یہ بھی نہ رہے گی

ایک بادشاہ کسی ملک میں راج کرتا تھا۔ ایک دن وہ شکار کو نکلا جنگل میںاسے بوڑھا فقیر نظر آیا۔ فقیر سب سے الگ تھلگ رہ کر اپنی زندگی بسر کیا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کے پاس جاکر کہا ’’آپ مجھے کوئی اچھی سی نصیحت کریں تاکہ میں اس پر عمل کروں۔‘‘

فقیر نے کہا تم ایک انگوٹھی بنوا کر میرے پاس بھیج دینا میں اس پر اپنی نصیحت لکھ دوں گا۔

بادشاہ اپنے محل واپس چلا آیا۔ ایک انگوٹھی بنواکر فقیر کے پاس بھجوائی۔ فقیر نے بادشاہ کے ملازم کو دو دن بعد آنے کو کہا۔ دودن بعد ملازم پھر فقیر کے پاس گیا۔ فقیر نے انگوٹھی اسے دے دی۔ ملازم نے اس انگوٹھی کو دیکھا تو اس پر یہ لکھا تھا: ’’یہ بھی نہ رہے گی۔‘‘ بادشاہ پریشان ہوکر سوچنے لگا کہ ان لفظوں کا کیا مطلب ہے۔ اس وقت اس کی سمجھ میں تو نہ آیا۔ لیکن پھر بھی اس نے انگوٹھی پہن لی۔ سلطنت کے کاموں میں مصروف ہوگیا۔

کچھ عرصے بعد ایک دشمن نے اس کے علاقے پر حملہ کردیا۔ بادشاہ اپنی فوج لے کر مقابلہ کو نکلا۔ مگر ہار گیا۔ اپنی جان بچا کر جنگل کی طرف بھاگا۔ بہت دور جانے کے بعد اس کی نظر انگوٹھی پر پڑی۔ اس نے انگوٹھی پر لکھے الفاظ دہرائے: ’’یہ بھی نہ رہے گی۔‘‘ اس وقت اسے تسکین ہوئی کہ ضرور میری قسمت پلٹ جائے گی مصیبت اور پریشانی بہت دنوں نہ رہے گی۔

چند دنوں بعد بادشاہ کے سپہ سالار نے بکھری ہوئی فوج اکٹھی کی۔ دشمن کی فوج پر حملہ کردیا۔ اس دفعہ بادشاہ کی فوج جان توڑ کر لڑی۔ دشمن بری طرح ہار کر بھاگ نکلا۔ سپہ سالار نے بادشاہ کو تلاش کیا۔ وہ گھنے جنگلوں میں بادشاہ کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگیا۔ سپہ سالار بادشاہ کو شہر لے آیا۔ بادشاہ پھر حکومت کرنے لگا۔ ایک دن بادشاہ تخت پر بیٹھا ہی تھا کہ اس کی نظر انگوٹھی پر پڑی۔ اس نے پھر وہی الفاظ دہرائے: ’’یہ بھی نہ رہے گی۔‘‘ اس دفعہ بادشاہ کے دل پر کچھ اور طرح کا اثر ہوا۔ اس نے سوچا جس طرح مصیبت کے دن نہ رہے، یہ بادشاہت بھی نہ رہے گی۔

شیئر کیجیے
Default image
Jamil Sarwer

Leave a Reply