3

سات اعمال کا حسرتناک انجام

حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرہ آفاق کتاب منہاج العابدین میں چند ایسی برائیوں کا ذکر کرتے ہیں جو نیکیوں کو ضائع کردیتی ہیں اور اچھے اعمال قبول نہیں ہوتے مثلاً (۱) غیبت (۲) دنیا کمانے کی خاطر اعمال کرنا (۳) تکبر (۴) عجب (اپنے نیک اعمال پر غرور) (۵) حسد (۶) مصیبت کے وقت اوروں پر خوش ہونا اور انسانوں پر رحم نہ کرنا (۷) اس نیت سے اچھے اعمال کرنا کہ دوستوں میں اور مجلسوں میں تذکرے ہوں۔

غیبت کو زنا سے بھی زیادہ بھیانک گناہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتا جب تک وہ شخص معاف نہ کردے جس کی غیبت کی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حسد نیکیوں کو اس طرح برباد کرتا ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑیوں کو جلا دیتی ہے۔ تکبر ایک ایسی آفت ہے جو نیکی کا نام و نشان مٹا دیتی ہے۔ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا کہ اے خداوند قدوس! تو سب سے زیادہ کس پر ناراض ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’جس کے دل میں تکبر ہو، جس کی زبان ترش ہو، جس کی آنکھ میں حیا نہ ہو، جس کے ہاتھ بخیل ہوں اور جو بداخلاق ہو۔‘‘

امام غزالیؒ فرماتے ہیں ’’اپنے اعمال صالحہ کو عظیم خیال کرنے کا نام عجب ہے۔‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرمایا: ’’بہت سے چراغ ہیں جن کو ہوا نے بجھا دیا اور بہت سے عابد ہیں جن کو عجب نے تباہ کردیا۔‘‘ عجب کے باعث انسان توفیق اور تائید ایزدی سے محروم ہوجاتا ہے۔ منہاج العابدین میں درج ایک طویل حدیث میں ان تمام رذائل کا ذکر کیا گیا ہے جو اعمال کو ضائع کردیتے ہیں:

’’ابنِ مبارکؒ ، خالد بن معدان سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت معاذؓ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنی ہو اور اس کو یاد کیا ہو، اور اس کی شدت اور باریکی کی وجہ سے آپ اسی کا تذکرہ ہر روز کرتے ہوں۔ تو انھوں نے فرمایا ہاں، بیان کرتا ہوں۔ پھر وہ بڑی دیر تک روتے رہے۔ پھر کہنے لگے رسول اللہ ﷺ اور ان کی ملاقات کا شوق حد سے بڑھ گیا ہے۔ پھر فرمایا: ایک دفعہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا۔ آپؐ سواری پر بیٹھے اور مجھے بھی اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ پھر ہم چلے۔ آپؐ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی، پھر فرمایا: ’’تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے، فیصلہ فرماتا ہے۔ اے معاذ!‘‘ میں نے عرض کیا: ’’لبیک یا سید المرسلین۔‘‘

آپ نے فرمایا: ’’میں تجھ سے ایسی بات بیان کررہا ہوں کہ اگر تو نے اس کو یاد رکھا تو تجھے نفع دے گی اور اگر تو نے اس کو ضائع کردیا تو اللہ عزوجل کے نزدیک تیری حجت ختم ہوجائے گی۔ اے معاذ! اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمین اور آسمان کی پیدائش سے پہلے سات فرشتوں کو آسمانوں کے خازن اور دربان کی حیثیت سے پیدا کیا اور ہر ایک آسمان کے دروازے پر ایک فرشتہ بحیثیت دربان کھڑا کردیا۔ کراماً کاتبین بندے کے اعمال لے کر چڑھتے ہیں، ان میں روشنی اور چمک ہوتی ہے جیسے سورج کی روشنی، یہاں تک کہ وہ پہلے آسمان پر چلے جاتے ہیں اور کراماً کاتبین اس کے عمل کو بہت زیادہ سمجھتے ہیں اور اس کو خالص جانتے ہیں۔ پھر جب وہ دروازے پر پہنچتے ہیں تو دربان فرشتہ ان سے کہتا ہے کہ اس عمل کو عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارو، میں غیبت کا فرشتہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ایسے آدمی کا عمل اوپر نہ جانے دوں جو لوگوں کی غیبت کرتا ہے اور اسے چھوڑ کر دوسروں کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ پھر دوسرے دن فرشتے اوپر جاتے ہیں۔ ان کے پاس بہت اچھے عمل ہوتے ہیں۔ وہ عمل نور سے روشن ہوجاتے ہیں، کراماً کاتبین اس کو بہت زیادہ اور پاکیزہ خیال کرتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ دوسرے آسمان پر جاتے ہیں تو فرشتہ کہتا ہے ٹھہر جاؤ اور اس عمل کو عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارو کیونکہ اس کی نیت اس عمل سے دنیا کمانے کی تھی۔ مجھے میرے اللہ نے حکم دے رکھا ہے کہ میں کسی ایسے آدمی کا عمل اوپر نہ جانے دوں، جو اسے چھوڑ کر غیر کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ پھر فرشتے شام تک اس پرلعنت کرتے رہتے ہیں۔ پھر فرشتے بندے کے اعمال لے کر اوپر جاتے ہیں اور ان سے بہت خوش ہوتے ہیں۔ ان میں صدقہ، روزہ اور بہت سی نیکیاں تھیں۔ فرشتے ان کو بہت زیادہ سمجھتے ہیں اور خالص جانتے ہیں۔پھر جب وہ تیسرے آسمان تک پہنچتے ہیں تو دربان فرشتہ کہتا ہے کہ ٹھہر جاؤ اور اس عمل کو عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارو۔ میں تکبر والوں کا فرشتہ ہوں۔ میرے اللہ نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہمیں کسی ایسے آدمی کا عمل اوپر نہ جانے دوں جو اسے چھوڑ کر غیر کی طرف متوجہ ہو۔ یہ آدمی لوگوں پر ان کی مجالس میں اپنی بڑائی بیان کرتا ہے۔ فرشتے بندے کے نیک عمل لے کر اوپر جاتے ہیں اور وہ عمل اس طرح چمکتے ہیں جیسے ستارے یا کوئی روشن ستارہ، ان اعمال میں سے تسبیح کی آواز آتی ہے۔ ان میں روزہ، حج، نماز اور عمرہ ہوتا ہے۔ پھر جب وہ چوتھے آسمان پر جاتے ہیں تو وہاں کا دربان فرشتہ ان سے کہتا ہے کہ ٹھہر جاؤ اور اس عمل کو عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارو۔ میں عجب والوں کا فرشتہ ہوں۔ مجھے میرے اللہ نے حکم دے رکھا ہے کہ میں ایسے آدمی کا عمل اوپر نہ جانے دوں جو اسے چھوڑ کر غیر کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہ آدمی جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس پر مغرور ہوجاتا ہے… اور فرشتے بندے کا عمل لے کر اوپر جاتے ہیں، وہ عمل اس طرح آراستہ ہوتے ہیں جیسے دلہن سسرال جانے کے وقت۔ فرشتے ان کو لے کر پانچویں آسمان تک پہنچتے ہیں ان میں جہاد، حج، عمرہ وغیرہ اچھے اعمال ہوتے ہیں، ان کی چمک سورج جیسی ہوتی ہے۔ فرشتہ کہتا ہے کہ میں حسد کرنے والوں کا فرشتہ ہوں، یہ آدمی، لوگوں پر ان چیزوں میں حسد کرتا تھا جو ان کو اللہ نے اپنے فضل سے دی ہیں۔ یہ آدمی اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ تقسیم پر ناراض ہے۔ میرے اللہ نے مجھے حکم دے رکھاہے کہ میں اس کے عمل اوپر نہ جانے دوں کہ وہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی طرف متوجہ ہے … اور فرشتے بندے کا عمل لے کر اوپر جاتے ہیں ان میں اچھے وضو، بہت سی نمازیں، روزے، حج اور عمرہ ہوتا ہے۔ وہ چھٹے آسمان تک پہنچ جاتے ہیں تو دروازے پر مقرر نگہبان کہتا ہے کہ میں رحمت کا فرشتہ ہوں، ان اعمال کو عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارو۔ یہ آدمی کبھی کسی انسان پر رحم نہیں کرتا اور کسی بندے کو مصیبت پہنچتی ہے تو خوش ہوتا ہے۔ میرے اللہ نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ میں اس کے اعمال کو اوپر نہ جانے دوں، جو اسے چھوڑ کر غیروں کی طرف متوجہ ہے… پھر فرشتے بندے کا عمل لے کر چڑھتے ہیں۔ اس میں بہت سا صدقہ، نماز، روزہ، جہاد اور پرہیز گاری ہوتی ہے۔ ان کی آواز ہوتی ہے جیسے رعد کی آواز اور چمک بجلی کی چمک۔ پھر جب وہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں تو فرشتہ جو اس آسمان پر موکل ہے، کہتا ہے میں ذکر کا فرشتہ ہوں یعنی سنانے کا اور لوگوں میں آواز دینے کا۔ اس عمل والے نے اس عمل میں مجلسوں میں اپنے تذکرے اور دوستوں میں بلندی اور بڑے لوگوں کے نزدیک جاہ پسندی کی نیت کی تھی۔ میرے اللہ نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ میں اس کے عمل کو اوپر نہ جانے دوں جو اسے چھو ڑکر دوسروں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اور ہر وہ عمل جو اللہ کے لیے خالص نہ ہو وہ ریا ہے اور ریا کار کا عمل اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتے۔

اور فرشتے بندے کے اعمال، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، عمرہ، اچھا خلق، خاموشی اور ذکرِ الٰہی لے کر اوپر جاتے ہیں۔ ساتویں آسمانوں کے فرشتے ان کی مشایعت کے لیے ساتھ ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے سامنے سے تمام پردے چھٹ جاتے ہیں۔ پھر وہ اللہ عزوجل کے سامنے کھڑے ہوکر اس کے لیے شہادت دیتے ہیں کہ اس کا عمل نیک خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہے … تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم میرے بندے کے اعمال پر نگران ہو اور میں اس کے دل کی نگرانی کرنا والا ہوں۔ اس عمل سے اس کا ارادہ مجھے خوش کرنا نہیں تھا بلکہ میرے سوا اوروں کو خوش کرنا مقصود تھا۔ میں اسے اپنے لیے خالص نہیں سمجھتا اور میں خوب جانتا ہوں جو عمل کرنے سے اس کی نیت تھی۔ اس پر میری لعنت۔ اس نے بندوں کو دھوکہ دیا اور تم کو بھی، لیکن مجھے دھوکا نہیں دے سکتا۔ میں غیبوںکا جاننے والا ہوں۔ دلوں کے خیالات سے واقف ہوں۔ مجھ سے کوئی پوشیدہ چیز چھپی نہیں رہ سکتی اور کوئی چھپی چیز مجھ سے اوجھل نہیں ہے۔ میرا علم حاضر کے متعلق بھی اسی طرح ہے جیسے مستقبل کے متعلق ہے اور گزری ہوئی چیزوں کے ساتھ میرا علم اسی طرح ہے جیسا کہ باقی چیزوں کے متعلق اور میرا علم پہلے لوگوں کے ساتھ اسی طرح ہے جیسے پچھلوں کے ساتھ۔ میں پوشیدہ کو جانتا ہوں اور دل کے خیالات کو بھی۔ میرا بندہ اپنے عمل کے ساتھ مجھے کس طرح دھوکہ دے سکتا ہے؟ دھوکہ تو مخلوق کھاتی ہے جن کو علم نہیں ہوتا اور میں تو غیبوں کا جاننے والا ہوں۔ اس (بندے) پر میری لعنت ہے اور ساتوں فرشتے اور تین ہزار فرشتے وداع کرنے والے سب کہتے ہیں اے ہمارے رب! اس پر تیری لعنت ہو اور ہماری بھی لعنت۔ پھر آسمانوں والے کہتے ہیں اس پر اللہ کی لعنت اور لعنت کرنے والوں کی لعنت۔

پھر معاذ رضی اللہ عنہ رونے لگے اور بڑی شدت سے روئے اور کہنے لگے… میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ! آپ نے جو ذکر فرمایا ہے اس سے نجات کی کیا صورت ہے، تو فرمایا: ’’اے معاذ! اپنے نبی کی یقین میں اقتدا کر۔‘‘ میں نے کہا آپ تو اللہ کے رسول ہیں اور میں معاذ بن جبل ہوں۔ مجھے نجات اور خلاصی کس طرح نصیب ہوسکتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’اے معاذ اگر تیرے عمل میں کوتاہی ہو تو لوگوں کی بے آبروئی کرنے سے اپنی زبان کو روک خصوصاً اپنے بھائیوں، قرآن پڑھنے والوں اور دوسرے لوگوں کی بے آبروئی کرنے سے تیرے نفس کے عیبوں کا علم تجھے روک دے اور اپنے بھائیوں کی مذمت کرکے اپنے نفس کو پاک نہ بنا اور اپنے بھائیوں کو گراکر اپنے آپ کو بلند کرنے کی کوشش نہ کر اور اپنے عمل میں ریا کاری نہ کر کہ تو لوگوں میں پہچانا جائے اور اس طرح دنیا میں مشغول نہ ہو جا کہ تو آخرت کا معاملہ بھول جائے۔ اور جب تیرے پاس کوئی اور آدمی بھی بیٹھا ہو تو کسی دوسرے سے چھپ کر مشورہ نہ کر اورلوگوںمیں بڑائی حاصل کرنے کی کوشش نہ کر کہ دنیا اور آخرت کی بھلائیاں تجھ سے منہ موڑ لیں گی۔ اور اپنی مجلس میں اس طرح فحش گوئی نہ کر کہ لوگ تیری بداخلاقی کی وجہ سے تجھ سے گریز کرنے لگیں۔ اور لوگوں پر احسان نہ جتا اور لوگوں کی عزت کا پردہ اپنی زبان سے چاک نہ کر کہ تجھے جہنم کے کتے پھاڑ ڈالیں گے اور یہی ہے اللہ تعالیٰ کا قول:

والناشطات نشطاً…

’’یعنی ہڈیوں سے گوشت کو الگ کردیں گے۔‘‘

میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ان باتوں کی کون طاقت رکھ سکتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:’’اے معاذ! جو میں نے تجھ سے بیان کیا ہے، وہ اسی آدمی پر آسان ہے جس پراللہ تعالیٰ آسان کرے۔ تجھے ان باتوں سے یہ چیز کفایت کرتی ہے کہ تو لوگوں کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو تو اپنے نفس کے لیے پسند کرتا ہے۔ اور لوگوں کے لیے وہی کچھ ناپسند کرے جو اپنے نفس کے لیے ناپسند کرتا ہے۔ اگر تو ایسا کرے گا تو سلامت رہے گا اور نجات پاجائے گا۔‘‘

خالد بن معدان نے کہا کہ حضرت معاذ قرآن پاک کی تلاوت بھی اس کثرت سے نہیں کرتے تھے جتنا کہ اس حدیث کو بیان کرتے اور اپنی مجلس میں اس کا تذکرہ کرتے تھے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی

تبصرہ کیجیے