اسے بلّی نے برباد کیا

کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ میری دوست کی بربادی کا سبب ایک بلی ہے۔ کہتے ہیں کہ بے زبان کی آہ کبھی خالی نہیں جاتی۔ اپنی سہیلی کی زبوں حالی دیکھ کر تو مجھے اس بات پر پکا ایمان ہوگیا ہے ورنہ اس سے پہلے میری یہ دوست کیا نہیں تھی۔ اچھے گھرانے کی بیٹی تھی جس کی ذرا سی تکلیف پر گھر بھر بے چین ہوجاتا تھا۔ میں نے اسے جب بھی دیکھا اس کی زندگی پر رشک کیا۔ اسکول سے لے کر کالج تک اس کی زندگی سبھی کے لیے قابلِ رشک رہی۔ میری قریبی دوست ہونے کی وجہ سے اپنی چھوٹی چھوٹی باتیں تک مجھے بتایا کرتی تھی۔ بچپن سے اپنے پھوپھی زاد بھائی سے منسوب تھی۔ اس سے چوری چھپے ملنے کے ڈھیر سارے قصے مجھے سناتی رہتی اس کی باتوں سے پتہ چلتا تھا کہ اس کا منگیتر اسے والہانہ چاہتا تھا۔

ہم انٹر کے آخری سال میں ہی تھے کہ اس کی شادی ہوگئی اور وہ اپنی سسرال چلی گئی۔ اس کے بعد تین چار سال تک اس سے ملاقات ہی نہیں ہوسکی۔ میرا خیال تھا کہ وہ جہاں بھی ہوگی رانی بن کر عیش کررہی ہوگی لیکن کسے علم تھا کہ ایک معمولی سا واقعہ اس کی زندگی کو برباد کرجائے گا۔

اسے بچپن سے بلیوں سے بہت نفرت تھی ، گھر میں کسی بھی بلی کا آنا جانا شروع ہوتا تو اسے بوری میں بند کرکے باہر بھجوادیتی۔ اس کی ماں اسے بہتیرا سمجھاتی کہ بے زبان کو تنگ نہیں کرتے۔ نہ جانے کیوں وہ بلیوں کی دشمن تھی یہی حال سسرال میں بھی رہا۔ سسرال میں سبھی لوگ اس کے دیوانے تھے اس کی ہر بات کو فرض سمجھ کر پورا کرتے۔ جس بلی کا خدا نے اس سے انتقام لیا وہ اس کے گھر کی پالتو بلّی تھی۔ فیروزہ پہلے تو اس بلی کو برداشت کرتی رہی لیکن جونہی اس کا دلہناپا اترا وہ ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ گئی۔ سسرال والے فیروزہ کی نفرت کو سمجھ کر اسے کچھ نہیں کہتے تھے۔

فیروزہ نے متعدد بار بلی کو باہر بھجوایا۔ بلی راستہ ڈھونڈ کر پھر آجاتی۔ ایک بار بلی نے بچے دیے۔ فیروزہ سے بھلا یہ گندگی کیسے برداشت ہوتی اس نے زبردستی پانچوں بچوں کو ان کی آنکھیں کھلنے سے پہلے بوری میں بھر کے اندھے کنویں میں پھنکوادیا۔ اس نے سوچا کہ اگر ان کی آنکھیں کھل گئیں تو یہ بھی گھر کا راستہ دیکھ لیں گے۔ فیروزہ کہتی ہے کہ جونہی اس نے بچوں کو بوری میں جبراً بند کرنا شروع کیا۔ بلی نے ایک عجیب مکروہ آواز میں رونا شروع کردیا جیسے بچوں کی جدائی سے اس کا دل پھٹا جارہا ہو۔ فیروزہ پر بھلا اس رونے کا کیا اثر ہوتا وہ تو بچپن سے بلیوں کی دشمن رہی تھی۔ بچے اندھے کنویں میں ڈلوادیے گئے۔

اس روز کے بعد بلی نے اسی منحوس آواز میں رونا شروع کردیا۔ بچوں کی تلاش میں وہ گھر سے چلی گئی لیکن خدا جانے کیوں رات کے پچھلے پہر گھر کی سب سے اوپر والی چھت پر آکر اسی منحوس اور مکروہ انداز سے چلانے لگتی۔ گھر کے سبھی لوگ اس آواز سے ڈرنے لگے۔ اس بات سے ٹھیک تین ماہ بعد فیروزہ کو ڈیلیوری کے لیے ہسپتال داخل ہونا پڑا۔ وہاں پورے چار دن کی تکلیف سہنے کے بعد اس کے مردہ لڑکا پیدا ہوا۔ کہتے ہیں اس بچے کی آنکھیں بالکل بلی جیسی بناوٹ کی تھیں۔

اس حادثے کے بعد بلی غائب ہوگئی اور فیروزہ کی بربادی کا دور شروع ہوگیا اس کے دوسرے سال بچہ ہوا وہ بھی اسی طرح مردہ تھا۔ گھر میں اقتصادی حالت اچانک بگڑ گئی۔ قرض پر قرض لینے کی نوبت آنے لگی۔

سسرال والوں نے ساری بربادی کا ذمہ دار فیروزہ کے ظلم کو ٹھہرایا۔ جوں جوں گھر کے حالات بگڑتے گئے فیروزہ پر گھر والوں کے ستم بڑھتے گئے اور تو اور اس کا شوہر بھی اس سے نفرت کرنے لگا۔ تلخی اتنی بڑھی کہ فیروزہ کو اس کے میکے بھجوادیا۔ اب اسے اتفاق کہیے یا فیروزہ کے کیے کی سزا کہ فیروزہ کے گھر چھوڑ دینے کے بعد اس کے سسرال والوںکے حالات خود بخود سدھرنے لگے۔ میکے میں آنے کے بعد فیروزہ کے تیسرا بچہ پیدا ہوا وہ بھی مرا ہوا۔ یہ بات اس کی سسرال والوں کے لیے بہانہ بن گئی اور اسے گھر بیٹھے طلاق نامہ بھجوادیا گیا۔

فیروزہ نے دوبارہ کالج میں داخلہ لیا۔ ایک تقریب میں اتفاقاً میری اس سے ملاقات ہوئی تو مجھ پر اس کی بربادی کا سارا حال کھلا۔ ہمیشہ کی ہنسنے والی لڑکی اتنی افسردہ اور کم گو ہوچکی تھی کہ مجھے اسے دیکھ کر رونا آگیا۔ وہ کہتی تھی کہ میں شاید بلی کو اپنی بربادی کی وجہ نہ سمجھتی لیکن ایک خواب اسے اکثر تنگ کرتا ہے جیسے ایک بلی غرا کر اس پر جھپٹا مارتی ہے۔ اس کی چیخیں سن کر سارا گھر اس کے گرد اکٹھا ہوجاتا ہے۔ آنکھ کھلنے پر وہ رات رات بھر جاگ کر گزارتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
جہاں عشرت، حیدرآباد

Leave a Reply