ایک مسلمان کی ذمہ داری

عبادت کا ایک محدود مفہوم اختیار کرلینے کی وجہ سے عام طور پر ہمارے یہاں نماز، روزے، زکوٰۃ اور حج کو تو نیکی کا کام تصور کیا جاتا ہے مگر معاشرے میں نیکی کے فروغ اور منکرات کے مٹانے کی بات کی جائے تو اس کو خالصتاً سیاست قرار دے کر اس سے فراغت حاصل کرلی جاتی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس اخلاقی فرض کو شریعت کی اصطلاح میں ’’امر بالمعروف ‘‘ اور ’’نہی عن المنکر‘‘ کا نام دیا اور اس کو مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدانوں میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران: ۱۱۵)

حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں پھیلنے والی برائیوں کا بر وقت تدارک نہ کیا جائے تو یہ ہمارے معاشرے کو تباہ کرکے رکھ دیتی ہیں۔ رشوت، بے ایمانی، ظلم و زیادتی، قتل، چوری، فحاشی اور عریانیت یہ ایسی منکرات ہیں جنہیں دنیا کے کسی معاشرے نے بحیثیت مجموعی قبول نہیں کیا۔ انسانی فطرت نے ہر دور میں ان سے نفرت کی ہے۔ اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔

اسلام کی تعلیمات نے مسلم امت کے ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے نگرانی کریں بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکیں ان دونوں کا انجام دینا ضروری ہے۔

مسلم جماعت کے ہر فرد کی یہ اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے کہ وہ جماعت مسلم میں کوئی منفی سرگرمی دیکھے تو اسے روکنے اور ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے چونکہ کوئی برائی معاشرے میں پھیل جائے گی تو کسی بھی شخص کا دین پر قائم رہنا بہت مشکل ہوجائے گا اور تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گزارنا دشوار ہوجائے گا۔ یہ ایک فطری اور عملی بات ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔

دین کی اصل روح خدا پرستی اور اللہ کے بنائے ہوئے اصولوں کی پابندی ہے۔ فحاشی، عریانیت اور شہوانیت جیسی برائیاں معاشرے سے خیر کو مٹا کر اسے جہنم کی راہ پر گامزن کرتی ہیں۔

سورہ الاعراف میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے تین گروہوں کا قصہ بیان کیا ہے کہ کس طرح فریضۂ تبلیغ ادا نہ کرنے کے جرم میں دو گروہوں کو برباد کردیا اور تیسرا گروہ بچالیا گیا جس نے اس اہم فریضہ کو ادا کیا۔اللہ تعالیٰ کے ان واضح احکام کی روشنی میں آج ہم اپنے معاشرے میں اٹھنے والے طوفانِ منکرات کا جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہمارے پورے معاشرے پر ان برائیوں کا مکمل قبضہ ہوچکا ہے۔ اور ہم سب اپنی آنکھوں کو بند کیے سرپٹ اس گڑھے کی طرف دوڑے چلے جارہے ہیں جو ہر دور میں قوموں کی تباہی کا سب بنا ہے۔

اور اب ہم اسی انجام کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں جو انجام اس سے پیشتر ان قوموں کا ہوچکا ہے جنھوں نے فواحش و منکرات کو اختیار کیا ۔ اس سے پہلے کہ ہم اپنے انجام کو پہنچ جائیں ہمیں اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم ’’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘‘ کے فریضہ کو سمجھ کر انجام دیں۔

شیئر کیجیے
Default image
شاہین پروین

Leave a Reply