BOOST

ہائے میں کیا کروں؟

امی کہتی ہیں دھوپ میں پھرو گے تو بخار ہوجائے گا… حالانکہ پرسوں جب گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے اور مجھے موقع مل گیا تھا تو میں، کلو اور سوسن دو تین گھنٹے کڑکتی دوپہر میں کھیتوں میں گھومتے پھرے تھے، لیکن مجھے کوئی بخار نہیں ہوا، کلو کو بھی نہیں ہوا، سوسن کو بھی نہیں ہوا… پھر خدا جانے امی اس طرح کی باتیں کیوں کہتی ہیں۔ مجھے تو منع کرتی ہیں کہ جھوٹ نہ بولا کرو، غلط باتیں نہ کیا کرو، لیکن خود ایسی ایسی باتیں کہہ دیتی ہیں جن کا سر ہوتا ہے نہ پیر!

یہ ہمارے مہمان جو آئے تھے یہ بھی تو عجیب حرکتیں کرتے تھے، جب تک وہ گھر میں رہے، میرا جی نہیں لگتا تھا۔ یہ لوگ مجھے زبردستی پکڑ لیتے تھے، گود میں بٹھا لیتے تھے، پھر کوئی پوچھتا کہ پڑھتے کیا ہو، کوئی کہتا سبق سناؤ، کسی کا سوال تھا کہ نام بتاؤ، کبھی یہ معلوم کیا جارہا تھا کہ منے میاں سے تم کو کتنی محبت ہے؟ کتنے فضول سوالات تھے؟ ان کی کیا ضرورت تھی؟ ان لوگوں نے مجھے مذاق کا ہدف بنا رکھا تھا، جیسے میں کوئی کھلونا ہوں، اور میری کوئی عزت نفس نہیں ہے۔

اپنی باتیں تو یہ خوب خوب کرتے تھے، خالہ بھی، خالو ابا بھی، امجد آکا بھی اور سب کے سب، ابا اور اماں بھی، لیکن جب میں نے اپنی کوئی بات چھیڑی تو فوراً مجھے خاموش کرادیا گیا کہ چپ رہو، بڑوں کی باتوںمیں دخل نہیں دیا کرتے۔ اچھا مان لیا، لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہم بچے اپنی جگہ کھیل رہے ہوتے ہیں تو ابا میاں کیوں آکر ہماری باتوں میں دخل دیتے ہیں۔ یا تو قاعدہ یہ ہو کہ بچوں کی دنیا الگ، بڑوں کی دنیا الگ ہو۔ یا پھر یہ ہو کہ بڑے بچوں کی سنیں اور بچے بڑوں کی سنیں، لیکن یہاں عجیب اندھیر ہے۔ وہ باتیں کریں تو ہم چپ رہیں اور ہم باتیں کریں تو ہمیں ڈانٹ دیا جائے کہ دخل نہ دو۔

اتنا ہی نہیں، بے انصافی کی حد ہے کہ ابا خطوط لکھ رہے ہوں، اخبار پڑھ رہے ہوں تو ہمیں حکم ہے کہ گھر میں ’’چوں‘‘ بھی نہ کریں کیونکہ ابا کے کام میں حرج ہوتا ہے، لیکن ہم کتنا ہی ضروری کھیل کیوں نہ کھیل رہے ہوں، بلکہ اسکول کا کام بھی کیوں نہ کررہے ہوں، ہمیں بلا تامل پکارا جائے گا کہ عمو، ذرا دروازے پر جانا کوئی بلا رہا ہے…پھر اگر فوراً کام چھوڑ کے لپک نہ جائیں تو خطرہ ہوتا ہے کہ یا تو اماں کی گھڑکیاں ہوں گی یا ابا کی چھڑی حرکت میں آجائے گی… یہ کم بخت، چھڑی دیکھنے میں جتنی خوبصورت ہے اتنی ہی اپنے اوصاف کے لحاظ سے گھناؤنی ہے! آخر یہ کیا انصاف ہے!

اور سنئے! ابا کی کتابوں میں بڑی بڑی مزے کی تصویریں ہیں، عجب عجب نقشے ہیں اور جی یہ چاہتا ہے کہ ان پر اپنا قبضہ ہو، جس کتاب کو چاہیں دیکھیں بھالیں، نقشے اتاریں، تصویریں کاٹ کر نکال لیں لیکن اس کی اجازت کسے ہے۔ چلئے مان لیا کہ ابا کی کتابوں سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں ہونا چاہیے، وہ بڑی قیمتی ہیں اور چھوٹوں کے کام کی نہیں… اگرچہ یہ بات غلط ہے کہ وہ ہمارے کام کی نہیں… اور اسی طرح یہ بھی مان لیا کہ امی کی سلائی مشین اور قیمہ بنانے کی مشین پر بھی ہمارا کوئی حق نہیں، اور یہ چیزیں بھی ہمارے کام کی نہیں، اور یہ بھی تسلیم کہ آپا جان کی گڑیاں، کھلونے، کتابیں، جیومٹری بکس، ڈرائنگ کا سامان، یہ ساری الا بلا بھی ہمارے حدود و اختیار سے بالا تر ہے۔ لیکن جو کچھ ہمارا ہے، اس پر کسی کی دراز دستی کے کیا معنی؟ … مثلاً دیکھئے برابر کئی ہفتوں سے کوڑے کا ڈھیر چھان چھان کر، ابا کی ردی کی ٹوکری کی تلاشی لے لے کر کچھ کاغذ ہم نے جمع کیے تھے۔ یہ کاغذ ہمیں بہت پسند تھے اور ان کا عجائب گھر ہم نے سجا رکھا تھا، لیکن ایک دن امی کی توجہ نہ جانے کیسے ان کی طرف پھر گئی۔ بس پھر کیا تھا۔ شور مچ گیا کہ گھر میں کوڑا بھر رکھا ہے، تمام فرش خراب کردیا ہے، یہ ہوگیا وہ ہوگیا اور پھر یہ سارا عجائب گھر چھولہے میں تھا… اور ہم منھ بسور رہے تھے، لیکن منھ بسورنے سے کیا حاصل! اسی میں چند ٹکٹیں تھیں، دوتین تصویریں خودہم نے بنائی تھیں، ایک طوطے کی، دوسری اونٹ کی، نہ یہ رہی، نہ وہ رہی۔ اسی عجائب گھر میں کاغذ کی دو کشتیاں بھی تھیں، ایک خط ہم نے لکھ رکھا تھا، تین لطیفے نقل کیے ہوئے تھے … کچھ بھی نہیں بچا!

ابھی پرسوں ہی کا تو ذکر ہے کہ میں نے باہر گھاس میں دیکھا کہ ایک مکڑا ہے جس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ہے اور بیچارا حرکت نہیں کرسکتا۔ میں اسے گھر اٹھا لایا، کپڑے کی ایک دھجی بچھا کر صحن کے ایک کونے میں اسے بستر پر ڈالا۔ کیونکہ جو کوئی بھی بیمار ہوتا ہے اسے بستر پر ڈالا جاتا ہے۔ پھر اس کے لیے تھوڑا سا دودھ لیا، ڈبل روٹی لی، شکر لی اور دوات کے ڈھکن میں ڈال کر اس کے آگے یہ سب رکھا کہ وہ کچھ تو کھائے، مگر وہ کچھ کھاتا ہی نہیںتھا۔ شاید بے ہوش ہوگیا ہو۔ میں اس کی تیمار داری میں شام تک لگا رہا حتیٰ کہ کھانے کا وقت ہوگیا۔

یہ ابا اماں جو کہتے ہیں کہ مظلوم اور دکھی پر رحم کرنے سے ثواب ہوتا ہے اور اللہ میاں خوش ہوتے ہیں، انہی کے بتائے سے میں ادھر لگا تھا۔ لیکن اب یہی مجھے ڈانٹ رہے تھے کہ کھانے میں دیر ہورہی ہے۔ کن فضولیات میں لگے ہو… لیجیے ایک ثواب کا کام ان کی نگاہ میں فضولیات ٹھہرا۔ خود ہی وہ کہتے ہیں، خود ہی یہ فرماتے ہیں۔

میرا دل دکھی تھا، میں اس کی ٹانگ کو دیکھتا تھا تو میرا دل چاہتا تھا کہ خوب روؤں، مجھے اس مکڑے سے ایسی محبت ہو رہی تھی کہ اگر اس سے کچھ ڈر سا نہ ہوتا تو میں اسے اٹھا کر چوم لیتا۔ لیکن اماں نے تو حد کردی وہ اٹھیں اور قریب آکر جھک کر اس مکڑے کو دیکھا تو آگ بگولہ ہوگئیں کہ پاجی، کن کاموں میں وقت ضائع کرتا ہے اور اسے چمٹے سے اٹھا کر دیوار کے باہر پھینک دیا… مجھے گھسیٹتے گھسیٹتے دستر خوان پر لے آئیں۔ اس دن مجھے معلوم ہوا کہ یہ لوگ نیکی کی باتیں بتاتے ہیں اور پھر وہی باتیں کرنے نہیں دیتے۔

ادھر ماسٹر صاحب بھی عجیب قسم کے آدمی ہیں۔ ایک مہینہ ہوا ہمیں سبق پڑھاتے ہوئے بتانے لگے کہ چھوٹوںسے پیار کرنا چاہیے ان کی مدد کرنی چاہیے اور ان کو کبھی مارنا نہیں چاہیے…اور ہمیں نصیحت کی کہ اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ کبھی سختی نہ کیا کرو۔ہم اس سبق پر بہت خوش ہوئے کہ اب تو ماسٹر صاحب کا مزاج بدل رہا ہے۔ مگر وہی سبق جب شام کو ہم سنانے لگے تو میں ایک لفظ پر اٹکا، ابھی غور کر ہی رہا تھا کہ قمچی پڑگئی۔ قمچی پڑنے سے جو درد ہوا وہ تو روز ہوتا ہی تھا۔ لیکن اصل دکھ اس بات کا ہوا کہ ماسٹر صاحب کے متعلق نئے اندازے کا جو محل اتنا اونچا ہم نے اپنے دل میں کھڑا کرلیا تھا وہ گرگیا۔ اگر میں چھوٹا بچہ نہ ہوتا تو ماسٹر جی سے پوچھتا کہ میرا قصور ہے کیا! ایک لفظ ہے جس کا تلفظ مجھے یاد ہوتا تو میرا فرض تھا کہ بیان کردیتا، نہ کرتا تو مجرم تھا، لیکن وہ مجھے یاد ہو ہی نہیں سکا۔ تومیرا اختیار اس میں کیا تھا۔

ماسٹر صاحب عام طور پر ہمارے دل میں پیدا ہونے والے ا س سوال کا جواب خود بخود ہی دیتے رہتے ہیں اور وہ یہ ہوتا ہے کہ جب میں سبق پڑھاتا ہوں، تو تمہارا خیال کہیں کا کہیں گھومتا رہتا ہے۔ ہماری بلا جانے کہ یہ خیال کیا بلا ہوتی ہے، یہ کس طرح گھومتی ہے، کہاں کہاں چرتی ہے، البتہ اتنا جا نتے ہیں کہ جب ماسٹر پڑھاتے ہیں تو ان کی آواز، ان کی صورت اور ان کا طرزِ عمل ایسا ہوتا ہے کہ پڑھنا آفت معلوم ہوتا ہے اور ہم اس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ ہماری غلطی ہو، لیکن ہم کریں کیا؟ کیوں نہ ماسٹر صاحب بدل جائیں۔ وہ ہمیں کہانیاں سنائیں، ہمیں ہنسائیں، تصویریں دکھائیں، کھیل کھلائیں، سیر کرائیں، صلح سلامتی سے پڑھائیں، تو ان سے ہمارے تعلقات اچھے ہوجائیں۔ اور ہم دھیان دینے لگیں۔ بس ان کو ضد ہے کہ وہ رعب گانٹھتے رہیں۔ قمچیاں مارتے رہیں گے، جو چیز ہمیںپسند ہوگی وہ نہ کریں گے، ہمارا کوئی لحاظ نہ رکھیں گے۔ اب اگر خیال کہیں چرتا چگتا پھرے تو قصور کس کا ہے۔

خیر مان لیا کہ قصور ہمارا ہی ہوتا ہے اور ہمیں سزا ملنی چاہیے۔ لیکن کیا ماسٹر صاحب کا کبھی کوئی قصور نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا ہے تو ان کو سزا دینے والا کون ہے اور سزا دینے کی صورت کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم بچے کچھ نہیں کرسکتے، وہ غلطی کرتے ہیں اور بات ٹال جاتے ہیں۔ مثلاً دو ہفتے ہوئے میری دوات ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرگئی، اب اس پر سزا کا تو کیا سوال، مجھ سے آپ نے معافی تک نہیں مانگی، حالانکہ خود بتاتے ہیں کہ دوسرے کا نقصان کر بیٹھو تو فوراً معافی مانگو … بلکہ الٹا مجھے ڈانٹ کر حکم دیا کہ اٹھا لے جاؤ یہ ٹکڑے اور سمیٹ کر کوڑے کے ٹین میں ڈال آؤ۔ لیکن اس سے دس روز پہلے میرے ہاتھوں جب سلیم کی دوات ٹوٹ گئی تھی تو بندے نے چھ قمچیاں ماسٹر صاحب کے ہاتھ سے کھائی تھیں۔ مجھے ایک بھی نہیں بھولی۔

ان قمچیوں کا تو عجیب استعمال ہوتا ہے۔ ایک دن انور نے نہ جانے کیا کہہ دیا کہ ہم سب ہنس پڑے، آخر ہنسی تو آتی ہی ہے، بس اس پر ہماری خبر لے ڈالی گئی۔ لیکن ماسٹر صاحب کا جس دن جی چاہتا ہے ہنس دیتے ہیں اور ان کی خبر لینے والا کوئی نہیں۔ یہ ہنس دینا کس وجہ سے جرم ہے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ ابا کے پاس ایک رسالہ ’’ہمدرد صحت‘‘ آتا ہے، اس میں میں نے خود پڑھا ہے کہ ہنسنے اور خوش رہنے سے صحت ترقی کرتی ہے مگر ماسٹر صاحب کو ہنسنے سے بیر ہے۔

سوچ سوچ کر حیرا ن ہوتا ہوں کہ اللہ میاں نے ان بڑوں کو کیا بنایاہے۔ ماسٹر صاحب ہوں یا ابا میاں یا اماں، ان کا نقشہ اس وقت بڑا مضحکہ خیز ہوتا ہے، جب ان کو غصہ آتا ہے۔ ان کی شکلیں عجیب و غریب قسم کی ہوجاتی ہیں، چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے۔ آنکھیں بڑی ڈراؤنی بن جاتی ہیں اور جو فقرہ منہ سے نکالتے ہیں وہ غلط ہوتا ہے۔ پھر ایسی ایسی باتیں کہنے لگتے ہیں کہ جیسے نہ جانے انھیں کیا ہوگیا ہے۔ ایسے میںان پرسوار بڑا پن غائب ہوجاتا ہے، وہ کچھ ہیبت ناک بن جاتے ہیں اور میں ہکا بکا ان کو دیکھتا رہ جاتا ہوں۔ مجھے پھر ان کی باتیں سنائی نہیں دیتیں یہاں تک کہ چپت پڑجائے اور سر بھنا جائے۔ اس وقت مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ غصے کا دورہ تھا۔

امی پر تو مجھے اس بات پر سخت افسوس ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت منے کو گود میں لیے رہتی ہیں، باتیں بھی اسی سے کرتی ہیں، سلاتی بھی ساتھ اسی کو ہیں… ابا جب بازار جاتے ہیں تو منے ہی کے لیے طرح طرح کی چیزیں منگاتی رہتی ہیں، کپڑے، دودھ کی بوتل، چسنیاں، رومال، پوڈر، جھنجھنے اور نہ جانے کیا کیا، مگر میرا نمبر تو سب سے پیچھے ہے۔ بلکہ جیسے میں اب ان کا کچھ رہا ہی نہیں۔ پاس جاؤں تو ہٹادیتی ہیں۔ پیار نہیں کرتیں، چمکارتی نہیں، باتیں نہیں سنتیں، کہانیاں نہیں سناتیں، معلوم نہیں انھیں اب ہو کیا گیا ہے۔ پہلے تو ایسی نہ تھیں اس منے نے آکر ان کو کیا سے کیا بنادیا۔ اب میں بھی جب موقع لگے اس کی خبر لوں گا۔ مجھے اس سے نفرت ہے۔ میں اسے اٹھانا نہیں چاہتا میرا دل چاہتا ہے کہ اسے گھر سے باہر پھینک دوں۔

منے کو کبھی اٹھانا چاہوں تو روک دیا جاتا ہے کہ ہیں ہیں دیکھنا، گر پڑے گا، رونے لگے گا، یہ ہوگا وہ ہوگا، گویا میں نالائق آدمی ہوں۔ ایک منے ہی کا معاملہ نہیں، کبھی اگر سالن کی رکابی اٹھا کر مردانے میں لے جاتا ہوں، ابا کو چائے دانی لے جا کے دینا چاہوں، شکر کا مرتبان خودکھولنا چاہوں، تو ہر کام سے مجھے روک دیا جاتا ہے۔ مجھے گھر کے سارے ہی لوگوں نے نہایت بے وقوف، کمزور اور بے کار آدمی بنا رکھا ہے۔ میں گویا کسی کام کا نہیں۔

بے اعتباری ہی تک بات رہتی تو بھی صبر کرلیتا، وہاں تو دل دہلاتے رہنے کی ایک مہم جاری ہے۔ اگر میں اپنے باغیچہ کے کسی درخت پر چڑھتا ہوں تو شور مچ جاتا ہے کہ گر پڑو گے، اگر میں چھلانگیں لگاؤں تو مجھے ڈرا دیتے ہیں کہ ٹانگ ٹوٹ جائے گی، اگر میں سڑک پر چلوں تو ڈراتے ہیں کہ کسی گاڑی کے نیچے آجاؤگے، اگر میں اکیلا نکلوں یہ دھمکی کہ راستہ بھول جاؤگے یا محلے کے لڑکے ماریں گے، پڑوسیوں کا کتا کاٹ کھائے گا۔ یعنی مدعا یہ ہے کہ میں سل پتھر ہوکر پڑ رہوں۔ ورنہ ہر طرف خطرہ ہی خطرہ ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ میرے پڑوس کے بچے یہ سب کچھ کرتے ہیں اور انھیں کوئی خطرہ پیش نہیں آتا، لیکن ابا اماں ہیں کہ مجھے گندی گندی کہانیاں سناتے رہتے ہیں کہ فلاں محلے میں بچہ ڈوب مرا یا اخبار میں لکھا ہے کہ ایک بچہ آج موٹر سائیکل کی جھپٹ میں آگیا اور ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ یہ باتیں سن سن کر مجھے کتنے ہی ڈراؤنے خواب دکھائی دیتے ہیں اور میں بہت پریشان ہوتا ہوں۔

بس دھمکیاں، ہدایات، نصیحتیں، ڈراوے، پابندیاں چاروں طرف سے اس طرح بھینچے ہوئے ہیں کہ کان تک ہلانا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ مجھ سے جو کوئی بھی عمر میں بڑا ہے وہ اپنا قانون برابر چلاتا رہتا ہے۔ اور حکم حضور سے مجالِ سرتابی نہیں ہوتی۔ کپڑے کیوں میلے کردئیے، چھری ہاتھ میں نہ لو، کوڑا پھیلا رہے ہو، مشین کو چھیڑ دیا، سائیکل گر پڑے گی، منہ نہیں دھویا، بال بکھر رہے ہیں۔ نوالہ چبا کر کھاؤ، چھوٹے لقمے لو، بسم اللہ پڑھی ہی نہیں، کھانے میں زیادہ باتیں نہیں کرتے وغیرہ فقرے صبح سے شام تک بیسیوں مرتبہ سننے میں آتے ہیں اور یہی سنتے سنتے دن رات گزرتے ہیں۔ میرے گرد ایک پنجرہ سا بنا ہوا ہے اور میں اس میں پھڑ پھڑاتا رہتا ہوں۔ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔

مجھے یہ سب کچھ منظور ہے مگر پہلے مجھے قائل معقول تو کیا جائے، ہر بات اس طرح کہی جاتی ہے کہ نہ دلیل نہ اپیل۔ ماسٹر صاحب کی عادت ہے کہ میںان کی پسند کے خلاف کوئی حرکت کر بیٹھوں تو فوراً کہیں گے: ’’عمو! بری بات ہے۔‘‘

صاحب آخر کیا بری بات ہے، مجھے بھی تو پتا چلے۔ لیکن کچھ سمجھائیں گے نہیں، بلکہ ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے زور سے کہہ دیں گے: ’’بری بات ہے۔‘‘ مجھے اگر پتا چل جائے کہ یہ واقعی بری بات ہے تو میں آخر برا تھوڑا ہی ہوں، میں کیوں برائی کرنے لگا، لیکن یہ تو دھاندلی ہے کہ برائی کا اتا پتا تو نہ بتایا جائے اور زبردستی یہ منوایا جائے کہ بری بات ہے۔ یہی حال امی کا ہے، اگر چھوٹی اپنی مٹھائی کھانے کے بعدکبھی مجھ سے میرے اپنے حصے کی مٹھائی میں سے کچھ آ مانگتی ہے اور میں انکار کردیتا ہوں تو وہ فرماتی ہیں کہ ’’عمو دیکھو! ایسے گناہ ہوتا ہے۔‘‘ … مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ گناہ کیسے ہوگیا۔ وہ نہیں سمجھاتیں، ان کوفرصت نہیں ملتی!… اب میں کیا کروں۔

یہ ان بڑوں کو پتا نہیں اتنی ضروری باتوں کے لیے کیوں نہیں فرصت ملتی۔ مجھے ہزاروں باتیں کہنی ہیں، ہزاروں سوال پوچھنے ہیں۔ لیکن جب موقع نکال کر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، ٹال دیا جاتا ہے۔ کتنی ہی مرتبہ ابا سے دریافت کرچکا ہوں کہ خدا کیا ہے؟ وہ ہنس دیتے ہیں اور بس۔ دو ایک مرتبہ امی سے پوچھا کہ اللہ میاں کے لیے روٹی کون پکاتا ہے۔ تو وہ توبہ توبہ کرنے لگتی ہیں اور کہتی ہیں کہ کبھی اللہ میاں بھی روٹی کھایا کرتے ہیں… لیکن اگر وہ نہیں کھاتے تو بھوک کا کیا کرتے ہوں گے؟ اب ان باتوں کا کوئی جواب مجھے نہیں ملتا۔ پھر ایک سوال جو حل نہیں ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے منے کہاں سے آگئے اور کیسے آگئے، مگر اس سوال کو ایک مرتبہ پوچھا تو وہ گت بنی کہ آگے کے لیے توبہ کی۔ ایک روز ماسٹر جی سے دریافت کیا کہ ماسٹر جی! یہ کیا بات ہے کہ جو لوگ اللہ کے حکموں پر چلتے ہیں وہ بھی مسلمان ہیں اور جو نہیں چلتے ان کو بھی آپ مسلمان کہتے ہیں، پھر فرق کیا ہوا؟ … اس پر فرمانے لگے کہ مسلمان کلمہ پڑھتے ہیں، اس لیے وہ مسلمان ہوتے ہیں مگر مجھے تو خاک بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ کلمہ پڑھنے سے کیا ہوتا ہے۔ کلمہ تو ہمارے عیسائی انجینئر صاحب کی بیوی بھی کئی دن پڑھتی سنی ہیں۔ لیکن اما ںبتاتی ہیں کہ وہ مسلمان نہیں۔ پھر آج یہ جی چاہ رہا ہے کہ کسی بڑے آدمی سے معلوم کروں کہ ہمارا مالی نماز پڑھتا ہے اور برے کام نہیں کرتا، لیکن وہ پھٹے حالوں رہتا ہے اور اسلم کے ابا جو بڑے نواب ہیں، شراب پیتے ہیں، نوکروں کو مارتے ہیں، جوا کھیلتے ہیں، لیکن اللہ میاں نے ان کو ایسی اچھی کوٹھی دے رکھی ہے،اور اتنے اچھے اچھے کپڑے اور کھانے انھیں ملتے ہیں کہ حیرانی ہوتی ہے۔ آخر یہ ماجرا کیا ہے مگر میں پوچھوں تو بھی بتائے گا کون؟ کس کے پاس وقت ہے؟ کون مجھ چھوٹے سے بچے کے لیے وقت نکال سکتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
نعیم صدیقی مرحوم

تبصرہ کیجیے