5

ربڑ کی کہانی

ربڑ سے ہم سب واقف ہیں۔ اسے کچھ خاص قسم کے درختوں سے حاصل کیا جاتا ہے جو ملیشیا اور انڈونیشیا کے جنگلوں میں اگتے ہیں۔ انہیں ہیویا کہا جاتا ہے۔ ان درختوں سے ربر دودھیا مادہ کی شکل میں تنوں سے نکلتی ہے۔ سیاحت کی غرض سے یورپ کے لوگ جب جنوبی اور وسطی امریکہ پہنچے تو انھوں نے دیکھا تھا کہ لوگ ربر کی بنی چیزوں کا استعمال کررہے ہیں یعنی اچھلنے والے گیند اور چپل وغیرہ۔ تو انہیں حیرت ہوئی کیونکہ وہ پہلے اس سے واقف نہ تھے۔

سائنسداں جوزف پریسٹلی نے یہ دیکھا کہ یہ شئے پنسل کے نشانات مٹا سکتی ہے۔ لہٰذا انھوں نے اس کا نام ’’ربر‘‘ (Rubber) یعنی مٹانے والا رکھا جو آج بھی اسی نام سے جانا جاتا ہے۔ اور پنسل کے ساتھ تو ربر کا تصور جڑا ہوا کیونکہ پنسل سے جب آپ غلط لکھتے ہیں تو ربر سے مٹا کر پھر صحیح کردیتے ہیں۔

روز مرہ کی زندگی میں ہم ربر کی بنی بے شمار چیزیں استعمال کرتے ہیں، جیسے گاڑیوں کے ٹائر، ٹیوب،چپل، جوتے، رین کوٹ، بیلٹیں، پانی کے پائپ اور دیگر بہت سی چیزیں بھی ہم ربر کی بنی استعمال کرتے ہیں۔

آپ کی چھوٹی سی سائیکل کے ٹائر اور ٹیوب کی آپ کو بڑی فکر ہوتی ہے۔ اگر اس میں ایک چھوٹا سا پنکچر ہوجائے تو آپ کو کتنی پریشانی ہوگی؟ آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس کو درست کروانا ضروری ہوتا ہے ورنہ آپ کی اچھی خاصی سائیکل بے کار سی معلوم ہونے لگتی ہے۔ اور اس پنکچر کا علاج بھی ربر کا ٹکڑا چپکا کر ہی کیا جاتا ہے۔

قدرتی ربر ایک نرم ملائم لچکدار چیز ہوتی ہے۔ چارلس گڈایر نے یہ معلوم کیا کہ اگر ربر کو سلفر کے ساتھ گرم کیا جائے تو اس کی لچک اور مضبوطی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کا تجربہ ہان کاک نامی سائنسداں نے بھی کیا۔ اس طرح ان دونوں کے تجربات سے ربر انڈسٹری کو کافی ترقی ہوئی۔ ان دونوں نے ربر سے متعلق پراسسنگ، کمپاؤنڈنگ اور والکنائزنگ کے طریقے ڈھونڈ نکالے جو ربر ٹکنالوجی کے میدان میں بے حد کارآمد ثابت ہوئے۔

۱۸۹۰ء میں بائی سیکل کی ایجاد اور آٹو موبائیل انڈسٹری کی ترقی کی وجہ سے ربر کی مانگ میں اضافہ ہونے لگا۔ ربر کی کیمیائی اور طبعی خاصیتوں پر مزید مطالعہ سے مصنوعی ربر کی تیاری کی راہ ہماوری ہوئی۔ ۱۹۳۰ء میں تھائی کول، نیوپرن اور بیوناین نامی مصنوعی ربر تیار کیے گئے۔ ان کی نمایاں خصوصیات یہ تھی کہ یہ روشنی اور گرمی کے اثرات سے محفوظ رہتے ہوئے پیٹرولیم تیل اور کیمیائی سیال سے بھی بے اثر رہتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
عبدالعزیز مڑکی

تبصرہ کیجیے