غزل

وفا، اخلاص، ممتا، بھائی چارہ چھوڑ دیتا ہے

ترقی کے لیے انسان کیا کیا چھوڑ دیتا ہے

تڑپنے کے لیے دن بھر کو پیاسا چھوڑ دیتا ہے

اذاں ہوتے ہی وہ قصہ ادھورا چھوڑ دیتا ہے

سفر میں زندگی کے لوگ ملتے ہیں بچھڑتے ہیں

کسی کے واسطے کیا کوئی جینا چھوڑ دیتا ہے

کسی کو یہ جنوں بنیاد تھوڑی سی بڑھا لوں میں

کوئی بھائی کی خاطر اپنا حصہ چھوڑ دیتا ہے

سفر میں زندگی کے منتظر ہوں ایسی منزل کا

جہاں پر آدمی یہ تیرا میرا چھوڑ دیتا ہے

ہمارے بہتے خوں میں آج بھی شامل ہے وہ جذبہ

انا کی پاسبانی میں جو دریا چھوڑ دیتا ہے

ابھی تو سچ ہی چھوڑا ہے جناب شیخ نے عادلؔ

ابھی تم دیکھتے جاؤ وہ کیا کیا چھوڑ دیتا ہے

شیئر کیجیے
Default image
عادلؔ رشید

Leave a Reply