مسلم ممالک میں خواتین

مسلم ممالک میں خواتین کی صورتحال پر دو طریقوں سے گفتگو کی جاتی ہے۔ ایک تو وہ گروہ ہے جو تکرار کے ساتھ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ دین اسلام خواتین کے سلسلے میں انصاف پسند معاملہ کرتا ہے اور ان کے تمام ضروری حقوق عطا کرتا ہے۔ یہ وہ جواب ہے جو اس وقت مناسب معلوم ہوتا ہے جب کوئی اسلام پر الزام لگائے کہ خواتین کی ساری پریشانیوں کی وجہ یہ دین ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے اسلام پر انتہائی حد تک تنقید کی گئی کہ اسلامی تعلیمات خواتین کی ترقی کے لیے رکاوٹ ہیں۔ لیکن جیسے جیسے اسلامی تحریکوں کادور شروع ہوا اور ترکی، ایران اور مصر میں مسلم خواتین اسلامی تحریکوں میں شامل ہوکر معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کرنے لگیں تو اسلام پر تنقید کا زور ڈھیلا پڑگیا۔ اب یہ گفتگو کی جارہی ہے کہ مسلم معاشرے ہی دراصل نا انصافی کررہے ہیں۔ مقامی روایتیں، رسم و رواج اور تحفظات کو اسلامی رنگ دے کر خواتین کو روکا جاتا ہے۔

مسلم ممالک میں اور مغربی ممالک میں خواتین کے سلسلے میںپائی جانے والی فکر میں انتہائی بنیادی قسم کا اختلاف ہے، جب تک مغربی اور اسلامی فکر کے درمیان اس جوہری فرق کو مدنظر نہ رکھا جائے اس وقت تک نہ تو مغربی معاشرہ پر تنقید کی جاسکتی ہے اور نہ ہی مسلم معاشرے کی اصلاح۔ مغربی فکر کے مطابق عورت مردوں کی طرح پیداوار کو بڑھانے والی افرادی قوت ہے تاکہ وہ پیداوار اور اقتصادی منافع کو بڑھانے میں اپنا رول ادا کرے۔ عورت کو لیبر فورس بنانے کے لیے ضروری ہے صارفیت (Consumerism) کے نقطہ نظر سے عورت کو دیکھا جائے۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بعد بچوں کی پرورش، اخلاقی قیود میں مردوں سے اختلاط سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ لہٰذا عورت کو ان قیود سے باہر نکالنا ایک بڑا مشن تھا۔ جسے مغربی ذرائع ابلاغ نے انجام دیا۔

جہاں تک مسلم حکمرانوں کا تعلق ہے تو انھیں اس بات سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ان کے معاشرے میں مغربی طرز میں گانا بجانا، رقص و شراب وغیرہ ہو لیکن یہ مسلم عوام کی دینی حمیت تھی جس نے شدت کے ساتھ عورت کو consumerismکے نقطۂ نظر سے دیکھنے کی مخالفت کی۔ مسلم معاشرے میں عورت کو سائنس و ٹکنالوجی کی تعلیم میں درس وتدریس میں بھیجنے کی مخالفت نہیں کی گئی۔ لیکن جب مغربی کلچر کی نمائندگی صرف برٹنی اسپیرس، شکیرا جیسی خواتین کرنے لگیں تو پھر گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس گیا اور مسلم معاشرے کے لیے مغربی کلچر ایک ناپسندیدہ شیٔ بن گئی۔

اب مسلم معاشرے میں بھی اس بات پر بحث ہورہی ہے کہ مسلم خاتون کا حقیقی کردار کیا ہے۔ اس پہلو سے مسلم ممالک کا جائزہ لیں تو بعض منفی پہلو اور بعض مثبت پہلو نظر آئیں گے۔ مثال کے طور پر ترکی میں مسلسل اس بات کو نوٹ کیا جارہا ہے کہ وہاں کی مسلم سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی اور سعادت پارٹی میں خواتین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ایسا نہیںہے کہ وہاں خواتین کے لیے ہندوستانی جماعتوں کے جیسا ماڈل اختیار کیا گیا ہو بلکہ خواتین روز مرہ کی سیاست میں باحجاب ہوکر حصہ لے رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں یونیورسٹیوں اور سرکاری آفسوں میں اسکارف استعمال کرنے والی خواتین اور لڑکیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ تجارت کے میدان میں خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ یہی تبدیلی ایران میں دیکھنے میں آرہی ہے۔ البتہ سیاسی سطح پر خواتین کو باختیار بنانے کے معاملے میں ایران کا گراف پیچھے ہے۔

لیکن حقیقی جائزہ لینے کے لیے ہمیں بعض indicators سیٹ کرکے دیکھنا ہوگا۔ اقوام متحدہ نے ایسے ہی بعض indicatorsسیٹ کرکے خواتین کا جائزہ لیا ہے۔ مثلاً تعلیم کے میدان میں مسلم خواتین کا ریکارڈ صرف ابتدائی درجوں میں بہتر ہے، تقریباً سبھی مسلم ممالک میں ۸۰ تا ۱۰۰ فیصد بچیاں ابتدائی تعلیم کے لیے جاتی ہیں، لیکن سیکنڈری کے بعد سے ڈراپ آؤٹ کی شرح نمایاں ہوجاتی ہے اور اعلیٰ تعلیم میں تقریباً مردوں کا غلبہ ہوجاتا ہے۔

مسلم ممالک کی آبادی کا ڈھانچہ یہ بتاتا ہے کہ بڑھی ہوئی شرح پیدائش اور طویل عمر کا تناسب ہونے سے workableآبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ 2025تک عرب ممالک کو اپنے یہاں کم از کم ۱۰ کروڑ روزگار پیدا کرنے ہوں گے۔ ۱۵ کروڑ افراد پر انحصار اور بڑھ جانے کے ساتھ ہی اس کی اقتصادی اور سیاسی صورتحال نازک ہوجائے گی۔

اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم ممالک کے پاس واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی شرح بڑھائیں۔ ساتھ ہی پروفیشنل کورسیس میںبھی انھیں جانے دیں۔ گلوبلائزیشن کا بڑھتا دائرہ مسلم ممالک کے نوجوانوں کو اتنا ہی اپنی طرف کھینچ رہا ہے جتنا کہ ہندوستان اور چین کے نوجوانوں کو بدلتا ہوا۔ اقتصادی منظر مسلم ممالک کو بھی نجی سیکٹر کھولنے کے لیے مجبور کر رہا ہے۔ اور نجی سیکٹر کو کھولنے کے ساتھ ہی افراد اپنی آزادی اور اختیارات کے سلسلے میں زیادہ حساس ہوگئے ہیں۔ چنانچہ کویت میں خواتین کو پارلیمنٹ میں اور وزارت میں حصہ داری، بحرین کی کابینہ میں خواتین کی شمولیت سعودی عرب میں خواتین کے لیے علیحدہ چیمبر آف کامرس اسی کا نتیجہ ہے۔ ۱۹۸۵ء میں نیروبی کانفرنس، ۱۹۹۵ء میں بیجنگ پلس کانفرنسوں میں خواتین کے لیے ایجنڈہ جاری کیا گیا تھا۔ ان میں خصوصی طور پر خواتین کو سیاسی حقوق دینے، لیبر فورس میں ان کی شمولیت اور ان کا جائز محنتانہ قیادت کے عمل میں خواتین کی شرکت، اور اقتصادی ترقیات میں خواتین کی مشارکت اہمیت کے ساتھ شامل تھے۔

مسلم ممالک میں متعدد غیر سرکاری تنظیمیں اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پاکستان میں شہری خواتین میں مسلسل اپنے اختیارات کے لیے بیداری آرہی ہے۔ ان میں مذہبی خواتین بھی شامل ہیں اور غیر مذہبی بھی۔ اسی طرح عرب ممالک میں مثلاً، مصر میں اتحاد برائے عرب خواتین، بحرینی خواتین سوسائٹی اور اردن میں خاتون اول رانیہ کے زیر سرپرستی متعدد این جی اوز سرگرم ہیں۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ مسلم ممالک میں خواتین کی ابتر صورتحال کے لیے مغربی ذرائع ابلاغ نے چند واقعات کا سہارا لیا تھا۔ پاکستان میں مختارن مائی اور حدود بل کا معاملہ، سعودی عرب میں زنا بالجبر کی شکار ایک لڑکی کا معاملہ جس نے اپنی نا انصافی کو پریس تک لے جانے کی جسارت کی تھی۔ اور ایسے چند واقعات ہر ملک سے لے لیے جاتے ہیں۔

مسلم ممالک میں ٹیونیشیا کی فاطمہ میرنس، اور مصر کی نوال سعداوی نے فیمنسٹ نقطہ نظر سے مسلم ممالک پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم معاشرہ بنیادی طور پر مردوں پر مبنی معاشرہ ہے جہاں خواتین کی حیثیت محض ایک شئے کی ہے نہ کہ معاشرے کے متحرک اجزا کی۔ اسی نقطۂ نظر سے ہونے والا پورا تجزیہ ایک الگ طرح کا معاشرہ بنانا چاہتا ہے۔ جہاں روایت پرستی کا خاتمہ ہو۔ جہاں عورت قیادت میں شامل ہو، جہاں اسے اختیار کا حق ہو، اس نقطۂ نظر میں واضح طور پر اس مغربی طرزِ فکر کی تاکید بھی شامل ہے جس کے مطابق انسانی معاشرہ صرف لطف اندوزی کے لیے تخلیق کیا گیا ہے اور عورت و مرد کا کام صرف یہ سوچنا ہے کہ اس لطف اندوزی کو کیسے عام کیا جائے۔

چونکہ اسلام اس نقطۂ نظر کو سرے سے خارج کرتا ہے اور وہ انسانی معاشرے میں قدروں کی حمایت کرتا ہے۔ اس لیے اس نقطۂ نظر کی مخالفت کی جارہی ہے۔ اس لیے مسلم ممالک میں ان دونوں نقطہ ہائے نظر میں بحث ہورہی ہے۔ لیکن اس بحث میں نظریہ کا مقابلہ نظریہ سے ہورہا ہے۔ اسلامی نظریہ مسلم معاشرے میں پوری طرح نافذ نہیںہے۔ نہ جانے کتنی روایات ہیں جنھیں اسلام توڑنے کے لیے آیا تھا لیکن وہ قبائل، نظام،ذات برادری پر مبنی ظالمانہ سماج، ان روایتوں کو کہیں نہ کہیں اسلام کی آڑ میں ڈھورہا ہے۔ مثال کے طور پر حمیت کے لیے قتل جو پاکستان اور افغانستان میں رائج ہے اس کا تعلق ماقبل اسلام کے منگولی اور چنگیزی معاشرے سے ہے، لیکن آج بھی اسے اسلام قبول کرلینے کے بعد بھی جاری رکھا گیا ہے۔ گھر کے امور میں ، سماج کے امور میں خواتین کو شریک کرنا ایک ایسا عمل ہے جسے رسول اللہ نے شروع کیاتھا۔ اول وحی سے لے کر ساری نبوی جدوجہد میں امہات المومنین راز بردار رہیں۔ منصوبوں میں شریک رہیں۔ لیکن اسلامی نظام کے زوال کے ساتھ قبائلی حس اور جاہلی روایتیں زندہ ہوگئیں۔ کہیں نہ کہیں وہ روایتی عرب اور مسلم معاشروں میں آج بھی پائی جارہی ہیں۔

مسلم ممالک میں خواتین کی ہمہ جہت ترقی کے لیے نہ تو اسلام دشمن ہے نہ اسلامی تحریکات۔ اصل دشمن وہ تصورات ہیں جو ہمارے ما قبل اسلام معاشرے کا حصہ تھے اور بعد از اسلام معاشرے میں بھی وہ ہمارے ساتھ قائم ہیں۔ لہٰذا مسلم ممالک میں خواتین کو آگے بڑھانے کا ایجنڈہ دراصل اسلامی ایجنڈہ ہے۔ کسی ملک کی اقتصادی ترقی ہو یا نہ ہو لیکن ایک انسان کی جائز آرزواور خواتین کی تکمیل کے لیے ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ دراصل اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے جس میں کہیں بھی مردوں کو خطاب نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ پورے انسانی معاشرے کو خطاب کیا گیا ہے۔ مسلم معاشرے کو اسی فرق کو سمجھ کر اپنی خواتین کے بارے میں نئی فکر کی تشکیل کرنی ہوگی۔ اور یہ جائزہ لیتے رہنا ہوگا کہ کہیں ان کے قول و عمل سے کسی ما قبل از اسلام غیر انسانی روایت کی تائید تو نہیںہورہی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
عمیر انس

Leave a Reply