اللہ کے لیے محبت کا انعام

ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوذر ؓ سے پوچھا:

’’اے ابوذر! ایمان کی کونسی شاخ سب سے زیادہ مضبوط ہے؟ انھوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: اللہ کے لیے آپس میں دوستی رکھنا، اللہ کے لیے محبت کرنا اور اللہ کے لیے بغض رکھنا۔‘‘ (بیہقی فی شعب الایمان)

یوں تو ایمان کے تقاضے بہت سے ہیں لیکن اس سلسلہ میں سب سے بنیادی چیز یہ ہے کہ آدمی کی دوستی ہو یا دشمنی جو کچھ بھی ہو خدا کے لیے ہو۔ وہ صرف اپنے مالک کی رضا و خوشنودی کے لیے لوگوں سے محبت کرے گا ، ان سے حسنِ سلوک کرے گا ان کے ساتھ عمدہ اخلاق سے پیش آئے گا اور ان کے حقوق ادا کرے گا، اسی طرح وہ دشمنی اور بغض بھی کسی ذاتی دشمنی کی بنا پر نہیں بلکہ خدا سے پھرے ہوئے سرکش اور ظالم لوگوں سے ان کے برے اخلاق و اعمال کی وجہ سے کرے گا۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اورکہنے لگا: ’’یا رسول اللہ! ایک شخص کسی نیک آدمی سے اس کی نیکی کی بنا پر محبت کرتا ہے مگر وہ خود اس شخص جیسے اچھے اعمال نہیں کرتا۔ ارشاد فرمایا: کوئی مضائقہ نہیں، آدمی قیامت کے روز اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرے گا۔‘‘ (بخاری)

جو لوگ اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرتے ہیں، دکھ درد اور خوشی و مسرت میں شریک رہتے ہیں، اللہ کے دین کو سربلند کرنے اور پھیلانے کے لیے آپس میں مل جل کر جدوجہد کرتے ہیں ایسے لوگوں کو آخرت میں بہت بڑی خوش خبری سنائی گئی ہے۔

حضرت ابو الدرداءؓ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے روز کچھ لوگ اپنی قبروں سے آئیں گے، ان کے چہرے نور سے جگمگا رہے ہوں گے۔ وہ موتیوں کے ممبروں پر بٹھائے جائیں گے لوگ ان کی شان پر رشک کریں گے۔ یہ لوگ نہ نبی ہوں گے نہ شہید۔ ایک بدو نے سوال کیا: یا رسول اللہؐ! یہ کون لوگ ہیں ہمیں ان کی پہچان بتادیجیے۔ فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو آپس میں خدا کی خاطر محبت کرتے تھے۔‘‘ (طبرانی)

پیارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’قیامت میں خدا فرمائے گا، وہ لوگ کہاں ہیں جو صرف میرے لیے لوگوں سے محبت کیا کرتے تھے۔ آج میں ان کو اپنے سائے میں جگہ دوں گا۔‘‘ (مسلم)

اور قیامت کے دن ایسے لوگوں کو جو قابلِ رشک، شان و شوکت حاصل ہوگی اس کا ذکر کرتے ہوئے رحمت عالم ﷺ نے فرمایا: ’’خدا کے بندوں میں کچھ (ایسے سعادت مند) ہیں جو نبی اور شہید تو نہیں ہیں لیکن قیامت کے روز خدا ان کو ایسے مرتبوں پر سرفراز فرمائے گا کہ انبیا اور شہدا بھی ان کے مرتبوں پر رشک کریں گے۔ صحابہ ؓ نے پوچھا: یہ کون خوش نصیب ہوںگے یا رسول اللہ! ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو آپس میں ایک دوسرے سے محض خدا کے دین کی بنیاد پر محبت کرتے تھے۔ نہ یہ آپس میں رشتہ دار تھے اور نہ ان کے درمیان کوئی مالی لین دین کا تعلق تھا۔ خدا کی قسم قیامت کے روز ان کے چہرے نور سے جگمگارہے ہوں گے بلکہ یہ سراپا نور ہوں گے اورجب سارے لوگ خوف سے کانپ رہے ہوں گے تو انھیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ اور جب سارے لوگ غم میں مبتلا ہوں گے اس وقت قطعاً انھیں کوئی غم نہ ہوگا اور آپؐ نے قرآن پاک کی آیت تلاوت فرمائی:

الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم و لا ہم یحزنون۔

’’سنو! اللہ کے چاہنے والوں کے لیے نہ کسی بات کا کوئی خوف ہوگا اور نہ(گزری ہوئی زندگی کے بارے میں) کسی قسم کا غم۔‘‘ (ابوداؤد)

حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا، ایک دوسرا شخص آیا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ! مجھے اس سے محبت ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے اسے بتادیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: بتادو۔ اس نے اس شخص سے مل کر کہا: میں تم سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں۔ اس نے کہا: جس کے لیے تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ بھی تم سے محبت کرے۔‘‘ (ابوداؤد)

حضرت معاذ بن جبلؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ’’خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے مجھ پر واجب ہے کہ میں ان لوگوں سے محبت کروں جو لوگ میری خاطر آپس میں محبت اور دوستی کرتے ہیں میرا ذکر کرنے کے لیے ایک جگہ جمع ہوکر بیٹھتے ہیں اور میری خوشنودی چاہنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہیں۔‘‘ (احمد، ترمذی)

شیئر کیجیے
Default image
ساجدہ فرزانہ صادق

Leave a Reply