BOOST

نعت

کیوں بکھر جاؤں گا میں سوکھا ہوا پتا نہیں

وہ کھلاڑی ہوں کسی میداں میں جو کچا نہیں

کون مجرم ہے کوئی اس سے بھی تو پوچھے ذرا

جانتا سب ہے، مگر سچ بات وہ کہتا نہیں

بھیک جب انصاف کی مانگی تو ناکامی ملی

اب کوئی منصف کسی بستی میں بھی ملتا نہیں

شہرت دنیا پہ یوں تو شاد ہوتے ہیں سبھی

اپنی طفلانہ شرارت پر کوئی ہنستا نہیں

بند رہتے ہیں گھروں میں اُف ہماری بے بسی

اب تو دروازہ کسی بھی چیخ پر کھلتا نہیں

جاں نثاری کا جو دعویدار تھا کل تک ضمیرؔ

آج وہ میرے لیے اک گام بھی چلتا نہیں

شیئر کیجیے
Default image
ضمیر اعظمی، نئی دہلی

تبصرہ کیجیے