فکرِ آخرت

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے

ذرا سوچئے ہم دن بھر کیا کرتے ہیں؟ ہماری عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے۔ اور ہورہی ہے ۔ اٹھتے ہی صبح ’’Remote‘‘ لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ناشتہ تیار ہوا کھالیا، گپ شپ کرتے رہے۔ کبھی پڑوس کی باتیں، کبھی بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ، ٹی وی سیریل پر ڈسکس کبھی ہنسی مذاق، چھیڑ چھاڑ۔ یہ رہا روز کا گھر کا مشغلہ۔ کیا ہم کبھی غور کرتے ہیں کہ آخرت میں ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

یایہا الناس انما بغیکم علی انفسکم متاع الحیوٰۃ الدنیا ثم الینا مرجعکم فننبئکم بما کنتم تعملون۔ (یونس)

’’لوگو! تمہاری یہ بغاوت الٹی تمہارے ہی خلاف پڑرہی ہے۔ دنیا کے چند روزہ مزے ہیں (لوٹ لو) پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کرآنا ہے۔ اس وقت ہم تمہیں بتادیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ یہ خطاب منکرین آخرت سے ہے مگر حقیقت تو آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے۔‘‘

یہاں ہم اور آپ مختصر سی مدت گزار کر مرجاتے ہیں۔ اسلام بتاتا ہے۔ یہ زندگی کے بعدایک زندگی ہے۔ جو ہمیشہ رہنے والی نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔ یہ دنیا امتحان گاہ ہے۔ یہاں انسان امتحان دینے آتا ہے۔ جب امتحان ختم ہوجاتا ہے اور موت کا فرشتہ آجاتا ہے۔ انسان موت کی چٹان سے گزر کر آخرت کا سفر طے کرتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! موت سے پہلے آخرت کے لیے کچھ سامان کرو۔ اگر ہم بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوگا حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے لیے کتنی بڑی تکلیف و مصیبت سے چھٹکارے کے لیے بڑی تکلیف گوارا کرلی جائے۔ عارضی خوشبو کو قربان کیاجائے۔ مگر ہم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ تم نے فکر آخرت نہ ہونے کی وجہ سے دنیا کی لذت ہی کو مقصود حیات قرار دیا ہے۔ دنیا کی چیزوں سے لذت حاصل کرنے کا ایک جنون اور اس کے نتیجہ میں بحران پیدا ہوگیا ہے۔

قرآن مجید میں بار بار آخرت کا حوالہ دے کر انسانوں کو آخرت کا خوف یاد دلایا گیا:

قل متاع الدنیا قلیل والآخرۃ خیر لمن اتقیٰo

’’اے محمد! کہہ دو دنیا کا مال متاع چند روزہ اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘

اگر ہمیں صحیح احساس ہوجاتا تو ہم دنیا کی حرص چھوڑ کر اعمال صالح کی فکر کرتے۔ حقیقت میں یہ دنیا سرائے فانی ہے۔ ہمارا اصل مکان یہاں نہیں آخرت میں ہے۔ آخرت میں دو گھر ہیں ایک سرسبز باغ ہے۔ دوسرا گھر دوزخ کے بھڑکتے ہوئے الاؤ ہیں۔ ہمیں دنیا کا گھر نہیں چاہیے بلکہ آخرت کے گھر کی فکر ہونی چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
پیکرِ سعادت معز

Leave a Reply