2

عظیم قربانی

تپتا ہوا ریگستان، آگ برساتا سورج، حدِ نگاہ تک ریتیلی زمین، تپتی چٹانیں، زمین بھی گرم، آسمان بھی گرم ساری فضا ہی گرم، نہ کوئی شجرِ سایہ دار، نہ کہیں پانی، نہ کوئی ایسا گوشہ جہاں کہ انسان تھوڑی دیر آرام کرے۔

مگر…یہ کون ہیں؟ ایک نرم و نازک خاتون ایک شیر خوار بچہ اور ایک مردِ آہن جس کے چہرے سے کمال درجے کا اعتماد اور توکل برس رہا ہے۔ یہ تین افراد پر مشتمل خاندان کہاں جارہا ہے؟

ایک تھیلی کھجوریں اور ایک مشکیزہ پانی کیا انہیں کافی ہوگا جس کے بل پر وہ اتنے مطمئن ہیں۔ آخر کار وہ چلتے چلتے ایک مقام پر رک گئے۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں اس مختصر سے قافلہ کو رکنا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ہی وہ مردِ درویش اپنی ہمراز سے کچھ کہتا ہے اور فوراً ہی واپس پلٹ جاتا ہے۔ خاتون کے چہرے پر کچھ پریشانی کے آثار نظر آتے ہیں۔ خاتون دریافت کرتی ہیں: ’’کیا یہ ہمارے رب کا حکم ہے؟‘‘ جواب ملتا ہے: ’’ہاں۔‘‘

’’تو پھر بالکل بے فکر ہوکر جائیے۔ جس رب نے یہاں ہمیں چھوڑ جانے کا حکم دیا ہے یقینا وہی ہمارا نگہبان ہے۔‘‘ خاتون اپنے خوبصورت بچے کو اپنی آغوش میں بھر کر اس کی پیشانی پر محبت بھرا بوسہ ثبت کرتی ہیں اور اپنے رب کے حکم پر بے حد مطمئن ہیں۔

دن ہوا کے جھونکوں کی مانند گذرنے لگے۔ زادِ راہ ختم ہونے لگا۔ مگر اس خاتون کو کچھ فکر نہیں بس خدا کے سہارے اس کی یاد میں اپنے بچے کی پرورش میں دن بتائے جارہی ہیں۔ آخر کار وہ دن بھی آپہنچا کہ کھانے پینے کی چیزیں ختم ہوگئی ہیں۔ ننھا بچہ پیاس کی شدت سے بے تاب ہے اور خود بھی بھوکی پیاسی ہیں۔ بچے کے رونے میں بتدریج شدت آرہی ہے اب کیا ہوگا…؟

ادھر ادھر نظر دوڑا رہی ہیں۔ مگر کون اس صحرا میں اپنی جھلک دکھلائے؟ کون اس وادیٔ غیر ذی زرع میں اپنے قدم رکھے؟

خاتون پریشانی کے عالم میں وہاں کی پہاڑیوں صفا ومروہ کے درمیان دوڑ رہی ہیں۔ کبھی صفا کے اوپر چڑھتی ہیں کہ کوئی اللہ کا بندہ یا کوئی بھولا بھٹکا قافلہ نظر آجائے تو اپنے لال کی پیاس بجھانے کا انتظام کرے۔ کبھی اس غرض سے مردہ پر چڑھتی ہیں۔ مگر بے سود… دور دور تک کسی ذی روح کا پتہ نہیں۔ دوڑتے دوڑتے تھک جاتی ہیں کہ یکایک بچے کے رونے کی آواز بند ہوجاتی ہے۔ یہ کیا ہوگیا…؟ کہیں پیاس کی شدت سے دم تو نہیں توڑ گیا۔ دیوانہ وار بچے کے قریب آتی ہیں۔ مگر وہاں تو قدرت کی کاریگری کا کچھ اور ہی کرشمہ نظر آیا۔ بچے کی ایڑیوں کے پاس پانی ابل رہا ہے۔ ’’ اُف خدا میں قربان۔‘‘ زبان سے نکلا۔

بیتابی وخوشی کا یہ عالم کہ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ پانی کو کس طرح روکیں منڈیر بناتی ہیں مگر پانی ہے کہ امڈا چلا آرہا ہے۔ بے ساختہ منھ سے نکلتا ہے ’’زم زم‘‘ یعنی ’’رک، رک‘‘۔

اور پانی بھی جیسے اسی حکم کا منتظر تھا، رک جاتا ہے۔ جلدی جلدی اپنے لختِ جگر کو پلاتی ہیں۔ پانی بھی ایسا کہ بھوک پیاس سب رفع ہوجائے۔ بچہ پانی پی کر مطمئن ہے اور کلکاریاں مار رہا ہے۔ ماں بھی اس پانی سے اپنے آپ کو سیراب کرتی ہیں۔ اب تو کچھ فکر ہی نہیں۔ بچہ پروان چڑھ رہا ہے، ماں اس کے کانوں میں خدا کی خدائی کے اس کی وحدانیت کے اور اس کی حقانیت کے ترانے انڈیل رہی ہے اور بچہ بھی اپنے رب سے آشنا ہوکر اپنی ہوش مندی کے مراحل طے کررہا ہے۔

کچھ عرصے بعد وہ مرد جو انہیں چھوڑ کر گیا تھا لوٹ آیا۔ پتہ نہیں کہاں کہاں کی خاک چھانی۔ کہاں کہاں لہو برساتے سورج کا مقابلہ کیا صرف اس لیے کہ جس رب سے میں آشنا ہوا ہوں، ساری دنیا کو آشنا کرواؤں۔

ہاں! یہ وہی مرد ہیں جن کو دنیا ابراہیم علیہ السلام کے نام سے۔ خلیل اللہ کے لقب سے جانتی ہے۔ ہاں یہ وہی تو ہیں جنھوں نے اپنی قوم سے جو کہ ساری کی ساری بت پرست تھی۔ خود آپؑ کے والد آزر ایک بہت بڑے پنڈت تھے اپنے آپ کو علیحدہ کردیا۔ بھری محفل میں اعلان کردیاکہ’’ میں اپنے آپ کو الگ کرتا ہوں تمام شرکیہ افعال سے۔ اور اے لوگو! تم بھی الگ ہوجاؤ، بری ہوجاؤ ورنہ میرا رب اس بات کی بہت بری سزا دے گا۔‘‘

اور یہ وہی مردِ مسلم ہیں کہ اس بات کی سزا انہیں دہکتی ہوئی آگ کے الاؤ میں ڈال کر دی گئی۔ آگ اسے جلا کیوں نہیں رہی۔ اس لیے کہ آگ کے خالق نے اسے حکم دے دیا۔

یا نار کونی برداً و سلاماً علیٰ ابراہیم۔

’’اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم پر۔‘‘

ابراہیم علیہ السلام ابھی تک بے اولاد ہیں۔ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا مجھے صالح اولاد عطا کر تاکہ میرے بعد دنیا میں تیرے نام کو اور تیرے دین کو قائم کرنے والا ہو۔ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی بیوی ہاجرہ کے یہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوتے ہیں۔ اور یہی وہ ماں بیٹے ہیں جنھیں اللہ کے حکم سے ابراہیم علیہ السلام چھوڑ کر گئے۔ اب واپس آئے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیٹا دوڑنے بھاگنے کے لائق ہوگیا ہے۔ طبیعت خوش ہوجاتی ہے، بے اختیار خدا کا شکر بجالاتے ہیں۔

حضرتِ اسماعیل علیہ السلام منزلِ شباب کی طرف گامزن ہیں۔ اس دوران حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کو ایک عجیب و غریب خواب نظر آیا۔ پریشان ہیں۔ اسماعیل علیہ السلام کو بلاتے ہیں۔ ’’کیا بات ہے ابا جان! آپ نے کیوں یاد فرمایا…؟

ابراہیم علیہ السلام دل کڑا کرکے کہتے ہیں: ’’بیٹا! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے قربان کررہا ہوں خدا کی راہ میں۔ اب اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘

’’تو ابا آپ اتنے فکر مند کیوں ہیں چلیے اور اپنے رب کا حکم پورا کیجیے۔ مجھے آپ صابر پائیں گے۔‘‘

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی

دونوں باپ بیٹے کچھ دور گئے اور چشمِ فلک نے اطاعت و فرمانبرداری کا ناقابلِ فراموش منظر دیکھا کہ باپ اپنے بیٹے کو اوندھے منھ لٹائے ہوئے ہیں۔ اور بس چھری چلانے ہی والے ہیں کہ رب کریم نے پکارا۔ ’’ابراہیم تم ہر آزمائش میں پورے اترے ہو تمہاری اس قربانی کو ہم نے قبول کیا اب اس کے بجائے تم مینڈھا قربان کرو۔‘‘

لیجیے ایک مثال قائم ہوگئی رہتی دنیا تک کہ دینِ حق کی خاطر اپنی محبوب سے محبوب چیز کوبھی قربان کردو تاکہ رب کی محبت و اطاعت کی نادر مثال قائم ہو۔ یہی وہ مثال ہے جسے دنیا ہر سال متواتر دہراتی ہے اور سنتِ ابراہیمی کی یاد تازہ کرتی ہے کہ خدا کی راہ میں سب کچھ لٹا دینے کا جذبہ ہمارے اندر قائم رہنا چاہیے حتیٰ کہ اولاد بھی باپ بیٹے خوشی خوشی گھر لوٹ آئے۔ اب وہاں کچھ آبادی ہوگئی ہے۔ زم زم کی وجہ سے پرندے دکھائی دینے لگے اور ان پرندوں کی چہچہاہٹ سے کچھ بھولے بھٹکے قافلے یہاں خیمہ زن ہوئے اور مستقل آباد ہوگئے۔

اب باپ بیٹے مل کر اس جگہ ایک مرکزِ الٰہی تعمیر کرنے میں لگے ہیں۔ تعمیر کے دوران یہ دعا مانگتے ہیں ’’اے ہمارے رب! اس گھر کو اپنی عبادت گاہ بنا۔ اس شہر کو امن کا شہر بنا۔ یہاں کثرت سے رزق عطا فرما اور کثرت سے پھل اور اس قوم میں ایک صالح نبی اٹھا جو تیری آیات لوگوں کو سنائے۔‘‘

دعا شرفِ قبولیت پاگئی۔ ڈھائی ہزار برس بعد زمانہ نے دیکھا کہ اس قوم میں ایک مردِ صالح اٹھا اس نے اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کا پیغام دنیا کے اندر پھیلایا اور رہتی دنیا تک اپنے نقشِ قدم ایسے چھوڑ گیا کہ انہیں مٹانا کسی کے بس کی بات نہیں۔

اور وہی دعا قبول ہوئی کہ آج بھی لاکھوں زائرینِ اس مرکزِ عبادت کا رخ کرتے ہیں جن کی تعمیر آپؑ نے کی اور کروڑوں لوگ یہ دعا کرتے ہیں کہ اس کی زیارت نصیب ہوجائے۔

سلام علی ابراہیم وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلیٰ آل محمد و بارک وسلم۔

شیئر کیجیے
Default image
فریدہ انجم قمر

تبصرہ کیجیے