لطائف

پلیٹ فارم پر چائے بیچنے والا زور زور سے چلا رہا تھا۔ چائے چائے

ایک شخص نے اسے آواز دی۔ ذرا ایک چائے دینا۔

چائے تو ختم ہوگئی صاحب۔ چائے والا بولا۔

تو پھر چائے چائے کی آواز کیوں لگا رہے ہو؟ صاحب نے پوچھا

کیا کریں صاحب اپنی تو عادت ہی خراب ہوگئی ہے۔ اگر خالی ہاتھ بھی چلوں تب بھی چائے چائے چلاَّنے لگتا ہوں۔

٭٭٭

سونو: کیا تم نیلے پین سے لال لکھ سکتے ہو؟

مونو: ہاں کیوں نہیں۔

سونو: وہ کیسے؟

مونو: جیسے لال پین سے ’’نیلا‘‘ لکھا جاتا ہے۔

٭٭٭

رشید: کمال کی بات ہے تم آج تک ریاضی کے پرچے میں فیل نہیں ہوئے۔

ندیم: ارے یہ ترکیب تو میں تمہیں بھی بتاسکتا ہوں۔

رشید: جلدی بتاؤ وہ کیا ترکیب ہے؟

ندیم: جس دن ریاضی کا امتحان ہو اس دن امتحان دینے نہ جاؤ۔

٭٭٭

ٹیچر: جو بچہ کلاس میں زور سے بولے گا اسے کلاس سے نکال دیا جائے گا۔

طالب علم: (زور سے بولتے ہوئے) میڈم مجھے کلاس سے نکال دیجیے۔ کیونکہ میں ٹفن لے کر نہیں آیا ہوں۔ اس بہانے کینٹین میں جاکر کچھ کھالوں گا۔

استاد: (نقشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) بتاؤ ہمالیہ پہاڑ کہاں ہے؟

طالب علم: سر مجھے نہیں معلوم۔

استاد: بینچ پر کھڑے ہوجاؤ۔

طالب علم: بینچ پر کھڑے ہوکر بھی نہیں دیکھ رہا سر!

٭٭٭

ڈاکٹر :میں نے آپریشن صحیح وقت پر کردیا ورنہ …

نرس: ورنہ کیا ہوتا سر؟

ڈاکٹر: مریض خود ہی ٹھیک ہوجاتا اور میرے ہاتھ سے ایک کیس نکل جاتا۔

٭٭٭

ایک نیتا جی نے ٹی ٹی سے کہا میں وی آئی پی آدمی ہوں مجھے ایسے ڈبے میں بٹھاؤ جہاں میرے علاوہ کوئی نہ ہو۔

ان کو لے کر ٹی ٹی چل پڑا اورٹرین کے ٹوائلٹ کے دروازہ پر کھڑا کرتے ہوئے بولا: ’’یہ ایسا ڈبہ ہے جہاں آپ کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply