معروف امراض اور ان سے تحفظ

بالوں کا گرنا

بال جسم کا ایک حصہ ہیں۔ جسم کومناسب غذا نہیں ملتی تو کاہلی اور سستی زیادہ ہوجاتی ہے اس کے ساتھ ہی بال بھی متاثر ہوتے ہیں کیونکہ پروٹین کی پیداوار کی رفتار ہی بالوں کے پیدا ہونے کی شرح کا تعین کرتی ہے اور اگر غیر متوازن غذا کھائی جائے تو بال گرنے لگتے ہیں اور جن میں وٹامنز وافر مقدار میں ہوتے ہیں ان کے بال عموماً دوبارہ پیدا ہونے لگتے ہیں۔ یوںتو ہمارے اطراف میں بہت سارے مسائل ہیں جن میں ہم جکڑے ہوئے ہیں بعض لوگ بڑے جذباتی واقع ہوتے ہیں ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہوجاتے ہیں یا پھر کسی غم میں مبتلا ہوکر دباؤ میں آجاتے ہیں جس سے کھوپڑی کی جلد میں تناؤ پیدا ہوجاتا ہے اور بالوں کو پھر درکار ضروری غذائیت کی سپلائی متاثر ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بال کمزور ہوکر گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ نزلہ، زکام اور قلت خون کی وجہ سے پیدا ہونے والی عام جسمانی کمزوری بھی بال گرنے یا پھر کم پیدا ہونے کا سبب بن جاتی ہے۔ بالوں کو متواتر صاف نہ رکھنا بھی ان کی جڑوں کو کمزور کردیتا ہے کیونکہ گندے مادے مساموں کو بند کردیتے ہیں۔

صحت مند بالوں کے لیے خاص مقدار میں پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے اور خواتین کو روزانہ ۶۰ گرام جبکہ مردوں کو ۸۰ سے ۹۰ گرام اور نوجوانوں کو ۸۰ سے ۱۰۰ گرام تک پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے یہ دودھ، لسی، دہی سویابین، انڈوں، پنیر، گوشت اور مچھلی میں پائی جاتی ہے۔ بال گرنا شروع ہوں تو فوراً اپنی غذا کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور ضروری غذا کا جو کہ متوازن بھی ہو اہتمام کرنا چاہیے۔ خوراک میں بادام، اخروٹ، مونگ پھلی اور اناج، سبزیاں اورفروٹس کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے کیونکہ ان میں تمام غذائی عناصر شامل ہوتے ہیں، جن کی جسم اور بالوں کو ضرورت ہوتی ہے۔ دن کے وقت کھانے میں فروٹس کا شامل ہونا ازحد ضروری ہے اور ہمراہ دودھ بھی لیا جائے تو بہت مفید ثابت ہوگا۔

ملیریا

ملیریا کا مرض گندی ہوا سے لاحق ہوتا ہے اور یہ وقفہ وقفہ سے حملہ آور ہوکر مریض کو خوفزدہ کرتا ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر گرم اور مرطوب علاقوں میں پھیلتی ہے۔

ملیریا کا جرثومہ چند دن انسانی جلد میں پرورش پاتا ہے پھر وہاں سے نکل کر خون کی رگوں میں داخل ہوجاتا ہے اور اس کے سرخ ذرات پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔ بیمار آدمی سے صحت مند آدمی تک بیماری کو منتقل کرنے کا کردار مادہ مچھر ادا کرتی ہے پھر مریض کو حد درجے کا بخار ہونا تیسرے روز یا چھوتے روز کا بخار چڑھ جانا اور کبھی ہر وقت و ہر روز بخار کی حالت میں رہنا جس سے مریض پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے، سر میں درد ہوتا ہے اور جسم کے دیگر اعضا بھی درد کرتے ہیں۔ ملیریا کے مرض سے جسم میں خون کم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے پیچش بھی ہوجاتی ہے اور گردوں کے فیل ہونے کی نوبت کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔ ملیریا کے مریض کو غذا پر بہت توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہ بہت اہمیت رکھتی ہے مریض کو چاہیے کہ وہ شروع کے سات سے پندرہ دنوں تک ’’جوس فاقے‘‘ کرے اور فاقے کے عرصے کے دوران گرم پانی سے روزانہ انیما کرے تاکہ آنتیں بالکل صاف ہوجائیں اور صحت جلد از جلد اچھی ہو سکے۔ تازہ پھلوں کا استعمال بہت زیادہ کرنا چاہیے ہر پانچ گھنٹے کے بعد کینوں، مالٹے، انگور، سیب، انناس، آم اور پپیتا بطور کھانا کھاتا رہے بعد ازاں ان پھلوں کے ہمراہ دودھ کا استعمال بھی جاری رکھے۔

اس دوران مریض کو چاہیے کہ وہ اچار، چٹنی، سموسوں، سفید چینی اور ہر قسم کے گوشت سے پرہیز کرے۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی، شراب نوشی سے بھی مکمل پرہیز کرے بند غذاؤں اور تلی ہوئی چیزوں سے اجنتاب کرے۔

کالی کھانسی

کالی کھانسی بے حد متعدی عارضہ ہے جس کا سبب بیکٹریا ہوتا ہے۔ دیگر امراض کے برعکس نوزائیدہ بچوں کے لیے اس سے زیادہ کوئی مضر نہیں ہے۔ وہ اپنی پیدائش کے بعد کسی بھی وقت اس میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ ایک مریض بچے کی چھینکوں اور کھانسی کا اثر جس دوسرے بچے تک پہنچنا ہے وہ بھی اس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ بیماری آٹھ سے دس ہفتے تک رہتی ہے۔ اس کے دو مراحل ہوتے ہیں۔ پہلے ہفتے میں عام طور پر عام قسم کا زکام ہوتا ہے جو نظام نفس کے بالائی حصے کو متاثر کرتا ہے۔ ہفتے کے آخر میں بچے پر مروڑ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جو رفتہ رفتہ دوروں کی شکل اختیار کرجاتی ہے۔ کھانسی کے دوروں کی شدت کے باعث مریض کی آنکھوں، ناک اور پھیپھڑوں میں سے خون بھی آسکتا ہے اور بعض صورتوں میں دماغ میں سوزش بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا اصل سبب بچوں کی غلط غذائیت سے پرورش کرنا ہے یعنی والدین مصنوعی اور منرلز سے محروم غذائیں مہیا کرتے ہیں کیونکہ تازہ پھلوں اور سلاد سبزیوں سے محرومی ان کے اندر مدافعتی قوت پیدا ہی نہیں ہونے دیتی۔ بچے کی دیگر بیماریوں کے لیے دواؤں کا استعمال بھی کالی کھانسی کا سبب بن جاتا ہے۔

قبض

قبض کے اصل معنیٰ پکڑ اور گرفت کے ہیں۔ اس مرض کو قبض اس لیے کہتے ہیں کہ براز کو آنتیں اپنی گرفت میں لیے رہتی ہیں۔ اگر اجابت وقت مقررہ پر نہ آئے یعنی کبھی دوسرے تیسرے روز آیا کرے یا اوقات تبدیل نہ ہوں لیکن مقدار میں کم آئے یا اجابت بافراغت نہ ہو تو ان دونوں صورتوں کو قبض ہی کہتے ہیں۔

قبض کی دو صورتیں ہیں۔ عارضی قبض جو کسی اتفاقی وجہ سے ہوتا ہے دائمی قبض جو ہمیشہ ہوتا ہے اس کا سبب دیرینہ ہوتا ہے۔

تیز مرچ، مصالحہ جات کی زیادتی، میدہ، بیسن کی اشیاء، سموسے، نان، آلو، ٹھنڈے یخ مشروبات، چائے کا زیادہ استعمال، تمباکو نوشی، دماغی محنت کی زیادتی، نشہ آور اشیاء کا استعمال دودھ اور گھی نہ استعمال

کرنے کی وجہ سے انتڑیاں خشک ہوکر قبض کاباعث بنتی ہیں۔

درد سر، نظر کی کمزوری، دل کی گھبراہٹ، بے چینی، بھوک کی کمی، پنڈلیوں میں خفیف سا درد زبان کا میلا ہونا، قبض سے جگر متاثر ہوتا ہے جسم کی رنگت زردی مائل ہوجاتی ہے اور بواسیر جیسے امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس لیے قبض ام الامراض یعنی بیماریوں کی ماں کہلاتا ہے۔

عارضی قبض ہو تو خود بخود دور ہوجاتا ہے یا معمولی قبض کشا دوا سے رفع ہوجاتا ہے ایسی صورت میں ممکن حد تک تدبیر سے کام لیں اور دوا سے پرہیز کریں بلکہ صبح و شام سیر کریں یہ قبض کا قدرتی علاج ہے۔ صبح خالی پیٹ تازہ پانی پینا قبض کا بہتر علاج ہے لیکن روزانہ عادت ڈالنا معدے کے لیے مضر ہے۔

دائمی قبض کا علاج ضرور کرنا چاہیے کیونکہ یہ دوسرے امراض پیدا کرتا ہے۔ اس مرض میں تیز ملینات کا استعمال مناسب نہیں ہے۔ اس مرض کا علاج غذا سے کرنا زیادہ مناسب ہے مثلاً روغن، بادام، مکھن، گھی، دودھ، ترکاریاں اور موٹے آٹے کی روٹی وغیرہ سبزی سب سے زیادہ استعمال کرنی چاہئیں۔ پھلوں میں خربوزہ، آم، پپیتا، آلو بخارا، امرود، انگور، انجیر خشک، منقہ، کشمش، تربوز، ناشپاتی، خوبانی اور آڑو۔ رفع قبض کے لیے اگر ادویہ سے مدد لینے کی ضرورت ہو تو معجون اطریفل زمانی، حب بنفشہ، اسپغول کی بھوسی، روغن بادام، شیریں، انجیر گلقند، مربہ ھیڑ وغیرہ۔ جو خواتین امید سے ہوں اگر ان کو قبض کی شکایت ہو تو زیادہ قبض کشا ادویات استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔ ان کے لیے پرہیز بہتر رہتا ہے یا سبزیاں اور پھل استعمال کریں۔ روغن بادام شیریں اسپغول کی بھوسی دودھ میں ملا کر استعمال کریں۔

نزلہ سے آرام کے لیے

نزلہ ایک عام بیماری ہے۔ سردی کے موسم میں تو ہر آدمی ایک نہ ایک بار ضرور اس کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا سبب جہاں موسم میں بے احتیاطی اور جسم انسانی میں قوت مدافعت کی کمی ہوتے ہیں وہیں دھول اور گرد و غبار کی آلودگی اور الرجی بھی اس کا سبب بنتے ہیں۔ اگر کوئی اس کا شکار ہوجائے تو کیا تدابیر اختیار کریں اس کی تفصیل یہاں درج کی جاتی ہے۔

٭ نزلے کی صورت میں مفید ثابت ہونے والی تدابیر اور دوائیں استعمال کیجیے۔

٭ پانی، شوربے اور دیگر مناسب مشروبات زیادہ استعمال کیجیے۔ اس طرح بلغم پتلا رہے گا اور اس کا اخراج آسانی سے ہوتا رہے گا۔ اس طرح اس کے سر اور حلق سے نیچے اترنے کا امکان کم رہے گا۔

٭ ناک جن رومالوں یا ٹشو پیپرز سے صاف کیجیے انہیں ڈھک کر رکھیے۔ چھینکیں رومال میں جذب کیجیے تاکہ دوسرے افراد ان کی زد میں آنے سے محفوظ رہیں۔

٭ نزلے میں دودھ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بغیر بالائی کے گرم دودھ میں تھوڑی سی پسی ہوئی کالی مرچ اور سونٹھ شامل کرکے پیجئے۔ بہتر ہے کہ شکر کی جگہ شہد پھر گڑ استعمال کیا جائے، بشرطیکہ ذیابیطس نہ ہو۔

٭ سر اور پٹھوں میں درد اور کبھی کھجلاہٹ کے علاوہ بخار کے لیے اسپرین کا استعمال کھانے کے بعد کریں۔

٭ گلے کی خراش اور درد کے لیے ایک گلاس نیم گرم پانی میں آدھا چائے کا چمچہ نمک گھول کر دن میں کئی بار غرارے کریں۔

٭ نرخرے (Laryngitis) کی تکلیف کی صورت میں بھی نمک کے پانی سے غرارے کیجیے اور گفتگو دھیمے لہجے میں کیجیے بلکہ کھسر پھسر تک محدود رہیے۔ اس طرح گلے کو آرام ملے گا۔

٭ کھانسی میں بلغم کا اخراج روکنا نہیں چاہیے تاکہ پھیپھڑے صاف ہوجائیں۔ کھانسی روکنے والی دوائیں معالج کے مشورے ہی سے استعمال کرنی چاہئیں۔

٭ خشک کھانسی کے لیے لعوق سپستاں کا استعمال مفید رہتا ہے۔ منہ میں دو چار دانوں کے گھولتے رہنے سے بلغم آسانی سے خارج ہوتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ نمک لگے بادام خوب چبا کر دھیرے دھیرے نگلنا مفید رہتا ہے۔ ذیابیطس نہ ہو تو مصری یا گڑ کی ڈلی کا منہ میں گھولنا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح نمک تھوڑا تھوڑا چاٹنے سے بھی بلغم خارج ہونے لگتا ہے۔

٭ نزلہ زکام میں چکر کی کیفیت بھی ہوسکتی ہے جو جسم میں پانی کی کمی کی علامت ہوتی ہے۔ پانی اور مناسب مشروبات خوب پیجئے او رکم از کم دو دن بستر میں آرام کیجیے۔

٭ صبح و شام جوشاندے کا استعمال بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔

٭ نزلہ زکام میں تھکے بغیر کھلی ہوا میں چہل قدمی کے بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس دوران دھیرے دھیرے گہراسانس لینا چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply