چیونٹیاں اللہ کی حیرت انگیز مخلوق

چیونٹیاں اللہ کی حیرت انگیز مخلوق ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ کس قدر نظم و ضبط اور ڈسپلن کے ساتھ اپنا کام کرتی اور اپنے وزن سے بھی کئی گنا زیادہ وزن اٹھا لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس وسیع دنیا میں سیکڑوں قسم کی چیونٹیاں پائی جاتی ہیں اور ہر قسم اپنی الگ خصوصیت رکھتی ہے۔ بعض چیونٹیاں ایسی بھی ہوتی ہیں، جنھیں دیگر پرندے اپنے پروں میں چھپا کر رکھ لیتے ہیں۔ ان چیونٹیوں کے جسم سے ایک خاص قسم کی بو نکلتی ہے۔ اور اس بو کی وجہ سے پرندوں کے جسم میں موجود جوئیں باہر نکلتی ہیں اور یہ چیونٹیاں انہیں کھا جاتی ہیں۔ اس طرح دنیا کے ۱۵۰ سے زیادہ نسلوں کے پرندے ان چیونٹیوں کو اپنی حفاظت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

چیونٹی کی ایک حیرت انگیز خوبی یہ بھی ہے کہ وہ کبھی اپنا گھر نہیں بھولتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چیونٹی کی آنکھ میں سمتوں کے معلوم کرنے کا ایک خاص نظام پیدا کیا ہے۔ یہ نظام ایسی لہروں کو بھی محسوس کرلیتا ہے جسے انسان محسوس نہیں کرپاتا۔ اور چیونٹی اسی نظام کے استعمال کے سبب کبھی اپنا گھرنہیں بھولتی۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کوئی غذائی چیز ملتے ہیں بہت ساری چیونٹیاں منٹوں میں جمع ہوجاتی ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جب کسی چیونٹی کو کوئی کار گر چیز ملتی ہے تو وہ اپنے اندر سے ایک خاص طرح کی بو نکالتی ہے۔ یہ بو ایک طرح کا سگنل ہوتا ہے جسے دوسری چیونٹیاں سمجھ لیتی ہیں اور فوراً اس جگہ پہنچ جاتی ہیں۔ اس بودار مادے کو ’’فیرومون‘ کہتے ہیں۔

چیونٹیوں کی غذا اور رہائش کا نظام بھی حیرت انگیز ہے۔ مختلف قسم کی چیونٹیاں مختلف خوراک کھاتی ہیں جس میں مردار کیڑے مکوڑے، میٹھی چیزیں بیچ اور دیگر وہ اشیاء شامل ہیں جو انسان کھاتے ہیں۔ بعض قسم کی چیونٹیاں باقاعدہ کھیتی کرتی ہیں۔ یہ پھپھوندا گاتی ہیں اور بعض فنجی کا باغ لگاتی ہیں۔ بعض چیونڈیاں دوسرے کیڑوں مکوڑوں کو اسی طرح پالتی ہیں اور ان سے فائدہ اٹھاتی ہیں جس طرح انسان گائے اور بکریاں پالتے ہیں۔ اسی طرح کچھ چیونٹیاں بل بناکر زمین میں رہتی ہیں تو کچھ درختوں کی سوکھی چھال میں اپنا گھر بنالیتی ہیں۔ اس قسم کی چیونٹیاں آسٹریلیا، افریقہ اور ایشیا میں بھی پائی جاتی ہیں۔

جنوبی افریقہ کے دریائے ایمیزون کے کنارے ایک خاص قسم کی چیونٹی ’’پولی برگس‘‘ پائی جاتی ہے۔ یہ چیونٹی بڑی خوفناک اور جنگ جو مانی جاتی ہے۔ اور اپنی جیسی دوسری نسل کی چیونٹیوں پر حملہ کرکے انہیں اپنا غلام بناکر ان سے خدمت بھی لیتی ہے۔ غلام بنانے کا طریقہ بھی بڑا عجیب و غریب ہوتا ہے۔ پولی برگس نسل کی چیونٹیاں اپنی ایک فوج ترتیب دیتی ہیں اور منظم ہوکر دوسری نسل کی چیونٹیوں پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ ان کے جبڑے تیز اور دھار دھار ہوتے ہیں۔ یہ بہت سی چیونٹیوں کو قتل کردیتی ہیں اور جو بچتی ہیں وہ جان بچا کربھاگ جاتی ہیں۔ تب یہ چیونٹیاں ان کے لاروے اور کو کون اٹھا لیتی ہیں جو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ جب ان سے بچے نکلتے ہیں تو یہ ان پولی برس کے غلام بن کر رہتے اور ان کی خدمت کرتے ہیں۔ یہ چیونٹیاں سرد ممالک میں ہی پائی جاتی ہیں۔

چیونٹیوں میں بھی تقریباً ایسا ہی نظام ہوتا ہے جیسا شہد کی مکھیوں میں۔ جہاں بھی ایک ملکہ چیونٹی ہوتی ہے جو انڈے دیتی ہے، باقی چیونٹیاں کارکن ہوتی ہیں اور ان انڈوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ جب بچے نکل آتے ہیں تو ان کی غذا کا انتظام کرتی ہیں، گھربناتی ہیں، بستی کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے صفائی کا نظام چلاتی ہیں۔ اگر کسی وجہ سے بستی کو نقصان پہنچ جائے تو مرمت کرتی ہیں اور اگر آبادی بڑتی ہے تو نئی بستی کی تعمیر بھی یہی کارکن چیونٹیاں کرتی ہیں۔

دیکھئے ہے نا اللہ کی حیرت انگیز مخلوق! آخر ہمیں بھی تو اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
انصاری محمد شاہین

Leave a Reply