BOOST

غــزل

ہنر مندی سے جینے کا ہنر اب تک نہیں آیا

سفر کرتے رہے طرز سفر اب تک نہیں آیا

تلاطم خیز موجوں سے بھی تو نے کچھ نہیں سیکھا

تجھے رونا بھی میری چشم تر اب تک نہیں آیا

ہزاروں فلسفی قبضہ کیے بیٹھے ہیں ذہنوں پر

مرے قابو میں یا رب میرا سر اب تک نہیں آیا

پڑا رہتا ہے ہر دم خون کا سایہ رگ جاں پر

کوئی بے خوف لمحہ بے خطر اب تک نہیں آیا

مگر اک سر پہ ہے سایہ فگن امید کا سورج

ہماری راہ میں کوئی شجر اب تک نہیں آیا

ہمیں تو قافیہ پیمائی کرنا بھی نہیں آتا

بڑا فن ہے جو آجاتا مگر اب تک نہیں آیا

وہ کہتے ہیں دعائیں با اثر ہوتی ہیں خالد کی

میں کہتا ہوں کوئی زیر اثر اب تک نہیں آیا

شیئر کیجیے
Default image
خالد محمود

تبصرہ کیجیے