لطائف

حامد قبرستان میں بیٹھا تھا۔ محمود کہیں سے آرہا تھا۔ جب قریب پہنچا تو حامد نے محمود سے کہا: ’’یار تم نے آج سلام نہیں کیا؟‘‘ محمود نے کہا: میں نے دور ہی سے کہا السلام علیکم یا اہل القبور۔

٭٭٭

ایک صاحب تقریر کررہے تھے۔ ’’ہمیں اناج زیادہ اگانا چاہیے۔‘‘

مجمع میں سے آواز آئی: ’’صاحب گھاس اگانے کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘

صاحب نے جواب دیا:’’میں پہلے انسانوں کی غذا کے بارے میں بات کرلوں پھر آپ کی غذا کے بارے بات کروں گا۔‘‘

٭٭٭

ایک شخص جلدی میں تھا، اس نے ایک شخص سے وقت پوچھا: ’’آپ کے بجے میں کیا گھڑا ہے۔‘‘

وہ شخص بھی جلدی میں تھا، اس نے جواب دیا:’’نونے پو۔‘‘

٭٭٭

ایک بے وقوف (اپنے دوست سے) ’’آج میں نے ریلوے والوں کو بہت بڑا دھوکہ دیا۔‘‘

دوست : ’’بھئی وہ کیسے؟‘‘

بے وقوف: ’’وہ ایسے کہ میں نے واپسی کا ٹکٹ تو خرید لیا مگر میں واپسی گیا ہی نہیں۔‘‘

٭٭٭

اسحاق: ’’کہو یار! تم نے امتحان کی تیاری مکمل کرلی۔‘‘

الطاف: ’’ہاں بالکل۔‘‘

اسحاق: ’’کیا کیا تیاری کی۔‘‘

الطاف: ’’دو نئے سوٹ اور جوتوں کے چار جوڑے خرید لیے ہیں۔‘‘

٭٭٭

ماں: ’’ثمینہ یہ بلی کیوں مرگئی؟‘‘

ثمینہ: ’’میں نے بلی کو نہلا کر نچوڑ دیا تھا۔‘‘

٭٭٭

ایک صاحب ڈینگ مار رہے تھے۔ میں ہمیشہ دوڑ میں پہلا نمبر لاتا ہوں۔ اُن کے دوست نے کہا، ٹھیک ہے۔ آپ وہ لال لائٹ چھوکر آجائیں، تین دن کے بعد وہ صاحب اپنے دوست کے گھر آئے۔ کپڑے پھٹے ہوئے، ہاتھ پاؤں دھول میں اٹے ہوئے، آتے ہی اپنے دوست پر برس پڑے کے یار تو نے مجھے ٹرک کی لائٹ کے پیچھے دوڑایا۔‘‘

٭٭٭

تماشائی! اچھا تو یہ ہے وہ خوفناک اور دہشت ناک تصویر جو آپ نے بنائی ہے۔

مصور: معاف کیجیے گا، آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہیں۔

٭٭٭

جیلر: ’’آج تمہیں پھانسی دی جائے گی، بتاؤ تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟

مجرم: میری خواہش تربوز کھانے کی ہے۔

جیلر: ابھی تو تربوز کی فصل آنے میں کئی مہینے ہیں۔

مجرم: تب تک میں انتظار کرلوں گا۔

٭٭٭

بچہ: ڈیڈی میری ہوم ورک کروادیجیے۔

ڈیڈی: بیٹا مجھے تو سرکھجلانے کی بھی فرصت نہیں۔

بچہ: ڈیڈی میں آپ کا سر کھجلاتا رہوں گا آپ میرا ہوم ورک کردیجیے۔

٭٭٭

خریدار:( دکاندار سے ) یہ کپڑا بے کار ہے دو تین بار دھونے میں سکڑ جائے گا۔

دکاندار: نہیں بھائی! یہ کپڑا اچھا ہے۔ دو تین بار دھونے میں پھٹ بھلے ہی جائے مگر سکڑ نہیں سکتا۔

٭٭٭

ایک آدمی نے ہوٹل کی میز پر بیٹھے ہی بیرے سے کہا کہ اس ہوٹل میں سب سے گرم چیز کیا ہے جلدی لے آؤ۔

ویٹر نے جواب دیا: صاحب جولہا، اگر حکم ہو تو فوراً لے آؤں۔

٭٭٭

بچہ: مچھر پہلے رات میں کاٹتے تھے، اب دن میں کاٹنے لگے ہیں۔

دوسرا بچہ: مہنگائی بڑھنے کی وجہ سے بے چاروں کو رات دن کام کرنا پڑ رہا ہے۔

٭٭٭

دو دوست آپس میں باتیں کررہے تھے۔ تو ایک دوست نے کہا جب میں سوٹ پہن کر بازار جاتا ہوں تو سبزی مہنگی ملتی ہے۔ اور کرتے پاجانے میں جاؤں تو سبزی سستی ملتی ہے۔

دوسرے دوست نے کہا اور اگر ہاتھ میں کٹوا لے کر جاؤں تو سبزی فری مل سکتی ہے۔

٭٭٭

چوری کے کیس میں ایک وکیل نے اپنے مؤکل کی پیروی کرتے ہوئے جج سے کہا: ’’مائی لارڈ چوری کا جرم میرے مؤکل کے ہاتھ نے کیا ہے۔ اس کے لیے پورے جسم کو سزا دینا میری سمجھ سے باہر ہے۔‘‘

’’بالکل ٹھیک ‘‘ جج نے کہا۔ ’’آپ کی دلیل مانتے ہوئے مجرم کے ایک ہاتھ کو دو سال کی سزا سنائی جاتی ہے۔‘‘ اب یہ مجرم پر ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کے ساتھ جیل جاتا ہے یا نہیں۔‘‘

فیصلہ سن کر وکیل اور مؤکل دونوں مسکرائے۔ پھر وکیل کی مدد سے مؤکل نے اپنا نقلی ہاتھ جسم سے الگ کیا اور جج کے سامنے رکھ کر چلتا بنا۔

٭٭٭

ایک میاں بیوی میں جھگڑا ہوگیا۔ تکرار شدید ہوئی تو شوہر نے کہا: اب ہم دونوں ایک چھت کے نیچے نہیںرہ سکتے۔ بیوی نے کہا: ٹھیک ہے۔ میں اندر رہوں گی تم باہر رہو۔

٭٭٭

ایک سینئر افسر نے جونیئر افسر سے کسی غلطی پر وضاحت طلب کی۔

جونیئر بولا: سر آپ میری مجبوری سمجھ سکتے ہیں۔ میرے انڈر میں تین بے وقوف کام کرتے ہیں۔

سینئر افسر بولا: تم خوش قسمت ہو، کیونکہ میرے انڈر میں تو چار بے وقوف کام کرتے ہیں۔

٭٭٭

ایک دوست نے اپنے ایک شاعر دوست سے کہا: ’’آپ کی غزلیں سن کر مجھے بڑے حیرت ہوتی ہے۔‘‘ شاعر صاحب بولے: ’’اس بات پر کہ میںایسی اچھی غزلیں کیسے لکھ لیتا ہوں۔‘‘

دوست نے کہا: ’’نہیں اس بات پر کہ اتنی خراب غزلیں آپ کیوں لکھ لیتے ہیں۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
لطائف

Leave a Reply