ایک آدمی اپنی بیٹی کے ساتھ پتنگ اڑا رہا تھا۔ پتنگ جب اونچائی پر اڑنے لگی تو بچی نے پوچھا: ’’ابوپتنگ کو اتنی اونچائی پر کون لے جاتا ہے؟‘‘ ابو نے جواب دیا: ’’یہ ڈور۔‘‘

بچی نے پھر سوال کیا: ’’پتنگ کو بلندی پر تو ہوا لے جاتی ہے نا؟‘‘ ابو نے سمجھایا: ’’دنیا میں ہوا بھی موجود ہے بیٹی، اور بہت ساری پتنگیں بھی، لیکن بلندیاں اسی پتنگ کا مقدر ہوتی ہیں جو ڈور سے بندھ جاتی ہے۔‘‘

بچی نے حیران ہوکر پوچھا: ’’ابو! میں تو یہ سمجھتی ہوں کہ جس پتنگ کے ہاتھ اور پاؤں کسی ڈور سے باندھ دیے گئے ہوں، اس کے مقدر میں بلندیاں کیسے ہوسکتی ہیں۔‘‘ ابو نے سوال کیا: ’’کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ اس ڈور نے پتنگ کی بلندیاں چھین لیں؟‘‘

بچی سمجھانے لگی: ’’ہاں ابو! آسمان کی اونچائی بے حساب ہے اور یہ ڈور محدود۔ یہ پتنگ کو صرف اتنی ہی اونچائی تک لے جاسکتی ہے جتنی اس ڈور کی لمبائی ہے۔ اس کے بعد کیا؟ اس کے بعد تو یہ ڈور اس پتنگ کو مزید بلندیوں سے روکے گی ہی نا۔ اس لیے کہ ڈور کا آخری سرا ہوتا ہے لیکن بلندیں کی کوئی حد نہیں۔‘‘

ابو پھر سمجھانے لگے: ’’ڈور اصل میں بلندیوں سے محبت کرتی ہے اسی لیے تو اس نے اس پتنگ کو اپنی لمبائی کے مطابق ہی زمین پر موجود دوسری پتنگوں سے کافی بلند کردیا۔‘‘ بچی نے پھر سوال کیا: ’’ابو ایک بات بتائیے۔ ترقی آزاد شخص کی ہوتی ہے یا قیدی کی؟‘‘

ابو نے بچی کے سر پر ہاتھ رکھ کر بڑے پیار سے کہا: ’’بیٹی! ترقی اس آزاد شخص کا مقدر نہیں ہوتی جس کی کوئی سمت نہ ہو۔ تاریخ میں ایسے لوگوں کا ذکر تک نہیں ہوتا جنھوں نے اپنی زندگی کو کسی بلند مقصد کی ڈور سے نہ باندھا ۔ کامیابی اس شخص کے ہی قدم چومتی ہے جس نے اپنی زندگی کا مقصد اور اس کی سمت کو متعین کرلیا ہو۔ ڈور اس پتنگ کو مخصوص سمت میں بلندی پر لے جانا چاہتی ہے اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پتنگ کے مقدر میں بلندیاں یقینی ہیں۔‘‘

بچی تھوڑا نارض ہوکر کہنے لگی: ’’ابو! ذرا سمجھئے تو سہی، معمولی سی بات ہے۔ ڈور نے پتنگ کو بلندیوں پر جانے سے روک دیا ہے۔ اور آپ …‘‘ ابو نے بات کاٹ کر کہا:’’میری پیاری بیٹی! اگر بات اتنی سے ہے تو ذرا قینچی لے آؤ۔ ہم بھی دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔‘‘ بچی خوشی سے دوڑ کر قینچی لے آئی۔ ابو نے کہا: ’’تم ہی اپنے ہاتھ سے اس ڈور کو کاٹ دو۔‘‘ بچی نے جلدی سے ڈور کاٹ دی۔ اب دونوں پتنگ کو دیکھنے لگے۔ بچی حیران ہوکر پتنگ کے انجام کو دیکھ رہی تھی۔

پتنگ آوارہ ہواؤں کے جال میں پھنس گئی، اِن ہواؤں نے اس معصوم پتنگ کو گلی کے بدمعاش لڑکوں کے درمیان پہنچادیا۔ اِن لوفر، جاہل، آوارہ لڑکوں نے اُس پتنگ کو لوٹ لیا، اس کو پھاڑ دیا، اس کا وجود مٹا دیا۔

پیاری بچیو! اجتماعیت سے جڑنا اس ڈور کی طرح ہے جو آپ کو بلندی پر لے جانا چاہتی ہے۔ آپ کی زندگی اور آخرت سنوارنا چاہتی ہے۔ کبھی اس کو ترقی کی راہ کا پتھر نہ سمجھنا۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد شکیل انجینئر، اکولہ

Leave a Reply