اہل خانہ میں دعوت کا کام

اسلام کا پیغام تمام انسانوں تک پہنچانا ہماری ذمہ داری بھی ہے اور ملحدانہ نظام اور برائیوں کے امڈتے سیلاب میںاپنی کوششوں کو تیز تر کردینا وقت کا اہم تقاضا بھی۔ جس دین کو ہم اپنی نجات کا سبب اور خدا کی خوشنودی کا ضامن سمجھ رہے ہیں، اس کی اہمیت اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں کے ذہنوں میںبٹھانا بھی ہم سب کا اولین فریضہ ہے۔ ہمیں وقتاً فوقتاً اپنی ذات اور اپنے جذبوں کا جائزہ لینا چاہیے کہ دین کو پھیلانے کی جو ذمہ داری ہمارے پروردگار نے ہم پرعائد کی ہے، اس کے لیے ہم کتنی جدوجہد کررہے ہیں۔ دین سے ہم نے جو رشتہ استوار کیا ہے وہ عمل میں کتنا لایا جارہا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری کوششوں کی جزا یا کوتاہیوں پر مواخذہ یومِ حشر ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ احساس تازہ رہے اور اس میں گرم جوشی برقرار رہے، تو ہماری انفرادی کوششیں بھی کافی حد تک کارگر ثابت ہوسکتی ہیں۔ بشرطیکہ ریا کاری و نمود سے پاک، ہماری کوششوں کا محور، رضائے الٰہی کا حصول ہو۔

مولانا صدر الدین اصلاحی ؒ فرماتے ہیں: ’’انسان کے اندر یہ طاقت ضرور پیدا ہوسکتی ہے، اگر وہ اپنے عہدِ بندگی میں مخلص ہو، جانتا ہو کہ یہ تھوڑا بہت کھونا ’’بہت کچھ پانے کے لیے‘‘ کررہا ہے۔ اس کے شعور پر فلاحِ آخرت کی طلب پوری طرح چھائی ہو اور وہ سمجھتا ہو کہ اللہ کی رضا کتنی بیش قیمت چیز ہے۔‘‘کنتم خیر امۃ کی ذمہ داری وہ اہم فریضہ ہے، جس کے غلبہ کے لیے ہر داعی مسلمان کو اپنی انتہائی جدوجہد اہلِ خانہ پر صرف کردینی چاہیے۔ مقصدِ زندگی متعین ہونے کے بعد، دنیوی زندگی کے تمام مقاصد پر عملی اعتبار سے فوقیت دینا اور اس کے لیے فرصت، قوت، دولت وصلاحیت لگادینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

داعی کے اندر خدا کے سامنے جوابدہی کا احساس جتنا گہرا اور شدید ہوگا اپنے اہلِ خانہ کے لیے بھی احساسِ ذمہ داری اتنا ہی پختہ ہوگا۔ چونکہ دعوتِ دین کا کام بڑی صفات کا طالب ہے۔ اور داعیٔ دین ایک خاص پوزیشن کا مالک ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہماری گفتگو ہمارے کردار کی پہچان ہو۔ بالفاظ دگر ہمارے قول و فعل میں مطابقت ہو۔ قول و فعل کا تضاد نہ ہماری دعوتی سرگرمیوں کے لیے سود مند ہوسکتا ہے۔ نہ گھر والے ہی اچھا تاثر لیتے ہیں اور نہ اخروی زندگی میں دائمی عذاب سے بچاجاسکتا ہے۔ لیکن مولانا صدر الدین اصلاحیؒ کے الفاظ میں:’’جس دعوتِ خیر کی پشت پر عمل کی گواہی موجود نہ ہو، وہ دولوں میں نفوذ کی راہ نہیں پایا کرتیں۔‘‘

ہم کو ہر وہ عادت ترک کرنی پڑے گی، جو خدا کی نظر میں معیوب ہو۔ خدا کے حضور جوابدہی کا شدید احساس ایسا مضبوط باندھ ہے، جس کے ذریعے بدی کے سیلاب پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ قول و فعل کی یکسانیت اور ریا و نمود کے جذبے سے پاک ہوکر جو مخلصانہ دعوت دی جائے گی، وہ بے اثر نہیں ہوسکتی۔ بقول حضرت عمر فاروقؓ : ’’سچا مومن دوسروں کو دعوت دینے سے قبل خود کو دعوت دیتا ہے۔‘‘ جبکہ قول و فعل کی یکسانیت کا سب سے گہرا تاثر اہلِ خانہ ہی قبول کرتے ہیں۔ جو خاموش تبلیغ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ظاہر و باطن کو مومن بنائیں کیونکہ اصلاحِ نفس، خیر کے غلبے کے لیے پہلی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ گفتگو کردار کی علامت بن جائے۔ تو دعوت بھی دلوں میں گھر کرے گی۔ اگر داعی کا کردار دو رنگا ہو یا قول و فعل میں ہم آہنگی نہ ہو تو دعوتِ دین بے اثر ہی ہوگی، آخرت میں بھی لرزہ خیز انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی تنبیہ فرمائی ہے:

یایہا الذین امنوا لم تقولون ما لا تفعلون۔

’’اے ایمان والو! وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں۔‘‘

دعوتِ دین کا کام قریبی لوگوں سے کرنا چاہیے۔ سورہ التحریم میں ہے:

یا یہا الذین آمنوا قوا انفسکم و اہلیکم ناراً۔

اس امر کے تحت جس دوزخ سے ہم نجات پانا چاہتے ہیں، اس سے بچانے کی فکر ہمیں اپنے عزیزوں کے لیے بھی کرنی چاہیے۔ سورہ شعرا میں بھی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وانذر عشیرتک الاقربین۔

نبی کریمﷺ کو ہدایتِ ربانی ہوتی ہے کہ سب سے پہلے قریبی لوگوں کو خبردار کیجیے۔ چنانچہ آپؐ نے اپنی پھوپھی صفیہ اور بیٹی فاطمہ سے فرمایا کہ قیامت کے دن میں اتنا خونی و قریبی رشتہ ہونے کی بنیاد پر تمہارے کام نہیں آسکتا۔ اپنی نجات کی فکر تمہیں خود ہی کرنی ہوگی۔ ہمارے سامنے بھی یہی اسوہ ،یہی طریقہ اور یہی فارمولا ہونا چاہیے کہ قول و فعل کی مطابقت کے ساتھ انھیں معروف کی تاکید کرنا اور منکرات سے حتی الامکان روکنا ہمارا فریضہ ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
تسنیم نزہت اعظمی

Leave a Reply