بھگوت گیتا کا تعارف

۱۱؍ستمبر ۲۰۰۷ء کے اخباروں میں یہ خبر نمایاں سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئی کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جناب ایس این شریواستو نے اپنے ایک فیصلے میں لکھا کہ ’’دستور ہند کے آرٹیکل ۵۱ الف کے تحت ہندوستان کے ہر شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلا لحاظ ذات، عقیدہ اور مذہب اس دھرم کو اختیار کرے جس کی تشریح بھگوت گیتا میں کی گئی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ’’ گیتا ہندوستان کا دھرم شاستر ہے۔ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ گیتا کو ’’راشٹریہ دھرم شاستر‘‘ کے طور پر تسلیم کرے۔ گیتا نے ملک کی جنگ آزادی میں اور زندگی کے ہر شعبے میں حوصلہ عطا کیا ہے۔‘‘ جسٹس شریواستو نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ ’’ہندوستان ایک واضح قومی پرچم رکھتا ہے اور واضح قومی ترانہ بھی اس لیے بھگوت گیتا کو بھی (راشٹریہ) دھرم شاستر کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔‘‘

جسٹس شریواستو کی عدالت میں بنارس کے گوپال ٹھاکر نام کے ایک مندر کا مقدمہ ز یرِ غور تھا جس کی کچھ جائدادیں فروخت کردی گئی تھیں۔ اس فروختگی کو چیلنج کرتے ہوئے ایس آر مکھرجی نام کے ایک شخص نے الہ آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی۔ جج صاحب نے مکھر جی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ریاستی حکومت کوہدایت جاری کی کہ وہ مندر سے منسلک جائیداد کو ضلع جج کی منظوری کے بغیر منتقلی سے روکے۔ اس حکم نامہ کی ایک کاپی یوپی ریاست کے چیف سکریٹری کو مناسب کارروائی کے لیے بھیجی گئی۔ جج صاحب نے لکھا کہ فرقہ پرست اور ناپسندیدہ عناصر مندروں پر حملے کرتے آرہے ہیں، اس لیے ریاستی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ مندروں کی حفاظت کے لیے مناسب قانون سازی کرے۔

جسٹس ایس این شریواستو نے اس سے قبل بھی مسلمانوں کے تعلق سے ایک فیصلہ سناتے ہوئے لکھا تھا کہ مسلمان یوپی میں اقلیتی فرقہ نہیں ہیں۔ اس فیصلہ کا اثر یہ تھا کہ اقلیتی فرقہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو جو مراعات قانون کے ذریعہ حاصل ہیں اب ختم ہوجانی چاہئیں کیونکہ مسلمان یوپی میں اقلیتی فرقہ نہیں رہے۔

ان جیسے واقعات اکثر وبیشتر سامنے آتے رہتے ہیں جو اس بات کے غماز ہیں کہ ملک میں ایک نئی سوچ پرورش پارہی ہے جو نہ صرف اسلام بلکہ، بودھ، سکھ اور عیسائی مذہب کے ماننے والوں کے لیے دشواریاں پیدا کرسکتی ہے۔ خیر اس کے مضراثرات پر غور کرنا تو اربابِ سیاست کا کام ہے جو ملک چلارہے ہیں اور انسانی فلاح و بہبود کے کاموں کے بارے میں سوچنا ان کا فریضہ ہے۔ البتہ ہم یہ بات اپنے قارئین کو ضرور بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کتاب جسے ’’راشٹریہ دھرم شاستر‘‘ تسلیم کیے جانے کی بات ہورہی ہے آخر کیا ہے؟ تاکہ لاکھوں اردو داں گیتا سے متعارف ہوجائیں۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم دوسرے مذاہب کو بھی جانیں اور سمجھیں۔ ہندو بھائیوں سے ہمارا تعلق صدیوں پرانا ہے۔ یہ قدیمی تعلق بھی اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم اپنے ہندو بھائیوں کے دھرم اور ان کی دھارمک کتابوں سے واقفیت رکھیں۔

ہندو دھرم میں گیتا ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کا ترجمہ دنیا کی بہت ساری زبانوں میں کیا جاچکا ہے۔ اور جس کو غیر ہندوؤں کی خدمت میں فخر سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ کرشن جی نے کروکشیتر کے میدانِ جنگ میں ارجن جی کو جو تعلیم دی اسے گیتا کے نام سے جانا جاتا ہے۔

تقریباً پانچ ہزار سال قبل کی بات ہے دھرت راشٹر اور پانڈو نام کے دو سگے بھائی تھے۔ یہ ’کورو‘ نام کے شاہی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ دھرت راشٹر نا بینا تھا، اس کے سو بیٹے تھے اور پانڈو کے پانچ۔ دھرت راشٹر کے بیٹے ’’کورو‘‘ اور پانڈو کے بیٹے ’’پانڈوا‘‘ کہلاتے تھے۔ پانڈو کی موت کم عمر میں ہی اس وقت ہوگئی تھی جبکہ ان کے پانچوں بیٹے چھوٹے چھوٹے تھے۔ جب پانڈو کی موت کم عمری میں جانے پر ان کے بیٹوں کے بالغ ہونے تک دھرت راشٹر نگران راجہ بنے۔ پانڈو اور دھرت راشٹر یعنی دونوں کے بیٹے شاہی محل میں پل کر جوان ہوئے۔ پانڈو کے پانچ بیٹوں میں ارجن کو شہرت حاصل ہوئی اور دھرت راشٹر کے سو بیٹوں میں سب سے بڑے بیٹے دریودھن بہت مشہور ہوئے۔ دھرت راشٹر کو اپنے بھائی پانڈوں سے شدید دشمنی اور نفرت تھی۔ دھرت راشٹر کی خواہش تھی کہ بادشاہت پانڈوا کو نہیں بلکہ ان کے بیٹوں کو ملے۔ لہٰذا باپ اور بیٹے یعنی دھرت راشٹر اور دریودھن نے مل کر پانڈو کے پانچوں لڑکوں کو قتل کرنے کی سازش رچی۔ بار بار قتل کرنے کی کوشش کے باوجود دھرت راشٹر اور دریودھن کو کامیابی نہیں ملی۔ پانڈوا اپنے چچا اورکرشن جی کی مدد سے ہر بار بچتے رہے۔کرشن جی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ وہ شہزادے کے روپ میں زمین پر اوتار لے کر آئے تھے۔ کرشن جی پانڈو کی بیوی کنتی کے بھتیجے بھی تھے۔ دریودھن اور ارجن جی دونوں ہی کرشن جی کے بھگت تھے۔

آخر کار دریودھن نے سازش کے تحت پانڈوا کو جوا کھیلنے کی دعوت دی جس میں پانچوں بھائی اپنی مشترکہ بیوی دروپدی کو جوئے میں ہار بیٹھے۔ دروپدی پانچوں بھائیوں کی مشترکہ بیوی تھیں۔ پانڈوا نے بیوی کو بھی ہارا اور سلطنت بھی ان کے ہاتھ سے جاتی رہی، اس کے علاوہ پانچوں بھائیوں کو تیرہ سال کے لیے جلا وطن بھی ہونا پڑا۔ دریودھن نے دروپدی کو بھرے دربار میں کپڑے اتار کر ننگا کرنے کی کوشش کی، لیکن کرشن جی کی بروقت مدد ملنے سے دریودھن کو اس میں کامیابی نہیں ملی۔ بتایا جاتا ہے کہ دریودھن نے خیانت اور مکاری سے جوا جیتا تھا۔ دریودھن کے سارے برے کرتوت کرشن جی کے علم میں تھے۔

جب ۱۳ سالہ جلا وطنی کے بعد پانڈاوا وطن واپس آئے تو اپنے چچا دھرت راشٹر اور چچازاد بھائی دریودھن سے حکومت واپس کرنے کا مطالبہ کیا مگر دونوں نے پانڈوا کے مطالبہ کو ماننے سے صاف انکار کردیا۔ پانڈوا نے دریودھن سے کم سے کم پانچ گاؤں تک ہی دینے کی استدعا کی مگر اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ سوئی کی نوک کے برابر بھی ان کو زمین نہیں دی جائے گی۔ کرشن جی نے اس معاملہ میں پانڈوا کی طرف سے پیغام رسانی کا فریضہ انجام دیا اور دھرت راشٹر کو ہر ممکن سمجھانے کی کوشش کی اور تلقین کی کہ وہ ظلم سے باز آجائے لیکن اس کا بھی کوئی مناسب نتیجہ نہیں نکلا جس کی وجہ سے دونوں فریق کے درمیان جنگ ناگزیر ہوگئی۔ ایک صبح جب کرشن جی سوئے ہوئے تھے دریودھن اور ارجن دونوں جنگ میں ان کی مدد حاصل کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دریودھن کرشن جی کے پاس سب سے پہلے پہنچا اور ان کے پیروں کے پاس ان کے جاگنے کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ ارجن جی وہاں پہنچے تو وہ کرشن جی کے سر کی طرف بیٹھ گئے۔ جب کرشن جی جاگے تو ان کی نظر سب سے پہلے ارجن پر پڑی پھر دریودھن پر۔ دریودھن نے کرشن جی سے کہا کہ چونکہ سب سے پہلے وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا ہے اس لیے اس کو ان کی طرف سے جنگ میں مدد ملنی چاہیے۔ کرشن جی نے کہا کہ مدد ہونی چاہیے۔ وہ دونوں کی مدد کریں گے۔ مدد کا طریقہ یہ ہوگا کہ دونوں میں سے کوئی ایک فریق ان کی عظیم الشان فوج لے لے اور دوسرے فریق کے ساتھ وہ خود بہ نفس نفیس جنگ میں موجود ہوں گے مگر نہ تو وہ جنگ میں حصہ لیں گے اور نہ ہتھیار اٹھائیں گے۔ ارجن جی نے کرشن جی کا ساتھ رہنا پسند کیا۔ اور دریودھن نے ان سے فوج کی مدد مانگی جو ان کو دی گئی۔ بعد میں کرشن جی نے ارجن جی سے پوچھا کہ اس نے فوج لینا کیو ںنہیں پسند کیا۔ ارجن جی نے جواب دیا کہ ان کی رفاقت اس لیے چاہی کہ وہ تنہا سب کو ختم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ارجن کی درخواست پر ارجن جی کے رتھ کو چلانے کی ذمہ داری بھگوان نے سنبھال لی۔ رتھ کو لے کر کرشن جی جنگ کے میدان میں اترے۔ یہ کروکشتر کا میدانِ جنگ ہے۔ دنیا کے سارے شہزادے و راجے مہا راجے جنگ کے میدان میں موجود ہیں اور دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں کچھ دریودھن کی مدد کررہے ہیں۔ تو کچھ پانڈوا کی۔ اسی جنگ کے میدان میں کرشن نے ارجن جی کو جو اپدیش دیا وہ گیتا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور جنگ کی تفصیلات پر مشتمل کتاب مہابھارت کے نام سے مشہور ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ کرشن جی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ دریودھن ظالم اور خطا کار ہے۔ اس نے دروپدی کو بھری محفل میں ننگا کرکے ذلیل کرنے کی کوشش کی تھی، اس کے علاوہ انھوں نے دریودھن اور اس کے باپ دھرت راشٹر کو سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی کہ وہ ارجن کے حقِ حکومت کو غصب نہ کرے مگر وہ نہیں مانے اس کے بعد ہی جنگ کی نوبت آئی۔ دھرت راشٹر جنگ کے حالات جاننے کے لیے بے چین تھا مگر وہ نابینا تھا اس لیے اس نے اپنے سکریٹری سنجے کو جنگ کے لمحہ بہ لمحہ حالات بتانے کے لیے اپنے پاس رکھا۔ ویاس جی نے جو بہت ہی پہنچے ہوئے بزرگ تھے سنجے کو ایک خاص طاقت عطا کی جس کی وجہ سے اس نے دھرت راشٹرکے پاس رہ کر جنگ کے میدان میں جو باتیں ہوئیں اور جو حالات پیش آئے وہ بتانے شروع کیے۔ اس طرح گیتا شروع ہوتی ہے۔ دھرت راشٹر بولا اے سنجے کروکشتر کی پاک سرزمین پر جہاں میرے اور پانڈو کے لڑکے جنگ عظیم کے لیے جمع ہیں وہاں کیا ہورہا ہے بیان کرو۔ سنجے نے کہنا شروع کیا: مہاراج پانڈو کے بیٹوں کی فوج پر نظر ڈالنے کے بعد راجہ دریودھن اپنے استاد درونا اچاریہ کے پاس گئے اور ان سے کہا اے میرے استاد! پانڈو کے بیٹوں کی عظیم الشان فوج کو دیکھئے آپ کے ذہین شاگرد نے کتنے ماہرانہ طریقے سے فوج کی صف بندی کررکھی ہے۔ درونا آچاریہ ایک تجربہ کار اور ماہر سپہ سالار اعظم تھے۔ دریودھن کا ساتھ دے رہے تھے مگر ارجن جی بھی ان کے شاگردوں میں سے تھے۔ بہر حال اس گفتگو سے گیتا کا آغاز ہوتا ہے۔

آخرش شنکھ اور طبل بجائے جانے لگے کرشن جی نے بھی پنچ جنیہ نام کا شنکھ بجانا شروع کیا۔ میدان جنگ میں آوازیں آسمان تک گونج رہی تھیں، ارجن جی کے رتھ پر جو پرچم لہرا رہا تھا اس پر ہنومان جی کو تصویر بنی ہوئی تھی۔ ہندو عقیدہ کے مطابق کرشن جی وشنو کے اوتار تھے۔ جب ارجن جی نے فوج کے دونوں جانب باپ، دادا، استاد ماموں بھائی، بیٹے، پوتے، دوست، سسر اور خیر خواہوں کو دیکھا تو جنگ کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اپنے رشتے داروں کو قتل کرکے میں کوئی بھلائی حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ انھوں نے کہا کہ دھرت راشٹر کے بیٹوں کو قتل کرکے مجھے کوئی خوشی حاصل نہیں ہوگی۔ ارجن جی نے کرشن جی سے یہ بھی کہا کہ سلطنت کے ختم ہوجانے سے خاندانی روایات بھی ختم ہوجائیں گی اور خاندان کے بچے کھچے لوگوں میں بے دینی آجائے گی۔ اور جب خاندان میں بے دینی کا بول بالا ہوگا تو عورتیں بے راہ رو ہوجائیں گی اور ان کی بے راہ روی سے غیر مطلوب بچے پیدا ہوں گے۔ ارجن جی نے کرشن جی سے کہا کہ جب خاندانی روایات ختم ہوجاتی ہیں تو سنا ہے کہ جوان روایات کو فنا کرتا ہے، وہ ہمیشہ نرک میں رہتا ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ ہم گناہ کے مرتکب ہونے جارہے ہیں اور بادشاہت کی خوشی حاصل کرنے کے لیے ہم اپنے ہی رشتہ داروں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ارجن کی طویل باتیں جو انھوں نے کرشن جی سے کیں۔ سنجے نے دھرت راشٹر کو سنائیں اور سنجے نے دھرت راشٹر سے کہا کہ جب ارجن جی کی ذہنی کشمکش اور دلی کیفیت کرشن جی نے دیکھی تو مندرجہ ذیل باتیں ان سے کہیں تاکہ ارجن جی جنگ کے لیے آمادہ ہوسکیں۔ کرشن جی نے کہا کہ یہ سب نامردی کی باتیں ہیں دل کو مضبوط کرو۔ تم ان باتوں پر ماتم کررہے ہو جو پریشانی کے لائق نہیں۔ جو سمجھ دار ہیں وہ زندوں کے لیے غم کرتے ہیں نہ کہ مردوں کے لیے۔ روح مرتی نہیں بلکہ ہمیشہ منتقل ہوتی رہتی ہے۔ ایک جسم سے سے دوسرے جسم میں۔ کرشن جی نے ارجن جی کو بتایا کہ ’’جو اس آتما کو مرنے والا سمجھتا ہے اور جو اس کو مرا ہوا جانتا ہے وہ دونوں علم نہیں رکھتے۔ کیونکہ روح (آتما) کو حقیقت میں نہ تو کوئی مارتا ہے اور نہ وہ کسی کے ذریعہ ماری جاتی ہے۔‘‘ ’’یہ آتما(روح) غیر فانی اور دائمی ہے جسم کے مارے جانے پر بھی یہ نہیں مرتی۔‘‘ ارے ارجن جو شخص اس آتما (روح) کو لازوال اور ہمیشہ رہنے والا مانتا ہے اور اس کو قدیم اور غیر متغیر جانتا ہے وہ شخص کیسے کسی کو مرواتا ہے اور کیسے کسی کو مارتا ہے (ادھیائے، اشلوک ۲۱) اور اگر تو کہے کہ میں تو جسم کے فنا ہونے کا غم کرتا ہوں تو یہ بھی مناسب نہیں کیونکہ ’’جیسے آدمی پرانے کپڑوں کو چھوڑ کر دوسرے نئے کپڑے پہن لیتا ہے ویسے ہی آتما پرانے جسم کو تیاگ کر دوسرے نئے جسم میں داخل ہوجاتی ہے۔ (ادھیائے ۲، اشلوک ۲۲) پھر کرشن جی نے ارجن کو جنگ کی غرض سے آمادہ کرنے کے لیے نصیحت کرتے ہوئے کہا: ’’آتما غیر محسوس ہے یہ آتما ناقابلِ تصور ہے۔ یہ آتما غیر تغیر پزیر ہے۔ اے ارجن اس آتما کی حقیقت کو جان کہ تیرے لیے جسم کے لیے غم کرنا مناسب نہیں ہے۔‘‘ (ادھیائے ۲، اشلوک ۲۵) کرشن جی نے ارجن جی کو جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے مزید کہا کہ رشتہ داروں اور دیگر لوگوں کے مارے جانے پر غم نہ کر، کیونکہ جو پیدا ہوا ہے، اس کی موت یقینی ہے اور مرے ہوئے کا دوبارہ پیدا ہونا بھی یقینی ہے اس معاملہ میں کوئی چھٹکارا نہیں ہے اس پر تم کو غم نہیں کرنا چاہیے۔ ’’اپنے دھرم کا خیال رکھتے ہوئے بھی ان باتوں کے لیے غم کرنا مناسب نہیں کیونکہ چھتریوں کے لیے دھارمک یدھ (مذہبی جنگ) سے بڑھ کر دوسرا کوئی بہتر کام نہیں ہے۔‘‘ (ادھیائے۲، اشلوک ۳۱) جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے کرشن جی نے ارجن جی سے مزید کہا کہ جنگ کرنے کی مذہبی ذمہ داری اگر تم نے نہیں نبھائی تو فرض کو نظر انداز کرنے کا تم کو یقینا گناہ ہوگا اور بہادر کہلانے کا حق جاتا رہے گا۔ پھر لوگوں میں تمہارا ذکر ہمیشہ کے لیے ذلت سے ہوا کرے گا۔ ایسی رسوائی کسی عزت دار آدمی کے لیے موت سے بدتر ہوگی۔ سرداروں میں جو تمہاری عزت و شہرت ہے وہ سوچیں گے کہ تم بہ وجہ خوف جنگ کے میدان سے ہٹ گئے پھر وہ تم کو حقیر سمجھنے لگیں گے۔ تمہارے دشمن تمہارا ذکر حقارت سے کریں گے اور تمہاری صلاحیت طاقت و قوت کا مذاق اڑائیں گے جو تمہارے لیے زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ (ادھیائے ۲، اشلوک ۳۳ تا ۳۵)

اس طرح کرشن جی کی تلقین اور آمادہ کرنے پر ارجن جی نے جنگ کی۔ اس جنگ میں دونوں طرف سے لاکھوں لوگ مارے گئے۔ بھیانک اور انسانی جانوں کے اتلاف کے اعتبار سے دنیا میں کوئی دوسری ایسی جنگ نہیں لڑی گئی۔ گیتا میں کرشنجی کا بیان درج ہے کہ انھوں نے سماج میں چار ذات پیدا کیں یعنی برہمن، چھتری، ویش اور شودر (ادھیائے ۴، اشلوک ۱۳) ادھیائے ۱۸ منتر ۴۳-۴۱ میں بھی کرشن جی نے سماج میں چار ذات پیدا کرنے کی بات کہی ہے۔ اس طرح خدمات اور خوبیوں کی بنیاد پر ذات کی تقسیم عمل میں آئی۔ یہ بات ثابت ہے کہ ذات پات کا نظام انسان کی فلاح و کامرانی کے راستے میں شدید رکاوٹ ہے۔ بیشتر عوام ذات پات کے وجود کے لیے منوسمرتی کو ہی ذمہ دار سمجھتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ ذات پات کا تذکرہ تقریباً سبھی مذہبی کتابوں میں موجود ہے کسی ذات کے لوگ کون سی خدمات انجام دیں گے یہ بھی مقرر کردیا گیا ہے جس کی روے سے جو خدمات برہمن کے سپرد ہیں دوسری ذات کے لوگ وہ خدمات انجام نہیں دے سکتے۔

شیئر کیجیے
Default image
شہاب الدین ایم اختر

Leave a Reply