اداریہ : گوشۂ نو بہار

پیاری بہنو!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

فروری کا مہینہ ختم ہونے والا ہے۔ اور اب آپ کے امتحانات شروع ہونے میں صرف چند ہفتے باقی ہیں۔ مارچ کے اخیر تک آپ کے امتحانات شروع ہوجائیں گے اور پھر گرمی کی چھٹیاں شروع ہوجائیں گی۔

امتحان پھر امتحان ٹھہرا— اگلے کلاس میں پہنچنے اور اچھے نمبرات حاصل کرنے کے لیے سبھی طلبہ و طالبات سخت محنت کرتے اور دن رات ایک کردیتے ہیں۔ اپنے کورس کا غور سے مطالعہ کرتے، نوٹس بناتے اور ہر ہر یونٹ کو اچھی طرح تیار کرتے ہیں۔ کیا معلوم امتحان میں کس یونٹ سے سوال پوچھ لیا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا کوئی یونٹ چھوٹ جائے اور اسی میں سے سوال بھی آجائے۔ اگر ایسا ہوا تو ہم سوال کا جواب نہ لکھ سکیں گے اور ہوسکتا ہے کہ اس کے سبب ہم فیل ہوجائیں یا نمبرات کم آئیں۔ آخر سال بھر کی محنت اور اگلے سال نئی کلاس میں جانے کا معاملہ ہے نا۔

لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ اپنے تعلیمی امتحان کے لیے ہم جتنی محنت کرتے ہیں، لگن سے تیاری کرتے ہیں اور ہر ہرسبق کو دھیان سے پڑھتے ہیں اسی طرح کی تیاری ہم اپنی زندگی کے امتحان کی بھی کرتے ہیں یا نہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں جو بھی انسان پیدا ہوا ہے وہ ایک امتحان سے گزر رہا ہے۔ اور یہ امتحان اللہ تعالیٰ لے رہا ہے۔ جس طرح اسکول کے ٹیچر یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ طالب علم نے سال بھر پڑھ کر صحیح جوابات لکھے ہیں یا نہیں اسی طرح دنیا میں بھیج کر اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون بندہ اچھے عمل کرتا ہے اور کون بندہ برے کاموں میں اپنی زندگی گزارتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اچھائی اور برائی دونوں دے کر انسان کا امتحان لیا ہے کہ بندہ اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارتا ہے یا شیطان کے چکر میں پڑ کر اس کے راستے پر چلتا ہے۔

دنیا کا امتحان تو پاس یا فیل پر ختم ہوجاتا ہے۔ یہاں فیل ہونے پر بھی اس بات کا موقع رہتا ہے کہ طالب علم اگلے سال محنت کرے اور اچھے نمبرات سے کامیاب ہوجائے۔ مگر زندگی کی مہلت ختم ہوتے ہی اور موت آتے ہیں انسان سے یہ مہلت چھن جاتی ہے کہ وہ پھر سے نیک عمل کرے اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرے۔ یقینا عقلمند لوگ وہی ہیں جو پوری زندگی کو اللہ کا امتحان سمجھ کر گزارتے ہیں۔ اور وہ لوگ ناکام اور نامراد ہوں گے جو دنیا میں آخرت کے امتحان کی تیاری سے غفلت میں رہے۔ بس ہوشیار تعلیمی امتحان کے ساتھ آخرت کے امتحان کی بھی فکر رہے۔

آپ کی بہن

مریم جمال

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال

Leave a Reply