بچے ضدی کیوں ہوجاتے ہیں؟

عام طور پر ضد کرنے کے نتائج برے ہی نکلتے ہیں کیوں کہ ہمیں ان ہی کاموں سے روکا جاتا ہے جو ہمارے اور سماج کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ بچوں کو بھی ہم اکثر ان ہی کاموں سے روکنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جو ان کے اور ہم سب کے لیے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ مگر اکثر اس معاملے میں ہم بچوں سے ہار جاتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی بے جا ضد ایک کے بعد ایک پوری کرتے رہتے ہیں۔ آخر نوبت یہ آجاتی ہے کہ ہمارے بچے ضدی بن جاتے ہیں۔

بچے ضدی کیوں بن جاتے ہیں؟ کیا بچوں کو ضدی بننے سے روکا جاسکتا ہے؟ کیا بچوں کو ضدی بنانے میں ہمارا بھی قصور ہے؟ ان سوالوں کے جوابات تلاش کرتے ہیں۔

ضد کا انسانی زندگی سے گہرا تعلق ہے ۔ اللہ نے ہر انسان کی فطرت میں کئی خصوصیات رکھی ہیں جو مواقع و حالات اور وقت کے اعتبار سے ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ ڈر، رنج، تجسس، تعجب، خوشی و غصہ وغیرہ ان ہی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ضد ہے جو ہر انسان میں موجود رہتی ہے۔

انسان پیدائش سے لے کر موت تک کئی دفعہ اپنی ضد کا اظہار مختلف مواقع پر کرتا رہتا ہے چونکہ عام طور پر لوگ اپنی ضد پر قابو رکھتے ہیں اس لیے چرچا میں نہیں رہتے لیکن کچھ لوگ بہت زیادہ ضدی ہوتے ہیں، اس لیے وہ سماج میں بحث کا موضوع بن جاتے ہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ضد کی وجہ سے انسان کو ناقابلِ تلافی نقصانات ہوئے ہیں۔کئی دفعہ ضد نے انسان کو موت کے گھاٹ بھی اتار دیا۔

ضد نہ صرف انسانوں میں پائی جاتی ہے بلکہ یہ صفت جانوروں میں بھی ہوتی ہے، یہاں تک کہ کیڑے مکوڑے بھی ضدی ہوتے ہیں۔ ایک مکوڑے کی مثال لے لیجیے اگر ہم مکوڑے کو ایک جگہ سے انگلی کے ذریعہ دور کردیں تو وہ مکوڑا پھر اسی جگہ آجاتا ہے اور یہ عمل وہ بار بار کرتا ہے اسے اپنے جانی نقصان کی بھی پروا نہیں رہتی۔

بہت زیادہ ضدی بچوں کی حالت بھی مکوڑے جیسے ہوجاتی ہے۔ اور یہی آج ہماری سماجی زندگی کے لیے بہت زیادہ غور طلب مسئلہ ہے۔

ضد کی ابتدا سب سے پہلے دل میں کسی چیز کی خواہش کے پیدا ہونے سے ہوتی ہے پھر ہم زبان سے اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور جو کچھ چاہیے وہ طلب کرتے ہیں۔ طلب کی گئی بات پوری ہوجائے تو ضد فنا ہوجاتی ہے لیکن طلب کی گئی چیز دستیاب نہ ہو اور دوسرے لوگ کہیں کہ آپ اپنی آرزو چھوڑ دیں، ضد نہ کریں، یہ چیز آپ کے لیے مناسب نہیں ہے اسے نہ لیں، ایسا نہ کریں، تو انسان میں اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے ضد پیدا ہوجاتی ہے تب انسان یہ سوچنے سمجھنے سے قاصر ہوجاتا ہے کہ طلب کی گئی چیز اس کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ بس وہ اس چیز کو کسی طرح حاصل کرلینا چاہتا ہے۔ اگر انسان کی ضد پوری ہو جائے تو اسے وقتی طور پر روحانی تسکین مل جاتی ہے لیکن طلب کی گئی چیز نہ ملنے پر یا ضد پوری نہ ہونے پر اس میں جھنجھلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے اور اس طرح اُس کی صحت متاثر ہونے لگتی ہے۔ بڑوں کے مقابلے میں چھوٹے بچوں میں ضد کرنے کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔ اپنی ناسمجھی کی وجہ سے چھوٹے بچے چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے ضد کرتے پائے جاتے ہیں۔ بچوں میں ضد کا مادہ بڑھ جانے کی سب سے اہم وجہ بچوں کا بے جا لاڈ و پیار ہے۔ زیادہ لاڈ و پیار اور بچہ کی ہر جائز و ناجائز مانگ پوری کرنا تربیتی نقطۂ نظر سے مناسب نہیں کیونکہ چند سالوں تک تو سب ٹھیک ٹھاک لگتا ہے لیکن بچہ جیسے جیسے بڑا ہونے لگتا ہے وبال جان بنتا جاتا ہے اور ایسی چیزوں کے لیے ضد شروع کردیتا ہے جو اس کے لیے اور گھر والوں کے لیے نقصان کا باعث ہوتی ہیں، گھر والے بچے کی بے جا مانگیں پوری کرتے کرتے اکتا جاتے ہیں تب وہ بچے کے ساتھ سختی شروع کردیتے ہیں۔ بچے کو ڈانٹتے ہیں، مارتے ہیں، اس طرح کے برتاؤ سے بچے کے اندر ایک ردعمل کا جذبہ اور احساس محرومی پرورش پانے لگتا ہے۔ اور بالآخر وہ نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔

بچوں میں ضد پیدا ہونے کی ایک اور وجہ ہے چھوٹے بہن بھائی کی پیدائش کے بعد اسے محسوس ہونے والی نسبتاً کم محبت۔ جب گھر میں دوسرا بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو گھر کے لوگ چھوٹے بچے کو عموماً بڑے بچے سے زیادہ لاڈ و پیار دیتے ہیں جس کا بڑے بچے کے ذہن پر مضر اثر ہونے لگتا ہے اور وہ اپنے چھوٹے بھائی یا بہن کے سلسلہ میں یہ تصور کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی محبت میں کمی واقع ہوگئی ہے اور اس کے اندر اس بات کی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اسے اب بھی وہی محبت ملنی چاہیے جو پہلے دی جاتی تھی اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ ضد کا سہارا لیتا ہے۔

ایسے میں باپ جو کسی وجہ سے اپنے بچوں پر پوری توجہ نہیں دے پاتے ان کے بچوں کے بھی ضدی ہوجانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

بچوں میں ضد بڑھ جانے کی ایک اور اہم وجہ ماں باپ میں بچوں کے تعلق سے دینی و اخلاقی تعلیمات پر عمل آوری میں غفلت بھی ہے۔ جن گھروں میں ماں باپ تعلیم یافتہ یا بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں حساس نہیں ہوتے ان گھروں میں بچوں کی تربیت صحیح نہیں ہوتی ان گھروں کے بچے اکثر چیختے چلاتے، لڑتے جھگڑتے یہاں تک کہ گالیاں بھی دیتے نظر آتے ہیں۔ ان کی ایسی حرکتوں سے گھر کے بڑے لوگ انھیں روکنے یا ٹوکنے کی بجائے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں رہ کر کئی بری عادتیں پختہ ہوجاتی ہیں تو انہیں ان عادات سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اس پر ان کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے تو ہمیں روکا نہیں جاتا تھا اور ہماری باتوں سے لطف اندوز ہوا جاتا تھا اور اب روکا جاتا ہے۔ اس لیے اب وہ عادت نہ چھوڑنے کی ضد پر اتر آتے ہیں۔

بچہ جیسے جیسے بڑا ہوتا ہے، زیادہ حساس ہوتا جاتا ہے وہ اپنے ماں باپ، رشتہ داروں اور چاہنے والوں سے بہتر سلوک کی امید کرتا ہے اس لیے ہمیں بچوں کی خواہشات و احساسات کا احترام کرنا چاہیے اور اس سلسلہ میںان کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بچوں کو اپنے کھلونے بہت عزیز ہوتے ہیں اس عمر میں اُن کی اپنی ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ کھلونے یا گھروندے ٹوٹ جانے سے انھیں اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی ہمیں اپنی قیمتی چیزیں یا گھر ٹوٹنے سے ہوتی ہے۔ اس لیے چھوٹے بچوں کے ساتھ ہم اگر ان کے کھلونوں کا بھی خیال رکھیں، اُن کے کھلونوں کی تعریف کریں تو بچوں کو دلی خوشی ملتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم چھوٹے بچوں سے سختی سے پیش آئیں، اُن کی خواہشات و احساسات کا احترام نہ کریں تو رفتہ رفتہ بچوں میں چڑچڑاپن پیدا ہوجاتا ہے جو آگے چل کر ضد کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

بچوں میں ضد پیدا ہونا یا ضد کے مادّے کا بڑھ جانا کوئی بیماری نہیں ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ زیادہ ضد سے بچوں کی صحت پر مضر اثرات پڑتے ہیں۔ اس لیے ہمیں شروع سے ہی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے ضدی طبیعت کے نہ بن جائیں۔

ہمیں چاہیے کہ بچوں کے سامنے ایسی حرکتیں نہ کریں یا ایسی باتیں نہ کہیں جن کی وجہ سے بچے ضد کرنے پر مجبور ہوجائیں، ان کے جائز مطالبات فوری طور پر پورے کرنے کی کوشش کریں بچوں پر زیادہ غصہ نہ کریں اُن کے ساتھ ہمیشہ محبت و شفقت سے پیش آئیں، ضد کرتے وقت بچوں پر غصہ کرنے کی بجائے محبت و شفقت اور نرمی سے سمجھانے کی کوشش کریں تو یہ بچوں کے حق میں بہتر ہوگا۔

بچوں کو بچوں کے ایسے اسلامی یا تاریخی واقعات یا ایسی کہانیاں سنائیںجن سے بچوں کے اخلاق بہتر ہوسکتے ہیں۔ بچوں کی چھوٹی بڑی تمام ضروریات کا خیال رکھیں۔ کھانا وقت پر کھلائیں۔ چھوٹی چھوٹی بیماریوں کا بھی فوری علاج کروائیں۔ ان کے من پسند کھلونے دلوائیں۔ ان کے کھلونوں کی دل کھول کر تعریف کریں۔ ضد کرتے وقت ان کی توجہ دوسری جانب کرنے کی کوشش کریں۔ ہر بچے کو یکساں لاڈ و پیار دیں، بچوں کو ٹینشن نہ دیں اور بہت ساری ایسی باتوں کا خیال رکھیں جن سے بچوں میں ضد پیدا نہ ہوتی ہو تو اس سے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جس طرح محبت بچوں کا حق ہے اسی طرح غصہ اور سختی بھی ان کے لیے ضروری ہے۔ ناپسندیدہ اور غلط باتوں پر فوری تنبیہ اور محبت کے ساتھ سمجھانا بجھانا تربیتی نقطۂ نظر سے بہت سی کوتاہیوں سے محفوظ رکھتا ہے مگر ایک توازن اور اعتدال ضروری ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
سیدہ فرزانہ نسیم، ناندیڑ

Leave a Reply