مثالی شوہر

بیوی کے سلسلے میں تو لوگ بہت تلاش و جستجو سے کام لیتے ہیں اور اس کے بارے میں مضامین بھی شائع ہوتے رہتے ہیں لیکن شوہر کے تعلق سے گفتگو لوگ کم کرتے ہیں۔ جبکہ اللہ رب العزت نے سورہ حجرات میں ارشاد فرمایا ہے:

یایہا الناس انا خلقناکم من ذکر و انثیٰ وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عنداللّٰہ اتقاکم۔

’’لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘

کیونکہ ازدواجی زندگی کے اپنے مقصد میں کامیاب ہونے اور وہ اغراض جن کے لیے یہ رشتہ وجود میں آتا ہے اس کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زوجین کے تعلقات آپس میں بہتر، اچھے اور خوشگوار ہوں۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرتا ہو اور ایک دوسرے کے تئیں جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کو بحسن و خوبی اور اخلاص و صداقت کے ساتھ پورا کرنے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس رشتے کو محض اس لیے شروع نہیں کیا ہے کہ یہ صرف ایک خشک رشتہ ہوکے رہ جائے جس میں سے ہر ایک کو سوائے اس کے کوئی سروکار نہ ہو کہ اپنی خاص ضرورت اور مصلحت کو پورا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام بیویوں اور شوہروں کو نصیحت اور رہنمائی کرتے رہتے تھے اور ان کے لیے ایسی ہدایات دیتے رہتے جن سے مستحکم گھریلو نظام کی تعمیر، اچھے معاشرے کی تشکیل، نسلوں کی اصلاح اور امت کو تقویت پہنچ سکے۔ فرمانِ نبویؐ ہے: ’’کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے نفرت و دشمنی اور بغض نہ رکھے۔ اگر اس کی عادات میں سے کچھ کو ناپسند کرتا ہے تو دوسری چیزوں سے راضی ہے۔‘‘ نیز آپؐ نے فرمایا: ’’مومنین میں سے کامل تر ایمان کے لحاظ سے وہ لوگ ہیں جو بہترین اخلاق والے ہیں۔ تم میں سے بہتر وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے بہتر ہیں۔‘‘

یہ دونوں مبارک احادیث جن میں رسول اللہ ﷺ نے دو اہم ہدایات دی ہیں جو کہ ازدواجی زندگی کی کامیابی اور خوشحالی کا راز ہیں۔ یہ دونوں احادیث آدمی سے اس بات کا مطالبہ کرتی ہیں کہ ان کو سمجھنا چاہیے کہ کوئی بھی عورت تمام پہلوؤں سے کامل نہیں ہوسکتی۔ اگر ایسی جستجو ہے تو یہ ناممکن کی تلاش ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اگر کسی عورت کو حسن اور خوبصورتی سے نوازا ہے تو اس کے اخلاق و عادات میں کچھ نہ کچھ کمی ہے، اگر کسی عورت کو اخلاق کی دولت سے وافر حصہ ملا ہے تو اس کے حسن میں کچھ کمی پائی جاتی ہے۔ ان عطیات خداوندی کے درمیان فرق ہوتا ہے اوریہ اللہ کی مشیت اور اس کے فیصلے کے عین مطابق ہے۔ جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے: ’’تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور وہ منتخب کرلیتا ہے۔ یہ انتخاب ان لوگوں کے کرنے کاکام نہیں ہے۔‘‘ (القصص: ۶۸)

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو اس کا اندازہ لگا لیتا ہے، چین و سکون کی زندگی بسر کرتا ہے اس طور پر کہ وہ ان خوبیوں کی وجہ سے جو بیوی کے اندر ہوتی ہیں ان عیوب سے چشم پوشی کرلیتا ہے جو اس کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ کیونکہ ضعف اور خامیوں کے پہلو کی بھر پائی قوت اور اچھائیوں کے پہلو بحسن و خوبی کردیتے ہیں اور یہی مطلب ہے حضور ﷺ کے اس فرمان کا کہ ’’اگر عادت کے اعتبار سے اسے ناپسند کرتا ہے تو دوسری چیزوں سے راضی ہے۔‘‘ اور اسی بات کی تاکید کرتے ہوئے قرآن بھی کہتا ہے: ’’ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔‘‘ (النساء: ۱۹)

بعض شوہر اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں اور اپنی ساری توجہ کو اپنی بیویوں کے تمام محاسن اور خوبیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خامیوں اور کمیوں پر مرکوز رکھتے ہیں اور سخت دلی اور تند مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ چیز برابر پنپتی اور بڑھتی رہتی ہے جس کے اثرات بھی عیاں ہوتے رہتے ہیں اور اس سے تکلیف بھی پہنچتی رہتی ہے۔ نتیجتاً ان کے دلوں میں اپنی بیویوں کے تعلق سے نفرت کے بیج جڑ پکڑ لیتے ہیں اور خواہی نہ خواہی ان کے اثرات معاملات میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ جس سے دونوں کو تکلیف پہنچنا فطری بات ہے۔ اختلاف کے جراثیم اپنا کام بڑی تیزی سے کرتے ہیں اور نفرت و شقاوت کے جذبات جنم لیتے ہیں جس کا نتیجہ افراط اور بہتان تراشی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ بلکہ کبھی تو حالت اس سے بھی بدتر ہوجاتی ہے اور معاملہ طلاق تک پہنچتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے شوہروں سے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ بہترین اخلاق تو عام لوگوں کے ساتھ بھی ہے اور یہ ایمان کامل کی نشانی بھی ہے کیونکہ عمدہ اخلاق نفس کی پاکی اور صفائی کی دلیل اور مخلوق کے ساتھ احسان کرکے اللہ کے احسان کی تلاش بھی ہے۔ جب عام لوگوں کے ساتھ تعلقات اور حسن خلق کا یہ مقام ہے تو ازدواجی زندگی جو کہ بہت ہی اہم تعلق اور قوی تر صحبت اور سنگت کا نام ہے اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ شوہر اس میں عمدہ اخلاق کا پیکر بنیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان برحق موجود ہے کہ:

خیارکم خیارکم لنسائہم۔

نیز اللہ رب العزت کا بھی ارشاد ہے:

ولا تنسوا الفضل بینکم۔

(البقرۃ: ۲۳۷)

’’آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو۔‘‘

رسول اللہ ﷺ بذات خود لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی بیویوں سے کرامت اور عزت اور رفق و نرمی کا معاملہ کرنے والے تھے حتی کہ کسی بھی بیوی کے سامنے کبھی ترش روئی کا اظہار نہیں کیا۔اور نہ آپؐ غصہ کرتے تھے بلکہ سکون وراحت کے ساتھ غصے کو پی جاتے اور نہ برا بھلا کہتے تھے نہ فحش گوئی کرتے تھے۔ کسی کھانے کو حقیر نہیں سمجھتے تھے، جو کھانا پسند ہوتا تو نوش فرمالیتے ورنہ نرمی سے لوٹا دیتے۔

اے شوہرانِ نامدار! یہ ہیں تمہارے نبیؐ کے اقوال اور ان کا عمل! اور تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی نمونہ ہے:

لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ اسوۃ حسنۃ۔ (الاحزاب: ۲۱)

توعورتوں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو۔ ان کے سلسلے میں سختی اور دشواری سے کام نہ لو اور نہ ان کے سامنے شوروغوغا کرو اور بخل کیا کرو نہ بدلہ لیا کرو اور نہ چھوٹوں بڑوں سے شدت سے پیش آؤ۔

عورتوں پر رحم کرو ان کو ان کی طاقت اور استطاعت سے زیادہ کا مکلف نہ بناؤ اور نہ ان پر جھوٹی تہمت لگاؤ۔ ان کے اور ان کی اولاد کے معاملے میں لاپرواہی سے کام نہ لو۔ بات کو منوانے اور بڑائی جتانے کی محض رغبت اور خواہش کی وجہ سے ان پر احکام نہ چلاؤ۔ عورتیں تمہارے ہاتھوں میں امانت ہیں اللہ نے ان امانات کی ذمہ داری اور حفاظت تمہارے ذمہ کی ہے پس ان کی حفاظت کرو اور اچھی طرح سے دیکھ بھال کرو۔ اللہ تمہاری حفاظت کرے گا اور اس کا بہترین صلہ دے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: حسن عبادی ترجمہ: عاصم شیرازی

Leave a Reply