غزل

سیاہ رات کا منظر بدلنے والا ہے

سحر قریب ہے سورج نکلنے والا ہے

جکڑ کے رکھا تھا جس کو سیاسی بیٹری میں

وہ میرا پیر تیرا سر کچلنے والا ہے

جہاں کے تیل سے تیرے چراغ روشن ہیں

وہیں کی آگ سے گھر تیرا جلنے والا ہے

حد عروج سے وابستہ ہے تیری پستی

بلند چوٹی سے پاؤں پھسلنے والا ہے

ستم پہ کون تیری ہاں میں ہاں ملائے گا

زمانہ اب تو میرے ساتھ چلنے والا ہے

جہاں جہازوں نے بارود تھی گراتی جنوں

وہیں سے شعلوں کا چشمہ ابلنے والا ہے

شیئر کیجیے
Default image
جنوں سہسپوری، سہسپور، بجنور

Leave a Reply