر بالائی منزل پر پہنچ رہا ہوں۔ اس بات سے اسے تھوڑا اطمینان حاصل ہوا۔ اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا اور واپس اپنی کرسی پر آکر بیٹھ گیا اور نوجوان کے آنے کا انتظار کرنے لگا مگر وہ اندر ہی اندر اس بات سے افسردہ تھا کہ اسے زندگی میں پہلی بار کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرنا پڑا تھا۔

نوجوان ریلیف کا سامان لے کر اس کے دروازے پر پہنچا اور اسے کرسی پر بیٹھا دیکھ یہ کہتے ہوئے کمرے کے اندر داخل ہوا کہ ’’چچا یہ سامان کہاں رکھوں؟‘‘ اس کی جانب سے جواب نہ پاکر اس نے دو ایک بار پکارا ’’چچا چچا‘ ‘ اور پھر اس کے قریب پہنچا۔ نوجوان نے دیکھا کہ اس شخص کی نظریں دروازے پر ٹکی تھیں، مگر روح جسم سے پرواز کرچکی تھی۔

——

شیئر کیجیے
Default image
شمیم ادھیکاری، پنویل

Leave a Reply