پاکستان – بے نظیر کے قتل کے بعد

ایک نظریاتی ریاست کے دعوے کے ساتھ وجود میں آنے والا ملک پاکستان اب عالمی برادری کے لیے ایک پیچیدہ پہیلی بن گیا ہے۔ انسانی وسائل سے زرخیز اس ملک کی زمین غیروں کے لیے کیا اپنوں کے لیے بھی اس قدر تنگ ہوجائے گی اس کا اندازہ شائد بانیٔ پاکستان نے بھی کبھی نہیں کیا ہوگا۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ ہوگیا ہے جو اس ملک کی اور ساری دنیا کی عوام کو آئندہ صدی تک متاثر کرتا رہے گا۔ یوں تو لال مسجد کے واقعات کے بعد سے ہی پاکستان سے اب زندہ لوگوں سے زیادہ مرنے والوں کی خبریں آتی ہیں۔ خود کش حملے، بم دھماکے، فوجی ایکشن، ہوائی بمباری، بس اسی طرح کے الفاظ پاکستانی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں گونجتے رہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی نیا عراق ہمارے پڑوس میں آباد ہورہا ہے۔

بے نظیر بھٹو کی ذاتی زندگی اور سیاسی زندگی کو کئی پہلوؤں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اکثر مبصرین نے اسے پاکستان میں جمہوریت کا قتل قرار دیا ہے، کسی نے اسے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کو گہرا کرنے والا ایک اور جھٹکا قرار دیا ہے۔ مشرف حکومت نے بھی اس قتل پر ’’مذمت‘‘ اور ’’افسوس‘‘ کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستانی سیاستدانوں کے لیے یہ قتل اس لیے بھی ایک بڑا صدمہ تھا کیونکہ بے نظیر متعدد ہندوستانی سیاستدانوں سے ذاتی سطح پر بھی خوشگوار تعلقات رکھتی تھیں۔

اس افسوسناک قتل کے بعد ہندوستانی میڈیا اور رائٹ ونگ کے ’’دانشور طبقہ‘‘ نے القاعدہ کے خلاف پرانی فائلوں کا پٹارا کھول دیا۔ یہ سمجھے بغیر کہ پاکستان میں سیاسی قتل کی تاریخ اتنی نئی نہیں ہے جتنی خود القاعدہ ہے۔ لیکن ہندوستان کا میڈیا جس تیزی کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ رنگ اختیار کررہا ہے، اس سے یہ پیشین گوئی کرنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ ہندوستانی میڈیا مفاد پرستوں کا ٹولہ بنتا جارہا ہے۔ بالآخر وہ شخص جس پر الزامات لگائے جارہے تھے اس نے میڈیا میں اپنا بیان جاری کیا۔ لیکن اس وقت تک اسلامی دہشت گردی کی خبر لی جاچکی تھی۔ خبر نویسوں نے یہاں تک لکھا کہ اس قتل کے پیچھے وہ سوچ بھی ہے جس کے تحت اسلام کسی خاتون کو سیاسی قائد بننے کی اجازت نہیں دینا۔ عورتوں کے سلسلے میں ’’ملاؤں‘‘ کے تنگ نظریے کی وضاحت کی گئی۔ اس حقیقت کو بے شرمی سے نظر انداز کرتے ہوئے کہ فوجی آمر جنرل ایوب کے خلاف اسلامی جماعتوں نے مس فاطمہ جناح کی انتخابات میں سرگرم حمایت کی تھی اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ جمہوریت بحالی کے محاذ میں وہ ’’تنگ نظر‘‘ اور ’’انتہا پسند‘‘ مسلم جماعتیں بھی شامل تھیں۔

جہاں تک پاکستان کی داخلی صورتحال کا تعلق ہے تو اب دنیا کے ہر خطے میں یہ رائے بن چکی ہے کہ مشرف دورِ حکومت میںپاکستان نے کھویا زیادہ ہے اور پایا بہت کم ہے۔ ملکی سا لمیت اور داخلی استحکام پر اب مشرف کا کنٹرول نہیں رہ گیا ہے۔ فوج، تقسیم در تقسیم کا شکار ہے۔ سیاسی پارٹیاں کہنے کو آزاد ہیں لیکن ان کا سیاسی رول محدود سے محدود تر کردیا گیا ہے۔ دستور کو بالائے طاق رکھ کر کٹھ پتلیوں کی طرح وزارئے اعظم اور کابینہ بدلنے کا کاروبار جاری ہے۔ آئی ایس آئی سے زیادہ اب سی آئی اے اور ایف بی آئی کا نیٹ ورک مضبوط ہے۔ لگاتار داخلی سطح پر ناکامی جھیلتے ہوئے مشرف کے لیے آزاد عدلیہ آخری چیلنج بچا تھا جسے مشرف نے ایمرجنسی کے ہتھیار سے نمائشی عدلیہ میں بدل دیا ہے۔ ایمرجنسی کانفاذ دراصل مشرف کی بڑھتی پریشانیوں سے مقابلہ نہ کرپانے کی جھنجھلاہٹ تھی، جس سے انھیں وقتی طور پر راحت ملی ہے۔ ایک فوجی آمر دنیا کے سبھی آمروں کی طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اقتدار پر غیر جمہوری طریقے سے کیا گیا قبضہ غیر جمہوری طریقے سے ہی جاری رکھا جاسکتا ہے۔ اب مشرف کو خوف کا عارضہ لاحق ہے۔ وہ ہر وقت اندیشہ مند ہیں کہ ان کی کرسی اور ان کی جان کو خطرہ ہے۔ بلکہ ایک پاکستانی تبصرہ نگار کی زبان میں کہ مشرف کے سامنے صرف دو آپشن ہیں یا تو باعزت طریقے سے اقتدار چھوڑ دیں یا پھر بے عزت ہوکر۔ اور دنیا میں ان کے لیے ترکی کے علاوہ کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہ گئی ہے۔

ان بے قابو حالات میںیہ بہت ضروری تھا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں مبنی پر حکمت رویہ کا مظاہرہ کرتیں اور پاکستان کی داخلی استحکام اور ملکی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانے کو اپنے ایجنڈہ کا حصہ بناتیں۔ جنرل مشرف نے جس سیاسی منصوبے سے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو ٹھکانے لگایا ہے ، اسے وہاںکی سیاسی جماعتیں محسوس نہیں کرسکی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ پہلے تو مسلم لیگ کا ایک بڑاٹکڑا علیحدہ ہوکر مشرف کے ساتھ ہوگیا ہے۔ متحدہ مجلس عمل پورے پانچ سال تک داخلی الجھن میں مبتلا رہا، کبھی جماعت اور جمعیت العلماء کا جھگڑا، کبھی مشرف کے فیصلوں کی حمایت کرنے کا معاملہ وغیرہ۔ متحدہ مجلس عمل کے رپورٹ کارڈ میں متحد، منضبط اور مؤثر اپوزیشن کی جھلک بھی دکھائی نہیں پڑتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آنے والے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے لیے اپنی موجودہ نشستیں بچائے رکھنا بھی خطرے میں دکھائی دے رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو پاکستان کے غیر یقینی سیاسی ماحول میں الگ حکمت عمل اختیار کررہی تھیں۔ مشرف حکومت سے ان کی dealچل رہی تھی جو زمینی حقائق کو تسلیم کرکے اختیار کی گئی تھی۔ سیاسی عمل میں شریک ہونے کا بے نظیر بھٹو کا فیصلہ بڑی امیدوں سے دیکھا جارہا تھا۔ ایسا تصور کیا جانے لگا تھا کہ بے نظیر کو انتخابات میں بڑی کامیابی ملنے والی ہے۔ وہیں دوسری طرف نواز شریف ایک دن بائیکاٹ اور اگلے دن انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے تھے۔ متحدہ مجلس عمل واضح طور پر دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے انتخاب میں شرکت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، جبکہ جماعت اسلامی اور عمران خان انتخابات کے بائیکاٹ پر ابھی بھی بضد ہیں۔ جماعت اسلامی کی بائیکاٹ کی پالیسی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نہیں ہے۔ اس سے پہلے کسی بائیکاٹ میں جماعت اسلامی کو کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ اور اگر جماعت اسلامی اس انتخاب کا اکیلے بائیکاٹ کرتی ہے تو پاکستانی عوام خاص طور پر سیاسی طور پر بیدار طبقے کے لیے جماعت اسلامی کی سیاست کو سمجھنا ایک مشکل کام ہوگا۔ بے نظیر بھٹو کے انتخاب میں حصہ لینے کے فیصلے میں جہاں جزوی طور پر مشرف کو تسلیم کرنے کا رجحان موجود تھا، وہیں ساتھ ہی ساتھ پاکستان میں جمہوری سیاسی عمل کو مضبوط کرنے کی خواہش اس سے کہیں زیادہ تھی اور جمہوری عمل کو مضبوط بناکر ہی مشرف حکومت کو قابو میں کیا جاسکتا ہے۔

بے نظیر بھٹو کے قتل سے سب سے زیادہ فائدہ جس کو ہوا ہے اسے بھی شک کے دائرے میں لانا چاہیے۔ ظاہری طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں بے نظیر بھٹو کے قتل سے وہاں پرویز مشرف حکومت کے علاوہ کسی کو راست فائدہ نہیں ملے گا۔ بے نظیر نے سبھی سیاسی گروپوں کو یقین دلایا تھا کہ ان کے آنے سے جمہوری عمل تیز ہوگا اور انھیں اسلامی جماعتوں، روشن خیال طبقے اور فوج کے ایک بڑے طبقے کی حمایت حاصل تھی۔ نوازشریف لگاتار بے نظیر کے ساتھ ربط میں تھے اور مستقبل کے سیاسی عمل پر دونوں لوگ مسلسل مذاکرات کررہے تھے۔ ہر طرف سے گھری ہوئی مشرف حکومت کو بچانے کے لیے اور پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے مشرف حکومت نے ماضی میں سبھی طرح کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ بے نظیر کے شوہر اور ان کی پارٹی مسلسل مشرف پر الزام لگا رہی ہے کہ اس قتل کے لیے مشرف ذمہ دار ہیں۔ مشرف حکومت کے کردار کی تحقیق پر سب سے کم توجہ دی جارہی ہے۔

بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد سب سے اہم معاملہ پاکستان کی سالمیت کا ہے۔ اگرچہ جارج بش کی طرف سے اس قتل کی مذمت کی گئی ہے۔ لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کے سیاسی حالات پر امریکی حکومت کا اثر بہت گہرا رہا ہے۔ اب تک کے تمام سیاسی قتل، فوجی انقلابات میں امریکی ریاست کا رویہ ہمیشہ بین الاقوامی بحث کا موضوع بنتا رہا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ بے نظیر کے قتل کی کچھ کڑیاں امریکہ سے جاکر نہ جڑتی ہوں۔ بین الاقوامی برادری کو اس بات پر تشویش ہے کہ پاکستان کے ایٹمی تنصیبات محفوظ ہاتھوں میںہیں یا نہیں۔ اسے یہ بھی فکر ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ’’جنگ‘‘ میں تعاون کررہا ہے یا نہیں۔ لیکن اس بات کی کسی کو فکر نہیں ہے کہ لگاتار خارجی مداخلت (تیس سالوں سے بھی زیادہ سے) نے پاکستان کو ایک آتش فشاں بناکر رکھ دیا ہے۔ جس کے پھوٹنے سے اب صرف ایک ملک ہی برباد نہیں ہوگا ، بلکہ اس کے پڑوس اور پوری بین الاقوامی برادری کو غیر معمولی سیاسی و غیر سیاسی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بین الاقوامی برادری پاکستان کو عالمی برادری کے ایک ممبر کی بجائے اسے امریکہ کے حلیف کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور پاکستان کے لیے ان کے پاس کوئی متبادل پالیسی سرسے موجود ہی نہیں ہے۔ سبھی ممالک امریکی وزارت خارجہ کے منصوبوں کی کسی نہ کسی طرح سے حمایت کررہے ہیں، جو خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ ہندوستان اور دوسرے پڑوسی ممالک خطے کو مستحکم رکھنے کے لیے خصوصی منصوبہ تیار کریں اور پاکستان کو اعتماد میں لے کر اسے موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے میں مثبت تعاون کریں۔

(مضمون نگار سینٹر فار ویسٹ ایشین اسٹڈیز، جے این یو، نئی دہلی میں ریسرچ اسکالر ہیں)

[email protected]

شیئر کیجیے
Default image
عمیر انس

Leave a Reply