علم کی اہمیت

علم وہ نور ہے جس کے ذریعے معرفت الٰہی حاصل ہوگی۔ علم کے ذریعہ درجات کو بلند کیا گیا ہے۔ علم کا حاصل کرنا ہر عورت اور مرد کے لیے ضروری ہے۔

سب سے پہلا مدرسہ مدرسہ صفہ ہے، جسے ۲ ہجری میں حضور ﷺ نے مدینہ میں قائم کیا۔ حضور اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلم عورت اورمسلم مرد پر فرض ہے۔

بچے کی پہلی درسگاہ ماں ہے یعنی ’’ماں کی گود ہے۔‘‘ بچہ اپنی ماں کی گود میں ان باتوں کو سیکھتا ہے جو اسے ماحول میں رہنے کے لیے ضروری ہیں اگر ماں تعلیم یافتہ ہو تو وہ پورے خاندان کو تعلیم سے روشناس کرے گی۔ ادب، اخلاق، تہذیب و تمیز یہ تمام باتیں بچہ اپنی ماں کی آغوش میں رہ کر سیکھتا ہے۔ یعنی علم وہ نور ہے جس سے جہالت کی تاریکی کو دور کیا جاسکتا ہے۔

ہر دور میں تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ کردار سازی میں تعلیم اہم رول ادا کرتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہے کہ جو شخص تلاش علم کے شوق میں کسی راہ پر نکلتا ہے تو خدا اُسے جنت کو جانے کی راہ پر چلاتا ہے اور فرشتے اس کی خوشی کے لیے اس کی راہ پر اپنے پَر بچھا دیتے ہیں۔ جس نے یہ دولت پالی اس خوش نصیب نے بہت بڑی نعمت پالی۔

تعلیم کی اتنی اہمیت ہے کہ ہر فرد کو علم کا حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ علم کے ذریعہ صلاحیتیں ابھرتی ہیں، سیرتیں سنورتی ہیں، قوموں کو عروج حاصل ہوتا ہے، مکمل شخصیت کی نشو ونما ہوتی ہے۔ اور چھپی ہوئی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں جو قومی ترقی میں معاون ہوتی ہیں۔ ان کے ذریعے انسان کو اس قابل بنایا جاسکتا ہے کہ وہ سچائی کو تلاش کرسکے اچھے اور برے کی تمیز کرسکے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’بے شک اللہ تعالیٰ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو اصحاب علم ہیں۔‘‘

شیخ سعدیؒ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ بغیر علم کے ہم خداکو بھی نہیں پہچان سکتے۔ چنانچہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ دنیا و آخرت کی کامیابی علم سے وابستہ ہے۔ اگر علم کے راستے کو ہم نے ترک کردیا تو نہ دنیا رہے گی اور نہ آخرت۔

شیئر کیجیے
Default image
رفعت النساء

Leave a Reply