حافظہ کو کیسے بہتر بنائیں؟

یادداشت یا حافظہ کی کمزوری کی شکایت عام ہے۔ خواتین میں تو یہ شکایت کچھ زیادہ ہی ہے۔ ’’یہ کام کیوں نہیں کیا؟‘ یاد نہیں رہا۔‘‘ یہ الفاظ اکثر گھروں میں تکرار کا باعث بنتے ہیں۔ چیزیں حفاظت سے رکھ دیں۔ مگر جب ضرورت پڑتی ہے تو تلاش نہ کرسکیں۔ کیوں کہ یاد نہیں رہا کہ اسے کہاں رکھ دیا۔ پھر اچانک ہی وہ مل گئیں۔ یہ بات صرف روز مرہ کے کاموں ہی میں نہیں بلکہ مطالعے کے ساتھ بھی ہے۔ اکثر طلبہ و طالبات یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ جو پڑھتے ہیں یاد نہیں رہتا۔ اس کی وجہ اکثر بے توجہی کے ساتھ کام کرنایا مطالعہ کرنا ہے۔

ذیل میں کچھ ایسی باتیں درج کی جاتی ہیں جن پر توجہ دے کر آپ اپنے حافظہ اور یادداشت کی قوت کو بہتر کرسکتے ہیں۔ مطالعہ کی گئی چیزوں کو یاد رکھ سکتے ہیں اور روز مرہ کے کاموں میں بھی ان سے مدد لے سکتے ہیں۔

٭ یادداشت کے لیے زندگی کے کسی نہ کسی شعبے سے جذباتی لگاؤ بہت ضروری ہے۔ عموماً انہی لوگوں کی یادداشت رفتہ رفتہ کمزور ہوجاتی ہے، جو کسی بھی مسئلے یا مشغلے پر پوری توجہ نہیں دیتے۔ آپ ٹھنڈے دل سے سوچیے کہ مشاغل میں آپ کس مشغلے کو پسند کرتے ہیں، مطالعے میں آپ کی پسندیدہ کتاب یا پسندیدہ مصنف کون سا ہے، یا مباحثے میں آپ کس موضوع پر بات چیت کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کسی ناپسندیدہ شغل میں حصہ نہ لیجیے، ناپسندیدہ کتاب کو مجبوراً یا ذہن پر روز دے کر مطالعہ نہ کیجیے اور اپنے ناپسندیدہ موضوع میں الجھنے کی کوشش نہ کیجیے۔ لوگوں سے ملتے جلتے وقت ان میں دلچسپی لیجیے، ان کے مسائل کو اپنے ہی مسائل سمجھیے۔ ان امور سے آپ کے ذہن پر اچھااثر پڑسکتا ہے اور ذہن پر خوشگوار اثر پڑے گا اور یادداشت کو تیز کردے گا۔

٭ یادداشت کو بہتر بنانے کے لیے ایک اور عادت ڈالیے۔ سونے کی تیاری کرتے وقت آپ دن بھر کی کارگزاری کو ذہن میں لائیں۔ کوشش کیجیے کہ آنکھیں بند کیے کیے اس کی ایک ایک تفصیل آپ کے سامنے آجائے۔ اگر آپ کو ایسا کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی یادداشت درست ہے۔

٭ صبح سویرے اٹھتے ہی آپ اپنے ذہن میں دن بھر کے پروگرام کا ہلکا سا خاکہ بنالیں۔ گھر سے روانہ ہوتے وقت جلدی سے کام نہ لیں، بلکہ جانے سے پہلے یہ سوچیں کہ آپ منزل تک پہنچنے کے بعد سب سے پہلا کام کون سا کریں گے۔ اسی طرح سفر پر نکلنے سے پہلے چند لمحوں کا توقف ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے ذہن پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ڈال رہے، بلکہ اسے آرام دے رہے ہیں جس سے آپ کے اعصاب معمول پر رہتے ہیں۔

٭ اندھیرے میں بیٹھے بیٹھے اپنی آنکھیں پوری طرح کھولیے اور بند کیجیے۔ اس مشق سے آپ کے ذہن اور اعصاب کا فعل درست ہوگا۔ جو آپ کی یادداشت کے لیے مفید ہوگا۔ آنکھیں بند کرکے ایسے مناظر، تصویروں اور واقعات کو ذہن میں لائیے جن میں آپ کے لیے ایک خاص دلکشی پائی جاتی ہے۔ یہ مشق آپ کے تفکرات کو کم کرے گی، تفکرات ہی یادداشت پر برا اثر ڈالتے ہیں۔

٭ آپ اپنے حافظے کی خرابی کو بڑی معمولی عادتوں سے درست کرسکتے ہیں۔ مثلاً: آپ کی یادداشت اچھی نہیں ہے تو اس کے لیے آپ مطالعے کے چند لمحوں کے لیے آنکھیں بند کرلیں، پھر آپ اپنے آپ سے سوال کریں کہ آپ نے کیا پڑھا ہے، کس چیز کے بارے میں پڑھا ہے، اور اگر آپ کو اپنے مطالعے میں سے کوئی چیز یاد رہ جائے، تو اپنے آپ سے کہیں کہ مجھے فلاں بات یاد رہ گئی ہے، فلاں بات یاد نہیں رہی۔ اس طرح کی مشقوں سے آپ کی یادداشت بہتر ہوجائے گی۔

٭ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی یادداشت خراب نہ ہو، تو آپ کبھی ایسے وقت مطالعہ نہ کریں جب آپ کے ذہن پر کوئی بوجھ ہو یا جب آپ کسی کاروباری، خانگی یا پیشہ ورانہ مسئلے میں الجھے ہوئے ہوں۔ مصروفیت کے باوجود اگر آپ کو مطالعے کا شوق ہے، تو ایک بار آپ اپنی پسندیدہ کتاب یا موضوع کو ذہن پر زیادہ زور پڑنے کے باوجود پڑھ جائیے اور فرصت کے وقت دوبارہ اسی موضوع کو زیرِ مطالعہ رکھیے۔ اس سے آپ اپنے حافظے کی خرابی میں ایک خوشگوار تبدیلی پائیں گے۔

٭ مطالعہ کرتے وقت اس امر کا لحاظ رکھیے کہ آپ زیرِ نظر کتاب یا مضمون پر پوری پوری توجہ دے رہے ہیں۔ مثلاً : یہ عادت نہ ڈالیے کہ ایک نظم میں آپ کو دو شعر پسند ہیں تو آپ وہی بار بار پڑھ رہے ہیں، بلکہ پوری نظم ایک ساتھ پڑھ جائیے، کسی چیز کو یاد کرنے کے لیے ’’طوطے کی طرح رٹ‘‘ لگانے سے اجتناب کیجیے۔

٭ بڑے بڑے لوگوں کی زندگی کا مطالعہ، ان کے اچھے کام جن کی وجہ سے ان کو کامیابی ہوئی اور ان کے وہ کام جو بعض مواقع پر ان کی ناکامی یا ہزیمت کا باعث بنے، ان کا موازنہ اپنی ذات سے کیجیے۔ اس موازنے سے آپ کی اپنی شخصیت کے کچھ چھپے ہوئے گوشے آپ کے سامنے آئیں گے۔ آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ اپنی ذات میں دلچسپی لے رہے ہیں اور جو شخص اپنی ذات میں دلچسپی لیتا ہے، اس کی یادداشت ہمیشہ اچھی رہتی ہے۔

٭ اپنی عادات و اطوار کا جائزہ لیتے وقت ہمیشہ مثبت رویہ اختیار کیجیے۔ مثلاً: یہ سوچنے سے پہلے کہ آپ کی یادداشت اچھی نہیں ہے، یہ سوچیے کہ آپ کی یادداشت اچھی تھی اور اب بھی اچھی ہوسکتی ہے۔ آپ کو اپنی قوتِ ارادی پر پورا پورا اختیار ہے۔ آپ اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ مثبت رویے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ کی زندگی کا کوئی اعلیٰ و ارفع مقصد ہو۔

٭ آپ رات میں اچھی طرح سو نہیں سکتے، آپ کو پوری نیند نہیں آتی یا آپ کے ذہن پر کسی ناخوشگوار واقعے کا بوجھ ہے جس نے آپ کو پریشان کررکھا ہے، ایسی الجھنوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔ گہری نیند کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا معدہ درست ہو۔ آپ کو نیند وقت پر نہیں آتی تو اس کے لیے آپ اس مشق کو آزمائیے۔ بستر پر لیٹے لیٹے آنکھیں بند کرلیجیے اور پھر ایک تختۂ سیاہ کو اپنے تصور میں لائیے اس طرح کہ سیاہ رنگ کسی دوسرے رنگ میں نہ بدلنے پائے۔ چند لمحوں کے بعد آپ گہری نیند کا لطف اٹھا رہے ہوں گے۔ گزرے ہوئے لمحوں کو واپس نہیں لایاجاسکتا، اس لیے ان کا بوجھ ذہن پر کیوں رہے۔ انہیں فراموش کیجیے۔ یہ باتیں آپ کی یادداشت بڑھا سکتی ہیں

شیئر کیجیے
Default image
ادارہ

Leave a Reply