غــــزل

نہیں ہے ان کے لیے عشرتِ بہار نہیں

جنہیں خود اپنے ارادوں پہ اختیار نہیں

کہو نہ پھول دہکتے ہوئے شراروں کو

خزاں نے آگ لگائی ہے یہ بہار نہیں

اگر بہار ہمارے لیے نہیں نہ سہی

ہمیں بھی فرصتِ نظارئہ بہار نہیں

حرم کو دیر بنادیں صنم کو جانِ حرم

ذرا ہوس کے غلاموں کا اعتبار نہیں

یہ دل کی دھڑکنیں کیوں تیز ہوتی جاتی ہیں

قریب ہی تو کہیں جلوہ گاہِ یار نہیں

ابھی سے برق کی یہ شعلہ باریاں کیا خوب

ابھی بہار کی تمہید ہے بہار نہیں

اُدھر وفا پہ بھی کوثرؔ جبیں پہ سو شکنیں

ادھر یہ حال کہ تلخی بھی ناگوار نہیں!

شیئر کیجیے
Default image
کوثر قریشی

Leave a Reply