نعت

تمہاری نعت کے قربان جان و دل لیکن

قلم کی نوک پہ الفاظ تو بہت ہیں مگر

تمہاری نعت کے قابل کہاں زبان و قلم

ثبوتِ صدقِ معانی کریں کہاں سے بہم

چڑھی ہوئی ہیں زباں پر کثافتوں کی تہیں

پھر اس زبان سے کیسے تمہاری نعت کہیں

بس ایک رسم ہے جس کو نباہنے کے لیے

ہمارا شعر کہاں دولتِ خلوص کہاں

تکلفات سے بزمِ سخن سجانی ہے

سخن فروش ہیں دادِ ہنر کمانی ہے

نہ سوز و ساز ہے دل میں نہ آنکھ میں آنسو

کھلے ہوئے ہیں عقیدت کے پھول بے خوشبو

زباں پہ دعویٔ مہرو وفا بہت کچھ ہے

مگر دلوں میں غمِ آخرت کا نام نہیں

سجی ہوئی ہے درود و سلام کی محفل

غمِ حیات کی چوکھٹ پہ سجدہ ریز ہیں دل

جمی ہوئی ہیں نگاہیں نشاطِ حاضر پر

نہ باز پرس کا خطرہ نہ احتساب کا ڈر

وہ تم کہ شکرِ سراپا تھے اپنے رب کے لیے

وہ تم کہ حق کے لیے سربکف تھے میداں میں

یہ ہم کہ شکر گزاری سے واسطہ ہی نہیں

یہ ہم کہ زخم کے کھانے کا حوصلہ ہی نہیں

تمہیں عزیز تھی ہر شے عزتِ اسلام

ہمارے پاس فقط رہ گیا خدا کا نام

بتانِ قوم و وطن جن کو تم نے توڑا تھا

کیا تھا تم نے اخوّت کا جو محل تعمیر

نئے سرے سے انھیں ہم نے پھر تراش لیا

اسے نفاق کی ضربت سے ہم نے توڑ دیا

ہماری ظلمتِ شب میں کہیں بھی نور نہیں

طلوعِ صبح کے آثار دور دور نہیں

ہمیں تمہاری غلامی پہ فخر ہے لیکن

وفا کو ایک تخیل بنالیا ہم نے

بھلا دیا کہ غلامی کا مدعا کیا ہے

ہمیں شعور نہیں مقصدِ وفا کیا ہے

طلب تصورِ منزل سے ہوچکی محروم

خود اپنی سمتِ سفر بھی ہمیں نہیں معلوم

حضور! پھر بھی یہ اشعار پیشِ خدمت ہیں

برائے نام سی نسبت تو تم سے باقی ہے

اگرچہ ہدیۂ ناچیز، کم عیار سہی

ہزار دامنِ ایمان تار تار سہی

تمہارا نام ہے تسکینِ روح و جاں اب بھی

تمہاری یاد سے ہوتا ہے دل جواں اب بھی

شیئر کیجیے
Default image
عامر عثمانیؒ

Leave a Reply