5

خالی پن کا بوجھ

ابھی دادی ماں کمر سیدھی کرنے کے لیے اندر گئی ہی تھیں کہ دادا جی نے پکارنا شروع کردیا ۔

’’رمیش کی ماں! رمیش کی ماں!‘‘ جب ان کے پکارنے کا کوئی اثر نہیں ہوا تو ان کی آواز تیکھی اور بلندہونے لگی، جیسے ابھی ہانڈی میں ابال آجائے گا۔ شاید انھیں پیشاب کی حاجت پھر ہوئی ہے۔

مجھے امتحان کی تیاری کرنی ہے۔ میں بے دلی سے کتاب رکھ دیتا ہوں۔ میں کروں بھی تو کیا۔ میں اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہوں۔ دادا جی کی بینائی تو ہے نہیں۔ اس پر وہ اتنے بے ہمت اور کمزور ہیں کہ ان کو سنبھالنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ انھیں سنبھالنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ دادا جی اپنا سارا بوجھ آپ پر اس طرح لاددیتے ہیں کہ انھیں سنبھالنا تو درکنار خود بھی سنبھلنا مشکل ہوجاتا ہے۔

دادا جی پھر ’’رمیش کی ماں‘‘ کی رٹ شروع کردیتے ہیں۔ میں ان کی بیتابی کو دیکھتے ہوئے پکار اٹھتا ہوں۔

’’دادی ماں! دادی ماں!‘‘

ایک ہاتھ جھکی پیٹھ پر رکھے، دوسرے سے آنکھیں ملتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل آتی ہیں۔ ’’کیا ہے رے مدن! ایک منٹ بھی تو چین نہیں! ابھی ابھی تو لیٹی تھی!‘‘

’’دادی ماں! میں نہیں دادا جی بلا رہے تھے۔‘‘

وہ دادا جی کا نام سنتے ہی گھسٹتے پاؤں سے ان کے پاس آکھڑی ہوتی ہیں۔

’’کیا ہے جی!‘‘ ان کی آواز میں جھنجھلاہٹ کے ساتھ نمرتا بھی پنہاں ہے۔ ’’ابھی تو آپ کے پاس سے اٹھ کر گئی تھی۔‘‘

دادا جی ازار بند کی گرہ کھولنے میں لگے ہیں۔ دیکھ کر وہ پوچھ اٹھتی ہیں:’’باتھ روم جانا ہے کیا؟ ابھی ابھی تو لے کر گئی تھی!‘‘ دادا جی نادم ہوکر ڈرے بچے کی طرح دبے لفظوں میں بول اٹھتے ہیں: ’’ہاں!‘‘ جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ تم تو میری مجبوری سمجھتی ہو۔

دادا جی کو کبھی کبھی ہر پانچ منٹ میں پیشاب آنے لگتا ہے اور کبھی کبھار وہ ڈیڑھ دو گھنٹے کا وقفہ بھی برداشت کرلیتے ہیں۔ ڈاکٹر انھیں کوئی پیشاب کی بیماری بتاتے ہیں جس کا علاج صرف آپریشن ہے۔ لیکن دادا اتنے کمزور اور نحیف ہوچکے ہیں کہ ڈاکٹروں کو شک ہے کہ کہیں یہ آپریشن جان لیوا نہ بن جائے۔ میری نظر میں تو بڑھاپا ویسے ہی جان لیوا ہوتا ہے۔

دادا جی کے مقابلے میں دادی ماں کی صحت قدرے بہتر ہے۔ اگرچہ وہ بھی اسی کے پیٹے میں داخل ہوچکی ہیں۔ وہ اب بھی اپنے آپ گھوم پھر سکتی ہیں۔ گو بینائی اب انھیں دھوکا دینے لگی ہے۔ پھر بھی عمر کے لحاظ سے ان کی توانائی بہت کچھ قائم ہے۔ یہ انہی کا دم ہے کہ وہ دادا جی کو پچھلے بیس سال سے سنبھالے ہوئے ہیں۔ دادا جی نے تو آنکھوں سے معذور ہوتے ہی اپنے آپ کو مکمل طور سے دادی ماں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔

’’اٹھیے!‘‘ اور دادا جی کرسی کی ہتھی کو ٹٹولتے ہوئے اس کا سہارا لیتے، ذرا جھولتے ہوئے، ذرا لڑکھڑاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ دادی ماں کی مضبوط بانہوں کو ان کے ہاتھوں نے تھام لیا ہے۔ وہ ایک ہاتھ سے چھڑی کا سہارا لیے ہیں اور دوسرا بازو دادی ماں کے سپرد کردیا ہے۔ دادی ماں دادا جی کا ہاتھ پکڑے ان کے آگے آگے دولہا بنی اس طرح سے چلتی ہیں جیسے وہی زندگی کی اہم ترین ذمہ داریوں کو نبھانے کی اہلیت رکھتی ہوں۔

منھ سے گو کوئی کچھ نہیں کہتا لیکن گھر کے سبھی لوگ، میری ماں، پتا جی، دادا جی کی اس حالت سے بیزار ہیں۔ ماں تو دادا جی کو دیکھتے ہی اپنی ناک پر دوپٹہ رکھ کر منھ پھیر لیتی ہیں۔ شاید کوئی اسے ماں کا گھونگھٹ نکالنا سمجھتا ہو لیکن مجھے ساری حقیقت معلوم ہے۔ ماں کہتی ہیں انھیں دادا جی کو دیکھ کر متلی سی معلوم ہونے لگتی ہے۔ ویسے ماں دل کی بہت اچھی ہیں۔ پتا جی تو دن بھر دفتر میں رہتے ہیں۔ البتہ شام سویرے وہ ضرور دادی ماں اور دادا جی کے پاس بیٹھتے ہیں، ان کا حال پوچھتے ہیں، ادھر ادھر کی باتیں بھی ہوتی ہیں لیکن آخر ہر بات کی تان دوائیوں اور ان کے بڑھتے ہوئے خرچ پر ٹوٹتی ہے اور پتا جی روز، اگلے دن دوائیاں لانے کا وعدہ کرکے اٹھ جاتے ہیں۔ کبھی یہ دوائیاں آبھی جاتی ہیں اور کبھی نہیں بھی۔ ماں تو ان دوائیوں کی مہنگائی کا رونا روز ہی لے کر بیٹھ جاتی ہیں۔ آخر گھر کا خرچہ چلے بھی تو کیسے؟ یادال روٹی کھالو یا دوائیاں!گھر میں ہر کسی کو یہ بھی احساس ہے کہ بوڑھے بزرگوں کو باہر پھینکا بھی تو نہیں جاسکتا۔

دادا جی اب کئی باتیں بھولنے لگے ہیں۔ انھیں کچھ یاد نہیں رہتا۔ اس دن تو مجھے بہت ہنسی آئی۔ دادا کرسی پر بیٹھے تھے میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے، مجھے بٹھا دو۔ اب میں انھیں کہاں بٹھاتا! میں نے دادی ماں کو آواز دے کر دادا جی کی فرمائش کا ذکر کیا۔ ماں منھ پھیر کر ہنسنے لگیں۔ دادی ماں پاس آکر کہنے لگیں: ’’کرسی پر تو بیٹھے ہی ہیں آپ! اب آپ کو بٹھانے کے لیے کون سا راج سنگھاسن لاؤں؟‘‘

جب میں چھوٹا تھا تو دادا جی مجھے بڑی مزے دار کہانیاں سناتے تھے۔ پریوں کی، جنوں کی، ویسے اب بھی وہ کبھی کبھی بڑی مزید ار باتیں کرتے ہیں۔ میری چھوٹی بہن ششی جس نے ابھی اسکول جانا شروع کیا ہے، جب کبھی اسکول سے لوٹتی ہے تو وہ سیدھے دادا جی کے پاس ہی آتی ہے۔ وہ ان کی چھڑیوں کو اٹھائے کبھی گھوڑا بناکر کھیلنے لگتی ہے اور کبھی چھڑی کا سہارا لیے بوڑھے بابا کا سوانگ رچاتی ہے۔ جونہی دادا جی کو چھڑی اٹھانے کی آہٹ ملتی ہے وہ پکار اٹھتے ہیں:

’’اری ششی گڑیا! تو آگئی!‘‘

ششی کوئی جواب نہیں دیتی۔ وہ چھڑی پکڑ کر اس کے سہارے بوڑھا بننے کی کوشش کرتی ہے جبکہ دادا جی پر بچپن سوار ہوتا ہے۔ انسان بھی کتنا عجیب ہے۔ وہ ہمیشہ اسی کی کھوج میں لگا رہتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتا!

ویسے تو دادا جی بہت اچھے ہیں، لیکن کبھی کبھار ان کے شوق بہت ناگوار گزرتے ہیں۔ دن بھر وہ اونگھا کرتے ہیں اور ان کی گود میں پڑا ٹرانزسٹر کچے پکے گانے، قوالی، غزل، دادرا وغیرہ الاپتا رہتا ہے۔ کرکٹ، فٹ بال کی کمنٹری آرہی ہو تو بھی کوئی بات نہیں۔ پتہ نہیں وہ سنتے بھی ہیں کہ نہیں! مجھے تو یوں لگتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کوئی نہ کوئی آواز ان کے کانوں میں ہر وقت پڑتی رہے بس! اب چاہے کسی کا امتحان ہو، کوئی بیماری ہو، کسی کا موڈ آف ہو، انھیں تو ریڈیو کی آواز والی ورزش سے مطلب ہے۔ کئی بار جی میں آتا ہے ان سے کہوں کہ وہ دوسروں کی ضرورت کا بھی کبھی دھیان کرلیا کریں لیکن پھر ترس آجاتا ہے۔ وہ اپنی تنہائی کا غم غلط کرنے کے لیے اس کے سوا کریں بھی تو کیا؟

مگر آج کل تو آنکھوں سے لاچار لوگ بھی بہت کچھ کرلیتے ہیں، گابجا لیتے ہیں، ٹائپ کرلیتے ہیں اور نہیں تو ہاتھوں سے کچھ نہ کچھ بناتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں نے انھیں فیکٹریوں میں مشینوں پر کام کرتے دیکھا ہے۔ داد دینا پڑتی ہے ان کی محنت، ہمت اور لگن کی۔ وہ تو آنکھ والوں کو بھی کئی بار پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن دادی ماں کی محبت اور سیوا نے انھیں کہیں کا نہ رکھا۔ دادا جی کے کچھ کہنے سے پہلے ہی سب چیز حاضر! دادا جی کو اور کیا چاہیے۔ جہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہ ہو، وہ بیٹھ جاتے ہیں اور جہاں بیٹھنے کی جگہ نہ ہو انھیں پاؤں پسارنے کو مل جاتے ہیں۔ دادی ماں نے تو ان کی عادتیں بگاڑ رکھی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اب اپنے آپ کو گھسیٹ رہی ہیں۔ اور دادا جی ہیں کہ بنا سوچے سمجھے حکم چلاتے رہتے ہیں۔ وہ کبھی سوچتے ہی نہیں کہ اب دادی بھی کمزور اور لاچار ہوتی جارہی ہیں۔ ان کا تو خیال یہ ہے کہ اب دادی پر جوانی پھوٹ رہی ہے۔

دادا جی نے اپنے لیے کوئی شوق پالا ہی نہیں۔ کسی زمانے میں پڑھنے کا شوق ضرور تھا لیکن اتنا زیادہ نہیں کہ وہ اندھوں کی زبان – کیا کہتے ہیں – بریل (Braille) – وہ جس سے ابھرے ہوئے لفظوں پر انگلیاں رکھ کر پڑھا جاتا ہے! وہی سیکھ لیتے۔ اب بہت سے آنکھوں سے لاچار لوگوں نے یہ زبان سیکھ کر بی اے، ایم اے، کیا اورڈاکٹریٹ کی سندیں حاصل کی ہیں۔ اب دادا جی سے تو کوئی بی اے، ایم اے کرنے کی امید نہیں رکھتا۔ کم از کم ان کا اپنا وقت ہی آسانی سے کٹ جاتا!

میں نے تو ایک بار ڈرتے ڈرتے انھیں یہ زبان سیکھنے کے لیے کہا تھا، لیکن انھوں نے کہہ دیا: ’’اب یہ بوڑھا طوطا کہاں پڑھے گا!‘‘ دراصل دادا جی کچھ کرنے کے حق میں ہی نہیں ہیں۔

میں نے بہت سوچنے سمجھنے کے بعد انھیں Ear Phone(ایئر فون) لادیے تاکہ ان کے ٹرانزسٹر سننے سے میری پڑھائی کا ہرج نہ ہو۔ لیکن انھیں اس کا استعمال کرنا بھی ایک آفت معلوم ہوتا ہے۔ اب اس چھوٹے سے گھر میں میرے لیے ایک الگ کمرہ کہاں سے آئے! دادی ماں کہتی ہیں کہ میں پڑھنے کے لیے پارک چلا جایا کروں۔ اب میں ان سے کہتے ہوئے اچھا لگتا ہوں کہ وہی دادا جی کو پارک میں گھما لایا کریں! ایک دو بار ماں بھی میری خاطر الجھ گئی تھیں۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات! میرا کیا میں امتحان میں فیل ہوجاؤں گا! اس کے لیے تو گویا سب لوگ تیار بیٹھے ہیں۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر! آخر میں خبر تو میری ہی لی جائے گی۔

اور پھر اب تو دادا جی کی حالت خراب ہونے لگی ہے، پہلے تو انجانے میں کبھی کبھی پیشاب نکل جاتا تھا۔ اب تو اکثر ان کے پاجامے دھلنے لگے ہیں۔ بستر پر اب باقاعدہ موم جامہ بچھنے لگا ہے۔ دادی الگ پریشان ہیں۔ ان کے لیے تو آفت ہی ہے۔ دن میں دو تین بار تو دادا کا پاجامہ دھلنا معمول ہوگیا ہے۔ میں کیا گھر کے سبھی لوگ سوچنے لگے ہیں۔ ایسی زندگی سے کیا فائدہ! دادی ماں بھی بہت پریشان رہتی ہیں، گو وہ منھ سے کچھ نہیں بولتیں۔

اور پھر اچانک رات کو دادا جی کے سینے میں درد اٹھا، بہت دیر تک ان کے کمرے سے کراہنے کی آوازیں آتی رہیں۔ دادی ماں نے گھبرا کر گھر کے سبھی لوگوں کو اٹھا دیا۔ دادا جی کی سانس اکھڑنے لگی تھی۔ پتا جی نے مجھے اٹھا کر پڑوس سے ڈاکٹر کو بلانے کے لیے بھیج دیا۔ لیکن ڈاکٹر انکل کے آتے آتے، دادا جی پر لوک سدھار گئے۔

کچھ دن گھر میں لوگوں کا آنا جانا رہا۔ پھر سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔ شاید دادی ماں کے علاوہ گھر میں سب لوگ انھیں بھول گئے تھے۔ ماں اور پتا جی بھی۔ البتہ ششی کبھی کبھی دادا جی کے بارے میں پوچھتی، ان کی چھڑی کو ڈھونڈتی اور دادی ماں کی آنکھیں ذرا ذرا سی بات پرچھلک پڑتیں، وہ دن بھر ادھر ادھر رہتیں، پھر مجھے آکر کوستیں۔

’’لے! اب جتنا چاہے پڑھ! اب کوئی ٹرانزسٹر تیرے پڑھنے میں بادھا نہیں ڈالے گا!‘‘ اور پھر وہ اپنے آپ رونے لگتیں۔ ماں اور پتا جی انھیں دلاسا دیتے۔ وہ ایک طرف اپنے کھٹولے پر پڑی رہتیں۔ جیسے کسی نے ان کا محبوب کھلونا چھین لیا ہو۔

شاید وہ مجھ کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھہراتی تھیں، یا شاید وہ اپنا غم کسی اور سے اتنا کھل کر نہیں کہہ سکتی تھیں۔ ’’تیرے دادا ہی کے لیے تو میں سارے گھر میں ادھر ادھر گھومتی پھرتی تھی، اب مجھے بتا! میں کیا کروں؟‘‘ وہ خالی ذہن، خالی دل اور خالی جھولی لیے اپنی تمام تر بے بسی کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ستیش بترا

تبصرہ کیجیے