3

نیند کی دنیا

سونے سے قبل ہمارے اعصاب آہستہ آہستہ سست پڑنے لگتے ہیں اور تھوڑی دیر میں سب کے سب نیند کی آغوش میں پہنچ جاتے ہیں۔ اعصاب کے سکون پانے کا عمل بتدریج ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ہمارے بڑے اعصاب ڈھیلے پڑتے ہیں۔ بڑے اعصاب میں کمر، ٹانگوں، بازوؤں اور گردن کے اعصاب شامل ہیں۔ ان کے پرسکون ہونے کے بعد چھوٹے اعصاب کی باری آتی ہے، جن میں ہاتھوں، پیروں اور انگلیوں کے اعصاب شامل ہوتے ہیں۔ ہونٹ، بھنوؤں اور پپوٹوں کے اعصاب کی باری سب سے آخرمیں آتی ہے، کیونکہ انہیں پرسکون ہونے میں کافی وقت لگتا ہے۔ اعصاب کے ساتھ ساتھ حواس بھی معطل ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ سب سے پہلے شعوری حرکات و سکنات کی قوت زائل ہوجاتی ہے۔ حواس خمسہ میں سے دیکھنے کی حس سب سے پہلے ختم ہوتی ہے اور سننے اور سونگھنے کی حسیں بعد میں سکون پاتی ہیں۔ چھونے کی حس نیند سے بہت کم متاثر ہوتی ہے۔ چنانچہ بعض حالات میںیہ حس نیند کے دوران میںبھی پوری طرح بیدار رہتی ہے۔ نیند سے بیدار ہونے پر یہ سارا عمل الٹ جاتا ہے۔ جب ہم نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو ہمیں حرکت کرنے اور بستر سے اٹھنے کے لیے قوت درکار ہوتی ہے۔ اس قوت کو جمع کرنے سے پہلے ہمارے کان اپنا کام شروع کردیتے ہیں۔ اس کے بعد ہماری باقی حسیں بھی جاگ اٹھتی ہیں۔ نیند کے لیے آنکھوں کا بند ہونا ضروری نہیں ہے۔ بعض لوگ نیند میں آنکھیں کھلی رکھتے ہیں۔ اسٹینڈ یونیورسٹی میں ڈاکٹر مائنسر نامی ماہرِ نفسیات نے ایک ٹائپسٹ پر بڑا دلچسپ تجربہ کیا۔ اس نے اکیس سالہ جم ٹاک کو سونے نہ دیا۔ تین دن اور چار راتیں گزرگئیں۔ پانچویں رات جم ٹائپ کررہا تھا کہ اسے نیند آگئی۔ مزے کی بات یہ کہ نیند کے دوران نہ صرف اس کی آنکھیں کھلی رہیں، بلکہ وہ حسب معمول ٹائپ بھی کرتا رہا۔ نیند کے لیے آنکھوں کا کھلا یا بندرہنا ضروری نہیں ہے۔ ہمارے ہاں راتوں کو سفر کرنے والے ٹرکوں اور بسوں کے ڈرائیور سفر کے دوران میں سوجاتے ہیں، لیکن ان کی آنکھیں حسبِ معمول سڑک پر رہتی ہیں اور جونہی کوئی مخالف سمت سے گاڑی دکھائی دی، ان کے ہاتھ غیر ارادی طور پر اسٹیرنگ پر گھوم جاتے ہیں۔ اس کا مشاہدہ ہمیں ایک سفر کے دوران ہوا۔ رات کا سفر تھا۔ ہمارے پاس اپنی گاڑی تھی۔ راستے میں ایک شہر سے دوسرے شہر تک ہمارا ڈرائیور نیند میں کار چلا تا رہا۔ پچھلی کئی راتوں سے اسے سونے کا موقع نہیںملا تھا۔ ہمیں شاید اس بات کا علم نہ ہوتا، لیکن اتفاق سے میرے ایک ساتھی نے اسے آواز دی۔ دو تین بار آواز دینے کے باوجود اس نے جواب نہ دیا۔ تو ہم نے جھک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی نظریں سڑک پر جمی ہوئی تھیں، اس کی آنکھوں کی پتلیاں ساکن تھیں اور اس کا چہرہ ستا ہوا تھا۔ اچانک سامنے سے ایک بیل گاڑی آتی ہوئی دکھائی دی، میں گھبرا گیا، لیکن اس نے بڑی مہارت سے بیل گاڑی کے لیے راستہ ہموار کردیا اور ہم ایک بار پھر خالی سڑک پر پہنچ گئے۔ آخر ہم نے اسے جھنجھوڑ کر بیدار کیا۔ بعد میں اس نے بتایا کہ اکثر ڈرائیور گاڑی چلاتے میں نیند کی ایک آدھ جھپکی سے لطف اندوز ہولیتے ہیں۔ ان کی آنکھیں کھلی رہتی ہیں اور انہیں اسٹیرنگ پر پورا قابو ہوتا ہے۔ ان کا باقی سارا جسم آرام کرتا ہے۔

اعصابی اور حسی سکون پیدا ہونے سے قبل ہم پر غنودگی طاری ہوتی ہے۔ یہ غنودگی بیداری اور نیند کی درمیانی حالت ہے۔ اس غنودگی کو ہم اونگھ بھی کہہ لیتے ہیں۔ بعض اوقات غیر دلچسپ تقریر سنتے ہوئے ہم اونگھنے لگتے ہیں اور جب کوئی مزے کا فقرہ سنائی دیتا ہے، تو جھٹ چوکس ہوجاتے ہیں۔ بعض طالب علموں کو کمرئہ جماعت میں اونگھنے کی عادت ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کو رات کے کھانے کے بعد اونگھنے کی شکایت ہوتی ہے۔ اس کی اصل وجہ ضرورت سے زیادہ کھانا بتلائی جاتی ہے۔ زیادہ خوراک معدے میں چلی جائے، تو دماغ اور جسم کے دوسرے حصوں سے خون زیادہ مقدار میں پیٹ کی طرف چلا جاتا ہے۔ ایسے اوقات میں ہمارے جسم ڈھیلے پڑجاتے ہیں اور ہماری سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں کچھ زیادہ کام نہیں کرتیں۔ نیند کے دوران میں عام طور پر ہماری آنکھوں کی پتلیاں نیچے کو رہتی ہیں۔ لیکن بعض لوگوں کی پتلیاں اوپر کو چڑھی ہوتی ہیں۔

اگر ہم کسی سوئے ہوئے شخص کی آنکھوں کا معائنہ کریں تو ہمیں بآسانی پتہ چل سکتا ہے کہ وہ کتنی گہری نیند سورہا ہے۔ اگر اس کی پتلیاں سکڑی ہوئی ہیں اور آنکھ کے وسط میں ہیں، تو وہ خوب گہری نیند سو رہا ہے۔ اس کے برعکس، اگر اس کی پتلیاں دھیرے دھیرے حرکت کررہی ہیں اور پھیلی ہوئی ہیں، تو اس کی نیند زیادہ گہری نہیں ہے۔ نیند کی انتہائی گہرائیوں میں پہنچ کر پتلیاں اتنی سکڑ جاتی ہیں کہ ان کی جسامت چھوٹے مٹر کے دانے کے برابر پہنچ جاتی ہے۔

سونے کے ایک گھنٹہ بعد تک خوب گہری نیند آتی ہے۔ اس کے بعد نیند ہلکی ہونے لگتی ہے، تاآنکہ رات کے تین بچے گہری نیند کا ایک دوسرا دور شروع ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چور اور ڈاکو رات کے پچھلے پہر نقب زنی کرتے ہیں۔ جب تک دماغ میں خون جمع رہے، نیند نہیں آسکتی، اس لیے سونے سے ایک آدھ گھنٹہ پہلے سوچ بچار ختم کردینی چاہیے تاکہ گہری نیند کا لطف اٹھایا جاسکے۔ نیند کی حالت میں ہمارے اعضا بھی آرام کرتے ہیں یہاں تک کہ دل بھی آہستہ کام کرنے لگتا ہے۔ دل کے آہستہ کام کرنے کی وجہ سے خون کا دباؤ بھی کم ہوجاتا ہے۔ عورتوں کے مقابلے میں مردوں کے خون کا دباؤ زیادہ کم ہوجاتا ہے۔ اگر ایک تندرست آدمی کی نبض کی رفتار شام کے پانچ بجے ۷۲ ہے، تو نیند کی صورت میں یہ رفتار کم ہوتے ہوتے بارہ بجے رات تک ۵۲ رہ جاتی ہے۔ آدھی رات کی بعد نبض کی حرکت پھر تیز ہونے لگتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہم ساری رات سوتے ہیں اور ہمارا دل آدھی رات تک آرام کرتا ہے۔ چھ ماہ تک کی عمر کے بچوں کی نبض بیداری میں ۱۴۰ بار اور نیند میں ۱۲۱ بار حرکت کرتی ہے۔ دل کے علاوہ گردے، لعابِ دہن کے غدود اور اسی نوعیت کے دوسرے اعضاب کے افعال نیند کی حالت میں کمزور پڑجاتے ہیں۔ معدے کی حرکت بھی کم ہوجاتی ہے اور پیٹ میں جو عرق یا رس بنتے ہیں، ان میں بھی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ ہمارا اندرونی درجۂ حرارت نیند کی حالت میں کم پڑجاتا ہے۔

کمرے کا درجۂ حرارت بھی نیند پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک تجربے کے مطابق جن لوگوں کے کمرے کا درجہ ٔ حرارت ۶۰ سے ۶۴ ڈگری تھا، وہ آٹھ سے دس گھنٹے تک سوتے رہے اور جب انہی لوگوں کو ۵۲ سے ۵۶ ڈگری تک کے درجۂ حرارت میں سلایا گیا تو وہ اور زیادہ دیر تک سوتے رہے۔ جب ان کے کمرے کا درجۂ حرارت بڑھا کر ۷۰ سے ۷۶ تک کردیا گیا، تو یہی لوگ تین سے پانچ گھنٹے تک سو سکے۔

نیند میں چلنے کا روگ بھی اکثر دیکھنے میں آتا ہے۔ نوخیز لوگ عموماً اس روگ کے شکار ہوتے ہیں۔ نیند میں چلنے والا سن سکتا ہے، پڑھ سکتا ہے اور چکھ سکتا ہے۔ اس کی قوتِ شامہ بہت تیز ہوتی ہے۔ نیند میں بعض اعصاب اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کے چہرے پر مکھی بیٹھ جائے تو وہ اسے اڑا دیتا ہے۔

بہت سے لوگوں کو بے خوابی کی شکایت ہوتی ہے۔ اس شکایت کو دور کرنے کے لیے ادویات کا استعمال عام ہے۔ اس مقصد کے لیے خواب آور گولیا ںبکثرت استعمال ہوتی ہیں۔ تاہم ان ادویات کا مسلسل استعمال مختلف جسمانی و ذہنی عوارض پیدا کردیتا ہے۔ جدید طب میں بے خوابی کی شکایت دور کرنے کے لیے نیند آور ورزشیں تجویز کی گئی ہیں۔ ذیل میں ہم ایک مشہور ورزش درج کررہے ہیں:

بستر پر چت لیٹ جائیے، ہاتھوں کی مٹھیاں کھول دیجیے اور دونوں بازو پھیلا دیجیے۔ دونوں ٹانگیں سیدھی پھیلا دیجیے۔ آنکھیں بند کرلیجیے۔

اب اپنے بائیں بازو کے متعلق سوچیے، اپنے تمام خیالات اس پر مرکوز کردیجیے۔ اب صمیمِ قلب سے اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کیجیے:

’’میرا بایاں بازو انتہائی بوجھل ہے، میرا بایاں بازو بے حس ہوتا جارہا ہے۔ کندھے سے لے کر انگلیوں تک میرا بازو سن ہوگیا ہے، اب تو میں اسے اٹھا بھی نہیں سکتا۔‘‘

اب فوراً اپنے دائیں بازو کے متعلق سوچیے، یہ محسوس کیجیے جیسے یہ سن ہوگیا ہے، اسے حرکت دینے کی ناکام کوشش کیجیے۔ اب فوراً اپنی توجہ بائیں بازو سے دائیں بازو کی طرف منتقل کردیجیے۔ اسے اٹھانے کی کوشش کیجیے، آپ اسے نہیں اٹھا سکیں گے۔

اپنی بائیں ٹانگ پر توجہ مرکوز کیجیے۔ یہ محسوس کیجیے کہ آپ کی بائیں ٹانگ سن ہوتی جارہی ہے۔ یہ بوجھل ہوگئی ہے اور حرکت کے قابل نہیں رہی، آپ کو یوں محسوس ہوگا جیسے آپ کی ٹانگ میں خون رک گیا ہے، کولہے کی ہڈی سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک ٹانگ بے جان ہورہی ہے۔ اب فوراً اپنی ساری توجہ دائیں ٹانگ پر مرکوز کردیجیے۔ یہ ٹانگ بوجھل ہوتی جارہی ہے۔ اپنی ز بان سے بار بار یہ الفاظ ادا کیجیے:

’’میری ٹانگ بوجھل ہوتی جارہی ہے، اس کی رگوں میں چلتا ہوا خون تھم گیا ہے، یہ سن ہوتی جارہی ہے، میں کوشش کے باوجود اسے اٹھا نہیں سکتا۔‘‘

اب اپنی گردن اور سر کے پچھلے حصے کے متعلق سوچیے، یوں محسوس کیجیے جیسے آپ کی گردن کے اعصاب سوگئے ہیں۔ آہستہ آہستہ آپ کا سارا جسم سن ہوتا چلا جائے گا اور آپ میٹھی نیند سوجائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ شروع شروع میں آپ کو مشکل درپیش ہو، لیکن دوچار روز کے بعد آپ عادی ہوجائیں گے اور ورزش کے خاتمے سے قبل ہی آپ کو نیند آجائے گی۔

شیئر کیجیے
Default image
خلیل اللہ قیصر

تبصرہ کیجیے