پھر خوشی لوٹ آئی

رات کا وقت تھا منو سورہا تھا۔ اس کی امی سرہانے بیٹھی تھیں۔ اچانک منو چونک کر اٹھ بیٹھا اس کے چہرے پر دو تین ٹھنڈی بوندیں گری تھیں جس سے اس کی آنکھ کھل گئی۔

منو نے دیکھا اس کی ماں زار و قطار رو رہی ہیں۔ اس نے معلوم کیا۔ امی جان کیا بات ہے؟ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ بات تو صاف تھی مگر منو کو کیا معلوم تھا۔ اس کے والد کو گھر سے گئے ہوئے پورے دس دن ہوگئے تھے گھر میں وہی تو تھے جو گھر کا خرچ چلاتے تھے۔ منو کو اسکول کی فیس اور کتابوں کے پیسے دیتے تھے۔ اس کے ابو ناؤ چلاتے تھے اور اس کی آمدنی سے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ پچھلے دس دنوں سے سمندر میں طوفان آیا ہوا تھا جس میں منو کے ابو پھنس گئے تھے۔ زندہ بچنے کی کوئی امید نہ تھی۔

منو اور اس کی امی روز انتظار کرتے مگر منو کے ابو صادق نہ آج آئے نہ کل۔ دھیرے دھیرے گھر کے سب پیسے خرچ ہوگئے۔ وہ چاہتی تھیں کہ منو کو کوئی بات ظاہر نہ ہونے دیں۔ آخر کب تک یہ بات سامنے نہ آتی۔ ابا کا کوئی کام بھی نہ تھا کہ اس کو کرکے گھر کا خرچ چلاتی رہتیں۔ اب گزارا مشکل ہونے لگا۔ وہ اپنے جگر پارے کو کسی کام کو کہتیں اور وہ بھی کیا کرسکتا تھا وہ ابھی بہت چھوٹا تھا۔ ساتویں کلاس ابھی تو پاس کی تھی اچھے نمبر آنے پر اسے انعام بھی ملا تھا۔

منو نے امی کی پریشانی کو بھانپ لیا تو اس نے اپنی امی سے کہا امی جان! مجھے دو روپئے دے دیجیے۔ یہ مطالبہ اس کی ماں کے لیے پورا کرنا بہت مشکل تھا۔ انھوں نے بہت ادھر ادھر کے بہانے بنائے۔ منو نے ضد کرلی اب تو وہ اپنے جگر پارے کو ناراض نہ کرسکیں۔ انھوں نے معلوم کیا، کیا کروگے؟ منو نے کوئی جواب نہ دیا۔ بہت معلوم کرنے پر اس نے بہانہ بنایا مجھے اپنے ایک غریب دوست کی مدد کرنی ہے۔ امی کے لیے یہ بات بہت حیرت کی تھی۔ ان کو تو خود مدد کی ضرورت تھی۔ مگر ان کا بیٹا دوسروں کی مدد کرتا ہے ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھیں کہ منو نے کہا کیا اللہ میاں نے یہ نہیں کہا ہے کہ تم دوسروں کی مدد کرو میں تمہاری مدد کروں گا۔ اب ان سے اور زیادہ برداشت نہ ہوا اور اپنے بٹوے میں رکھے ہوئے آخری دو روپئے کا نوٹ منو کے ہاتھ میں تھما دیا اور کہا دیکھو تم اس کو خراب نہ کرنا تم اپنے غریب دوست کی مدد کرنا۔

وہ دو روپئے لے کر وہاں سے چلا گیا۔ اس نے اپنے ایک دوست راشد کو بلایا وہ کچھ بڑا تھا۔ منو نے اس سے کہا دیکھو یار سمندر کے کنارے کچھ بھی نہیں ملتا۔ میں چاہتا ہوں وہاں کسی چیز کی دوکان کھولوں۔ راشد نے کہا یار دوکان کے لیے تو پیسے چاہئیں کیا تمہارے پاس ہیں۔ منو نے بہت جوش کے ساتھ کہا: ہاں میرے پاس دو روپئے ہیں۔ راشد نے کہا چلو چچا میاں سے مشورہ کریں۔ کس چیز کی دوکان ہم کھول سکتے ہیں۔ راشد کے چچا بہت سمجھدار تھے۔ انہیں راشد اور منو کی دوستی کا بھی معلوم تھا انھوں نے بچوں کی ہمت بڑھائی اور کہا تم دو روپئے کے چنے لاؤ اور صبح صبح سمندر کے کنارے چلے جایا کرو۔ وہاں بہت سے لوگ گھومنے آتے ہیں، تمہیں جب چنے بیچتے پائیں گے، تو وہ خریدیں گے۔ اس طرح روز صبح صبح چنے بیچ کر کچھ پیسے کما سکتے ہو۔ تمہاری پڑھائی کا خرچ چل سکتا ہے۔ مگر جب انھیں یہ معلوم ہوا کہ منو کے ابو طوفان میں مرچکے ہیں تو انھیں بہت دکھ ہوا۔ ساتھ ہی وہ اس کی عقلمندی پر دنگ رہ گئے۔ دونوں سلام کرکے چلے گئے۔

اگلے دن صبح صبح چنے لے کر دونوں ساحل پر پہنچ گئے۔ وہاں راشد آچکا تھا۔ دونوں نے چنے لیے تازہ تازہ چنے کی آواز لگائی۔ مشکل سے ایک گھنٹہ میں ان کے سب چنے بک گئے۔ چنے ساڑھے تین روپئے کے بکے۔ منو نے راشد سے معلوم کیا راشد تم کتنا حصہ لو گے، راشد نے کہا بھئی میں تو تمہاری مدد کروں گا مجھے پیسے نہیں چاہئیں۔ اسی بہانے میں صبح کو جلدی اٹھنے لگوں گا اور ساحل کی تازہ ہوا میں ٹہل سکوں گا۔

منو گھر آیا اور اسکول چلاگیا۔ دوپہر کو اس نے اپنی امی کو دو روپئے واپس کردیے۔ امی نے معلوم کیا تم نے اپنے دوست کو نہیں دیے۔ امی اس نے لیے ہی نہیں۔ یہ کہہ کر بات ٹال دی۔ اب روزانہ منو صبح چنے بیچنے لگا، اس کی امی نے ایک دن معلوم کیا کہ صبح صبح منو کہاں جاتا ہے۔ تو منو نے کہہ دیا کہ میں ساحل پر ٹہلنے جاتا ہوں۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ دو تین دن تو کسی طرح گزر گئے۔ ایک دن اس کی امی اداس بیٹھی تھیں۔ آج تو گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ منو نے جب امی کو اداس پایا تو معلوم کیا۔ پہلے تو وہ اس کو ٹالنے کی کوشش کرتی رہیں۔ مگر بعد میں سچی بات بتائی۔ اب منو نے کہا امی جان آپ فکر نہ کریں، میں تو ہوں۔ آپ میری گولک میں سے سب پیسے لے لیں۔ منو نے اپنی گولک امی کے سامنے لاکر رکھ دی۔ منو کے ابو اس کو جو پیسے دیتے تھے وہ اس میں ڈال دیتا تھا۔ جب بہت سارے پیسے جمع ہوجاتے تو کوئی اچھی کتاب یا کھلونے خرید لاتا تھا۔ امی نے منع کیا مگر منو نے سب پیسے رکھ دیے۔ پھر صبح صبح چنے بیچنے کی بات بھی امی کو بتادی۔

دھیرے دھیرے منو کے پاس پیسے ہوتے گئے۔ اس نے کچھ دنوں بعد ہی ساحل پر ایک ہوٹل بھی کھول لیا سمندر کے کنارے اس نے کئی دوکانیں بھی بنوائیں۔ اس کی لگن محنت سے ہوٹل بھی اچھا چلنے لگا۔ دھیرے دھیرے وہ اپنے شہر میں مشہور ہوگیا۔ اب لوگ اس کو منو نہیں منو سیٹھ کہنے لگے۔ ماسٹر بچوں کو اسکول میں اسی کی کہانی سناتے اور جو بچہ اپنی ماں کا کہنا نہیں مانتا اس کو بھی منو کی کہانی سنائی جاتی۔ اس لیے اس نے اپنے ابو کے نام سے اسکول بھی کھلوایا جس میں غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی تھی۔

ایک دن منو ہوٹل میں بیٹھا تھا کہ ایک بوڑھا ناؤ والا ساحل پر اپنی ناؤ لایا۔ وہ بھوک سے بہت بے تاب تھا، اس نے ساحل پر معلوم کیا کہ یہاں کچھ کھانے کو مل سکتا ہے۔ لوگوں نے کہا ہاں کیوں نہیں؟ منو سیٹھ کے ہوٹل میں چلے جاؤ وہ تو غریبوں سے پیسے بھی نہیں لیتا ہے۔ بوڑھا ہوٹل میں داخل ہوا۔ اس نے کھانا کھایا چین کی سانس لی۔ کھانے کے بعد اس نے منو سے ہی معلوم کیا: بیٹے! کیا تم مجھے صادق ناؤ والے کے بارے میں کچھ بتاسکتے ہو۔ منو بوڑھے کو نہ پہچان سکا۔ مگر اس نے بوڑھے کو الگ کمرے میں بٹھا کر معلوم کیا۔ آپ صادق ناؤ والے کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں! بوڑھے نے کہا: صادق ناؤ والے کا گھر ساحل کے قریب ہی تھا۔ اس کی ایک بیوی اور ایک چھوٹا سا بچہ تھا۔ ایک دن سمندر میں طوفان آگیا اور صادق اس میں ایسا پھنسا کہ پھر اسے ہوش آیا تو اپنے کنارے سے بہت دور پہنچ چکا تھا۔ اس نے وہاں محنت کی پھر وہاں سے اپنے ساحل کی طرف چل پڑا۔ راستہ میں ایک دوسرے ٹاپو پر اس نے اپنا ڈیرا ڈالا، اس طرح وہ سمندر سے لڑتا ہوا، آج تمہارے سامنے ہے۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔

اب منو نے اپنا تعارف کرایا اور بوڑھے کو چپٹ گیا… ابو … ابو… ابو کو ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے آج بھی وہ ساتویں کلاس کا طالب علم ہی ہے۔ وہ ابو کو گھر لایا۔ منو کی امی نے پہچان لیا۔ صادق کو اس گھر اور کاروبار کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اس نے معلوم کیا یہ سب کس طرح ہوا۔ منو نے صرف یہی کہا یہ آپ کی دعا اور محنت کی حلال روزی کا ہی اثر ہے۔ صادق نے اس کو بہت دعائیں دیں اب وہ ہنسی خوشی رہنے لگے تھے۔ پہلے کی طرح۔ گھر میں خوشیاں لوٹ آئیں تھیں۔

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ پروین حمید خان

Leave a Reply