اقوام متحدہ اور خواتین

افغانستان میں طالبان کی جانب سے خواتین پر عائد کی جانے والی پابندیوں پر مغربی دنیا کے علاوہ اقوام متحدہ میں بھی شدید تنقید ہوتی رہتی ہے اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔ لیکن خود اقوام متحدہ کا اس سلسلے میں کیا رویہ ہے۔ اس کا اندازہ اس خبر سے ہوتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے دنوں اسلام آباد (پاکستان) میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ادارے یو این ڈی پی کے عملے کی گیارہ خواتین نے اپنے ایک اعلیٰ افسر کے بارے میں شکایت کی کہ وہ مبینہ طور پر انہیں ہراساں کرتا رہا ہے۔ ان کے خلاف تین غیر ملکی (ہالینڈ، برطانیہ اور جاپان) اور آٹھ پاکستانی خواتین افسروں نے شکایت کی مگر وہ مبینہ طور پر مذکورہ افسر پر بے حد اعتماد کرتے ہیں۔ اس لیے کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ مجبوراً ان خواتین نے یو این ڈی پی کے نیویارک ہیڈ کوارٹر کو تحریری طور پر شکایت ارسال کی۔ جس پر وہاں ایک تین رکنی ٹیم بنائی گئی جو ۹ مارچ کو اسلام آباد آئی اور اس نے ۲۰؍مارچ تک اپنی تحقیقات کے دوران عملے کے انٹرویو کیے اور شواہد اکٹھے کیے۔ اقوام متحدہ کے حکام نے اس شکایت اور تحقیقات کیے جانے کی تصدیق کی ہے تاہم اس کے نتیجے میں پیش ہونے والی رپورٹ کو منظرِ عام پر لانے سے معذوری ظاہر کی ہے۔

اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے میں خواتین کے ساتھ اس طرح کا سلوک ہر کسی کے لیے حیرانگی کا باعث ہے کیونکہ وہ تو دنیا بھر میں خواتین کے خلاف امتیازی سلوک ختم کرنے ان کے حقوق دلوانے کی بات کرتا ہے اور جہاں کوئی زیادتی ہوتی ہے وہاں سب سے پہلے صدائے احتجاج بلند کرتا ہے ، پھر اس کے اندر ایسے افراد کی غیر اخلاقی سرگرمیوں کو نظر انداز کیسے کیا گیا۔ جہاں خواتین اہل کاروں کو اپنے افسروں کی ہر غلط اور ناجائز گفتگو سننے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

چونکہ اس واقعہ میں شکایت کرنے والی تین غیر ملکی خواتین بھی ہیں اور یہ مسئلہ محض پاکستانی عورتوں کا نہیں جن کے بارے میں عام تاثر ہے کہ کہیں ایڈجسٹ نہیں کرپاتیں اورمغربی آداب سے ناواقف ہوتی ہیں مگر مغربی ممالک کی خواتین نے بھی وہی شکایت کرکے یہ تصدیق کردی کہ عورت مغرب کی ہو یا مشرق کی اپنی انفرادی زندگی اور معاملات میں کسی کی دخل اندازی اور امتیازی سلوک کو برداشت کرتے ہوئے احتجاج کرسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی چارٹر جس کے تشکیل دینے کی پچاسویں سالگرہ پچھلے دنوں منائی گئی۔ اسی چارٹر کی دفعہ ۱۲ میں درج ہے کہ کسی کی تنہائی، خلوت یا ذاتی زندگی، کسی کی گفتگو یا خط و کتابت میں دخل اندازی کا کسی کو حق نہیں اور سماجی و گھریلو زندگی میں کسی قسم کی مداخلت غیر قانونی ہے۔

پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ میں سابق صدر بل کلنٹن پر وہائٹ ہاؤس کی کئی خواتین کارکنوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان کا استحصال کرنے کا مقدمہ چلا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے اختیارات کا ناجائز طور پر استعمال کرکے ماتحت عملے کی خواتین کو ہراساں کرنے کا رجحان دنیا بھر میں بہت زیادہ ہے مگر اس کے خلاف احتجاج اور شکایت کرنے کا رجحان معلوم اور نامعلوم اسباب کی وجہ سے بہت کم ہے۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ افسروں کی تحقیقات ہورہی ہیں۔ جنھوں نے مبینہ طورپر ایسی حرکات کیں جن سے نہ صرف عالمی ادارے بلکہ پاکستان کی خواتین کا وقار مجروح ہوا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج کچھ بھی ہوں مگر یہ بات مسترد نہیں کی جاسکتی کہ خواتین کی شکایت کی کوئی وجہ ضرور ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملہ میں عالمی ادارہ خواتین کے حقوق کی علمبرداری کے اپنے دعوے پر کس حد تک پورا اترتا ہے اور نہ صرف ان خواتین بلکہ ان جیسی لاکھوں کروڑوں دوسری ملازمت پیشہ خواتین کو ان کے کام کے دوران پیش آنے والے جنسی امتیاز پر مبنی رویے کو روکنے یا کم کرنے میں کیا کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ اس وقت انسانی حقوق دنیا کا سب سے بڑا نعرہ ہے۔

اشتہار

شیئر کیجیے
Default image
بشری فرید

Leave a Reply