نیا آدم

’’کامی! کیا سوچ رہے ہو؟‘‘

’’میں نے سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ ویسے بھی سوچنے کے لیے رہ بھی کیا گیا ہے؟‘‘

’’کامی! یہ تمہیں کیا ہوگیا۔ تم نے زندگی سے فرار کی راہ تلاش کرلی ہے۔ چند روز کی اس بے روزگاری نے تمہارا کیا حال کردیا ہے۔ زندگی کے سنگ چلو، زندگی کے رنگ سے کھیلو۔ زندگی میں کتنے ہی رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔‘‘

’’نوشی! زندگی کہاں ہے۔ سانسوں کی آمد و رفت کو اگر تم زندگی کا نام دیتی ہو تو ہاں میں زندگی سے فرار چاہتا ہوں۔ میرا ہر سانس مجھے روزانہ جانے کتنی بار مارتا ہے۔ زندگی کے رنگوں سے بہت عرصے خود کو بہلایا ہے۔ اب یہ رنگ مجھے کھلونا بم لگتے ہیں۔ تم انہیں قریب سے دیکھو یہ کتنے بھیانک ہیں۔ ڈراؤنے ہیں…‘‘

’’کامی! میں تمہیں خوشخبری سنانا چاہ رہی تھی۔‘‘

’’خوشخبری… شاید یہ لفظ اب مجھے دھوکا نہیں دے سکتا۔ اس کائنات میں کیا کوئی خوشخبری جیسی چیز بھی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک بھی روز ترقی پذیر ممالک کو خوشخبری سناتے ہیں، خیرات کی، مگر جب یہ خیرات اپنے معانی بتاتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ایک اور پھندا ان کے گلے میں کسا گیا۔ تیسری دنیا کے حکمران عوام کو خوشخبری سناتے ہیں کہ ان کی بہبود کے لیے حکومت پتہ نہیں کیا کچھ کررہی ہے مگر خوشخبری جب ان تک پہنچتی ہے تو پتہ لگتا ہے کہ مراعات یافتہ طبقے نے عوام کے گرد اپنی پالیسیوں کا شکنجہ اور بھی تنگ کردیا ہے… کیا ایسی ہی کوئی خوشخبری ہے؟‘‘

’’کامی! تم ہوش میں تو ہو۔ تم تو لوگوں کی ہمت بندھاتے رہے ہو۔ آج حوصلہ ہار بیٹھے ہو۔‘‘

’’میں کیا ہم سب ہارے ہوئے جواری ہیں۔ مجھ جیسے دانشور الفاظ سے کھیلتے ہوئے ان شکست خوردہ لوگوں کو بہلا رہے تھے۔ اب ہم خود پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں اور پناہ گاہ نہیں مل رہی تو مدہوشی میں پناہ چاہ رہے ہیں۔ نوشی! یہ شور سن رہی ہو؟ یہ دھوا ں دھار فضا جس نے ہم سے نیلے آسمان کا تصور بھی چھین لیا ہے۔ یہ پانی جو ہم پی رہے ہیں اس میں زہر کا اندازہ ہے تمہیں؟ آج کے دور کا انسان دھیمے زہر کے ذریعے روز جیتا ہے اور روزمرتا ہے۔ ہر انسان فرار چاہتا ہے۔ جھوٹی پناہ گاہوں میں پناہ لیتا ہے۔ مگر ہم سب بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں۔ فنا کی معمولی سی چنگاری سب کچھ جلا کر بھسم کردے گی اور ہم ایک خوفناک انجام سے دوچار ہوں گے۔‘‘

’’تم دو روز بے روزگار ہوئے ہو تو دیوانگی کا شکار ہورہے ہو۔ تمہیں کچھ ادراک ہے کہ ہمارے معاشرے میں کتنے لوگ بے روزگار ہیں اور کتنے لوگوں کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی؟ اور تمہارے پاس تو مستقبل کے لیے بہت کچھ ہے۔‘‘

’’کوئی بھی ذی شعور آدمی اس آلودہ ماحول، طبقاتی تفاوت، بے پناہ شور، لوٹ مار اور کشمکش میں زندہ نہیں رہ سکتا، خود کشی کرلیتا ہے یا پاگل ہوجاتا ہے۔ اور مجھ میں خودکشی کی ہمت نہیں، اس لیے سسک سسک کر مررہا ہوں۔‘‘

’’ہاں کامی! ایسا کرتے ہیں ہم ایک ہفتے کے لیے کشمیر چلے چلتے ہیں۔ وہاں تمہیں بے ہنگم شور اور آلودگی سے بھی نجات مل جائے گی اور …‘‘

’’نہیں نوشی! ہم انسان بہت گندے ہیں، ہر جگہ گند پھیلاتے ہیں۔ تمہیں معلوم نہیں ہم نے تو ڈل جھیل کو آلودہ کردیا۔ نہ جانے کونسی بیماری ہے جس نے وہاں کے خوش مناظر کو خوفناک اور وہاں کے لذیذ پھل دار درختوں کو سوکھا بنادیا اور مہکتی فضا میں بارود کادھواں گھول دیا۔ میں تو وہاں کے تصور سے ہی دہل جاتا ہوں۔‘‘

’’کامی! ہوش کرو۔ یہ گھر ہے کوئی عالمی سربراہ کانفرنس نہیں ہورہی ۔ ماحولیاتی آلودگی کے علاوہ دوسرے مسائل بھی ہیں اور بہت سی خوشیاں بھی۔ میں تمہیں بتانا چاہ رہی تھی کہ … وہ … میں… بلکہ … ہم … تین ہونے … والے ہیں۔‘‘

’’نہیں … نہیں… ہرگز نہیں۔‘‘ وہ ہیجانی کیفیت میں کہتا ہے۔

’’کیوں، تمہیں خوشی نہیں ہوئی؟‘‘ کیا تم نے مجھ سے شادی نہیں کی؟ اور تم نے بچے کو عورت کی تکمیل اور قدرت کی حسین تخلیق نہیں کہا تھا؟ یاد کرو کامی!‘‘

’’بس… بس… میں نے جھوٹ بکا تھا سب کچھ۔ ہم انسانوںنے ان بچوں کے لیے کیا رکھا ہے۔ سالانہ کئی سو ارب ڈالر کااسلحہ جس میں ایٹم بم، نیوٹران بم اور ہائیڈروجن سمیت تباہ کن اسلحہ شامل ہے۔ ایک تباہ شدہ اوزون کی تہہ، آلودہ فضا اور پھر تیسری دنیا کے ملکوں نے تو ساری عمر کی غلامی خرید رکھی ہے۔

’’کیا تم بتاسکتی ہو تیسری دنیا نے اپنے ہر پیدا ہونے والے بچے کے لیے کتنے ہزار روپے کے قرضے پیشگی لے رکھے ہیں؟ تمہیں یہ علم ہوگا کہ تیسری دنیا میں لاکھوں بچے ناقص غذا کے باعث مرر ہے ہیں۔ افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ میں کتنے بچے غذا کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہورہے ہیں اور دوسری طرف امریکہ میں کاشتکاروں کو کم غلہ پیدا کرنے پر سب سڈی دی جاری ہے۔ دنیاکے امیر ترین بیس فیصد دنیا کی کل آمدنی کا ۸۸ فیصد اور غریب ترین بیس فیصد محض اعشاریہ چار فیصد پار ہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی کثیر قومی کمپنیاں ایک نئی تجارتی سامراجیت ہم پر مسلط کیے ہوئے ہیں۔ چند طاقتوں کے علاوہ دوسروں پر جدید اسلحہ بنانے پر پابندی ہے۔ نیوکلیئر یا دوسری توانائی کا پرامن استعمال بھی ان کے لیے ممنوع ہے جبکہ وہ خود بہ بانگ دہل ہر طرح کا ہلاکت خیز اسلحہ بناسکتے ہیں اور استعمال کرسکتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہم اپنے بچوں کو ایک خوفناک درندوں کے سنسار میں سسک سسک کر مرتے نہیں دیکھ سکتے۔ اس لیے تیسری دنیا کے لوگوں کو بچے پیدا کرنے کا کوئی حق نہیں۔‘‘ وہ اضطرابی کیفیت میں تقریر کرتے ہوئے کھڑکی کے قریب آکر باہر دیکھنے لگتا ہے۔

’’میرے کامل! سوال تیسری یا دوسری دنیاکا نہیں، بلکہ سوال شکار کرنے والے اور شکار ہونے والے، ظلم کرنے والے اور ظلم سہنے والے کا ہے۔ اور یہ جنگ ازل سے جاری ہے۔ صرف ہتھیار اور میدانِ جنگ تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ سپاہی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ تاریخ کے سوتے بھی ظالم و مظلوم اور حق و باطل کی جنگ سے پھوٹتے رہے ہیں۔ ہر دور میں حق نے باطل کو شکست دی ہے مگر مختصر وقفے کے لیے۔ پھر باطل بظاہر غالب آتا رہا ہے۔ اگر تمہارے جیسے بیمار ذہن فروغ پاتے تو آج دنیا ختم ہوچکی ہوتی یا باطل کا راج ہوتا۔ تاریخ کا عمل جدوجہد سے آگے بڑھتا ہے، ہمت ہار دینے سے نہیں۔ تم جیسے نام نہاد دانشور ڈرائننگ روموں میں بیٹھ کر مزدوروں کے لیے سسکتے اور تڑپتے ہوئے غریب غرباء اور تیسری دنیا کے مظلوموں کے لیے نوحے تو لکھ سکتے ہیں، مگرمچھ کے آنسو بہا سکتے ہیں، کمیونزم کے نام پر ایک پارٹی کی آمریت تو مسلط کرواسکتے ہیں، مگر تمہارے نعرے کھوکھلے ہیں، ان میں عملیت پسندی نہیں جس کا ثبوت آج مزدوروں اور پسے ہوئے عوام کے لیے جدوجہد سے تمہارا فرار ہے۔ تم نے تو زندگی کے حقائق کو جھٹلا کر اپنے نظریے کی بنیاد رکھی اور دوسرے لوگوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی۔ آج اپنے نظریے کی لاش کی سڑاند سے خود ہی گھبرا گئے ہو۔ انسان کی سب سے بڑی پناہ گاہ تو اس کے من کی سندرتا ہوتی ہے مگر تم کیا جانو دل کا سکون۔ تم نے تو انسانوں پر مرضی کا نظام مسلط کرکے اس کی سندرتا کو برباد کرنا سیکھا ہے۔ آج اس دنیا کے انسان آزادی سے جینے کے لیے تمہارے نظریے کی زنجیریں کاٹ چکے ہیں تو تم پرانی کٹیا میں لوٹ گئے ہو۔ وہاں تمہیں کیا سکون ملے گا۔ من کے اندر جھانکو وہاں سکون ہی سکون ہے۔‘‘

’’نوشین! عورت کا من تو شیشے کی طرح نازک ہوتا ہے۔ تمہاری ممتا کا جذبہ جو کہ عورت کی کمزوری ہوتا ہے تمہیں اس کو جنم دینے پر اکساتو رہا ہے مگر کل جب یہ بچہ تعلیم، روزگار، ماحول کے بے پناہ مسائل کی آگ میں جھلسے گا پھر جب آج کے سامراجی درندے منڈیوں کے لیے تیسری عالمی جنگ لڑیں گے۔ خوفناک ہتھیاروں کی فضا میں یہ بچہ سسک سسک کر مرے گا تو تمہارا دل کرچی کرچی ہوجائے گا، پھر ان کرچیوں کو سمیٹ سکو گی؟‘‘

’’عورت میں قدرت نے برداشت کوٹ کوٹ کر بھری ہے پھر تمہارا نظریہ اندیشہ ہے، میرے نظریے کی بنیاد یقین پر ہے۔ دنیا کی تاریخ میں درندگی اور درندے نئے نہیں مگر قدرت کا اپنا مکافات عمل کاطریق ہے۔ فرعون، نمرود، چنگیز، ہلاکو بڑے بڑے درندے مکافاتِ عمل کا شکار ہوئے ہیں۔ آج کے فرعون و نمرود کل کے فرعونوں اور نمرودوں کی طرح پناہ گاہوں کی تلاش میں بھٹکتے پھریں گے اور پناہ گاہ کوئی نہیں ہوگی۔ اب تیسری عالمی جنگ آج کے سامراجی درندے نہیں بلکہ دنیا کے تمام محروم انسان ان کے خلاف لڑیں گے۔ پھر کوئی اقوامِ متحدہ ان کی مدد کو نہیں آئے گی۔ پھر تمام محروم انسان اپنے وسائل کے استحصال کا حساب لیں گے۔‘‘

’’تم عورت بن کر نہیں اس دنیا کی انسان بن کر سوچو۔ بھوک، افلاس، بے روزگاری، قرضے، اقتصادی غلامی، تکنیکی انحصار سب آج کے دور کی سچائیاں ہیں۔ ان سے انکار ممکن نہیں۔ پھر یہ سب چنگاریاں ہیں جو کسی وقت بھی بارود کے ڈھیر کو جلاسکتی ہیں۔‘‘

’’میں نے اس بچے کو جنم نہ دیا تو میں خود کو انسانیت کا مجرم سمجھوں گی۔ شاید میرا بچہ انسانیت کے کسی کام آسکے اور میں نے اس کو جنم نہ دیا تو شاید میری کوکھ ہی سے کائنات کی تباہی پھوٹے۔‘‘

’’نوشی! ہم دونوں تو کسی نہ کسی طرح سسک سسک کر جی ہی لیں گے مگر اس ننھی جان کو دنیا جیسی غلیظ جگہ پر نہیں آنا چاہیے۔ اسے روزجیتے اور مرتے دیکھنے کی تاب تم میں ہوگی ، مجھ میں نہیں۔ اس لیے … تم… اسقاط کرالو۔‘‘

’’کیا… یہ… تم نے کہا… میں… میں… اسقاط کرالوں۔ تباہ کردوں… جلادوں… امیدوں کو… نہیں…میں قتل … نہیں کرسکتی۔ یہ ننھی جان تو میری روح ہے۔ اپنی روحوں کو بھلا کوئی ختم کرتا ہے۔ اور مسٹر! یہ یورپ نہیں، مشرق ہے جہاں اخلاقی اقدار میں یہ لفظ باپ کے منہ پر نہیں آتا۔ تم نے درجن سے زائد بچے بھی دیکھے ہوں گے مگر یہ لفظ… اب میں ایک منٹ یہاں نہیں رہ سکتی۔ میں اپنے بچے کو تمہارے جیسے بیمار ذہن کے باپ کے شر سے دور رکھوں گی۔ میں اسے یقین کا نظریہ دوں گی۔ میں تمہیں روشنی سمجھی تھی، مگر تم تو گھٹا ٹوپ اندھیرا نکلے۔ ہاں، میں جارہی ہوں اس منزل کی طرف جہاں امیدیں ہوں مایوسیاں نہ ہوں، جہاںیقین ہو اندیشے نہ ہوں، جہاں حوصلہ ہو فرار نہ ہو۔‘‘ وہ باہر نکل کر دروازے کی طرف بڑھتی ہے۔

’’رکو نوشی! پلیز رکو۔‘‘

’’اب رکنے کے لیے رہ کیا گیا ہے۔ سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔ میں اپنے بچے کے ساتھ جینا چاہتی ہوں۔ میں حوصلے اور عزم کے ساتھ جینا چاہتی ہوں یہ دونوں چیزیں تمہیں قبول نہیں۔‘‘

’’نوشی! تم کہاں جاؤ گی؟ میں بھی اکیلا رہ جاؤں گا۔‘‘

’’کائنات کی وسعت میں پناہ گاہیں انہیں نہیں ملتیں جو شکست خوردہ اور مایوس ہوں۔ تنہائی مایوسی اور نا امیدی سے بڑی سزا تو نہیں۔ ہاں میری تلاش میں مت نکلنا۔ جب تم میں زندگی کی حقیقتوں سے لڑنے کی جرأت پیدا ہوجائے، جب سرمایہ دارانہ نظام کی پرانی کٹیا میں تمہارا دم گھٹنے لگے تو میں اور میرا بچہ تمہیں زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر مل جائیں گے۔‘‘ وہ باہر نکل جاتی ہے۔ پیچھے دو تین آوازیں لگانے کے بعد دروازے تک آکر اس کے قدم رک جاتے ہیں اور وہ صوفے پر بے سدھ پڑجاتا ہے۔

٭٭

ایک بہت بڑا پنڈال لاکھوں انسانوں کے سروں سے بھرا ہوا نظر آتا ہے۔ تل دھرنے کو جگہ نہیں۔ غیر ملکی اور ملکی صحافی حضرات مکانوں کی چھتوں سے نظارہ کررہے ہیں۔ لاؤڈ اسپیکر سے مختلف اعلانات کے بعد اعلان ابھرتا ہے : ’’خواتین وحضرات! انتظار کی گھڑیاں ختم ۔ اس ملک کے ممتاز سائنس داں زہیر صاحب آپ سے مخاطب ہوا چاہتے ہیں۔‘‘ دوسری آواز آتی ہے: ’’حضرات! میں آج جو کچھ ہوں، اپنی ماں کی محنت اور دعاؤں کی وجہ سے ہوں۔ وہ ہی کچھ کہیں گی۔‘‘

ایک باوقار خاتون اسٹیج پر سفید لباس سے سرتاپا ڈھکی مائیک پر آتی ہے۔ ’’خواتین و حضرات! میں دنیا کے تمام انسانوں سے مخاطب ہوں۔ دنیا کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی باقیات کے ہاتھوں زندہ انسانوں کا قید خانہ بنی ہوئی ہے۔ سائنس اور ٹکنالوجی جو انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے، اس پر بھی چند ممالک یا کمپنیاں سانپ بن کر بیٹھی ہوئی ہیں اور اس اجارہ داری نے کائنات کو گندگی کا ڈھیر بنادیا تھا۔ جانداروں کا یہاں رہنا ناممکن ہوتا جارہا تھا۔ میں نے اپنے بچے کی پیدائش ہی سے اسے سائنس دان بنانے کے بارے میں سوچا تھا۔ میں نے جدوجہد، عزمِ کامل اور یقین کے ساتھ یہ سفر طے کیا۔ میرے بچے نے انسانیت کے لیے آلودگی صاف کرنے کی ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے۔ ایٹم بم کی تباہی سے بچنے کی گیس تیار کی ہے۔ یہ ایجادات انسانیت کی امان ہیں۔ کسی قسم کا کوئی پیٹنٹ نہیں۔ ہر کمپنی ہر ملک اسے بلامعاوضہ استعمال کرسکتا ہے۔ ہر شخص انہیں سیکھ سکتا ہے۔ میرا بیٹا بیسویں صدی کی ایک عورت کی طرف سے اکیسویں صدی کے انسانوں کے لیے تحفہ ہے۔ میں دیکھ رہی ہوں اکیسویں صدی کے سورج کے طلوع ہونے کے ساتھ ہی کمیونزم کی طرح سرمایہ دارانہ نظام بھی اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھنے لگے گا اور انسانیت کائنات کی سب سے بڑی سچائی کو پالے گی۔ اور اسی میں انسانیت کی فلاح اور بقا کی کنجی ہے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
ظفر الحسن الماس

Leave a Reply