آپا

رات دھیرے دھیرے گزر رہی تھی۔ پورے چاند کی چاندنی میں آپا کا جنازہ چارپائی پر رکھا تھا۔ ہلکی ہلکی لوبان اور اگربتی کی خوشبو پھیلی تھی۔ کبھی کبھی کافور کی مہک آجاتی تو احساس ہوتا آپا فوت ہوچکی ہیں ورنہ ایسا لگ رہا تھا باورچی خانے میں آپا کسی کے لیے کچھ پکا رہی ہیں۔ اب کمرے میں بستر لگا رہی ہیں، صحن میں آئیں گی تو پھولوں کے پودے دیکھ کر انہیں پانی دینے لگیں گی۔ الگنی سے دھلے کپڑے اتار کر ان کو تہ لگائیں گی۔ سلائی کڑھائی سے لے کر باروچی خانے کے سارے کام ان کے ذمے تھے۔ کسی کا چلہ ہوتا تو وہ پورا کراتیں۔ ایسے میں بچے کا پیشاب پاخانہ بھی صاف کرنا پڑتا۔ کوئی بیمار پڑتا تو اس کی تیمار داری کرتیں۔ پورے گھر میں ’’آپا، آپا‘‘ کی آوازیں گونجتی رہتیں۔ ماتھے پر بل ڈالے بغیر وہ سب کے کام کردیتیں۔

آپا کی کہانی بھی عجیب تھی۔ شادی ہوئی دھوم دھڑکے سے۔ وہ دلہن بنیں۔ دولہا میاں تشریف لائے تو شرم کے مارے سمٹ گئیں۔ دولہا کسی اور شہر میں ملازم تھا۔ انھوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، سب سے پہلے یہ پوچھا: ’’میرے ساتھ چلوگی؟‘‘ یہ خاموش رہیں۔ دولہا نے ایک نظر دیکھا۔ کمرے کا دروازہ بند تھا۔ انھوں نے کھڑکی کھولی، چھلانگ لگائی اور غائب ہوگئے۔ صبح سارے گھر میں اودھم مچا۔ دولہا غائب تھے۔ الٹا سیدھا ولیمہ ہوا۔ سب لوگ آپا کے پیچھے پڑگئے کہ دولہا کہاں گیا۔ وہ بے چاری کیا بتاتیں۔ رو رو کر ان کی آنکھیں سوج گئی تھیں۔ سسرال میں رہتی تھیں۔ خاندان میں شادی ہوئی تھی۔

پھر ایک دن دولہا میاں آگئے۔ چند ماہ سکون سے گزرے تو ان کا کلکتہ سے بلاوا آگیا۔ ساس بوڑھی تھیں۔ گھر میں کام کاج کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ دولہا میاں پھر سینہ تان کر کھڑے ہوگئے۔ ’’میرے ساتھ چلو گی؟‘ ‘ وہ خاموش تھیں۔ دوسرے لمحے ان کے میاں اپنا سوٹ کیس اٹھا کر گھر سے باہر جاچکے تھے۔ چار سال گزرگئے۔ میاں کا کوئی اتہ پتہ نہیں ملا۔ کلکتہ سے کوئی آدمی آیا تو اس نے بتایا کہ وہاں بڑے مزے سے رہتے ہیں۔ کسی بنگالن سے شادی کرلی ہے اور ان کے تین بچے ہیں۔

آپا کے دل پر آرے چل گئے۔ بہتیرا روئیں، خط لکھے، مگر کچھ پتہ نہ چلا۔ آپا نے گھر میں تھوڑی بہت سلائی شروع کی۔ عید بقرعید پر جو پیسے ملتے، وہ سینت کر رکھتیں۔ تین بھائی ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ ساری بھابیوں کے کام کرتیں۔ ان کے بچے سنبھالتیں۔ پوتڑے تک دھوتیں۔ گرمی کے موسم میں بیٹھ کر پانچ پانچ کلو آٹا گوندھ کر چپاتیاں پکاتیں۔ سارا جسم گرمی دانوں سے بھر جاتا، مگر کسی کو ان کا احساس نہ ہوتا۔ بیمار پڑتیں تولوٹ پوٹ کر بغیر علاج کے ٹھیک ہوجاتیں۔ بستر پر لیٹنے کا موقع ہی کوئی نہ دیتا۔ بچے علیٰحدہ پریشان کرتے۔ بازار سے روٹیاں آتیں۔ باروچی خانے میں کوئی نہ جاتا۔ بے چاری ہانپتی کانپتی اٹھ کر کام میں جت جاتیں۔ آپا کی جوانی یوں ہی تیرے میرے کاموں میں گزر گئی۔ ایسا لگتا تھا وقت گزر گیا ہے۔ الجھے الجھے ملگجے بال، اڑی رنگت، مٹیالے کپڑوں میں عجیب سی لگتیں۔ ناگن کی طرح لہراتے بال ساری چمک کھوچکے تھے۔

پھر ایک دن عجیب واقعہ ہوا۔ برسوں بعد ان کے میاں تشریف لے آئے تھے۔ سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی۔ اس دن آپا نے اپنا ٹرنک ٹٹولا۔ کوئی ڈھنگ کا جوڑا تک نہیں تھا جو وہ پہن لیتیں۔ کسی سوٹ کی شلوار بھابی نے مانگ لی تھی۔ دوپٹے بھتیجیوں نے ادھار مانگے تھے، پھر واپس نہیں دیے۔ شادی کے کپڑے تو پہلے ہی نند نے گھسیٹ لیے تھے۔ پرانے دھرانے چند جوڑے پڑے تھے۔ آپا نے سر پکڑ لیا۔ ان کی اوقات تو ماماؤں سے بھی بدتر تھی۔ کبھی کسی نے نہیں سوچا تھا کہ عید تہوار پر ان کے لیے کپڑے بنوادیے جائیں۔ سب کی اترن ہی پہن لیتی تھیں۔ نہا دھو کر آپا نے پرانے دھلے ہوئے کپڑے پہنے، کنگھی چوٹی کی تو شکل نکل آئی۔ رات ہوئی تو میاں سے کہا : ’’میرے پاس تو کپڑے ہی نہیں۔ کیا پہنوں؟ تم نے تو کبھی خرچہ کے نام پر دھیلا بھی نہیں دیا۔ اور اب آئے ہو تو جیب میں پیسہ نہیں۔ کچھ تو میرا خیال کرو۔‘‘ وہ کچھ نہ بولے۔

صبح اٹھ کر آپا نے پہلا کام یہ کیا کہ دو سوتی جوڑے خرید کر لائیں اور ان کو بیٹھ کر سیا۔ سسرال کا مکان خالی پڑا تھا۔ وہاں جاکر صفائی کی اور میاں کے ساتھ رہنے لگیں۔ تھوڑی بہت زمین کی آمدنی حصے میں آنے لگی۔ اسی پر گزارہ کرتیں۔ فالتو وقت میں سلائی کرتیں۔

تین چار ماہ گزرے تو میاں کو بنگالن بیوی اور بچے یاد آنے لگے۔ ان کے خط آ رہے تھے کسی طرح بلالو۔ ایک دن میاں نے قسمیں کھا کر کہا تم مجھے کرایہ دے دو۔ معصوم بچے ہیں وہ سب یہاں آجائیں گے۔ ایک کمرہ اسے دے دینا، مل جل کر رہیں گے۔ آپا ان کی باتوں میں آگئیں۔ سلائی کرکے جتنے روپے جمع کیے تھے حوالے کردیے۔ اور چند روز بعد ہی ان کی بنگالی سوکن اور بچے آگئے۔ چند روز امن سے گزرے پھر گھرمیں فساد شروع ہوگیا۔ ہر وقت کی چخ چخ سے گھبرا کر آپا کچھ دنوں کے لیے بھائی کے گھر آگئیں۔ ابھی گھر آئے تیسرا دن تھا کہ طلاق نامہ مل گیا۔ آپا بے ہوش ہوگئیں۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا ہوگا۔ بھائیوں کو بہت برا لگا مگر کیا کرسکتے تھے؟ آپا اب یہیں کی ہوگئیں۔ ان کا دل مرچکا تھا۔ کام میں لگی رہتیں۔

تنہائی میں ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔ وہ سوچنے لگتیں ان کا کیا قصور تھا۔ جوانی بھی گزری اور اب بڑھاپا بھی یونہی بلک بلک کر گزررہا ہے۔پھر ایک دن ایسا ہوا کہ آپا کو بخار چڑھا۔ وہ بھی ایسا کہ سارے جسم کی توانائی ختم کرگیا۔ اسی کمزوری اور نقاہت میں فالج کا حملہ ہوا۔ آپا ایسی صابر کہ منہ سے آہ نہیں کرتی تھیں۔ چپ چاپ پڑی تکلیفیں سہتیں۔ کسی نے منہ میں کچھ ڈال دیا تو کھا لیا۔ کسی سے شکوہ نہ شکایت۔ آسمان کی طرف دیکھتیں اور آہ بھر کر خاموش ہوجاتیں۔ آخر کے چند روز بڑے کٹھن گزرے۔ سارے جسم کی جان نکل چکی تھی۔ لیکن ان کی آنکھیں دروازے پر لگی تھیں۔ نجانے کس کا انتظار تھا۔ صرف سانس کی ڈوری آہستہ آہستہ ہل رہی تھی۔ اور کچھ بھی نہیں۔ ایسے میں کسی کو پتہ بھی نہ چلا کب وہ رخصت ہوگئیں۔ چہرے پر بے پناہ نور تھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر تھی۔

ابھی انہیں غسل دے کر کفنایا جارہا تھا کہ ڈاکیہ ان کے نام کا خط لایا۔ بھائی نے خط لے کر دیکھا اور لفافہ پھاڑ کر پڑھنے لگے۔ یہ ان کے میا ںکا خط تھا۔ اس میں لکھا تھا: ’’میرا تمہارا اب کوئی تعلق نہیں،مگر میں کچھ دنوں سے سوچ رہا ہوں میں نے تمہارے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے۔ زیادتی نہیں بلکہ ظلم۔ تمہارا کوئی قصور نہیں تھا۔ میری بیوی بچے بھی مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور میں بستر پر بیمار پڑا ہوں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ سزا ہے جو میں بھگت رہا ہوں۔ تم سے مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ صدق دل سے تم مجھے معاف کردو تاکہ میرے ضمیر کا بوجھ ہلکا ہوجائے اور میں سکون سے مرسکوں۔ میرے دل پربہت بڑا بوجھ ہے۔ میں نے تم جیسی معصوم فرشتہ صفت عورت کی زندگی خراب کی اور پھر طلاق دے کر ہمیشہ کے لیے رشتہ ختم کردیا۔ میں تمہیں خدا اور رسولﷺ کا واسطہ دے کر معافی مانگتا ہوں۔ مجھے معاف کردو۔

بھائی نے یہ خط بلند آواز سے پڑھ کر آپا کو سنایا۔ آپا کے چہرے پر مسکان سی دکھائی دی۔ یوں لگا جیسے انہیں قرار آگیا ہو۔ گلاب کے پھولوں میں سجی آپا اس دنیا میں نہیں تھیں۔ کاش! یہ خط چند گھنٹے پہلے ملاہوتا۔ شاید اسی کا انتظار آپا کو تھا۔

انسان زندگی میں بہت سی زیادتیاں کرجاتا ہے مگر ایک وقت ایسا آتا ہے جب اس کا اپنا ہی ضمیر اسے کچوکے دیتا ہے اور وہ اپنی ہی آگ میں جلتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں آپا جیسی سچی کہانیاں بے شمار ہیں۔ ناکردہ گناہوں کی سزا نجانے کتنی خواتین بھگت رہی ہیں۔ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر انسان کو سزا ضرور ملتی ہے۔ آپا تو ختم ہوگئیں مگر ان کے شوہر آج بھی بستر پر موت کے انتظار میں گھڑیاں گن رہے ہیں۔ بیوی بچوں کے ہوتے ہوئے بھی ان کا کوئی نہیں ہے۔ زندگی میں ہی انھوں نے سزا پالی ہے۔

——

شیئر کیجیے
Default image
خدیجہ آفاق

Leave a Reply