4

مالکِ ایں مکاں

ڈیوڑھی کی دہلیز کے اندر قدم رکھتے ہی میری نظر شیدو آپا پر پڑی اور میرا دل دھک سے رہ گیا۔ شیدو آپا اپنی تین سال کی بچی کو اپنے ساتھ بستر پر لٹائے سوکھی مسواک جیسی انگلیوں سے اس کے سنہری بالوں میں کنگھی کررہی تھی۔ بچی کی نیلی نیلی آنکھیں بالکل اپنی ماں جیسی تھیں اور ناک نقشہ بھی وہی تھا، لیکن یہ شیدو آپا کو کیاہوا تھا… پیلی زرد بے خون رنگت، ستا ہوا چہرہ اور آنکھوں میں ایک دلدوز سی ویرانی۔ مجھے دیکھتے ہی شیدو آپا کی ناک پر سرمئی رنگ کی ہلکی ہلکی چھائیاں جیسے کانپ اٹھیں۔ وہ بڑی مشکل سے اٹھی اور تکئے کا سہارا لے کر بیٹھ گئی۔ اتنی معمولی سی حرکت سے اس کی سانس بے طرح پھول گئی تھی… ’’الطاف!‘‘ اس نے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔

’’السلام علیکم ، شیدو آپا!‘‘

’’وعلیکم السلام‘‘ وہ تیل سے چپڑا ہوا لکڑی کی طرح خشک ہاتھ میرے سر پر پھیرتے ہوئے بولی ’’کب آئے؟‘‘

اپنے بے ترتیب بالوں کو، ہتھیلی سے تہہ کرتے ہوئے میں نے آس پاس دیکھا۔ منشی جی برآمدے کے جنوبی کونے میں آہنی شکنجے میں پھنسی لکڑی پر بسولہ اور آری لیے جھکے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھا تو اوزار پھینک کر میری طرف لپکے… ’’الطاف بیٹا!‘‘

میں بھاگ کر ان سے لپٹ گیا۔ جانے آج منشی جی کو کیا ہوگیاتھا۔ ایک منٹ تک تو انھوں نے مجھے اپنے آپ سے الگ نہ کیا اور چپ چاپ میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آنسوؤں سے میرے کندھے بھگوتے رہے۔ پھر صحن کے وسط میں چفتیوں والی کرسی گھسیٹتے ہوئے بولے: ’’بڑے دنوں کے بعد آئے بیٹا! ماشاء اللہ اب تو تم جوان ہورہے ہو، کون سی کلاس میں پڑھتے ہو؟‘‘

’’دسویں کا امتحان دے کر آیا ہوں جی۔‘‘

میں نے منشی جی کی طرف دیکھا جن کے چہرے کی سیاہی مائل سرخ سلوٹوں میں دو سال کے شب و روز نے کچھ اور سیاہی انڈیل دی تھی۔ آنکھوں کے پپوٹوں میں بوجھل پن کا اضافہ ہوگیا تھا۔ سر کے بال دودھ کی طرح سفید تھے اور نچلا ہونٹ سامنے کے اوپر نیچے کے دانت نکل جانے کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ لٹکا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ پھر مجھے بیزار کن خاموشی کا احساس ہوا جو علیک سلیک کے بعد صحن کی فضا پر مسلط ہوگئی تھی اور جیسے ہر طرف سے کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی۔

’’منشی جی، کیا بات ہے؟ آپ بہت پریشان معلوم ہوتے ہیں۔ اور یہ آپا کو کیا ہوا، کتنی کمزور ہوگئی ہے۔‘‘

’’ا س کا گھر والا فوت ہوگیا ہے، بیٹا! تپ دق تھی اس کو۔ ہماری تو قسمت پھوٹ گئی۔‘‘

میں نے شیدو آپا کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں کی بیمار سفیدی میں موٹے موٹے آنسو تیر رہے تھے۔

منشی جی کا خفیف طور پر کانپتا ہوا سر اور زور زور سے ہلنے لگا جیسے کہہ رہا ہو: ’’نہیں، نہیں، نہیں۔‘‘

٭٭

حکیم رحمت میاں کی اونچی حویلی کے سامنے والی گلی میں پہلا مکان منشی فریاد علی کا تھا۔ بچپن کے دنوں میں جب کبھی میں اپنے نانا جی کے گھر آتا تو اپنے گھر کی گویا یہی سب سے پہلی پہچان تھی کہ اس گلی میں نانا جان کے گھر سے اس طرف چھٹا مکان منشی فریا د علی کا پڑتا تھا جس کے گہرے سیاہ رنگ کے دروازوں پر لکڑی کے رنگین پھول اور بیل بوٹے بنے تھے اور پتیل کی موٹی موٹی چمک دار کیلیں اور پتریاں جڑی ہوئی تھیں۔ اس مضبوط اور خوبصورت بیل بوٹوں والے دروازے کی محراب کے تکونے ٹکڑے پر بھی رنگا رنگ بیلیں بنی ہوئی تھیں، جن میں دیے کی سیدھی لو جیسے نوک دار پھولوں کے گھیرے میں یہ شعر لکھا ہوا تھا:

در حقیقت مالک ہر شے خدا است

ایں امانت چند روزہ نزد ما است

’’حقیقت میں ہر چیز کا مالک خدا تعالیٰ ہے اور یہ امانت محض چند دنوں کے لیے ہی ہمارے پاس ہے۔‘‘

میں گرمیوں کی چھٹیوں میں جب اپنے ننہیال کے گاؤں آتا تو سب سے پہلے منشی جی کے گھر میں داخل ہوکر سلام کہتا۔ شیدو آپا کی ان دنوں شادی نہ ہوئی تھی اور نہ ہی منشی جی اتنے بوڑھے ہوئے تھے۔ شیدو آپا کپڑے دھو رہی ہوتی یا آٹا گوندھ رہی ہوتی۔ وہ اسی طرح صابن کے جھاگ یا آٹے میں لتھڑے ہوئے ہاتھوں سے میرے سر پر ’’پیار‘‘ دیتی۔ منشی جی بازوؤں سے پکڑ کر ایک دو چک پھیریاں دیتے اور پھر پیار سے اپنے سفید بالوں والی بانہہ میرے گلے میں حمائل کرتے ہوئے شیدو آپا سے کہتے: ’’شیدو! لسی دے الطاف بیٹے کو۔‘‘

منشی جی ڈاک خانے کی تیس سالہ ملازمت پوری کرکے حال ہی میں ریٹائر ہوئے تھے۔ بچپن سے ہم انہیں گاؤں میں چٹھیاں اور منی آرڈر تقسیم کرتے دیکھتے تھے اور ابھی انہی دنوں ان کی موٹی موٹی بھاری پنڈلیوں سے گرم خاکی کپڑے اور پٹیاں اتری تھیں۔ وہ بوسیدہ سا پھولا ہوا چرمی تھیلا جو ان کے کندھے سے ہر وقت لٹکا رہتا تھا، وہ سکے کی موٹھ والی لاٹھی جس پر کیل کوکے اور پتیل کی پتریاں اور تار چڑھے ہوئے تھے اور وہ خاکی رنگ کی پگڑی میں کان کے اوپر اٹکایا ہوا قلم، یہ سب کچھ منشی جی سے جدا ہوگیا تھا اور اب ان چیزوں کے بغیر وہ منشی جی معلوم نہ ہوتے تھے۔ کچھ یوں عجیب عجیب سے لگتے تھے جیسے دولہا کے سر سے تازہ رنگی کلف لگی اکڑی اکڑی پگڑی اور زرتار سہرا اتار کر پھینک دیا گیا ہو۔ کچھ پرانی چیزیں جو ان کے چہرے پر سلامت تھیں ان میں سے ایک تو ان کی لوہے کی سفید کمانیوں اور موٹے بیضوی شیشوں والی عینک تھی اور دوسرے ان کے چہرے سے کبھی نہ جدا ہونے والی مسکراہٹ۔

جن دنوں منشی جی چٹھی رسانی کرتے تھے، بہت بولا کرتے تھے اور گرمیوں کی کڑکتی دوپہر میں ان کی لاٹھی کا گرجتا ہوا ٹہوکا تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد جب گلی میں گونجتا تو سب سمجھ جاتے کہ منشی خط والا آیا ہے۔

’’ارے فتے! خط آیا ہے تمہارے ابا کا۔‘‘

’’بہن پھاتاں، لے اب منہ میٹھا کرا، وہ نالائق لکھتا ہے کہ میرے بیاہ کا بندوبست کردو جلدی۔‘‘

’’ارے نہال بھائی، بس اس خط کے ایڈریس سے پتہ نہیں چلا کس کا ہے، کوئی نیا لکھنے والا ہے شاید۔‘‘

’’کاکی! پانی کا گلاس لاجلدی سے۔ مجھے ابھی ساتھ والی بستی میں بھی جانا ہے۔‘‘

ایسی آوازوں میں منشی جی، ہنستے گرجتے، مسکراتے اور بچوں کو گھڑکیاں دیتے بگولے کی طرح گزرجاتے اور دور تک ان کی لاٹھی کی آواز مختصر وقفوں کے بعد سنسان دوپہر میں گونجتی رہتی۔

منشی جی کا اپنا چہرہ تو دھوپ اور موسموں کی مار کھاتے کھاتے اب اونٹ کی کھال کی طرح اینٹھ گیا تھا لیکن اس چھوٹے سے خوبصورت مکان میں، جو منشی جی نے آہستہ آہستہ خود اپنے ہاتھوں سے بیس برس کے عرصے میں بنایا تھا، ان کی چندے آفتاب چندے ماہتاب بیٹی رشیدہ کو دیکھ کر ایک ہی نظر میں انسان بخوبی یہ اندازہ کرسکتا تھا کہ جوانی میں منشی جی کی شکل و صورت کیسی ہوگی، اگرچہ وہ ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ شیدو ہو بہو اپنی ماں پر گئی ہے۔

شام کو منشی جی اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہوکر گھر پہنچتے تو حسبِ معمول شیدو آپا کنویں کے تازہ ٹھنڈے پانی کا پیالہ منشی جی کے سامنے رکھتے ہوئے اپنے سر کا دوپٹہ ٹھیک کرتی اور چارپائی کی پائنتی بیٹھ کر منشی جی کو پنکھا جھلنے لگتی۔ منشی جی پانی کے دو تین بڑے بڑے گھونٹ بھرتے ہوئے عینک کے بیضوی شیشوں کے اوپر سے نتھری ہوئی آنکھیں شیدو آپا کے چہرے پر گاڑ دیتے۔ پھر یک لخت پانی کا گھونٹ اچھو بن کر ان کے گلے میں پھنس جاتا ’’اری شیدو کتنی بڑی ہوگئی ہے تو؟ کے انچ روز بڑھتی ہے؟‘‘ اور شیدو آپا اپنی پیشانی پر سلوٹیں ڈال کر کہتی: ’’تو ابا جی نہ بڑھوں کیا؟ ٹھگنی سی رہ جاؤں!‘‘ منشی جی جلدی سے پیالہ ہاتھ سے رکھ کر شیدو آپا کا دوپٹے سے ڈھکا سر اپنے دونوں ہاتھوںمیں لے کر اسے اپنی سفید کھمب ایسی داڑھی میں جیسے چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے: ’’جم جم بڑھو میری بچی، جم جم بڑھو۔‘‘

منی آرڈر کی ادائیگی کے وقت منشی جی ہمیشہ اپنی جیب سے ڈاک خانہ کا چھپا ہوا گول مہروں والا کاغذ نکالتے اور اس کی پشت پر شاید اپنی یادداشت کے طور پر مختلف علامتیں بناتے جاتے۔ اور ایک مرتبہ جب منی آرڈر کے سفید فارم کا زیریں حصہ کاٹ کر انھوں نے بابا نہال کو دیتے ہوئے کچھ اسی قسم کا لفظ اپنے کاغذ پر لکھا تو میں نے پوچھ ہی لیا: ’’منشی جی! اس کا مطلب کیا ہے؟‘‘ یہ سن کر منشی جی نے اپنی سفید سفید بھنوؤں کے نیچے سرخ سرخ ڈوروں والی آنکھوں سے مجھے گھورا اور زیریں ہونٹ کے نیچے داڑھی کے بالوں کے سفید پھول کو چھنگلی سے کھجاتے ہوئے بولے: ’’کیوں اوئے مرزا کے دوہتے، کس جماعت میں پڑھتا ہے تو؟‘‘

’’چھٹی میں منشی جی۔‘‘ میں نے جواب دیا۔

’’اور اس دن تو نے دروازے پر لکھے ہوئے شعر کا مطلب بھی پوچھا تھا نا؟‘‘

’’ہاں جی، منشی جی۔‘‘

یہ سن کر منشی جی کھل کر مسکرائے اور میرے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے بولے: ’’شاباش! شاباش! کیا نام ہے تمہارا، الطاف- اچھا، الطاف ہے تمہارا نام، تو بیٹا اس کا مطلب ہے تیس یعنی تیس روپئے جو ابھی ابھی میں نے نہال بھائی کو دیے ہیں۔‘‘

’’تو اس طرح کیوں لکھتے ہیں، سیدھی طرح ہندسوں میں کیوں نہیں لکھتے جی؟‘‘

یہ سن کر منشی نے آنکھیں نکال کر بابانہال کی طرف دیکھا، جیسے کہہ رہے ہوں: ’’یہ تو بڑا افلاطون ہے جی۔‘‘ پھر مجھے سمجھاتے ہوئے بولے: ’’یہ بھی ہندسے ہیں بیٹا، پر ان ہندسوں میں سیانے لوگ لکھتے ہیں۔ تم ابھی بچے ہو، جب بڑے ہوجاؤگے تو ایسے ہی لکھا کروگے۔‘‘

بس اس دن کے بعد منشی جی کی اور میری دوستی ہوگئی۔ منشی جی اب ہر وقت اٹھتے بیٹھتے اور گزرتے میرے نانا جی کے پاس اکثر میری تعریف کرتے: ’’مرزا صاحب، بچہ بڑا ہونہار معلوم ہوتا ہے، بال کی کھال اتارتا ہے۔‘‘ اور نانا جان جنہیں اپنے ہونہار نواسے کی اصل حقیقت کا علم تھا ’’اونہہ‘‘ کہہ کر مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے:’’بڑا ہونہار ہے جی، تقسیم کا ایک سوال صحیح نہیں حل کرسکتا، اب تومجھے اس کی کھال اتارنی پڑے گی۔‘‘ اور منشی جی حقے کے دو تین کش جلدی جلدی لیتے ہوئے رخصت ہوجاتے۔

پہلی پنشن وصول کرتے ہی منشی جی بسولا، آری اور چورسی لے کر بیٹھ گئے تھے۔ ’’بیٹھے بیٹھے تو کنواں بھی خالی ہوجاتا ہے بھائی۔ یہ ہمارا آبائی پیشہ ہے۔‘‘ وہ برمے کی دستی میں کمانچے کی رسی کو چکر دیتے ہوئے پیر بخش سنار سے کہا کرتے۔ ’’میرے دادا تو ہاتھی دانت کا کام بھی کرتے تھے۔ بڑے بڑے راجوں، مہاراجوں کو ایسی ایسی نفیس چیزیں بنا کر بھیجتے تھے کہ درجنوں بار بڑے بڑے انعام پائے، لیکن جتنے بڑے کاریگر تھے اتنا بڑا عیب بھی تھا ان میں۔ بہت شراب پیتے تھے۔ ایک ایک پیسہ پھونک مرے۔‘‘

اور منشی جی صحن میں بیٹھے آہنی شکنجے میں پنسل سے لیکی ہوئی لکڑی پھنسائے چھوٹے چھوٹے پھول، گملے اور بیلیں بناتے رہتے۔ پھر ایک ننھا سا برش لے کر انہیں مختلف رنگوں میں اس خوبصورتی سے پینٹ کرتے کہ عقیق کا پھول ہو بہو عقیق کا پھول معلوم ہوتا۔

منشی جی کا ایک بھائی بھی تھا جو کسی زمانے میں ہوشیار پور میں اسٹامپ فروشی کا کام کرتا تھا۔ لیکن پرانے اسٹامپوں کی سیاہی ایک خاص کیمیائی طریقے سے اڑا کر انہیں نیا بنا کر بیچتے ہوئے ایک دفعہ پکڑا گیا اور اگر منشی جی کچھ دے دلا کر اس کی گلو خلاصی نہ کراتے تو اب تک شاید جیل میں ہوتا۔ اب وہ گاؤں میں آٹے کی چکی پر منشی گیری کرتا تھا اور منشی جی ہر جمعہ کو اس کے گھر ضرور جاتے تھے۔ بچوں اور بھاوج کے لیے شیرینی اور جلیبیوں کا ایک پیکٹ بھی ساتھ ہوتا اور عید، شب برات اور بیماری ٹھماری پر منشی جی ایک لگی بندھی رقم بھی دیتے۔ اور لوگ تھے کہ ان کے کانوں میں بری بری پھونکیں مارنے سے باز نہیں آتے تھے۔ ’’کون کہتا ہے کہ سجاد علی میری برائیاں کرتا ہے۔‘‘ ایک دن تو وہ پیر بخش سنار پر برس پڑے ’’دراصل لوگ ہم دونوں بھائیوں کے اتفاق پر جلتے ہیں۔ بھلا ناخن بھی کبھی گوشت سے جدا ہوا ہے! اگر ایسی باتوں سے تم سمجھتے ہو کہ میں اس سے الگ ہوجاؤں گا تو یہ تم لوگو ںکی بھول ہے۔ وہ آخر میرا بھائی ہے اور میں اس کے باپ کی جگہ ہوں۔‘‘

سجاد علی اول تو منشی جی کے گھر بہت کم آتا تھا۔ اگر آتا بھی تو جو آدمی بھی اس وقت منشی جی کے پاس بیٹھا ہوتا اسے ایسی قہر آلود نظروں سے گھورتا گویا وہ شخص منشی جی کو لوٹنے کی نیت سے وہاں آیا بیٹھا ہو۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے پیر بخش زر گر کو، جو منشی جی کے خاص عقیدت مندوں میں تھا، جی بھر کر بدنام کرنے پر کمر کس رکھی تھی۔ ’’مکھی کی طرح چمٹاہوا ہے میرے بھائی سے۔ اب لڑکی کی شادی نظر آرہی ہے نا۔ آدھوں آدھ کھوٹ ملا کر پیتل تانبے کے زیور لے آئے گا۔ اچھی نیک نامی ہوگی ہماری۔‘‘ پر یہ تو پرانی بات تھی۔

شیدو آپا کی شادی ہوئی، ایک بچی کی ماں بنی اور اب وہ بیوہ ہوکر بستر علالت پر دراز تھی اور مجھے وہ دن یاد آگئے جب ایک دفعہ شیدو آپا نے مجھے اپنے گھر سے نکال دیا تھا۔ میں حسبِ معمول کھیلنے منشی جی کے گھر گیا تو شیدو آپا ایک پھٹی سی تنگ شمیض پہنے بیٹھی پھتکڑیوں والی گاڑھی لسی سے سر دھو رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی یکایک نہ جانے اس کو کیا ہوگیا۔ منہ پر جھولتے ہوئے لمبے سیاہ بالوں میں سے اس کی موٹی موٹی نیلی آنکھوں نے مجھے ایسے گھورا کہ میں خوف سے لرز گیا۔ ساتھ ہی شیدو آپا کی آواز آئی: ’’آواز دے کر آیا کرو! جب دیکھو وقت بے وقت گھسا چلا آتا ہے! اب تو چھوٹا سا ہے؟ چل باہر نکل۔‘‘ مجھے شیدو آپا پر بہت غصہ آیا تھا۔ ابھی پچھلے دنوں منشی جی نے مجھے کہا تھا: ’’الطاف بیٹا! شیدو کا نام لے کر نہ پکارا کر۔ یہ تمہاری خالہ ہے۔ تجھ سے دس برس بڑی ہے۔ بڑوں کا نام نہیں لیا کرتے۔ اس کو خالہ کہا کرو۔‘‘

’’جی، میں نہیں کہلواتی خالہ۔‘‘ شیدو آپا نے جیسے بپھر کر کہا: ’’میں کوئی خالہ ہوں ابا جی؟‘‘

’’تو کیا خالہ کے سر پر سینگ ہوتے ہیں پگلی!‘‘

’’اور جی میں بھی نہیں کہتا اس کو خالہ، وہ تو بوڑھی بوڑھی ہوتی ہیں۔‘‘

’’اچھا اچھا بھائی، جھگڑا چھوڑو، تو اس کو آپا کہہ لیا کر، لے بس!‘‘

میں نے شیدو آپا کی طرف دیکھا تو جیسے اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ’’آپا‘‘ کی منظوری دے دی اور مجھے بھی تخاطب کا یہ طریقہ پسند تھا کیونکہ شیدو آپا کے سامنے تو میں بچہ ہی تھا۔ پر آج یہ اس نے کیا کہا: ’’اب تو چھوٹا سا ہے؟ چل باہر نکل۔‘‘ مجھے شیدو آپا اتنی بری لگی کہ میں نے عہد کرلیا کہ اب کبھی منشی جی کے گھر نہیں جاؤںگا۔ لیکن تیسرے ہی روز شیدو آپا ہمارے گھر آئی اوریہ معلوم ہونے پر کہ میں باہر کھیلنے گیا ہوں، دو گھنٹے بیٹھی انتظار کرتی رہی، اور گھر میں سب کو بتاتی رہی کہ الطاف مجھ سے ناراض ہوگیا ہے اور جو نہی میں گھر میں داخل ہوا تو شید وآپا نے پکڑ کر مجھے گلے سے لگالیا۔ ’’چل آ گھر۔ دو روز سے تو آیا کیوں نہیں؟ ابا جی روز پوچھتے ہیں الطاف کیوں نہیں آیا، الطاف نہیں دیکھا کل سے۔ اور ہاں ابا جی کو مت بتائیو کہ میں نے تمہیں…‘‘ اور یوںمیری اور شیدو آپا کی صلح ہوگئی۔ شیدو آپا روز مجھ سے، باگے سے املیاں منگواتی اور صبح سویرے مجھے شکر ملی بالائی اور مکئی کی روٹی دیتی جو میں نہایت شوق سے کھاتا۔ ایک روز میں اور شیدو آپا نعمت خانے میں بیٹھے تھے۔ میں حسب معمولی مکئی کی روٹی کے دو ٹکڑوں میں بالائی اور شکر کی تہہ جما رہا تھا۔ کنگنے دودھ کا ہلکی ہلکی بھاپ چھوڑتا پیالہ میرے سامنے تھا۔ بالائی کی سینوچ کا ایک لقمہ توڑتے ہوئے میں نے کہا: ’’شیدوآپا، یہ تو بالکل کریم بسکٹ کی طرح لگتی ہے۔‘‘

’’اور یہ کیسا لگتا ہے؟‘‘ یہ نانا جی کی آواز تھی۔ ایک زناٹے کے تھپڑ کے ساتھ میرا مغز ہل گیا تھا اور آنکھوں کے آگے شرارے سے بکھر گئے تھے۔ نانا جی مجھے پکڑ کر قریب قریب گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔ ’’میں بھی کہوںیہ روز ناشتے کے وقت کہاں غائب ہوجاتا ہے۔‘‘ منشی جی، نانا جی کے ساتھ ساتھ اپنے دونوں بازو پھیلائے اس طرح چلے آرہے تھے جیسے انہیں پکڑنا اور روکنا چاہتے ہوں مگر خود میں ہمت نہ پاتے ہوں۔ ’’مرزا جی، چھوڑیے بچہ ہے۔ بچہ ہے جی، جانے دیجیے۔‘‘

’’غضب خدا کا! گھر میں اللہ تعالیٰ نے سو نعمتیں دے رکھی ہیں پر پتہ نہیں بدنیتی کا کیا چکر پڑگیا ہے کم بخت کو۔‘‘

’’جانے دیجیے مرزا جی، وہ بھی تو آپ کا اپنا گھر ہے۔‘‘

’’آپ نہیں سمجھتے منشی جی، بدبخت تقسیم کا ایک سوال صحیح نہیں حل کرسکتا۔‘‘ اور یہ مار پیٹ کچھ ایسی سود مند ثابت ہوئی کہ اس کے بعد منشی جی کے گھر میں مونگ کے لڈو، حلوا، مٹھائی، بالائی اور پھلوں پھولوں میں باقاعدہ ہمارا حصہ چلنے لگا لیکن اب احتیاط کے طور پر شیدو آپا باہر والے دروازے کی کنڈی ضرور لگادیتی تھی۔

دیکھتے ہی دیکھتے جانے کون سی بیماری شیدو آپا کو کھاگئی۔ ایک روز منشی جی اور سجاد علی تانگے میں لٹا کر اسے شہر کے اسپتال لے گئے، اور ایک مہینے وہیں رہے۔ ایک روز کچھ سامان اور کپڑے لینے کے لیے شہر سے گاؤں آئے تو معلوم ہوا کے شیدو آپا کے پھیپھڑوں میں پانی پڑگیا ہے اور ڈاکٹر دوسرے تیسرے روز سوئی سے پانی نکالتا ہے۔ شیدو آپا سانس بھی مشکل سے لے سکتی تھی۔ اور پھر دو ہفتے بعد جب شیدو آپا کی لاش اسپتال سے گاؤں آئی تو پورے محلے میں کہرام مچ گیا۔

منشی جی صدمے سے پاگل تو نہ ہوئے پر شیدو آپا کو سپردِ خاک کرنے کے تین ہفتے بعد ہی ان پر فالج کا حملہ ہوا اور ان کے جسم کا داہنا حصہ بے حس اور مفلوج ہوگیا۔ میں اپنی چھٹیاں ختم ہونے پر واپس شہر جارہا تھا، اس لیے منشی جی سے ملنے ان کے گھر گیا۔ منشی جی کے پاس ان کا بھائی سجاد علی بیٹھا تھا۔ اس کے ساتھ سجاد علی کی بیوی، دو لڑکے اور دو بڑی لڑکیاں بیٹھی تھیں۔ ان کے درمیان شیدو آپا کی نیلی آنکھوں والی گڑیا سی بچی کھلونوں کے ڈھیر میں اپنی پسند کے کھلونے الٹ پلٹ کررہی تھی اور ہنس رہی تھی۔ سجاد علی کی بیوی اور لڑکیاں بار بار اس کو اٹھا کر اپنی گود میں بٹھالیتیں لیکن بچی گود سے اتر کر کھلونوں کے ڈھیر سے کھیلنے لگتی۔ منشی جی، سجاد علی کی طرف متوجہ تھے۔

’’سجاد بھائی، دیکھنا یہ یتیم بھی ہے اور یسیر بھی، اس کا کوئی چچا ہے نہ ماموں۔‘‘ آواز میں لکنت کی وجہ سے وہ ٹھیک طرح بول نہ سکتے تھے، آواز کھردری اور اوپری اوپری معلوم ہوتی تھی۔ ’’اس کا سب کچھ اب تم ہو۔ یہ گھر اور یہ سب کچھ اللہ کے بعد اب تمہارے سپرد ہے اور ۔۔۔ اس معاملے میں میرے اور تمہارے درمیان فقط اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے۔ میں تو اب کوئی گھڑی کا مہمان ہوں۔ ‘‘ منشی جی کی آنکھوں کے کناروں سے آنسو تکیے کے غلاف پر گررہے تھے۔

’’بھائی جی، بھائی جی! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ خدا ہمیشہ آپ کا سایہ ہمارے سر پر سلامت رکھے۔‘‘

سجاد علی نے آہ وزاری کرتے ہوئے اپنا سر بھائی کے سینے پر رکھ دیا۔ سجاد علی، اس کی بیوی اور لڑکیاں زور زور سے رونے لگیں۔ اتنے میں منشی جی کی نظر مجھ پر پڑی، سر کی خفیف سی جنبش سے انھوں نے مجھے اپنے پاس بلایا: ’’جارہے ہو طاف بیٹا؟‘‘

’’ہاں منشی جی‘‘

’’یہ اپنی آخری ملاقات ہے بیٹا۔‘‘

’’خدا نہ کرے منشی جی۔ آپ اچھے ہوجائیں گے۔‘‘

’’اچھابیٹا جاؤ، جیتے رہو، پھولو پھلو۔‘‘ میں نے اٹھ کر منشی جی کو سلام کیا، اور دروازے کی طرف بڑھا۔ دہلیز سے باہر قدم رکھتے ہوئے میں نے پلٹ کر دیکھا۔ منشی جی مجھے ایسے گھور رہے تھے جیسے واقعی آخری بار دیکھ رہے ہوں۔

٭٭

حکیم رحمت میاں کی اونچی حویلی کے سامنے والی گلی میں پہلے مکان کے سامنے پہنچتے ہی خود بخود میرے قدم رک گئے۔ ایک سال بعد … میں پورے ایک سال بعد پھر گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے نانا جی کے گاؤں آیا تھا۔ گہرے سیاہ اور رنگین بیل بوٹوں اور پیتل کی موٹی چمکدار کیلوں والے دروازوں اور منقش چوبی محرابوں والا مکان میرے سامنے تھا، اور اس وقت ایک چار، پانچ سال کی بچی میلے کچیلے چیتھڑوں میں ملبوس بندریا کی طرح بال پھیلائے نالی کے پاس بیٹھی تھی۔ جب میں اس بچی کو دیکھ رہا تھا تو اس نے اپنی نیلی نیلی آنکھیں گھما کر چور آنکھوںسے میری طرف دیکھا، پھر نالی میں بہتے ہوئے پانی میں ہاتھ ڈال کر ایک سڑا ہوا امرود اٹھایا اور کھانے لگی۔ اتنے میں ایک قوی ہیکل شخص دروازے سے باہر نکلا اور زور کی ایک لات اس مریل سی بچی کے رسید کرتے ہوئے بولا: ’’حرام خور، چوہڑے کی اولاد! سارا دن کھاتے نہیں تھکتی پھر بھی گندی نالیاں چاٹتی ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ اس روتی چلاتی ہوئی بندریا نما بچی کو بیل کی توری کی طرح بازو سے لٹکائے گھر کے اندر چلا گیا۔ اور پھر دروازہ کھٹاک سے بند ہونے کی آواز آئی۔

میں نے دروازے کے اوپر نظر اٹھا کر دیکھا تو محراب پر سنگ مرمر کی ایک نئی تختی نصب تھی جس پر سیاہ حروف میں لکھا ہوا تھا:

مالکِ ایں مکان منشیِ سجاد علی

——

شیئر کیجیے
Default image
حفیظ احسن

تبصرہ کیجیے