2

گھمنڈی گرگٹ

ایک تھے میاں گرگٹ، بڑے گھمنڈی۔ تھے تو وہ اپنی خالہ چھپکلی جیسے، لیکن چلتے تھے سر اٹھا کر۔ گردن ٹیڑھی کرکے، دم اٹھا کر، کسی کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے۔ میاں گرگٹ کئی رنگ بدل سکتے تھے۔ کبھی سرخ، کبھی زرد، کبھی سفید، کبھی ہرا،کبھی بھورا، کبھی مٹیالا۔ تھی تو یہ اللہ کی قدرت، لیکن وہ مانتے کب تھے؟

ایک دن وہ خالہ چھپکلی سے ملے کہا: ’’ہوجاؤں تمہارے رنگ کا۔‘‘ اور جھٹ ہوگئے مٹیالے رنگ کے۔

چھپکلی بولی :’’میرا رنگ تو بھورا بھی ہے۔‘‘ اور وہ بھورے رنگ کی ہوگئیں۔

میاں گرگٹ نے کہا: ’’میرا رنگ بھی بھورا ہے۔‘‘ اور وہ بھی بھورے رنگ کے ہوگئے۔

اب خالہ چھپکلی کو معلوم ہوا میاں گرگٹ اترا رہے ہیں۔

بولیں: ’’جاؤ میاں، اپنا راستہ لو۔ میرے پاس بے کار وقت نہیں۔‘‘

میاں گرگٹ کو غصہ آگیا۔ خالہ چھپکلی کے زور سے کاٹ لیا۔

ڈر کے مارے اُن کی دم ٹوٹ گئی۔ انھیں بہت ڈر لگا۔ اور وہ لنڈوری ہی بھاگ گئیں۔ اب میاں گرگٹ فخر سے دم گھماتے سینے پھلائے دیمک بیگم کے پاس پہنچے۔ کہا:

’’ہوجاؤں تمہارے رنگ کا؟‘‘ اور ہوگئے سفید رنگ کے۔

دیمک بیگم نے کہا: ’’جاؤ اپنا کام کرو مجھے اپنا گھر بنانا ہے۔‘‘

میاں گرگٹ کو اس بات پر غصہ آگیا بے چاری دیمک بیگم کو کھالیا۔

اور پھر شان سے اکڑتے ہوئے چچا بونٹ کے پاس پہنچے۔

چچا بونٹ ہری گھاس پر ٹہل رہے تھے۔ ہرے ہرے کپڑے پہنے تھے۔

میاں گرگٹ کو یہ کپڑے بھلے لگے۔

بولے: ’’چچا ہوجاؤں تمہارے رنگ کا؟‘‘ اور بس ہوگئے ہرے رنگ کے۔

چچا بونٹ تھے بھوکے۔ ان کو یہ مذاق پسند نہ آیا۔

کہا:’’ مجھے بھوک لگی ہے۔ اپنا کھانا تلاش کررہا ہوں، پریشان نہ کرو۔ جاؤ اپنا کام کرو۔‘‘

میاں گرگٹ کو آگیا تاؤ۔ اور ہڑپ کرگئے چچا بونٹ کو۔

اب پھر چلے اتراتے۔

بانو تتلی کو ایک پھول پر بیٹھے دیکھا زرد دوپٹہ اوڑھے تھیں۔ میاں گرگٹ نے دل میں سوچا لاؤ ان کو بھی چھیڑیں۔

کہا: ’’ہوجاؤں تمہارے رنگ کا؟‘‘ اور فوراً ہوگئے زرد رنگ کے۔

بانو تتلی کو ہنسی آگئی۔ بولیں:

’’بڑے گھمنڈی ہو۔ دوسروں کی نقل اتارتے ہو اور اس پر شیخی بگھارتے ہو۔‘‘

میاں گرگٹ کھسیانے ہوگئے اور بانو تتلی پر حملہ کردیا۔

لیکن وہ یہ جا وہ جا، اڑ گئیں۔ میاں گرگٹ جھینپ گئے، آگے بڑھے۔

کھیت میں بی بیر بہوٹی ٹہل رہی تھیں۔

میاں گرگٹ نے دل میں سوچا۔ لاؤ ان کو بھی پریشان کریں۔

بولے: ’’ہوجاؤں تمہارے رنگ کا؟‘‘

اور کرنے لگے اپنا رنگ سرخ، لیکن رنگ ویسا نہ ہوسکا۔

بی بیر بہوٹی نے کہا:

گھمنڈ نہ کرو۔ اللہ میاں گھمنڈی کو پسند نہیں کرتے۔ تم میری طرح سرخ نہیں ہوسکتے۔‘‘

میاں گرگٹ کی سمجھ میں بات نہ آئی اور تاؤ میں اور سرخ ہونا چاہا۔ مگر پھر بھی ویسے سرخ نہ ہوسکے۔

بی بیر بہوٹی نے کہا:’’مجھے کیوں پریشان کرتے ہو۔ مجھے بھی گھرواپس جانا ہے۔ بلا وجہ دیر کرا رہے ہو۔‘‘

میاں گرگٹ بگڑ کر بولے:

’’نہیں میں تو تمہارے رنگ کا ہوکر رہوں گا اور پھر تم کو جانے دوںگا۔‘‘

اور غصہ میں اپنا منہ اور سرخ کرلیا۔ رگیں پھٹ گئیں، مرگئے۔

بی بیر بہوٹی نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا:

’’اللہ میاں نے گھمنڈی کو سزا دے ہی دی، اپنے آگے کسی کو سمجھتا ہی نہ تھا۔ مزا پاگیا اپنے کیے کا۔‘‘

یہ کہا اور ایک ڈھیلے کے نیچے چلے گئیں۔ وہیں ان کا گھر تھا۔

شیئر کیجیے
Default image
ابنِ فرید

تبصرہ کیجیے