جان ویبسٹر سے ایک انٹرویو

[محمد جان ویبسٹر مشہور نومسلم ایک مفکر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں انھوں نے بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں اسلام قبول کیا۔ زیرِ نظر انٹرویو پروفیسر خورشید احمد صاحب نے اس وقت لیا تھا، جب وہ پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ یہ انٹرویو ۱۹۶۰ء کے ماہنامہ چراغ راہ میں شائع ہوا۔ انٹرویو طویل ہے، جس سے ہم نے ان کے قبولِ اسلام کے اسباب وعوامل کو حذف کردیا ہے۔ پچاس سال گزر جانے کے باوجود انٹرویو تازہ معلوم ہوتا ہے۔ ہم چراغِ راہ سے شکریہ کے ساتھ قارئین کو پیش کررہے ہیں۔ ایڈیٹر]

س:عالمِ اسلام سے متعلق آپ کی رائے کیا ہے؟ جن حالات میں آج کل مسلمان گھرے ہوئے ہیں ان کے متعلق آپ کا تجزیہ کیا ہے؟

ج:ان حالات کے متعلق میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اگر عالم اسلام کو دیکھ کر میرے اسلام لانے کا سوال ہوتا تو میں کبھی مسلمان نہ ہوتا۔ مسلم دنیا میں آج کولی ایسی چیز نہیں جو قبولِ اسلام کی تحریک پیدا کرتی ہو اور یہ بڑی تکلیف دہ صورتِ حال ہے۔

میں نے ہندوپاکستان کا بڑی تفصیل سے دورہ کیا ہے۔ عرب ممالک کے مسلمانوں سے لندن میں ملنے اور ان کے حالات کو سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ افسوس کہ مسلمان ان تمام چیزوں کو چھوڑ چکے ہیں یا چھوڑتے جارہے ہیں جو اسلام نے ان کو سکھائی تھیں۔ بلکہ آپ یقین کریں کہ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یورپ … لادینی یورپ… کئی حیثیتوں سے مسلمانوں سے زیادہ ’’مسلمان‘‘ ہے۔ اسلام نے ہمیں صفائی اور طہارت کی تعلیم دی۔ مسلمانوں کو صفائی اور حفظانِ صحت کا کچھ خیال نہیں۔ اسلام ہر حال میں وعدے کے ایفا کی تعلیم دیتا ہے۔ مسلمانوں میں آج عہد کا کوئی پاس نہیں۔ اسلام وقت کی پابندی کا مطالبہ کرتا ہے، مگر ہمارے یہاں ٹائم کے معنی وقت مقررہ سے دو گھنٹے پہلے یا دو گھنٹے بعد کے ہیں۔ اسلام حرکت اور عمل کی ترغیب دیتا ہے اور مسلمان آج بیٹھے بیٹھے انشاء اللہ اور ماشاء اللہ کہتے رہتے ہیں۔ یہ الفاظ ان کی نگاہ میں آج محض دوبے معنی بول بن گئے ہیں۔ جب وہ انشاء اللہ کہتے ہیں تو کبھی سوچتے نہیں کہ اللہ کا منشا کیا ہے اور اس نے اس کے پورا کرنے کا کیا راستہ بتایا ہے۔ جب وہ ماشاء اللہ کہتے ہیں تو یہ خیال ان کو نہیں آتا کہ کامیابی کا ایک طریقہ بھی اللہ تعالیٰ نے بتادیا ہے۔

مختصراً ہمارے تین بڑے طبقے ہیں اور تینوں کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہیں۔ عوام جہالت کا شکار ہیں۔ نہ ان کے سامنے کوئی مقصد ہے نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ انہیںکیا کرنا ہے۔ علماء دنیا کے حقائق سے کٹ گئے ہیں اور بسم اللہ کے گنبد میں محصور ہیں اور متوسط کاروباری طبقہ توہمات کا شکار ہے۔ وہ کوئی واضح نقشہ اسلام اور اس کے مطالبات کا نہیں رکھتا۔

آج ہم عدم توازن اور بے اعتدالی کا شکار ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تینوں طبقات میں پورا پورا تعاون ہو اور ہر ایک اپناا پنا کردار بہتر انداز میں ادا کرے تاکہ تعمیر و ترقی ہوسکے۔

س: مسٹر ویبسٹر! حالات فی الحقیقت تاریک ہیں مگر کیا امید کی کوئی کرن آپ کو نظر آتی ہے؟

ج:یقینا! اول تو اسلام اللہ کا دین ہے اور وہ اس کی ترقی و ترویج کے لیے خود بندوبست کرتا ہے۔ اگر آج کے مسلمان اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے تو وہ کسی اور قوم کو اس دین کا علمبردار بنادے گا تاکہ وہ اس کی حقیقی خدمت انجام دے۔ تاریخ ہماری محتاج نہیں۔ ماضی میں بھی مختلف قوموں سے اللہ تعالیٰ نے یہ کام لیا ہے اور مستقبل میں بھی لے گا، اس لیے ان حالات کے باوجود میری نگاہ میں مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔

پھر عالمِ اسلام میں بھی امید کی ایک کرن ہے۔ اور یہ جدید احیائی تحریکات ہیں۔ اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی اس سلسلے میں بڑی اہم ہیں۔ ان تحریکات کے قائدین سے مل کر میں نے محسوس کیا کہ وہ اسلام کا حقیقی تصور پیش کررہی ہیں۔ اسلامی ریاست کے سلسلے میں بھی ان کا نظریہ درست اور واضح ہے۔ اور مسلم سوسائٹی کے ارتقا ء کی جس نہج کو وہ پیش کررہی ہیں وہ بھی بڑا امید افزا ہے۔ لیکن ان تحریکات کے متعلق جو چیز کھٹکتی ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے پروگرام میں تعلیمی، عوامی اور سیاسی کام میں پورا پورا توازن قائم نہیں رکھا ہے اور سیاست پر زور دینے(Emphasis) کی وجہ سے بہت سی دوسری ضروری چیزیں پوری نہیں ہوسکی ہیں۔

س:آپ کے خیال میں مسلمانوں کا رویہ مغرب کے بارے میں کیا ہونا چاہیے؟

ج:مغرب مادیت اور الحاد کا علمبردار ہے، اسلام کو اس سے کوئی علاقہ نہیں۔ مغرب سامراج اور امپریلزم کا حامی ہے، اسلام ان کا دشمن ہے۔ اسلام زندگی کو اخلاقی اور روحانی بنیادوں پر قائم کرتا ہے۔ وہ ترقی کا مخالف نہیںبلکہ اس کی صحیح نہج کو متعین کرتا ہے۔ اس میں رہبانیت نہیں ہے، وہ تو زندگی کا سیدھا راستہ ہے جو روحانی اور اخلاقی دونوں قسم کی ترقی چاہتا ہے۔

میرے خیال میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کلچر پر قائم رہیں اور اس کو مستحکم کریں۔ مغربی کلچر، مغربی تہذیب، مغربی اصولوں کو اختیار کرنا ہمارے لیے مہلک ہوگا۔ ہماری ترقی مغرب کی نقالی میں نہیں، اپنے طریقے کے اتباع میں ہے۔ پھر مغرب خود اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے۔ جو خود دیوالیہ ہو وہ دوسروں کو کیا دے گا۔ حضرت عیسیٰ نے فرمایا تھا کہ اگرایک اندھا دوسرے کی رہبری کرے گا تو دونوں گڑھے میں گریں گے۔

ہمارے پاس اسلام کی روشنی موجود ہے، پھر ہم بصیرت سے محروم یورپ کی تقلید کیوں کریں؟ لیکن کچھ چیزیں ہیں جن میں ہم یورپ سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، مثلاً عمل اور جدوجہد کاجذبہ، صحت و صفائی کے اصول، سائنسی ترقی … ان تمام چیزوں کو ہم یورپ سے لے سکتے ہیں اور اسلام کے بتائے ہوئے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

س:کلچر کے ذکر کے ساتھ ہی عورتوں کی آزادی کا سوال ذہن میں ابھرتا ہے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

ج:میں جب یہ دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں نے اپنی نصف قوت کو مفلوج کرلیا ہے اور ہماری عورتیں ملی تعمیر میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کررہی ہیں، ان سے قرونِ مظلمہ کے انسانوں کی طرح بلکہ جانوروں کی طرح سلوک ہوتا ہے تو میرا کلیجہ خون ہوجاتا ہے۔ عالمِ اسلام کو سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک عورتیں ہماری زندگی کی تشکیل میں اپنا مساوی حصہ ادا نہیں کریں گی حالات میں سدھارپیدا نہیں ہوگا، اور نئی نسلیں تعلیمی اور تہذیبی اعتبار سے پس ماندہ رہیں گی۔

اسلام وہ مذہب ہے جس نے سب سے پہلے عورتوں کے حقوق کو تسلیم کیا… اور کسی جدوجہد، کشمکش یا پیکار کی بنا پر نہیں بلکہ حق و انصاف کی بنا پر کیا۔ پھر آخر ہم ان حقوق سے عورتوں کو کیوں محروم رکھیں۔

میں عورتوں کی آزادی اور ان کی مساوات کا سختی سے حامی ہوں لیکن مسلمان عورتوں کو مسلمان دیکھنا چاہتا ہوں، مغربی عورت کا چربہ نہیں! عورتوں کی آزادی کے معنی مغرب کی تقلید نہیں۔ یہ تو آزادی نہیں، ایک نئی قسم کی غلامی ہوگی۔ پھر میں اپنی بہنوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ یورپ میں آج سب سے مظلوم طبقہ، سب سے دکھی طبقہ اور سب سے بدنصیب طبقہ عورتوں ہی کا ہے۔ مغربی عورت سب کچھ بن گئی ہے مگر عورت نہیں بن سکی! اور عورت اول و آخر عورت ہے۔ وہ ہر میدان میں مرد کی نقالی کرکے اپنے جداگانہ وجود کو کھودیتی ہے۔ اور اس کی روح کو گھن لگ جاتا ہے۔ وہ کبھی بھی اطمینان کا سانس نہیں لے سکتی۔

مساوات کا یہ نہایت ہی احمقانہ تصور ہے کہ عورت ہر وہ کام کرے جو مرد کرتا ہے۔ مساوات کے معنی یہ نہیں کہ دونوں کی اپنی اپنی شخصیت ختم ہوجائے۔ ایک کے دوسرے پر حقوق ہیں اور کسی کو دوسرے پر زیادتی کا حق نہیں لیکن دونوں اصناف کے درمیان ان کی اپنی فطرت کے تقاضوں کی بنا پر تقسیم عمل ہونی چاہیے اور اگر یہ نہیں ہوتا تو کوئی بھی مطمئن نہیں ہوسکتا۔ پھر اس کے یہ معنی بھی نہیں کہ گھر کی زندگی میں ایک نگران نہ ہو۔ مساوات کے ساتھ ساتھ اسلام مرد کو خاندان کا قوام بناتا ہے اور یہ حقیقی مساوات کے ہرگز منافی نہیں ہے۔

آج میں مسلمان عورتوں کو مغرب کی کورانہ نقالی کرتے دیکھتا ہوں تو مجھے بے حد افسوس ہوتا ہے۔ کاش، ہماری عورتیں مغرب میں عورتوں کے دردناک حالات سے سبق حاصل کریں۔ میں اپنی بہنوں سے کہوں گا کہ تم مغرب کی نقالی نہ کرو۔ تم گھروں سے باہر نکلنے کی نہ سوچو۔ تم قومی زندگی میں برابر کی شریک ہو مگر یہ مساوات اسلامی طریقے سے کرو۔ تم اپنا نصب العین نوکری اور سماج کی زینت بننا نہ بناؤ بلکہ تمہارا نصب العین ایک اچھی بیوی اور ایک اچھی ماں بننا ہے۔ تم ایسے نصب العین کو ترک نہ کرو۔ یہ تمہاری فطرت کے خلاف ہوگا۔ تم قوم کی معمار ہو۔ محض ظاہری چمک دمک کی خاطر اس اعلیٰ مشن کو چھوڑنے کا خیال بھی تمہارے دل میں نہیں آنا چاہیے۔ تم اپنے سامنے مغرب کی فلم ایکٹرسوں کا نمونہ نہ رکھو بلکہ قرونِ اولیٰ کی مسلمان خواتین کا اسوہ رکھو۔ تم کو عائشہ صدیقہؓ اور فاطمۃ الزہراؓ کے نقشِ قدم پر چلنا ہے اور یہی تمہاری ترقی اور نجات کی اصل راہ ہے۔ ——

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر خورشید احمد

Leave a Reply