ٹانگے والے

مجمع کو چیر کر پھجّا آگے بڑھااور کچھ توقف کے بعد بولا: ’’جانے دو سنتری جی! غریب آدمی ہے بے چارا!‘‘ سپاہی نے پھجّے کو بغور دیکھا پنسل کان پر رکھی اور چالان بک بند کرتے ہوئے بولا۔ آپ سب لوگ جائیں۔ جمع ہونے کی کوئی ضرورت نہیں یہ معاملہ قانون اور تانگے والے کے درمیان ہے۔ اس کی غفلت سے دو کاریں اور ایک موٹر سائیکل ٹکراتے ٹکراتے بچے ہیں۔ میں اسے کسی صورت نہیں چھوڑ سکتا۔

’’جو لوگ ٹریفک کے قانون کی پابندی نہیں کرتے وہ ہمدردی کے حق دار نہیں ہوتے۔‘‘ یہ کہہ کر پولیس مین ٹانگے والے کی طرف دوبارہ رجوع ہوا۔ اور بولا اپنا نام اور پتہ بتاؤ۔ اور ساتھ ہی لائسنس جلدی نکالو۔‘‘

’’سنتری جی! اس دفعہ معافی دے دو۔ میں غریب آدمی ہوں۔ تانگے والے نے نہایت لجاجت سے کہا۔ وہ بار بار یہی کہتا رہا۔ میں غریب ہوں مجھے معاف کردو۔ مگر سپاہی نے اس کی ایک نہ سنی اور کڑک کر بولا: ’’وقت میرا اور اپنا بھی ضائع مت کرو۔ منت سماجت سے کام نہیں چلے گا، جلدی کرو نکالو لائسنس۔‘‘

پھجّے نے اب قدرے سخت لہجے میں سپاہی سے کہا: سنتری جی! اس غریب بال بچے دار آدمی کا چالان کرکے ظلم مت کرو۔ کئی روز تک پیشیاں بھگتنا پڑیں گی، جرمانے کے علاوہ۔ ہم سب اس کی سفارش کرتے ہیں۔‘‘ اس پر مجمع میں سے چند اور آوازیں بھی آئیں۔ ’’معاف کردو سنتری جی! اس دفعہ چھوڑ دو۔ غریب بے چارا مارا جائے گا۔‘‘ سپاہی نے ان آوازوں پر کوئی توجہ نہ دی اور کاغذات مکمل کرکے تانگے والے کا انگوٹھا لگایا اور چالان کی ایک نقل اسے تھماتے ہوئے بولا:

’’اگلے ماہ کی ۲ تاریخ کو ٹریفک مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوجانا۔‘‘ یہ کہہ کر سپاہی لوگوں سے مخاطب ہوا۔ ’’آپ لوگ ناحق وکالت کررہے ہیں۔ قانون قابلِ احترام چیز ہے۔ اس کی خلاف ورزی اور قانون توڑنے والے کی حمایت دونوں جرم ہیں۔ آپ لوگ جائیں اپنا کام کریں۔‘‘

جب سپاہی چلا گیا تو پھجا بآواز بلند بولا: ’’دیکھو جی! اس بچارے تانگے والے پر کتنا ظلم ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کا ڈھونگ رچا کر پولیس والے ان غریبوں سے پیسے بٹورتے ہیں۔ یہ بے چارا پیسے نہ دے سکا اور اس کا چالان ہوگیا۔ کوئی پوچھے اس نے قتل تو تھوڑا ہی کیا ہے۔ اگر غلطی سے تانگے کا رخ دائیں ہاتھ مڑ گیا، تو کیا قیامت آگئی تھی۔ مگر انصاف کہاں ہے۔ میرا بس چلے تو جو پولیس والا چالان لے کر آئے اسے کوڑے لگوا کر جیل بھیج دوں۔ ہماری پولیس دراصل کھاؤ ہے۔ اور غریب لوگوں کو ناحق تنگ کرتی رہتی ہے۔‘‘ چند اور آدمیوں نے بھی پھجے کی ہاں میں ہاں ملائی پھر تانگے والے کو تسلی دیتے ہوئے پھجا بولا فکر نہ کر میں تیرے حق میں گواہی دوں گا۔‘‘ یہ سپاہی تجھ سے پیسے مانگتا تھا۔ پیسے نہیں دیے تو چالان ہوگیا۔

ایک کونے سے ایک نہایت نحیف اور دبلے پتلے آدمی نے کہا: ’’بھائیو! جو لوگ ٹریفک کے قواعد کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کرتے ہیں۔ وہ دراصل قاتل ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے رعایت مانگنا کہاں کا انصاف ہے؟‘‘ یہ آدمی تعلیم یافتہ معلوم ہوتا تھا۔ چند آدمیوں کے سوا اور کسی نے اس کی بات کی طرف دھیان نہ دیا۔ وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا، مگر اس کی آواز باقی لوگوں کی آواز میں دب کر رہ گئی البتہ پھجے نے اس آدمی کو گھور کر دیکھا اور بولا:’’بھائی تم اس پولیس والے کے رشتے دار ہو کیا؟‘‘ وہ آدمی پھجے پہلوان کی نیت تاڑ گیا اور بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ سائیکل پر سوار ہونے سے پہلے پھجا دھاڑ کر بولا: یونہی ٹریفک ٹریفک کہہ کر غریبوں سے پیسے بٹورتے ہیں اور انہیں کوئی اس ظلم سے باز نہیں رکھتا۔

پھجا دودھ فروش تھا۔ اس کی دوکان پر کنٹلوں دودھ روزانہ آتا او ربک جاتا تھا صبح اور شام کے وقت اس کی دوکان کے آگے گاؤں سے آنے والے رہڑوں کا تانتا بندھ جاتا۔ روپے پیسے کی پھجے کے ہاں کوئی کمی نہ تھی، وہ اب لاکھوں میں کھیلتا تھا۔ اس کے دو رشتہ دار لوکل باڈیز کے چیئرمین تھے۔ پھجے کے دو بچے تھے۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ لڑکا کوئی ۱۸ برس کی عمر کا تھا اور لڑکی ۱۵ برس کی۔ پھجے کا خیال تھا کہ وہ اپنے لڑکے غلام دین کو جو بارہویں (سائنس) کا طالب علم تھا ڈاکٹر بنائے گا۔ لڑکی دسویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ یہ دونوں بہن بھائی روزانہ اسکوٹر پر جاتے بہن کو اسکول چھوڑ کر بھائی کالج چلا جاتا اور واپسی پر اسے ہمراہ لے کر گھر آجاتا۔ ایک روز صبح غلام دین جب بہن کو اسکول چھوڑ کر واپس کالج جارہا تھا۔ تو راستے میں ایم اے او کالج کے پاس اسے حادثہ پیش آگیا۔ ایک تانگے والا جو آگے آگے جارہا تھا اچانک گھوم گیا اور غلام دین کا اسکوٹر تانگے سے بری طرح ٹکرایا۔ جس کے نتیجے میں غلام دین کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور سر میں گہری چوٹ آئی۔ وہ بے ہوش کر گر پڑا اور تانگے والا اسے خون میں لت پت چھوڑ کر بھاگ گیا۔ جو لوگ اس واقعہ کو دیکھنے جمع ہوئے ان میں سے ایک آدمی غلام دین کو جانتا تھا۔ وہ بھاگا ہوا گیا اور پھجے کو اطلاع دی۔ پھجا ٹیکسی لے کر دوڑا ہوا آیا اور غلام دین کو ٹیکسی میں ڈال کر سیدھا ہسپتال کا رخ کیا۔ پریشانی کے عالم میں پھجے نے ٹیکسی والے سے کہا، تجھے جتنے پیسے درکار ہوں، میں دوں گا۔ ہمیں جلدی سے جلدی ہسپتال پہنچا دے۔ یہ سن کر ٹیکسی والا تیز رفتاری سے چل پڑا۔ راستے میں بھوسے کے چند گڈے آگئے۔ ڈرائیور نے بہتیرا زور لگایا مگر آگے نکلنا ناممکن ہوگیا۔ پھجے نے بہت شور مچایا اور گڈ والوں کو جی کھول کر گالیاں دیں۔ مگر ٹیکسی آگے نکلنے کے بجائے پھنس گئی۔ خیر کوئی آدھا گھنٹہ اسی انتظار میں گزرگیا۔ اور جب ٹیکسی آگے نکلی تو سامنے ایک ٹانگے والے نے اپنی چابک لہرا کر ایک سواری کو سڑک کی دوسری طرف ٹھہرایا۔ ٹانگہ جب سواری کی طرف گھوما تو ٹیکسی ٹانگے سے ٹکرا گئی۔ ٹانگے کاپہیہ اور ایک بانس ٹوٹ گیا۔ ٹیکسی کا ریڈیٹر کھل گیا اور ساتھ ہی مڈگارڈ اور بایاں پہیہ بھی ٹیڑھے ہوگئے۔ پھجا غصے سے لال پیلا ہوگیا اور اترتے ہی اس نے تانگے والے کے منہ پر چانٹوں کی بارش کردی۔ اتنے میں کچھ لوگ جمع ہوگئے مجمع میں سے چند آدمی بولے دیکھو جی! اس آدمی نے تانگے والے پر کتنا ظلم کیا۔ ناحق اس کی پٹائی کردی حالانکہ قصور اس کا اپنا تھا۔ اس پر پھجا بپھر گیا۔ اور بولا بند کرو اپنی بکواس جج کے بچے مجھے پتہ ہے چند پیسوں کی خاطر یہ اور لوگوں کی جان خطرے میں ڈالنے سے نہیں ہچکچاتے۔ اتنی دیر میں سپاہی آگیا۔ اس نے سپاہی کو دیکھتے ہی ٹیکسی ڈرائیور سے کہا چلو۔ مگر ڈرائیور کیسے چلتا۔ گاڑی چلنے سے رہ گئی تھی۔ پھجے نے فوراً پانچ روپئے کا نوٹ ڈرائیور کو دیا اور لپک کر ایک اور ٹیکسی لی اور غلام دین کو اس میں ڈال کر چل پڑا۔ جائے حادثہ سے لے کر اس مقام تک پہنچنے میں پھجے کو قریباً پون گھنٹہ لگ گیا۔ کبھی وہ تانگوں کو اور کبھی ٹیکسیوں کو کوس رہا تھا۔ جب ٹیکسی ہسپتال کے احاطے میں داخل ہوئی تو پھجا ڈاکٹر کو لے آیا۔ غلام دین کو اسٹریچر پر ڈال کر ایمرجنسی وارڈ میں لے گئے۔ مکمل معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے ایک ٹھنڈا سانس لیا اور خاموش ہوگیا۔ پھجے نے جب اپنے اکلوتے بچے کی حالت کے متعلق پوچھا۔ تو ڈاکٹر نے ایک طرف منہ کرکے کہا: بہت افسوس ہے کہ آپ کا لڑکا زیادہ خون بہنے کی وجہ سے چل بسا ہے، اگر صرف دس منٹ پہلے یہاں پہنچ جاتا تو اس کی جان بچ سکتی تھی۔ پھجے نے ایک زور دار چیخ ماری اور بچے کی لاش سے لپٹ گیا۔ روتے روتے پھجے نے اپنے دوست سے کہا: ہمارے اس بدبخت شہر میں ٹریفک کا انتظام اگر ٹھیک ہوتا تو غلام دین ضرور بچ جاتا۔ یہ تانگے اور گڈوں والے میرے بچے کے قاتل ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
حبیب الرحمن ملک

Leave a Reply