بہترین خزانہ

جب سرنا گاؤں کے مولوی نثار احمد کی نوجوان لڑکی کے لیے ماسٹر فقیر محمد اور ان کے گھر کی عورتوں کی معرفت ان کے بھتیجے سلیم کا پیغام پہنچا تو مولوی نثار احمد اور ان کی بیوی نے فوراً ہاں کردی۔ سلیم میرٹھ میں چاندی اور نکل پالش کے ایک کارخانے میں کاریگر تھا اور اسے ساڑھے تین ہزار روپے ملتے تھے۔ سلیم میرٹھ سے کبھی کبھی اپنے چچا ماسٹر فقیر محمد کے یہاں آجاتا تھا وہ گاؤں والوں کا دیکھا بھالا بھی تھا۔

سلیم چھ جماعت تک پڑھا ہوا تھا، مگر کاریگر تھا اور اپنے پاؤں پر کھڑا تھا۔ مولوی نثار احمد نے اپنی بیٹی نوری کو بڑی شفقت اور توجہ سے پالا تھا۔ وہ اردو اور قرآن پڑھ لیتی تھی اور قرآن حفظ کررہی تھی۔ وہ انیس سال کی، سانولے رنگ کی ایک معصوم، تندرست اور ہوشیار لڑکی تھی۔

سلیم کی عمر کے بارے میں ٹھیک علم تو کسی کو بھی نہیں تھا مگر ماسٹر فقیر محمد نے اندازے سے اس کی عمر تیس سے کم بتائی تھی۔ وہ لمبا تھا، اور دیکھنے میں نوجوان ہی لگتا تھا۔ مولوی نثار احمد کی غربت اور سلیم کی نوکری کو دیکھتے ہوئے مولوی صاحب کے رشتے داروں اور دوسرے گاؤں والو ںکا کہنا تھا کہ نوری قسمت والی ہے جو اسے شہر کا رہنے والا اتنا اچھا لڑکا مل گیا تھا۔

سلیم کا مکان بیگم پل کے پاس ایک تنگ اور تاریک گلی میں تھا اور اس میں نئی نویلی دلہن نوری اپنے شوہر سلیم کے ساتھ ایک رکشا میں سوار ہوکر پہنچ گئی تھی۔

اس گھر میں اس نے مشکل سے ایک یا دو راتیں گزاری ہوں گی کہ اسے پتہ لگ گیا کہ سلیم شراب پیتا تھا اور یہ جان کر وہ بڑی خوف زدہ ہوگئی تھی۔ جس روز وہ پہلی دفعہ شراب پی کر گھر آیا تو اس کا دوست اکرم اسے گھر تک چھوڑنے آیا تھا، مگر اکرم خود شراب پیے ہوئے تھا اور اس نے نوری کو چھیڑنے کی کوشش بھی کی تھی مگر نوری کا طمانچہ کھاتے ہی باہر نکل گیا تھا۔ سلیم بہت زیادہ پئے ہوئے تھا، چارپائی پر گرتے ہی سوگیا تھا۔ نوری رات کے بارہ بجے تک کھانا لیے اس کے پاس بیٹھی اور روتی رہی۔ آج وہ بہت دہشت زدہ تھی اور ڈر کے مارے وہ لیٹ بھی نہ سکی۔ نہ ہی اس نے بتی بجھائی۔ اسے شراب اور شرابیوں سے سخت نفرت تھی۔ جب کوئی رات کے دو بجے سلیم کو ہوش آیا اور اس نے اٹھ کر نوری سے وقت پوچھا اور پانی مانگا تو نوری بولی:

’’میں نہیں جانتی تھی کہ تم شراب پیتے ہو، کیا تم نہیں جانتے کہ شراب مسلمانوں کے لیے حرام ہے؟‘‘

’’تو کس زمانے کی بات کررہی ہے۔‘‘

سلیم نے نوری کو گھور کر دیکھتے ہوئے کہا: ’’شراب آج کل کون نہیں پیتا۔ اری غم غلط کرنے کے لیے آدمی اور کیا کرے؟‘‘

’’رو تو سکتا ہے، اور تمہیں کون سا غم ہے۔‘‘

’’تو نے روٹی نہیں کھائی ہے، تو کھالے اور سوجا، تو نہیں سمجھے گی۔‘‘

یہ کہہ کر سلیم پھر لیٹ گیا اور خراٹے لینے لگا۔ نوری نے کھانا اٹھاکر رکھ دیا اور بتی بجھا کر لیٹ گئی مگر وہ سو نہ سکی۔ اس نے تہیہ کرلیا کہ وہ حالات کا مقابلہ کرے گی اور سلیم کو شراب نہیں پینے دے گی، چاہے اس کے لیے اسے کتنی بھی سختی اور مصیبت کیوں نہ جھیلنی پڑے۔ اگلے روز جب سلیم اپنی روٹی کی پوٹلی اور بیڑی کا بنڈل اٹھا کر کام پر جانے لگا، تو نوری نے اس سے صاف کہہ دیا:

’’ایک بات سن لو تمہیں شراب چھوڑنی پڑے گی اور اگر آج کے بعد شراب پی کر آئے تو میں دروازہ نہیں کھولوں گی اور گلی والے تماشہ دیکھیں گے۔‘‘

اور واقعی چار پانچ روز بعد جب سلیم دیر سے گھر لوٹا تو نوری نے کھڑکی کھول کر دیکھ لیا کہ سلیم نے اتنی شراب پی رکھی تھی کہ اس کے لیے کھڑا ہونا مشکل ہورہا تھا اس نے دروازہ نہیں کھولا۔ سلیم نے بہت دروازہ پیٹا، لاتیں ماریں اور نوری کو گندی گالیاں دیں مگر نوری ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ پڑوسیوں نے یہ سب تماشہ دیکھا مگر نوری کو اب کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ سلیم تھک کر گلی ہی کے دروازے کے پاس لیٹ گیا۔ سلیم تو باہر رات بھر سوتا رہا تھا مگر نوری رات بھر جاگتی اور روتی رہی تھی۔ اس نے اگلی صبح دوسروں کے جاگنے سے پہلے ہی دروازہ کھول کر سلیم کو اٹھا دیا اور اسے اندر لے آئی۔ اندر پہنچتے ہی سلیم نے نوری کو مارنے کے لیے ایک لکڑی اٹھائی مگر نوری کڑک کر بولی:

’’اس لکڑی کو فوراً رکھ دو اور ہوش میں آؤ۔ یاد رکھنا کہ میں ایک دیہاتی مسلمان لڑکی ہوں اور قرآن کی تعلیمات میری طاقت ہیں۔ میں ایک وحشی اور بے سمجھ شوہر کو سیدھے راستے پر لانے کے لیے پوری ہمت رکھتی ہوں۔‘‘

نوری کی شادی کے پہلے تین چار برس اسی طرح گزر گئے۔ نوری اپنے گاؤں جاتی تو کبھی سلیم کی برائی نہ کرتی۔ وہ تو ہمیشہ یہی کہتی کہ وہ سلیم کے ساتھ بہت ہی خوش ہے اور نوری کے والدین اللہ کا شکر کرتے کہ انھیں اتنا اچھا داماد ملا ہے اورنوری واقعی قسمت والی ہے۔

اس عرصے میں نوری کے دو لڑکے ہوگئے تھے جن کے نام اس نے اکبر اور یعقوب رکھے تھے۔ نوری کے بار بار کہنے اور جھگڑا کرنے پر سلیم نے شراب چھوڑی تو نہیں تھی مگر بہت کم کردی تھی۔ کم از کم وہ شراب پی کر گھر نہیں آتا تھا۔ جب چھوٹا لڑکا یعقوب پیدا ہوا تو اس نے نوری سے وعدہ کرلیا کہ وہ اب باہر بھی شراب نہیں پیے گا۔ وہ اپنے بچوں سے بہت محبت کرتا تھا اور ان کے لیے نئے نئے کپڑے اور کھلونے لاتا۔ بچوں کی پیدائش کے بعد گھر کا خرچ بھی بہت بڑھ گیا تھا، مگر نوری بڑی کفایت شعار تھی اور وہ سارا دن گھر کا کام کرکے خرچ بچا لیتی تھی۔ پھر اس نے گلی کے کئی بچوں کو اردو اور قرآن پڑھانا شروع کردیا اور اس طرح اسے کچھ آمدنی ہونے لگی مگر کبھی نہ کبھی مالی دقت ضرور ہوجاتی۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ سلیم بالکل بدل گیا تھا اوروہ نوری اور بچوں سے اتنا پیار کرتا تھا کہ نوری کے لیے یہ گھر ایک سچ مچ کی جنت بن گیا تھا۔

ایک روز رات کو سلیم کافی دیر سے گھر آیا۔ اس کے ساتھ اس کا دوست انور بھی تھا جو پہلے بھی کئی دفعہ گھر آچکا تھا۔ اور نوری کو آپا کہتا تھا۔ عام طور پر جب بھی سلیم کا کوئی دوست سلیم کے ساتھ آتا تھا تو نوری بچوں کو لے کر آنگن میںچلی جاتی تھی۔ اس وقت رات کے تقریباً گیارہ بجے تھے اور بچے سوچکے تھے۔ نوری آنگن میں چلی تو گئی مگر دروازے سے لگی ان کی باتیں سننے کی کوشش کرنے لگی۔ آج سلیم اور انور بہت ہی دبی دبی آواز میں کچھ کھسر پھسر کررہے تھے۔ اس نے کچھ لوہے کی سلاخوں اور ہتھوڑوں اور چھینیوں وغیرہ کے کمرے میں رکھنے کی آوازیں سنیں۔ انور کے جانے کے بعد جب نوری کمرے میں آئی تو اس نے دیکھا کہ انور چابیوں کے کئی گچھے، ایک دو ہتھوڑی، کئی چھوٹی بڑی چھینیاں اور کئی لمبی لمبی سلاخیں جو زمین کھودنے اور سیندھ لگانے کے کام آتی ہیں۔ ایک بوری میں بھر کر چھوڑ گیا تھا۔ نوری ان چیزوں کو دیکھ کر بڑی حیران ہوئی ۔ اس نے سلیم سے پوچھا:

’’یہ سب کیا ہے؟‘‘

’’انور اپنے اوزار چھوڑ گیا ہے۔ کل لے جائے گا۔‘‘ سلیم آہستہ سے بولا۔

’’تم انھیں اوزار کہتے ہو! یہ تو کسی کارخانے میں کام نہیں آتے اور تم دونوں آہستہ آہستہ کیا کانا پھوسی کررہے تھے۔ مجھے تو یہ چوروں کا سامان لگتا ہے۔ سچ بتاؤ کیا انور چوری کرتا ہے؟‘‘

جب نوری سلیم کے پیچھے پڑگئی اور اس نے اپنی اور بچوں کی قسم کھلائی تو سلیم مان گیا کہ انور دراصل ایک چور تھا، جو نقب زنی کرتا تھا اور اس نے ایک دو دفعہ سلیم کو بھی مال کا لالچ دے کر اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی تھی، مگر سلیم نہیں مانا تھا۔ نوری یہ سن کر ایک دفعہ تو ڈر سے کانپ اٹھی۔ مگر پھر ہمت کرکے بولی:

’’سنو! یہ سامان میرے گھر میں ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتا۔ یہ بوری تم اٹھاؤ اور چوک سے رکشا پکڑکر اسے انور کے گھر ابھی چھوڑ کر آؤ۔ دوسرے انور سے کہہ دینا کہ کل سے اس گلی میں نہیں گھسے گا۔ میں کسی چور کی آپا نہیں بن سکتی۔ میں تمہیں اپنے بچوں کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ اسے اس کی بوری لوٹانے کے بعد تم انور سے کوئی تعلق نہیں رکھو گے۔‘‘

’’اب رات کو میں کہاں جاؤں، کہا نہ کہ کل وہ اسے لے جائے گا تو خواہ مخواہ پیچھے پڑی ہے۔ لا کھانا دے۔‘‘سلیم بولا۔

’’نہیں پہلے اس بوری کو دے کر آؤ، پھر آکر آرام سے کھانا کھاؤ۔ میں نے بھی تو ابھی کھانا نہیں کھایا ہے۔‘‘

’’نہیں میں اب نہیں جاؤں گا۔‘‘

’’تو تم نوری کو ابھی تک نہیں سمجھے۔ پھر میں برقعہ پہن کر باہر جاتی ہوں۔ میں ایک چور بھائی اور شوہر کو گرفتار کرانے کی اخلاقی جرأت اور حوصلہ بھی رکھتی ہوں اور اس پر میں کوئی آنسو نہیں بہاؤں گی۔‘‘

جب سلیم نے نوری کے یہ تیور دیکھے تو وہ آہستہ سے اٹھا اور بوری اٹھا کر باہر نکل گیا۔ جب ایک گھنٹے کے بعد وہ لوٹا تو نوری نے اطمینان کا ایک لمبا سانس لیا۔ جیسے ایک بڑا بوجھ اس پر سے اتر گیا ہو۔ ادھر سلیم سوچ رہا تھا کہ نوری ایک عورت ہے یا کوئی فرشتہ۔ جب اس نے نوری سے شادی کی تھی تو وہ اس کے دلکش خدوخال اور گداز جسم سے متاثر ہوا تھا اور اس نے سوچا تھا کہ اس نے نوری کو کیا پالیا، ایک بہترین خزانہ لے لیا تھا۔ مگر یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ کم عمر دیہاتی لڑکی اپنی ہمت اوراخلاقی جرأت سے اپنی اور اس کی زندگی ہی بدل ڈالے گی۔ ادھر نوری سلیم کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کررہی تھی کہ وہ اپنے شوہر کو بدلنے میں ایک دفعہ پھر کامیاب ہوئی تھی اور اب کے تو سلیم نے پکا عہد کرلیا تھا کہ وہ کسی برائی میں کبھی نہیں پڑے گا۔

مرسلہ: مومنہ انیس، برونی

شیئر کیجیے
Default image
م۔م۔ راجندر، ایم اے

Leave a Reply