2

ہاتھ اور ناخن کی حفاظت

خوبصورت ہاتھ شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ ایک بات ہم عموماً بھول جاتے ہیں، کہ ہمارے ہاتھ ہر وقت ظاہری حالت میں رہتے ہیں حتیٰ کہ جب ہم بات کرتے ہیں تب بھی ہاتھ کے اشاروں سے کام لیتے ہیں۔

کھردرے، کٹے پھٹے جھریوں والے یا ٹوٹے ناخنوں والے ہاتھ ذہنی کوفت کا سبب ہوتے ہیں۔ شخصیت کی مجموعی خوبصورتی میں ہاتھوں کی خوبصورتی بھی شامل ہے۔

ہاتھ قدرت کا ایک عجوبہ ہے۔ اس میں کلائی سمیت اٹھائیس ہڈیاں ہوتی ہیں۔ جو حیرت انگیز طور پر متوازن ہوتی ہیں۔ ہاتھوں میں حرکت اور اظہار کرنے کی اتنی زیادہ جو اہلیت ہے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ حقیقت میں ہاتھ اپنی ایک الگ زبان بول سکتے ہیں۔

ہاتھوں کی پشت پر جلد نرم اور پتلی ہوتی ہے۔ اس میں جھریاں جلد پڑجاتی ہیں، جبکہ ہتھیلی کی جلد موٹی اور سخت ہوتی ہے۔ ہتھیلی پر عموماً روغنی غدود نہیں ہوتے اس لیے یہ قدرتی طور پر چکنی نہیں ہوتی اور اسی سبب بہت زیادہ خشک اور کھردری ہو سکتی ہے اور جلد آسانی سے پھٹ جاتی ہے۔ صفائی کرنے والے تیز قسم کے پاؤڈر (ڈیٹرجنٹ) مسئلے کو اور زیادہ گمبھیر بنادیتے ہیں اور آپ کے ہاتھوں کی حالت ایسی کردیتے ہیں کہ آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ انھیں چھپا سکیں۔ عمر میں اضافے کا اظہار بھی ہاتھ جسم کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں جلد کرتے ہیں لہٰذا روزانہ نگہداشت ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔

ہاتھوں کی روزانہ دیکھ بھال

غسل یا دھونے کے کسی بھی کام کے بعد کسی بھی چکنی کریم سے اپنے ہاتھوں کا مساج کرلیں۔ لیموں اور ہلدی کی بنی ہوئی کریم بہت مفید ہے۔ لیموں جلد کی صفائی کرتا ہے جبکہ ہلدی جلد کو نرم کرتی ہے اور ان دونوں کا امتزاج کلورین اور ڈیٹرجنٹ کے نقصانات سے بچاتا ہے۔

ہر رات سونے سے پہلے ہاتھوں پر کریم لگا کر تھوڑی دیر مالش کریں، خوبانی کی بنی ہوئی کریمیں جلد کو غذائیت بخشنے کے لیے سب سے اچھی ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ خوبانی جلد کو سخت کرنے اور جھریاں پڑنے کا عمل روکنے کے بھی کام آتی ہے۔ بدنما اور کھردری جلد کے فوری علاج کے لیے رات کو سوتے وقت فراخدلی سے کریم کا مساج کریں پھر روئی کے دستانے پہن کر سوجائیں۔ بادام کی کریم بھی جس میں لینولن ملی ہو ہاتھوں کے لیے اچھی ہوتی ہے۔ یہ ہاتھوں کو صاف بھی کرتی ہے اور جلد کو غذائیت بھی پہنچاتی ہے۔

جب آپ چہرے کی اسکربنگ کرنے لگیں تو ساتھ ساتھ ہاتھوں کی بھی اسکربنگ کریں اور اگر آپ کے پاس وقت ہے تو ہفتے میں ایک بار چہرے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں پر بھی ماسک لگائیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ آپ بازار میں دستیاب مہنگے ماسک استعمال کریں۔ آپ گھر پر بھی ماسک تیار کرسکتی ہیں۔

ناخنوں کی دیکھ بھال

ہمارے ناخن ہماری انگلی کے آخری جوڑ کی جلد کے نیچے سے شروع ہوتے ہیں۔ یہ حصہ میٹرکس (Matrix) کہلاتا ہے۔ یہاں پر نئے خلیے بنتے ہیں اورمردہ خلیے آگے دھکیل دیے جاتے ہیں۔ یہ خلیے ہمارے ناخنوں کی ہموار اور سخت سطح بناتے ہیں۔ یہ سطح کیوٹیکل کہلاتی ہے، کیوٹیکل میٹرکس کی حفاظت کرتی ہے اور ناخن کو جلد سے چپکائے رکھتی ہے تاکہ بیکٹر یا وغیرہ اندر داخل نہ ہوسکیں۔

ناخنوں کو توانائی، دوران خون ہی کے ذریعے پہنچتی ہے۔ اس لیے صحیح غذا بھی ناخنوں کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ ناخنوں کو صحت مند رکھنے کے لیے وٹامن B-2 اور فولاد بہت ضروری ہے۔ یہ غذائی اجزا ہرے پتے والی سبزیوں مثلاً پالک اور گوشت وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔ کیلشیم کی کمی سے ناخنوں میں سفید دھبے پڑجاتے ہیں۔ اس کے لیے اپنی غذا میں دودھ اور انڈے شامل رکھیں۔

ناخن ایک ہفتے میں تقریباً ایک ملی میٹر کی رفتار سے بڑھتے ہیں۔ مگر یہ تناسب مختلف بھی ہوسکتا ہے۔ بچوں، حاملہ خواتین اور گرم موسم میں ناخن زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں۔ سردی کے موسم میں یا غذائی کمی سے ان کے بڑھنے کی رفتار سست ہوجاتی ہے۔ عموماً جس ہاتھ سے کام زیادہ لیا جائے اس کے ناخن زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں اس لیے ہاتھوں اور انگلیوں کی باقاعدہ ورزش بھی بہت ضروری ہے۔

ہاتھوں کی ورزش

ہاتھوں کی ورزش سے اس کی جلد میں چمک پیدا ہوتی ہے اور دوران خون میں اضافہ ہوتا ہے۔ مندرجہ ذیل ورزشیں روزانہ 6سے 10مرتبہ کرنا مفید ہوتا ہے۔

(۱) ایک سیکنڈ کے لیے اپنی مٹھیاں سختی سے بھینچ لیں پھر انگلیوں کو جتنا زیادہ کھول سکتے ہوں کھول لیں۔

(۲) اپنی دونوں ہتھیلیوں کو آپس میں ملائیں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے پر جوڑ لیں پھر انھیں زیادہ سے زیادہ فاصلے تک کھولنے کی کوشش کریں۔

(۳) انگلیوں کو پکڑ کر اس طرح کھینچیں جس طرح بوتل کا کارک کھولتے ہیں۔

(۴) انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کرکے اپنی کلائیوں کو گردش دیں۔ پہلے کلاک وائز پھر اینٹی کلاک وائز۔

(۵) انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کرکے جھٹکے سے باہر کی طرف کھینچیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے