جسمانی ورزش اور صحت

نائلہ ہماری کلاس کی سب سے کاہل الوجود اور اکتائی ہوئی طبیعت کی مالک تھی۔ ہمیشہ دیر سے کالج آنا اور پروفیسر صاحب سے جھاڑیں سننا اس کا معمول تھا۔ جماعت میں کسی سے اس کی نہ بنتی۔ وہ ہر آن کسی نہ کسی سے جھگڑتی کبھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہ دیکھی گئی۔ پھر ہماری گرمی کی چھٹیاں ہوگئیں۔ اور اڑھائی ماہ بعد جب میں کالج گئی تو نائلہ کو ایک لڑکی کے ساتھ بڑے خوشگوار موڈ میں باتیں کرتے پایا۔ اس دن وہ ہر ایک سے آگے بڑھ بڑھ کر سلام کررہی تھی۔ سبھی لڑکیاں اس کے اس رویے پر خوشگوار حیرت کا اظہار کررہی تھیں۔ چھٹیوں سے پہلے والی نک چڑھی لڑکی اب ہمارے سامنے ہنستے مسکراتے، با ادب و با اخلاق انسان کی صورت میں تھی۔ اس دن میں نے اس سے پوچھ لیا: ’’نائلہ! آپس کی بات ہے، برا نہ ماننا آخر یہ سب کیسے ہوا؟ اور تمہارا مزاج بالکل بدل گیا؟‘‘

اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:

’’بات یہ ہے کہ چھٹیوں کے دوران ایک دن اخبار پڑھتے ہوئے میری نظر ایک مضمون پر پڑی۔ عنوان تھا: ’’کھیلوں کے انسانی شخصیت پر اثرات۔‘‘ میں نے مضمون پڑھا تو اس کے نکات میرے ذہن پر مرتسم ہوگئے اور میں نے تہیہ کرلیا کہ میں ان پر عمل کرکے اپنی شخصیت اور صحت دونوں کو بہتر بناؤں گی چنانچہ اس دن سے میں نے صبح کی سیر اور شام کو بیڈمنٹس کھیلنا اپنا معمول بنالیا۔‘‘

’’کیا صرف سیر اور کھیل کے ذریعے تمہاری زندگی میں اتنا بڑا انقلاب آگیا؟‘‘

’’ہاں! میں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔ پہلے مجھے پڑھاہوا سبق اور میتھ کے فارمولے بھی یاد نہیں رہتے تھے، مگر اب الحمدللہ ایسا نہیں، اور مجھے امید ہے کہ میں اس بار ضرور کوئی پوزیشن حاصل کرلوں گی۔‘‘

جس وقت وہ اپنے چہرے پر شگفتگی اور مسکراہٹ سجائے یہ باتیں کررہی تھی، میں سوچ رہی تھی کہ واقعی کھیل ہمیں تندرست و توانا ہی نہیں رکھتے بلکہ ہماری شخصیت کو دوسروں کے لیے پرکشش بھی بناتے ہیں … ذہنی بالیدگی اور جسمانی چستی کے لیے کھیل ناگزیر ہیں۔ اس سے انسان کے کام کرنے کی صلاحیت دوچند ہوجاتی ہے اور وہ زندگی سے صحیح طور پر لطف اندوز ہونے کے قابل ہوجاتا ہے۔اب آپ سوچیں گے کہ کونسا کھیل کھیلا جائے؟

انسانی جسم کی درج ذیل بنیادی اقسام ہوتی ہیں:(۱) ایکٹو مورفس (۲) میسو ایکٹومورفس(۳) میسو مورفس۔(۴) میسو اینڈو مورفس (۵) اینڈو مورفس۔

ہمارے سماج کا المیہ یہ ہے کہ اس میں لڑکیوں اور خواتین کے لیے کھیلوں او رجسمانی ورزش کی اہمیت کو یکسر انداز کیا جاتا ہے۔ نہ لڑکیوں کے اسکولوں اور کالجوں میں ان کے لیے کھیل اور ورزش کامناسب انتظام ہوتا ہے اور نہ گھروں میں اس پر توجہ دی جاتی ہے اور خود خواتین بھی اس طرف توجہ نہیں دیتیں اور بعض اوقات گھریلو مصروفیات کو اس کی راہ کا روڑا سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ صحت کے گرتے معیار، خواتین کے خاص جسمانی وصحتی مسائل کے پیش نظر ان کے لیے اس طرف توجہ دینا اور بھی ضروری ہے۔ کیونکہ مرد گھر سے باہر نکلنے کے سبب یا اپنے پیشہ اور جسمانی محنت کے یا پیدل چلنے کے سبب نسبتاً کسی نہ کسی طرح جسمانی ورزش کا کچھ حصہ مکمل کرلیتے ہیں لیکن خواتین کے لیے یہ ممکن نہیں ہوپاتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ خواتین اپنی جسمانی صحت کی مناسب دیکھ بھال کے لیے کھیل اور جسمانی ورزش کو معمول بنائیں۔ اپنے اور اپنے بچوں کے لیے گھروں میں یا گھر کے باہر کھیل کا مناسب انتظام کریں۔

آج کھیل اور ورزش سے عدم توجہی اور نئی نئی غذائی اشیاء کے استعمال کے سبب موٹا پا ایک مستقل اور عام بیماری بنتا جارہا ہے اور سلمنگ سنٹرس کا بزنس ترقی پارہا ہے جس میں لوگ ہزاروں روپے ماہانہ خرچ کرتے ہیں۔ اگر آپ کھیل اور ورزش پر توجہ دیں تو ایک طرف صحت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے دوسری طرف بے شمار بیماریوں سے محفوظ ہوا جاسکتا ہے۔ اب کونسا کھیل کھیلا جائے یا کونسی ورزش کی جائے یہ تو آپ کے حالات اور جسمانی کیفیت پر منحصر ہے لیکن اس سلسلے کی چند عام باتیں یہاں پیش کی جارہی ہیں۔

جو لوگ وزن کم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لیے کھیل بڑے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ جسم کو سڈول بنانے اور قوت کار بتدریج بڑھانے میں کھیل بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اسے دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا ہے۔اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کھیل ہمارے لیے ورزش کا پرلطف ذریعہ ہیں۔ پھر کھیل ہی کھیل میں وزن کم اور جسم پر کشش ہوجائے تو اس سے اچھی بات بھلا کیا ہوگی!

لیکن یہ بات یاد رہے کہ کھیلوں کے زیادہ سے زیادہ کارآمد ہونے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ انہیں کتنی دلچسپی اور کتنی دلجمعی سے کھیلتے ہیں۔ سائیکل چلانا، دل اور ٹانگوں کے لیے بہت مفید ہے اور یہ عمل بڑا پرلطف ہے، مگر جب آپ سائیکل کے ہینڈل پر جھکتے ہیں تو پھیپھڑوں کا مناسب پھلاؤ مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس جو گنگ یا تیز خرامی ہمارے تمام جسم پر صحت مند اثرات چھوڑتی ہے۔

کسی کھیل کے متعلق جاننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک نئی مہارت اور نیا ہنر سیکھتے اور اپنی موجودہ قوت و صلاحیت میں اضافہ کررہے ہیں۔ جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے ساتھ ساتھ کھیل، انسانی زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی خوش گوار تبدیلی لانے کا باعث تو بنتے ہی ہیں۔ مختلف جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں سے نجات کا بھی ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔

کھیل ورزش کے سلسلہ میں اہم ترین بات یہ بھی ہے کہ اس معاملہ میں باقاعدگی اور تسلسل کو قائم رکھا جائے، وقت کی پابندی کی جائے کیونکہ باقاعدہ اور مسلسل جسمانی ورزش ہی انسانی جسم پر اچھے اور دور رس اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

یاد رہے کہ جو بھی کھیل یا ورزش آپ چنیں، وہ ایسا ہوناچاہیے جس سے آپ کو مکمل تسکین کے ساتھ ساتھ اس کے زیادہ سے زیادہ فوائد بھی حاصل ہوسکیں۔ اپنی عمر، جسمانی ساخت اور وسائل کے مطابق چیزوں کو اپنا کر ہی آپ صحیح معنوں میں اس سے استفادہ کرسکتی ہیں۔ کھیلوں کے ذریعے ہمیں جو ورزشیں حاصل ہوتی ہیں، وہ استعداد کار اور قوت میں اضافہ کرتی ہیں اور عضـلات اور جوڑوں کو لچک دار، دل اور سانس کے نظام کو بہتر بناتی ہیں۔ زیادہ تر کھیل عضلات کے ایک ہی سیٹ کو تقویت دیتے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ مختلف کھیل بدل بدل کر کھیلے جائیں تاکہ پورے جسم پر اس کے خاطر خواہ اثرات مرتب ہوسکیں… لیکن کھیل بدلتے وقت یہ بھی خیال رہے کہ ان کے اثرات ایک دوسرے سے مختلف نہ ہوں۔ مثلاً ویٹ لفٹنگ عضلات کو سخت اور مضبوط بناتی ہے جبکہ تیراکی، قوت برداشت کے ساتھ ساتھ عضلات کو پھیلاتی ہے۔ یہ دونوں کھیل ایک دوسرے سے الٹا اثر دکھاتے ہیں لہٰذا ان دونوں پر عمل پیرا ہونے سے فائدے کے بجائے انسانی جسم مختلف تکالیف کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ ہاں، تیراکی اور جوگنگ ایک نہایت شاندار امتزاج ہے جس سے جسم انسانی پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اسی طرح کا معاملہ ورزشوں کا ہے۔ جسم کے مختلف حصوں کے لیے الگ الگ ورزشیں ہوتی ہیں اور آپ کو مختلف اعضاء کے لیے الگ الگ حرکتیں اور عمل کرنے ہوں گے۔ مثلاً اگر پیٹ بڑھا ہوا ہے تو اس کے لیے الگ ورزش ہوگی۔ بازوؤں اور پیروں کے مختلف پٹھوں کے لیے الگ الگ عمل کرنے ہوں گے۔ آنکھوں، پھیپھڑوں اور گردن کی الگ الگ ورزشیں ہوں گی۔ جن میں آپ کو اپنے وقت کا کچھ حصہ ضرور صرف کرنا ہوگا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ روزانہ تیز رفتار سے پیدل چلنا اور دوڑنا ایسی ورزش ہے جس کا پورے انسانی جسم پر نہایت خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ بہرحال آپ جسمانی ورزش کے لیے کھیل کو منتخب کریں یا دوڑ اور پیدل چلنے کو آپ کو کچھ وقت تو نکالنا ہی ہوگا۔ اور اگر آپ نے یہ وقت اپنی صحت کی حفاظت کے لیے نکال لیا تو کسی طرح بھی نقصان کا سودا نہیں ہوگا۔ ضرورت صرف توجہ، آمادگی اور مناسب معلومات کی ہے۔ آپ اس سلسلے میں مطالعہ کریں، معلومات حاصل کریں اور اسے اپنے معمولات میں شامل کرلیں۔

——

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر علی احمد باغبان

Leave a Reply