مسلم عورت کا تعمیری کردار

انسانی تاریخ بھی ہمیں بتاتی ہے اور اسلامی تاریخ بھی کہ انقلابات زمانہ کے پیچھے خواتین کا بھی اسی طرح رول رہا ہے جس طرح مردوں کا۔ صالح اقدار پر مبنی انقلابات ہوں یا باطل نظریاتی تبدیلیاں ہر جگہ عورت نے اپنا کردارا دا کیا ہے۔ اور یہ کردار اگر عورت ادا نہ کرتی تو شاید وہ ہمہ گیر تبدیلی ممکن نہ ہوتی جو ممکن ہوئی۔ موجودہ زمانہ میں جہاں ہم مادہ پرستی کی بنیاد پر کھڑے ایک تہذیبی اور سائنسی انقلاب سے گزر رہے ہیں عورت مردوں کے دوش بدوش کھڑی نظر آتی ہے۔ صنعتی انقلاب میں عورت نے پروڈکشن کے اضافہ میں خود کو اسی طرح جھونک دیا جس طرح مردوں نے، سوشلسٹ انقلاب میں بھی عورت اسی طرح نظر آئی جس طرح مرد۔ اور آج جہاں جہاں اسلام کی دعوت کے نتیجہ میں سیاسی، سماجی اور معاشرتی تبدیلیاں آرہی ہیں ان میں بھی عورت کا رول ناقابلِ انکار ہے۔

صالح معاشرتی تبدیلی اور دعوت حق میں فرعون کی بیوی، زوجۂ ابراہیمؑ حضرت ہاجرہ، عہدِ رسالت میں عائشہ بنت ابوبکرؓ جو علم ادب کا مرجع ٹھہریں اور فاطمہ بنت محمدﷺ جو محض گھریلو زندگی گزار کر بھی سیدۃ نساء اہل الجنۃ قرار پائیں اور حضرت خدیجہ زوجۂ رسول کے علاوہ بے شمار نام ایسے تاریخ اسلام میں نظر آتے ہیں جنھوں نے مختلف محاذوں اور مختلف صلاحیتوں کے ذریعے زمانے کو ایک صالح انقلاب سے ہم کنار کرنے میں بڑااہم اور کلیدی رول ادا کیا ۔ حضرت ہاجرہؑ کا معاملہ تو بڑا عجیب ہے۔ انھوں نے زندگی کے ناقابل تصور مشکل حالات اور اقدامات میں بھی صرف اتنا پوچھا کہ ’’کیا یہ اللہ کا حکم ہے‘‘ اور پھر مطمئن ہوگئیں اور اپنا سب کچھ اللہ کے حوالے کردیا۔ زوجہ فرعون نے ظلم و ستم برداشت کرنے کی تاریخ لکھ کر رہتی دنیا تک کی خواتین کو سبق دے دیا کہ وہ بھی اسی طرح ثابت قدم رہیں۔ حضرت خدیجہؓ نے اپنی دولت اور محبت حضورﷺ کو پیش کرکے دائمی انقلاب کے لیے راہ ہموار کی۔ حضرت فاطمہؓ نہ تاریخ میں علم و فن کا مرجع ٹھہریں نہ مال و دولت کے انبار لٹا کر انھوں نے اپنا کردار ادا کیا مگر پھر بھی وہ جنتی عورتوں کی سردار قرار پائیں۔ ایسا اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے گھریلو زندگی گزار کر ایک اعلیٰ درجہ کی مربیہ کا کردار ادا کیا جو دیگر خواتین کے کردار سے اہمیت کے اعتبار سے کسی طرح کمتر نہیں۔

جدید دور میں جہاں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی جدوجہد ہورہی ہے۔ وہاں زینب الغزالی جیسی مجاہدہ بھی ہمیں نظر آتی ہیں جنھوں نے لاکھوں انسانوں کی زندگی میں تبدیلی پیدا کی اور مریم جمیلہ جیسی صاحب علم و فکر خواتین بھی نظرآتی ہیں جنھوں نے علمی و فکری جدوجہد کے ذریعے ہزاروں انسانوں کو اللہ کی راہ دکھائی۔ موجودہ زمانے اور ماضی کی تاریخ میں اگر ہم دنیا بھر میں ایسی خواتین تلاش کریں جنھوں نے انقلابات میں ایسا رول ادا کیا جو مردوں کے رول پر بھی بھاری نظر آتا ہے تو بے شمار مثالیں ہمیں مل جائیں گی۔

ہم جس دور میں زندگی گزار رہے ہیں وہاں حق و باطل کی کشمکش انتہائی عروج پر ہے۔ اسلام اور مسلمان اس محاذ پر جو جدوجہد کررہے ہیں وہ اندھیرے میں روشنی کی کرن معلوم ہوتی ہے۔ مگر امت مسلمہ کو ابھی تک ان مختلف محاذوں کے لیے مؤثر خواتین کی خاطر خواہ تعداد میسر نہیں آئی ہے۔ اس کی وجہ جہاں مسلم خواتین کی غفلت اور بے توجہی ہے وہیں اسلامی تحریکات کی کمزوری بھی ہے کہ وہ اب تک خواتین کے اندر تعمیری انقلاب کی وہ روح اور جذبہ پیدا کرکے انہیں تربیت اور عزم و عمل کی قوت سے سرشار نہیں کرسکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی جدوجہد کی گاڑی کو دوسرا کارگر پہیہ میسر نہیں آسکا۔

اگر ہم صرف ہندوستان کے تناظر میں صورتحال کو دیکھنے کی کوشش کریں تو اندازہ ہوگا کہ ہم کس طرح اپنی تعمیری کوششوں کو خواتین کے بغیر آگے بڑھانے کے لیے مجبور ہیں۔

یہ سچ ہے کہ مسلم اور صاحب ایمان عورت باطل نظریات کی حامل خواتین کی طرح خیروشر کے تصور سے خالی نہیں ہے اس کے باوجود وہ کئی محاذوں پر ایسی جدوجہد کرسکتی ہے جو اس کے رول کو غیر معمولی اہم اور اس کی کوششوں کو اسلام کی کامیابی کا ذریعہ بناسکتی ہے۔ کیونکہ عورت اپنی ذات میں طبعی طور پر ایک ادارہ ہے اور وہ اس ادارے کی خود مختار انچارج ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ وہ اپنے اندر شعور کی پختگی پیدا کرے اور اپنے آپ کو جدوجہد کی اس راہ پر شعوری طور سے لگائے جس کا اسلام اس زمانہ میں اس سے مطالبہ کرتا ہے۔

ہمارے نزدیک اس وقت تین محاذ ایسے ہیں جن پر ہماری خواتین کھڑی ہوسکتی ہیں اور اسلام کے غلبہ کے لیے راستہ ہموار کرسکتی ہیں۔ ان میں سب سے بڑا اور اہم محاذ تعلیم کا محاذ ہے۔ تعلیم دراصل فساد اور اصلاح کے لیے کارگر ہتھیار ہے۔ اور اس وقت یہ ہتھیار مکمل طور پر فکری اور سماجی و معاشرتی فساد کے لیے استعمال ہورہا ہے۔ مگر اس کے باوجود اس بات کا پورا موقع ہمارے لیے موجود ہے کہ ہماری خواتین اس میدان میں داخل ہوں اور اس نظام میں تشکیل پانے والے فکری سانچوں کی اصلاح کریں۔ کیونکہ تعلیم انسان کے اندر خیروشر کا شعور پیدا کرسکتی ہے اور ذہنوں کو نئی روشنی دے سکتی ہے اور اس کے ذریعہ ہم مستقبل کے افراد تیار کرسکتے ہیں۔ اس لیے ہماری باشعور خواتین کو چاہیے کہ وہ اس محاذ کو سنبھالیں اور ایسے افراد تیار کرنے میں مسلم معاشرہ کی مدد کریں جو اعلیٰ اخلاق و کردار کے حامل اور دینی جذبہ سے سرشار ہوں۔

اس وقت اس بات کے شکوہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ امت میں تعلیم یافتہ خواتین کی کمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ہزاروں لاکھوں تعلیم یافتہ خواتین موجود ہیں جن کے اندر دینی جذبہ بھی ہے مگر شعور میں ان بنیادی تصورات کی کمی ہے جو بہ حیثیت ایک مسلمان معلمہ کے ان کے اندر ہونے چاہئیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری خواتین جو اس پیشہ سے باضابطہ وابستہ ہیں وہ اس کی اہمیت اور نزاکت کو سمجھیں اور ان اثرات کو بھی جانیں جو وہ سماج و معاشرہ کی تعمیر میں طلبہ کے ذہن و فکر پر مرتب کرسکتی ہیں۔

تعلیم کے ہی محاذ کا دوسرا حصہ ناخواندہ مسلم خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے کا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مسلم خواتین میں تعلیم کا تناسب دوسرے لوگوں کی بہ نسبت کم ہے۔ مگر ہم اس مسئلہ کا حل نکال سکتے ہیں اگر ہماری تعلیم یافتہ خواتین ان ناخواندہ بہنوں کی بھی فکر کریں جن تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ان نا خواندہ خواتین کو پڑھنے لکھنے کے لیے آمادہ کریں کیونکہ اس کے بغیر نہ وہ خدا کو پہچان سکتی ہیں، نہ اپنی ذات کا شعور حاصل کرسکتی ہیں اور نہ یہ جان سکتی ہیں کہ بہ حیثیت مسلمان ہماری زندگی کیسی ہونی چاہیے۔

مسلم خواتین کا دوسرا محاذ خواتین میں دعوت دین اور دینی بیداری لانے کا کام ہے۔ یہ وہ کام ہے جو خواتین ہی کرسکتی ہیں۔ اس لیے کہ مردوں کے لیے یہ ممکن بھی نہیں اور نہ ہی سماجی اور معاشرتی اعتبار سے مستحسن ہے کہ وہ عورتوں کے درمیان جائیں اور انہیں دین اور ان کی دینی ذمہ داریوں سے آگاہ کریں۔ اگر باشعور اور دین کا جذبہ رکھنے والی خواتین اپنی اس دعوتی اور دینی بیداری کی ذمہ داری کو سمجھ لیں اور اپنے پاس پڑوس اور محلہ سے اس کام کا آغاز کردیں تو دیکھتے ہی دیکھتے خواتین میں ایسی دینی بیداری نظر آنے لگے گی کہ سماج اور معاشرہ میں صالحیت اور نیکی کا دور شروع ہوجائے گا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر گھر کی عورت تعلیم یافتہ اور دین دار ہوجائے تو گھر کے افراد اور نسلیں دین سے دوری کی زندگی ہرگز نہیں گزار سکتیں۔

خواتین کاتیسرا محاذ اولاد کی تربیت کا محاذ ہے۔ یہ وہ محاذ ہے جس کی کامیابی اور ناکامی سے ہماری ذاتی زندگی پہلے مرحلہ میں اور اخروی زندگی دوسرے مرحلے میں وابستہ ہے۔ اگر ہم واقعی اللہ اور رسول سے محبت رکھتے ہیں اور اسلام کو اپنا دین سمجھتے ہیں تو ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی اولاد کی تربیت بھی انہی خطوط پر کریں جو اسلام ہمیں سکھاتا ہے۔ اور کامیابی و ناکامی کے وہی معیارات انہیں بتائیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے متعین کیے ہیں۔ ایک دین پسند عورت کبھی اس بات کو گوارہ نہیں کرے گی کہ اس کی گود میں پرورش پانے والی اولاد باطل پسند ہو۔ ایک خدا ترس عورت اپنی اولاد کے اندر خدا ترسی ہی پیدا کرنے کی کوشش کرے گی نہ کہ اپنے نظریات کے برعکس افکار و خیالات۔

جن تین محاذوں کا ہم نے اوپر تذکرہ کیا ہے وہ محاذ ایسے ہیں جن پر ہر دین پسند عورت اپنی خدمات انجام دے سکتی ہے لیکن یہ تینوں باتیں ان عام خواتین کے لیے ہیں جو کچھ خاص کرنے کی پوزیشن میں نہیںہیں۔ گویا یہ ’’کم از کم پروگرام‘‘ ہے۔ ورنہ حسب صلاحیت و وقت کی قربانی کے ساتھ ایک خاتون وہ کچھ کرسکتی ہے جو مرد بھی کرنے سے قاصر ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال

Leave a Reply