بے گناہ مجرم

چارلس سے ملنے سے پہلے میںاخبارات میں اس کے بارے میں بہت کچھ پڑھ چکا تھا، اس کے باوجود چارلس سے پہلی ملاقات میں مجھے اس کے قاتل ہونے پر یقین نہیں آتا تھا اور آج بھی جب کہ مجھے چارلس سے بچھڑے ہوئے ایک عرصہ ہوگیا ہے، مجھے یقین نہیں آتا کہ وہ قاتل تھا، اس کا سادہ و معصوم چہرہ مجھ سے باربار پوچھ رہا ہے: ’’میں کب تک جیل، جیل کی خاک چھانتا رہوں؟ میں کب تک آزاد اور کھلی فضا سے محروم رہوں گا؟‘‘

چارلس چھوٹی سی عمر میں قاتل کیسے بن گیا۔ یہ ایک دل گداز داستان ہے، لیکن اسے قاتل بنانے میں ایک نہایت ہی اہم شخصیت کا ہاتھ ہے۔

قتل کی پہلی واردات اس دن ہوتی ہے جب چارلس کی ماں گھر پر موجود نہیں ہوتی۔ اسے دروازے پر دستک سنائی دیتی ہے۔ چارلس دروازہ کھولتا ہے، اسے ایک نوجوان لڑکی ایک ہاتھ میں کچھ رسالے اور دوسرے ہاتھ میں ایک تھیلا لیے نظر آتی ہے۔

’’گھر میں کوئی بزرگ ہے؟‘‘ لڑکی پوچھتی ہے۔

چارلس سر کی جنبش سے اثبات میں جواب دیتا ہے اور جب وہ اندر داخل ہوتی ہے، تو وہ کہتا ہے: ’’ابھی میری ماں آرہی ہے۔‘‘ لڑکی منتظر ہے کہ ابھی اس کی ماں آئے گی اور وہ اس سے بات چیت میں مصروف ہوجائے گی، لیکن کچھ ہی دیر بعد چارلس ہتھوڑے کی پے در پے ضربوں سے اس لڑکی کا سر کچل دیتا ہے، وہ اس پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ ایک تیز دھار آلے سے لڑکی کے جسم پر پے در پے زخم لگاتا ہے۔

اس سفاکانہ فعل کے بعد وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے اور ایک ٹیکسی میں بیٹھ جاتا ہے۔ اس کا کوٹ اور قمیص لڑکی کے خون سے داغ دار ہورہے ہیں اور جب ڈرائیور اس سے پوچھتا ہے، کہ یہ سرخ دھبّے کیسے ہیں، تو وہ بڑی بے پروائی سے جواب دیتا ہے کہ وہ ایک تصویر بنارہا تھا جس کے دوران میں کچھ رنگ اس کے کپڑوں پر گر گیا۔

وہ گھومتے گھومتے ایک ہوٹل میں چلاجاتا ہے، جہاں وہ بڑی مشکل سے کوٹ اور قمیص سے دھبّے صاف کرتا ہے۔ اسے شدت سے بھوک بھی لگی ہوئی ہے، وہ اپنی جیبیں ٹٹولتا ہے، اسے ایک آنہ ملتا ہے اور وہ آئس کریم خرید لیتا ہے اور اسے چوستے چوستے وہ سیدھا تھانے پہنچ جاتا ہے اور جب تھانیدار اس سے تھانے آنے کا مقصد پوچھتا ہے، تو وہ بڑی بے پروائی سے جواب دیتا ہے:

’’میں نے ایک لڑکی کو قتل کردیا ہے۔‘‘

اس کھلے اعتراف کے بعد وہ جیل پہنچ گیا، لیکن وہ جیل پہنچنے کے بعد جلد ہی مختلف عارضوں میں مبتلا ہوگیا۔ اس کے پیٹ میں مسلسل درد رہنے لگا جس کی وجہ سے اس کا آپریشن بھی ہوا۔ جن دنوں مجھے ایک نفسیاتی معالج کی حیثیت سے اس کے بارے میں ابتدائی رپورٹ ملی، وہ ہسپتال میں زیر علاج تھا۔ ابتدائی رپورٹ میرے ایک ساتھی ڈاکٹر نے تیار کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مریض بات چیت کے دوران میں کچھ گھٹن سی محسوس کرتا ہے، اس کے باوجود وہ ہر بات میں تعاون کرتا ہے۔ اس کی حرکات سے کوئی غیر معمولی بات ظاہر نہیں ہوتی۔ ہسپتال کے عملے کے تمام ڈاکٹروں کی انتہائی کوشش کے باوجود چارلس کے قتل کا معمہ حل نہ ہوسکا۔ آخر ایک روز فیصلہ کیا گیا کہ چارلس کو بے سدھ کرکے حقیقت کا سراغ لگایا جائے۔ چارلس کو ایک خاص قسم کا انجکشن دیا گیا جس سے وہ آہستہ آہستہ بے سدھ ہونے لگا۔ میں نے اس سے پوچھا:

’’چارلس! میری بات سن رہے ہو؟‘‘

اس نے یوں بولنا شروع کیا جیسے وہ کسی دور دراز مقام سے بول رہا ہے۔ چارلس نے بتایا کہ اسے کوئی آواز پیہم قتل کرنے پر اکساتی رہی ہے اور اب بھی وہی آواز اس کے کانوں میں آرہی ہے۔

’’اسے قتل کردو۔‘‘

بہت سے سوالات پوچھنے کی وجہ سے چارلس بھی کافی تھک چکا تھا۔ میں اسے آرام کرنے کا مشورہ دے کر چلا گیا۔

ہم سب اس بات پر متفق تھے کہ چارلس کو اب عام زندگی بسر کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے، بلکہ اس کا مسلسل نفسیاتی تجزیہ ضروری ہے جس کے لیے اسے دماغی مریضوں کے وارڈ میں رہنا چاہیے تاکہ اس کی ایک ایک حرکات کا جائزہ لیا جائے۔ شاید اس طرح قتل کے اسباب کا سراغ مل سکے۔

دوسری صبح چارلس سے میری ملاقات دفتر میں ہوئی۔

آتے ہی اس نے بڑے خوشگوار انداز میں مجھے صبح بخیر کہی۔ اور میز پر پڑی ہوئی سگریٹ کی ڈبیا میں سے ایک سگریٹ نکال کر سلگایا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کل کا تجربہ یاد ہے۔ اس نے کہا: بس اتنا یاد ہے کہ ڈاکٹر نے مجھے انجکشن دیا اور اس کے بعد مجھ پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ مجھ سے بہت سے سوالات پوچھے گئے جو تمام تر میرے جرم سے متعلق تھے۔

’’کیا تم کچھ اور بتانا چاہتے ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’جی نہیں، میں سب کچھ بتا چکا ہوں۔‘‘

اس نے مزید کہا: ’’عدالت میں اس نے یہ تمام باتیں اس لیے نہیں بتائیں کہ اس کے وکیل نے اسے مشورہ دیا تھا کہ وہ عدالت میں اعترافِ جرم کرے تاکہ وہ اسے کم سے کم سزادلواسکے۔‘‘ جب میں نے اس سے یہ پوچھا کہ کیا تمہاری ماں بھی اس واقعے کے متعلق جانتی ہے کہ تمہیں ایک خاص قسم کی آواز آتی ہے، جو تمہیں قتل پر اکساتی ہے۔ تو چارلس نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا: اسے میری ایک ایک بات کا علم ہے۔ چارلس نے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ وثوق سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر اسے آزاد کردیا جائے تو وہ دوبارہ قتل کا مرتکب نہیں ہوگا۔‘‘

چارلس کے پیدا ہونے سے کافی عرصہ پہلے اس کے والدین کے درمیان ناچاقی پیدا ہوچکی تھی۔ اسی ناچاقی کی وجہ سے انھوں نے اپنے دو بچوں پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ شادی کے دو سال انھوں نے جوں توں کرکے گزارے اور تیسرے سال کے آغاز ہی میں انھوں نے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا، لیکن ان کی یہ علیحدگی خفیہ رہی، کیونکہ اس طرح بچوں کی زندگی پر برا اثر پڑنے کا خدشہ تھا۔ جب بچے پوچھتے کہ ان کے ابّا کہاں ہیں تو ماں انہیں اپنے ’’عہد‘‘ کے مطابق جواب دیتی کہ وہ اس دنیا میں موجود نہیں۔ اس کے علاوہ چارلس کی ماہ علیحدگی کے کچھ عرصے بعد ہی یہ محسوس کرنے لگی کہ گزر اوقات کے لیے اسے کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا اور بچے اس کی روزانہ کارگزاری میں حائل ہوں گے، اس لیے وہ انہیں ایک یتیم خانے میں چھوڑ آئی۔ پانچ سال تک یہ بچے مختلف یتیم خانوں میں رہے۔

یتیم خانوں میں اور اچھے ماحول میں پلنے والے بچے میں فرق یہ ہوتا ہے کہ ایک اس پھول کی طرح ہوتا ہے جس کی باقاعدہ دیکھ بھال اور نگہداشت کی جاتی ہے اور دوسرا اس خود رو پھول کی طرح ہوتاہے، جس کی کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہوتا، جس کی تراش خراش نہیں ہوتی اور جسے وقت پر پانی نہیں ملتا اور مرجھایا مرجھایا رہتا ہے۔ یہی حال چارلس کا تھا۔ اس نے یتیم خانوں میں زندگی کے جو دن گزارے، وہ بڑے ہولناک تھے، وہاں خوف، دہشت اور سراسیمگی کا دور دورہ تھا۔ اسے جانوروں کی طرح زد و کوب کیا جاتا۔ جھوٹ بولنے اور جرم چھپانے کی ترغیب دی جاتی۔ اس سارے سلوک نے اسے زندگی سے نفرت کرنا سکھادیا۔ وہ عام بچوں کو ہنستا کھیلتا دیکھتا، تو اس کے سینے میں ایک ہوک سی اٹھتی۔ رفتہ رفتہ چارلس اس زندگی کا نہ صرف عادی ہوگیا، بلکہ اس نے اس زندگی کی بھیانک روح کو پوری طرح اپنے اندر سمولیا۔

ایک معصوم روح پر مسلسل جبر کا ردِّ عمل بہت خوفناک ہوتا ہے۔ چارلس اب اسی ردِّ عمل کی ایک بھیانک تصویر بن چکا تھا۔ اپنے اندرونی غم کا مداوا اس نے اس طرح کیا کہ وہ اپنے کمزور ساتھیوں پر ایک چیتے کی طرح حملہ کرتا تھا، انہیں زخمی کرنے کے بعد اسے کچھ سکون سا ملتا تھا، یہی نہیں، اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے وہ مکاری، ہوشیاری اور چالاکی سے بھی کام لیتا تھا، پھر اس عظیم تغیر کے باعث اسے اپنی ماں سے دوری کا غم بھی ملا جو اسے کسی تہوار کے موقعے پر کبھی کبھار ملنے آجاتی تھی۔ اپنی ماں کے بارے میں چارلس کچھ اس قسم کے تاثرات کا اظہار کرتا تھا:

’’وہ جب آتی تھی، تو اسے یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک پری ہے جو اس کے لیے بہت سے تحفے لاتی ہے۔ ماں کے آجانے سے اس کی بے رنگی زندگی میں ایک نیا رنگ، ایک نیا روپ آجاتا تھا، لیکن جونہی وہ اسے چھوڑ کر چلی جاتی، تو اس کے سہانے خواب ٹوٹ جاتے۔ محبت نفرت میں بدل جاتی، کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں چارلس کو انتہائی بھیانک زندگی گزارنی پڑتی تھی۔ اس کے علاوہ چارلس بار بار اپنی ماں سے کہا کرتا تھا کہ وہ یتیم خانے میں نہیں رہنا چاہتا، وہ اسے اپنے ساتھ لے جائے، لیکن ہر بار اس کی ماں اس کی اس خواہش کو ٹھکرا کر چلی جاتی۔‘‘

چارلس کی ماں کبھی کبھار اسے اپنے ساتھ لے بھی جاتی، لیکن اپنے گھر پر چارلس جو چند دن گزارتا، وہ اس کا رہا سہا سکون بھی چھین لیتے۔ کیونکہ گھر پر اسے جو آرام ملتا تھا اس پر یہ فرق ظاہر کردیتا تھا کہ گھر کی زندگی اگر جنت ہے، تو یتیم خانہ ایک جہنم ہے اور جب اسے یتیم خانے واپس جانے پر مجبور کیا جاتا، تو اس کی روح ازلی محرومی کا شکار ہوجاتی۔ ان احساسات کے تحت چارلس نے ایک روز یتیم خانے سے فرار ہونے کا فیصلہ کرلیا۔

جب وہ یتیم خانے سے فرار ہوا، اس کی عمر گیارہ سال تھی۔ وہ دن بھر اسکول کے بچوں کے ساتھ گھومتا رہا، کبھی کسی گاڑی میں بغیر ٹکٹ سفر کرتا رہا اور کبھی بے مقصد آوارہ گردی کرتا رہا، حتیٰ کہ رات ہوگئی۔ اسے کچھ فاصلے پر ایک الاؤ نظر پڑا۔ چارلس آج بھی جب اس واقعے کو یاد کرتا ہے، تو اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آگ کے قریب بیٹھے ہوئے تین افراد کچھ کھا پکارہے تھے۔ وہ تین غنڈے تھے۔ جب انھوں نے اپنے کھانے میں سے چارلس کو ایک حصہ دے دیا، تو وہ ان سے بہت متاثر ہوا، لیکن اس کے بعد جب انھوں نے بہت زیادہ شراب پی لی، تو ان غنڈوں نے چارلس سے نہ صرف بدسلوکی کی، بلکہ اسے بری طرح زدوکوب کرنے کے بعد چھوڑ گئے، صبح تک وہ زخموں سے چور سڑک کے ایک کنارے پڑا کراہتا رہا۔ پھر ایک راہگیر اسے اسپتال تک پہنچا آیا جہاں سے صحت یاب ہونے کے بعد اسے پھر یتیم خانے میں پہنچادیا گیا۔

وہ یتیم خانے واپس تو پہنچ گیا، لیکن یتیم خانے کے ناظموں نے بہت جلد اس کی ماں کو لکھ دیا کہ وہ اب اسے زیادہ عرصے تک یتیم خانے میں نہیں رکھ سکتے، کیونکہ چارلس کا اسلوب اب دوسرے بچوں کو بھی برح طرح متاثر کررہا ہے۔ انھوں نے چارلس کی ماں کو یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ چارلس کو کسی فارم پر بھیج دیا جائے۔

چارلس نے فارم پر جو دن گزارے، وہ یتیم خانے سے بھی زیادہ سخت تھے۔ فارم پر جس جوڑے کے ساتھ وہ رہ رہا تھا، وہ بے اولاد تھا، اسی لیے چارلس کو یہاں وہ شفقت نہ ملی جس کی ایک نو عمر بچے کو اشد ضرورت ہوتی ہے۔ یہ میاں بیوی چارلس کو ہل میں جتے ہوئے ایک جانور سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ کھیت پر دن بھر محنت شاقہ کے بعد وہ اس طرح لمبی تان کے سوتا کہ اسے اپنی سدھ نہ رہتی۔ صبح لوہے کی طرح سخت اور کرخت ہاتھ اس کی گردن ناپ رہا ہوتا اور بیداری کے بعد وہ پھر کولہو کے بیل کی طرح دن بھر کے کام کاج میں مصروف ہوجاتا۔

ایک صبح وہ بلا ارادہ فارم سے شہر جانے والی سڑک کی طرف چل دیا۔ گھنے جنگل سے گزر کر جب وہ شاہراہ پر پہنچا، تو اس نے ایک ٹرک کو رکنے کا اشارہ کیا، یہی ٹرک اسے اس شہر میں چھوڑ گیا جہاں اس کی ماں رہتی تھی۔ وہ گھر پہنچا، تو دروازے پر تالا پڑا ہوا تھا۔ وہ اپنی ماں کی واپسی کا انتظار کرنے لگا اور جب وہ آئی۔ تو اسے دیکھ کر زیادہ خوش نہیں ہوئی، بلکہ تھوڑی دیر بعد ہی اسے فارم واپس جانے کا مشورہ دینے لگی۔ لیکن چارلس کسی صورت میں فارم واپس جانے کے لیے تیار نہیں تھا۔

چارلس نے گھر پر پہلے سات دن بڑے سکون سے گزارے۔ وہ علی الصبح اٹھتا، ماں کے لیے ناشتہ تیار کرتااور جب وہ کام پر چلی جاتی۔ تو مکان کی جھاڑ پھونک کرتا اور پھر پڑھتا رہتا۔ ریڈیو سنتا اور گھومنے پھرنے کے لیے باہر چلا جاتا۔

دوسرے ہفتے اسے مقامی ریڈ کراس کے صدر دفتر میں چپراسی کی نوکری مل گئی لیکن تیسرے ہی ہفتے اسے جواب مل گیا، کیونکہ اس کے حکام کا خیال تھا کہ جب اس کی ضرورت ہوتی ہے، وہ غائب ہوجاتا ہے۔ وہ ہمیشہ کھویا کھویا سا رہتا ہے اور معمولی سے معمولی کام بھی سر انجام نہیں دے سکتا۔ بیکار ہوتے ہی چارلس اپنی زندگی کے اسی خول میں دوبارہ داخل ہوگیا جس سے نکلنے کی وہ انتہائی کوشش کررہا تھا۔ کچھ عرصے تک اس نے اپنی بیکاری کو اپنی ماں سے پوشیدہ رکھا، لیکن جب اسے اس کا علم ہوا، تو اس نے اسے مزید گھر پر ٹھہرانے سے انکار کردیا۔ چارلس بہت رویا پیٹا، فریاد کی، لیکن اس کا کوئی حربہ کارگر نہ ہوا اور اب اسے ایک انڈسٹریل ہوم میں کوئی ہنر سیکھنے کے لیے بھیج دیا گیا۔

انڈسٹریل ہوم کے بورڈنگ ہاؤس میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی رہائش کا مسئلہ درپیش تھا اور اس کے خیال میں یہ صرف اس طرح حل ہوسکتا تھا کہ وہ کسی اور طالب علم کو بستر گول کرنے پر مجبور کردے۔ اس نے ایک منصوبہ بنایا اور اس پر عمل کرنے کے لیے اس نے وہ داؤ پیچ اختیار کیے جو ایک فوجی جرنیل جنگ جیتنے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ اس کام کے لیے اس نے وہ مقام منتخب کیا، جہاں انڈسٹریل ہوم کے ’’بڑے‘‘ شام کو اکٹھے ہوتے۔ چوری چوری بے تحاشا سگریٹ پیتے۔ مالِ غنیمت کی تقسیم ہوتی، گالی گلوچ ہوتی اور ایک دوسرے کو فحش کہانیاں سنائی جاتیں۔ منتظمین ان ساری کارروائیوں سے باخبر ہوتے ہوئے بھی چشم پوشی کرتے، کیونکہ ان کے خیال میں یہ تھوڑی بہت ’’تفریح‘‘ لڑکوں کی خدمات کے مقابلے میں کوئی زیادہ وقعت نہیں رکھتی تھی۔

ایک شام چارلس منصوبے کے تحت ’’اس خاص جگہ ‘‘ پر پہنچا۔ وہ سب اسے تیز تیز نظروں سے یوں دیکھنے لگے جیسے کہہ رہے ہوں کہ تمہیں تمہاری شامتِ اعمال یہاں لے آئی ہے، لیکن چارلس نے بڑی بے پروائی سے اپنی جیب سے بجھے ہوئے سگریٹ کا ایک ٹکڑا نکالا اور اسے سلگانے کے لیے جمی سے ماچس مانگی، جمی نے چارلس کی بات سنی اَن سنی کردی۔ چارلس نے آگے بڑھ کر جمی کے بازو کو زور سے مروڑا۔ جمی نے پوری طاقت سے بازو چھڑاتے ہوئے کہا:

’’تمہیں یہاں آنے کی جرأت کیسے ہوئی؟‘‘

’’کیوں یہ جگہ تمہارے باپ کی ملکیت ہے؟‘‘

’’ہاں! اگر تمہیں اب علم ہوگیا ہے، تو خیریت اسی میں ہے کہ تم یہاں سے چلے جاؤ۔‘‘

’’ورنہ؟‘‘

’’ورنہ یہ نہ ہو کہ تمہیں زک اٹھانی پڑے۔‘‘

یہ گرم گرم باتیں ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئیں۔ آن کی آن میں جمی چاروں شانے چت ہوگیا۔ چارلس اس کی چھاتی پر بیٹھ گیا اور پوری قوت اور مضبوطی سے اس کے دونوں ہاتھ پکڑلیے اور دوسرے ہاتھ سے اپنی جیب سے چاقو نکال لیا اور دیکھتے دیکھتے اس کی قمیص کو گلے سے دامن تک اس طرح چاک کردیا کہ ساتھ ساتھ چاقو اس کی کھال کو بھی ادھیڑتا چلا گیا۔ اس واقعے کے دوسرے روز ہی وہ اس گروہ کا نہ صرف ’’ہیرو‘‘ بن گیا، بلکہ اسے ایک آرام دہ کمرے میں منتقل کردیا گیا اور انڈسٹریل ہوم کے دو سالہ قیام کے دوران میں وہ جی بھر کر دل کی حسرتیں نکالتا رہا۔ ہر لڑکا اس کی آنکھ کے ایک ہلکے سے اشارے پر اس کا حکم بجالاتا تھا۔ یہاں تک کہ منتظمین بھی اس کی کارروائیوں پر سرزنش کرنے کے بجائے ان پر پردہ ڈالتے رہے۔

چارلس کی عمر جب سترہ اٹھارہ سال کی ہوئی، وہ انڈسٹریل ہوم کے ماحول سے گھبرا کر وہاں سے بھاگ نکلا اور ایک ماہ تک ادھر ادھر آوارہ گھومنے کے بعد پھر اپنی ماں کے ہاںپہنچ گیا۔ اب اس کی ماں کی کوئی کوشش بار آور نہیں ہوئی، وہ اس کی منت سماجت کرتی، آنسو بہاتی، خوشامد کرتی کہ کسی طرح وہ واپس چلا جائے، لیکن بے سود۔ وہ گھر ہی پر رہا۔ اسے ملازمت بھی مل گئی۔لیکن وقتی طور پر ملازم رہنے کے بعد پھر بے کاری کے تیسرے ماہ میں وہ ایک سنگین قتل کا مرتکب ہوا۔

میں بعض اوقات سوچتا ہوں کہ چارلس ذہنی مریضوں کے اس گروہ سے تعلق رکھتا ہے جن کا کوئی ماضی نہیں ہوتا، اسی لیے اس کو بے سدھ کرنے کے بعد اس کے ماضی کے بارے میں جاننے کا طریقہ اختیار کیا گیا، لیکن اس دوران ایک اور ایسا واقعہ پیش آیا جس نے میرے نقطۂ نظر میں چارلس کے بارے میں ایک بار پھر تبدیلی پیدا کردی۔

ایک روز چارلس اپنے ہی جیسے مریضوں کے ساتھ شطرنج کھیل رہا تھا اور شطرنج میں مہروں کے طور پر وہ ساتھی مریضوں کو استعمال کررہا تھا اور جب چال چلنے کا وقت آتا، تو اپنی اس حرکت پر وہ پھولا نہ سماتا تھا۔ اس واقعے کے بعد میں نے مختلف قسم کے کھلونے اسے کھیلنے کے لیے دیے، شاید اس طرح اس کی ذہنی کیفیت کا کوئی سراغ مل سکے اور میری یہ کوشش کامیاب ہوئی۔ ایک روز وہ کاغذ کی ایک ناؤ تیار کررہا تھا کہ لئی کی شیشی جو میز پر رکھی ہوئی تھی اوندھی ہوگئی۔ چارلس نے فوراً جیب سے رومال نکالا اور میز کو آنِ واحد میں صاف کرتے ہوئے مجھ سے معذرت چاہی۔ اس کے باوجود کچھ لئی میز کے ایک کونے پر پڑی رہی اور جب میں نے اسے صاف کرنے کے لیے اشارہ کیا تو چارلس ایک دم بوکھلا گیا اور رومال کو میز پر مارتے ہوئے کہنے لگا:

’’بخدا ! ڈاکٹر تم بھی ماں کی طرح مجھے زچ کرتے ہو۔‘‘

’’تم اپنی ماں کو دیکھ کر کیا محسوس کرتے تھے؟‘‘ میں نے چارلس سے پوچھا۔

’’مجھے اپنی ماں کو دیکھتے ہی متلی سی ہونے لگتی تھی۔‘‘

چارلس نے اپنے پیٹ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے کہا، جیسے واقعی اسے متلی ہورہی تھی۔ میرے خیال میں اپنی ماں سے اسی نفرت نے اسے دوسری عورتوں سے بھی نفرت پر مجبور کردیا اور جب میں نے اس سے پوچھا کہ متلی کی یہ کیفیت اسے پہلی بار کب محسوس ہوئی تو اس نے بتایا: یہ شاید اس وقت ہوئی جب اس کی عمر نو سال تھی۔ جب وہ یتیم خانے میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ ایک بچی نے اس کی ماں کی آمد کی اطلاع دی اور اس کی آمد کی خبر سنتے ہی اسے متلی ہونے لگی اور کیفیت اس وقت تک اس پر طاری رہی، جب وہ اپنی ماں کے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ متلی کے ذکر کے ساتھ ہی چارلس کے ذہن میں اپنے بچپن کا ایک اور واقعہ ابھر آیا۔

نو سال کی عمر میں جب چارلس کرسمس کے موقعے پر اپنی ماں کے ساتھ گھر واپس گیا، تو اسے اپنی ماں کا ہال کمرہ نظر آیا جس میں قالین بچھا ہوا تھا۔ کھڑکیوں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے تھے۔ ایک طرف صاف ستھرا باورچی خانہ تھا۔ سنگھار میزپربہت سی شیشیاں اور ڈبے تھے جن میں مختلف پوڈر اور خوشبو دار تیل تھے۔ میز کی درازوں میں کیا ہے؟ ننھے چارلس کے لیے یہ ایک پراسرار راز تھا۔ کمرے کے وسط میں ایک پلنگ پر ساٹن کی نرم و نازک چادر چمک رہی تھی۔ وہ نرم و گداز بستر کو دیر تک سہلاتا رہا اور جب اس کی ماں کام کاج کے لیے باہر چلی گئی، تو سارے مکان پر ایک پر اسرار سناٹا چھا گیا۔ نہ جانے کیوں اس کے دل میں باربار یہ خیال آتا رہا کہ کمرے میں کوئی اور بھی موجود ہے۔ یہ احساس ہوتے ہی اس نے سارے مکان کی ایک ایک چیز کی تلاشی لینا شروع کردی اور جب اسے کچھ نہیں ملا تو وہ تھک ہار کر نرم نرم بستر پر اوندھے منہ جا لیٹا اور یہیں تکیے میں منہ دئیے دئیے اس پر متلی کا دورہ پڑ گیا۔ یہاں تک کہ وہ اس کے اثر سے بے سدھ ہوگیا۔ اسی دوران میں ایک اور واقعہ اس کے ذہن کے پردے پر ابھر آیا۔ اس کی ماں ایک روز اسے اپنے بستر پر لٹا گئی، حالانکہ اس سے پہلے وہ ملحقہ کمرے میں ایک تخت پر سوتا تھا۔ اس کی ماں نے کہا: ’’آج نو روز ہے۔ آج اس نے اپنے بہت سے دوستوں کو مدعو کررکھا ہے۔ وہ اسے اپنے بستر میں سلا کر ساتھ کے کمرے میں چلی گئی اور دروازے کو اندر سے مقفل کردیا۔ چارلس اس خیال کے تحت سو نہیں سکا کہ کسی وقت بھی اس کی ماں دعوت سے فارغ ہوکر واپس آجائے گی، تو اسے نرم نرم بستر چھوڑنا پڑے گا اور اس سے پہلے کہ اس کی ماں واپس آتی، اس نے بستر چھوڑ دیا اور اپنے تخت پر سونے کے لیے چلا گیا جہاں اسے نیند نہیں آئی، کیونکہ ساتھ کے کمرے میں اس کی ماں اور اس کے دوست خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ان کے قہقہوں اور گیت سنگیت کی آوازوں نے اسے مسلسل بیدار رکھا۔

سحر کے وقت نیم بے ہوشی اور غنودگی میں چارلس نے محسوس کیا کہ دو طاقتور بازوؤں نے اسے اوپر اٹھا لیا، خواب میں اس نے آنکھیں کھول دیں۔ تو اسے ایک صورت نظر آئی، وہ کس کا چہرہ تھا؟ صبح تک سحر کا یہ واقعہ ایک بھولی بسری داستان بن گیا، لیکن اس کی خلش ہر وقت اسے ستاتی رہی کہ وہ اپنی ماں کے کمرے میں جانا چاہتا تھا، لیکن وہ کمرہ اندر سے مقفل تھا۔ یہیں سے چارلس کے اندر ایک نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی اور جب وہ نو روز کی چھٹیاں گزارنے کے بعد یتیم خانے واپس پہنچا تو ایک لڑکی نے اسے بتایا کہ اس پر کسی بھوت پریت کا سایہ ہے۔

جوں جوں دن گزرتے گئے، چارلس کی پُر اسرار اور پیچ دار شخصیت کی تہیں کھلتی گئیں۔ بعض دفعہ مجھے یوں محسوس ہوتا کہ چارلس کی شخصیت ایک ایسا گڑھا ہے جس میں بہت سے درندے غرّا رہے ہیں۔

ایک روز میں رات کی ڈیوٹی پر تھا۔ میں اپنی دوائیوں کے تھیلے کے ساتھ مختلف وارڈوں کا چکر لگا رہا تھا کہ وارڈ نمبر ایک کے مریض سر جوڑے کسی دلچسپ مسئلے پر بات چیت کررہے تھے۔ چارلس بھی ان میں موجود تھا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ میری طرف لپکا اور بڑھ کر میرا تھیلا مجھ سے اچکنا چاہا۔ میرے ذہن میں معاً یہ خیال آیا کہ تھیلا کسی مریض کے ہاتھ میں نہیں جانا چاہیے اور قریب ہی تھا کہ میں انکار کردیتا کہ ایک اور خیال نے مجھے اپنی حرکت سے باز رکھا۔ میں نے تھیلا اس کے حوالے کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ بھی میرے ساتھ گشت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس نے اثبات میں سرہلا دیا۔ اگر میں تھیلا اس وقت اس کے حوالے نہ کرتا، تو ہوسکتاہے اس کی محرومی کا جذبہ پھر عود کرآتا اور اس پر پھر وہی نفرت طاری ہوجاتی جس کے تحت وہ بڑے سے بڑے جرم کے ارتکاب سے بھی نہیں ہچکچاتا تھا۔

جونہی میں کسی وارڈ میں انجکشن یا دوا نکالنے کے لیے تھیلے کا منہ کھولتا، چارلس کی نظریں تھیلے کے اندر اس طرح مرکوز ہوجاتیں جیسے وہ اس کے آخری گوشے تک کا جائزہ لے رہی ہوں۔ گشت ختم ہونے کے بعد بھی وہ اپنے وارڈ میں جانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ جب میں نے اس کی وجہ پوچھی، تو اس نے کہا کہ جب تک وہ تھیلے کی ایک ایک چیز کا جائزہ نہیں لے لے گا، وہ اپنے وارڈ میں نہیں جائے گا۔ میں نے کہا: تھیلے کی ایک ایک چیز دیکھ چکے ہو، تھیلے کے اندر کچھ بھی نہیں، اس پر اس نے بڑے جارحانہ انداز میں مجھے گھورتے ہوئے کہا:

’’تم نہیں سمجھتے ڈاکٹر۔‘‘

میں نے ایک بار پھر تھیلا اس کے حوالے کردیا۔ اس نے ایک بار اور تھیلے کے اندر ہر چیز کو ٹٹول ٹٹول کر دیکھا۔ پھر تھیلا میرے حوالے کرکے خوشی خوشی اپنے وارڈ میں سونے کے لیے چلا گیا۔ دوسری صبح جب وہ علاج کے لیے میرے دفتر آیا تو آتے ہی اس نے سب سے پہلے تھیلے کا منہ کھول دیا جس میں میں نے کچھ ایسی چیزیں بھی رکھ دی تھی جن میں سے کسی ایک سے وہ متاثر ہوکر اپنے لاشعور کی کوئی جھلک دکھا سکتا تھا، لیکن تھیلے کو پوری طرح خالی کرنے کے بعد اس نے منہ لٹکاتے ہوئے کہا: ’’اس میں وہ تو نہیں ہے…‘‘ اور اس طرح اس نے اپنے ذہن کے نہاں خانے سے ایک اور پر اسرار واقعے کو بیان کرنا شروع کردیا:

’’ایک بارجب وہ چھٹیوں میں چند دن اپنی ماں کے ساتھ گزار رہا تھا اور گھر پر تنہا تھا، تو اچانک اس کی نظر اپنی ماں کے ایک سوٹ کیس پر پڑی۔ وہ اسے کھولنا چاہتا تھا مگر چابی اس کے پاس نہیں تھی۔ اس نے تالا توڑ دیا اور سوٹ کیس کی ایک ایک چیز کا جائزہ لینے لگا۔ اس میں خطوط، تصاویر، پوڈر اور عطریات کے ڈبے تھے۔ اس نے جلد جلد سوٹ کیس کے کپڑوں کو الٹ پلٹ کرنا شروع کردیا ایک طرف تو ماں کے واپس آجانے کا خوف اس کے ذہن پر سوار تھا اوردوسری طرف وہ کسی گہرے راز سے پردہ اٹھنے کا منتظر تھا۔ لیکن اسے مایوسی ہوئی۔ سوٹ کیس کی آخری تہہ میں اسے ایک انگوٹھی ملی جو وہ اپنی ماں کے ہاتھ میں کئی بار دیکھ چکا تھا۔ یہ شاید شادی کی انگوٹھی تھی جو اس کی ماں نے اب اتار کر سوٹ کیس میں رکھ دی تھی۔ سوٹ کیس کے ایک خانے میں بہت سے نوٹ نظر آئے۔ اس نے دس روپے کا ایک نوٹ نکال کر جلدی سے اپنی جیب میں ٹھونس لیا اور سوٹ کیس کو حتی الامکان جوں کا توں بند کردیا۔ ایک عرصے تک سوٹ کیس کا کھولنا، اس کی ایک ایک چیز کا جائزہ لینا اور اس میں سے کچھ رقم خرچ کرنے کے لیے نکال لینا، اس کا معمول رہا۔ اسی دوران میں چارلس اپنی ماں کے مختلف خطوط کا مطالعہ کرتا رہا جس سے اسے اندازہ ہوگیا کہ اس کا باپ زندہ ہے اور اس کی ماں نے اس سے علیحدگی اختیار کررکھی ہے۔ اس خط نے چارلس کے ذہن پر ایک خاص قسم کا تاثر چھوڑا جس نے چارلس کو اپنی ماں کے بارے میں مزید وسوسوں میں ڈال دیا۔ اس واقعے کی تفصیل سامنے آجانے کے بعد چارلس کے قتل کا معمہ حل ہوگیا۔

ان دنوں جب چارلس اپنی والدہ کے سوٹ کیس کی تلاشی لیا کرتا تھا، ایک روز سوٹ کیس کا تالا ٹوٹا ہوا ہونے کے باوجود نہیں کھلا۔ وہ تالے سے اتنی کشمکش کرتا رہا کہ اس کی ایک انگلی زخمی ہوگئی۔ وہ جلد جلد محلے کے لوہار کی دکان پر گیا اور ہتھوڑا اور ایک نوک دار اوزار مانگ لایا اور تالے کو اکھیڑ کر رکھ دیا۔ اسی دوران میں دروازے پر دستک سنائی دی اور چارلس وقتی طور پر اپنا دماغی توازن کھوبیٹھا۔ اس کے چاروں طرف اندھیرے کا ایک گہرا بادل چھا گیا جس سے ایک آواز ابھری۔ ایک اجنبی سی آواز: ’’قتل کردو،اسے قتل کردو۔‘‘ اور جب اس نے دروازے پر دستک دینے والی لڑکی کو اندر آنے کے لیے کہا تو اس کا ذہن ایک خاص کیفیت کے تحت یہ تمیز نہیں کرسکا کہ اندر آنے والی عورت اس کی ماں ہے یا کوئی اجنبی لڑکی۔ اس نے اپنی ماں کو قتل کرنے کی جگہ ایک بے گناہ لڑکی کو قتل کردیا۔

اور پھر ایک روز میں خود چارلس کے ہاتھوں قتل ہوتے ہوتے بچا۔ ایک شام کا ذکر ہے کہ چارلس میرے کمرے میں ایک بینچ پر بیٹھا ہوا رو رہا تھا او ر جب میں نے اسے دلاسا دینے کی کوشش کی، تو وہ زور زور سے ہچکیاں لینے لگا۔اتنے میں میری میز پر رکھے ہوئے ٹیلی فون کی گھنٹی زور سے بجی۔ بس پھر کیا تھا، اس نے معاً میرے گلے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر میرا گلا زور سے دبانا شروع کردیا اور میں کوشش کے باوجود اس کی گرفت سے نہیں نکل سکتا تھا۔ میرا دم گھٹ رہا تھا، ہر چیز گھوم رہی تھی۔ اس کے بعد کیا ہوا، مجھے کچھ یاد نہیں۔ جب میری آنکھ کھلی تو میں فرش پر چت لیٹا تھا۔ میرا سر کسی کی آغوش میں تھا اور میرے منہ میں دوا انڈیلی جارہی تھی۔

اس واقعے کے بعد ہمارے انچارچ نے، میرے اصرار کے باوجود یہ فیصلہ کرلیا کہ چارلس اب یہاں نہیں رہے گا اور آج بارہ سال ہوچکے ہیں، چارلس ایک شفا خانے سے دوسرے شفا خانے میں منتقل کیا جارہا ہے۔ لیکن اس کی ذہنی کیفیت وہی ہے۔ ایک بگڑا ہوا بچہ جسے نہ ماں کا پیار ملا، نہ باپ کی شفقت، جس کی انا محرومی میں بدل گئی۔ جس کی شخصیت والدین کی اغراض کے درمیان پس کر رہ گئی۔

شیئر کیجیے
Default image
مرسلہ: منی سعید، حیدرآباد

Leave a Reply