بڑے شہروں میں خواتین پر تشدد

گذشتہ سال یعنی ۲۰۰۷ء خواتین کے لیے اچھا نہیں رہا۔ اس حیثیت سے کہ اس سال میں بھی خواتین کے خلاف جرائم کا گراف ملکی ترقی ہی طرح ترقی کرتا گیا۔ اور نئے سال ۲۰۰۸ء کی تو ابتدا ہی خواتین کے خلاف جرائم کے متواتر واقعات سے ہوئی ہے۔ اب دیکھئے آنے والا وقت کیا اعداد و شمار پیش کرتا ہے۔

نئے سال کے جشن کے دوران ممبئی کے جوہو بیچ پر دو غیر مقیم ہندوستانی خواتین کے ساتھ چھیڑ خوانی کے واقعہ نے، جو دراصل چھیڑ خوانی سے بھی آگے کی چیز تھی، ملکی میڈیا میں کافی شہرت پائی۔ ممبئی میں اس پر اچھی خاصی سیاست بھی ہوئی اور علاقہ واریت کا رنگ بھی دینے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد تھری وننتا پورم (کیرلہ) پھر ادے پور اور پشکر (راجستھان) کے بعد دہلی میں بھی اسی طرح کے حادثات ہوئے۔ جن کے سبب میڈیا میں خواتین کے خلاف چھیڑ چھاڑ کے واقعات میں ابال سا آگیا۔ ان تمام واقعات کے میڈیا کی شہ سرخیوں میں آنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہاں شکار ہونے والی سبھی خواتین غیر ملکی اور اکثر سیاح تھیں۔ سیاسی حلقوں میں اس کی کافی گرمی محسوس کی گئی کیونکہ ان واقعات سے ملک کی ٹورزم انڈسٹری پر برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ مرکزی وزارت داخلہ نے حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے ریاستوں کے نمائندوں کی اعلیٰ سطحی میٹنگ بھی بلائی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ جرائم صرف سیاحوں کے خلاف ہوتے ہیں اور یہ مسئلہ عام ہندوستانی شہری عورت کا نہیں ہے؟ اور کیا محض دفتری و انتظامی نوعیت کے اقدامات مسئلہ کو حل کردیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان چند سیاح خواتین کا معاملہ تو اہم ہے ہی اور اس طرح کا ہر معاملہ میڈیا اور پولیس کی رپورٹ میں آہی جاتا ہے۔ اس سے زیادہ قابل تشویش صورتحال تو ان ملکی خواتین کی ہے جو ملک کے بڑے بڑے شہروں میں رہتی اور اس طرح کے حادثات کا روزانہ شکار ہوتی ہیں۔ ان میں کچھ میڈیا اور پولیس کے ریکارڈ میں آجاتے ہیں اورکچھ وہاں تک نہیں پہنچ پاتے۔ اس کاواضح ثبوت وہ اعداد و شمار ہیں جو پولیس اور وزارت داخلہ موقع موقع سے پیش کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح جب اس صورتحال پر قابو پانے کی بات کی جاتی ہے تو محض انتظامیہ اور پولیس کے مناسب بندوبست اور حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کی بات کہہ دی جاتی ہے۔ حالانکہ مسئلہ کی اصل جڑ وہ ذہنیت اور کلچر ہے جو سماج میں بڑی تیزی سے پرورش پارہے ہیں۔

گلوبلائزیشن کے اس دور میں روزگار سے لے کر سیاست تک افراد کا بنیادی اخلاقی قدروں سے ناطہ توڑ لینا اور اپنی ہر قسم کی خواہش کی تکمیل کے لیے آزادانہ راستوں کی تلاش وہ حقائق ہیں جو اس وقت ہماری نئی نسل کے مزاج کا حصہ بنتے جارہے ہیں اور وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کے راستے اختیار کرنے پر آمادہ ہوتے جارہے ہیں۔ یہ دراصل نتیجہ ہے اس بے وزن نظریاتی ارتقا کا جس نے گذشتہ صدی میں مذہب، اخلاقیات، سماجی و معاشرتی ہم آہنگی اور خدا کے تصور کو باطل ٹھہرادیا تھا۔ اور اب اس نقطۂ نظر کے زیر سایہ پرورش پانے والی نسل بے لگام گھوڑے کی طرح دندناتی نظر آتی ہے۔ نہ اس کی وجہ جہالت و ناخواندگی ہے اور نہ غربت و افلاس۔ اس لیے کہ گذشتہ صدی کے مقابلہ میں اب تعلیم کا دائرہ کئی گنا وسیع بھی ہوا ہے اور ڈگری یافتہ نوجوانوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھی ہے۔ اسی طرح روزگار کے مواقع اور معیار زندگی کا عروج بھی بتدریج ترقی کی طرف ہے۔ اور اس سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ بڑے شہروں میں جہاں اس طرح کے جرائم بڑھ رہے ہیں اس کے پیچھے تعلیم یافتہ اور خوشحال گھرانوں کے فرزندان ہی اکثریت میں نظر آتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال بڑی اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے کہ تعلیم کا آخر کار مقصد اور مطلب کیا ہے، اخلاقی قدروں کا تعین کیسے ہوگا اور یہ کہ جمہوریت اور فرد کی آزادی کی حدیں کیا ہیں؟ ہمارا تعلیمی نظام اور تعلیمی ادارے نئی نسل کو اندھ وشواس سے نکال کر جدید اور ترقی یافتہ اور مہذب طبقہ میں شامل کررہے ہیں یا ہمارے شہر ایک اور طرح کی وحشی اور اجڈ بھیڑ کو شہر کی سڑکوں پر جمع کررہے ہیںجہاں نہ ہماری جان و مال محفوظ ہے نہ ہماری خواتین کی عزت و آبرو؟

اس پوری صورتِ حال کے لیے جہاں عریاں مغربی کلچر کو فروغ دینے والے ارباب سیاست ہیں وہیں مغربی ثقافتی استعمار کا مبلغ وہ ٹی وی ہے جس نے ہندوستانی سماج کے ہر گھر میں اپنا نفوذ حاصل کرلیا ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ عصمت دری کرنے والے یا چھیڑ چھاڑ اور جرائم کی حرکتوں میں ملوث نوجوانوں کی ذہنیت اور سوچ ہی واحد مسئلہ نہیں ہے بلکہ پورے رائج الوقت تعلیمی نظام اور پورے سماج کی ذہنیت اور سوچ جو مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہے ایک اہم عنصر ہے۔ ہم کس طرح کی سوچ اور تربیت اپنے بچوں کو دے رہے ہیں اور ان کے لیے آخر کیا ترجیحات متعین کرتے ہیں؟ یہ کام والدین ہی کا ہے۔ اس طرح ہم بلا خوف تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس بیمار ذہنیت کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔

شہری معاشرہ میں خواتین کے خلاف جرائم کی صورت حال دراصل ہمارے معاشرے کے اخلاقی کھوکھلے پن کی غمازی کرتی ہے اور اس کے بعد بتدریج سول انتظامیہ، عدالتی نظام اور سیاسی اثرورسوخ کی قلعی کھلتی چلی جاتی ہے جو افسوسناک ہے۔ مگر ایک عام شہری اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے اور اس کیفیت سے سماج کو نکالنے کے لیے کیا کرسکتا ہے اور کیا کرے؟ یہ اہم سوال ہے۔ اور جب تک ملک کا شہری اس سوال پر غوروفکر کرکے خود کو کسی عملی جدوجہد کے لیے آمادہ نہیں کرتا اس بات کا امکان نہ ہوگا کہ سماج کو جرائم کی اس لعنت سے بچایا جاسکے۔ جی ہاں معاشرہ خود بھی اس کا ذمہ دار ہے اور اگر وہ اس کی درستگی کے لیے بھی اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور صرف شکوہ شکایت اور دوسروں پر الزام لگانے کو ہی اپنا فرض سمجھتا ہے تو آئندہ صورت حال خراب ہی ہوسکتی ہے بہتر ہونے کے امکانات معدوم ہوں گے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply